18/02/2026
⸻
یہ صرف ایک یاد دہانی نہیں، بلکہ ایک سنجیدہ پیغام ہے۔ ہر طالبِ علم، ہر نوجوان اور ہر میڈیکل پروفیشنل کے پیچھے ایک کہانی، خواب اور مسلسل محنت چھپی ہوتی ہے۔ طب کا شعبہ نہایت معزز ہے، مگر اس کے ساتھ ذہنی دباؤ اور جذباتی چیلنجز بھی منسلک ہیں۔ طویل ڈیوٹیاں، مسلسل امتحانات، سماجی توقعات اور ناکامی کا خوف نوجوانوں کی ذہنی صحت پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔
والدین اور اساتذہ سے گزارش ہے کہ وہ نوجوانوں کی بات سنیں اور انہیں سمجھیں۔ صرف ڈگری یا سماجی مقام کے لیے بچوں کو ایسے شعبے میں دھکیلنا درست نہیں، جس کے لیے وہ اندر سے تیار نہ ہوں۔ مثبت والدینیت (Positive Parenting) اور حوصلہ افزائی نہ صرف بچوں کے اعتماد کو بڑھاتی ہے بلکہ انہیں ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے لیے مضبوط بناتی ہے۔
نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ coping skills کو سیکھیں، یعنی دباؤ اور مشکلات کا صحت مند طریقے سے سامنا کرنے کی مہارتیں۔ مثبت سوچ، مناسب نیند، جسمانی سرگرمی، جذبات کا اظہار اور ضرورت پڑنے پر پیشہ ورانہ مدد حاصل کرنا، ذہنی صحت کے لیے لازمی ہیں۔ یہ اسکلز نوجوانوں کو نہ صرف تعلیمی چیلنجز بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں متوازن اور مضبوط بناتی ہیں۔
ہماری میڈیکل کمیونٹی میں بھی ذمہ داری ہے کہ ہم ایک دوسرے کی مدد کریں۔ کبھی کبھی صرف ایک خلوص بھرا سوال—“آپ کیسی حالت میں ہیں؟”—کسی کی زندگی بچا سکتا ہے۔ خودکشی کی روک تھام (Anti-Suicide Awareness) سب کی ذمہ داری ہے، اور بروقت رہنمائی سے بہت سی مشکلات کا حل ممکن ہے۔
اللہ تعالیٰ سب کو ذہنی سکون، حوصلہ اور استقامت عطا فرمائے۔