Azbah Medical & Gynae Center

Azbah Medical & Gynae Center "Azbah Medical and Gynae Center" is all set to empower your health journey and First aid treatment.

AZBAH MEDICAL CLINICDr Saleem Mubeen Dr Ammara Naeem آللہ کے ہاں ہر گز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کا خون ،البتہ ...
27/05/2026

AZBAH MEDICAL CLINIC

Dr Saleem Mubeen
Dr Ammara Naeem

آللہ کے ہاں ہر گز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کا خون ،البتہ تمہاری طرف سے پرہیز گاری اس کی بارگاہ تک پہنچتی ہے۔ Quran )22:37)
آللہ سب کی قربانیاں قبول فرمائے۔آمین۔
8-A, Aitchison society
03121474708

AZBAH MEDICAL CLINICشہر میں مزدور جیسا دربدر کوئی نہیں جس نے سب کے گھر بنائے اس کا گھر کوئی نہیں آللہ سب کو صحت و سلامتی...
01/05/2026

AZBAH MEDICAL CLINIC

شہر میں مزدور جیسا دربدر کوئی نہیں
جس نے سب کے گھر بنائے
اس کا گھر کوئی نہیں

آللہ سب کو صحت و سلامتی والی زندگی عطا فرمائے۔

Dr Saleem Mubeen
Dr Ammara Naeem

10/04/2026
Azbah Medical & Gynae Centerالسلام علیکم!  عیدالفطر مبارک آپ کو اور آپ کے اہلِ خانہ کو عیدالفطر کی ڈھیروں خوشیاں مبارک ہ...
21/03/2026

Azbah Medical & Gynae Center
السلام علیکم!

عیدالفطر مبارک

آپ کو اور آپ کے اہلِ خانہ کو عیدالفطر کی ڈھیروں خوشیاں مبارک ہوں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یہ مبارک دن آپ کی زندگی میں خوشیاں، صحت اور کامیابیاں لے کر آئے۔

اپنی دعاؤں میں ہمیں بھی یاد رکھیے گا۔

Dr Saleem Mubeen
Dr Ammara Naeem

میڈیکل نیگلیجنس: حقیقت، افسانہ اور قانونپاکستان میں “میڈیکل نیگلیجنس” اب صرف ایک قانونی اصطلاح نہیں رہی، بلکہ یہ غصے، ما...
06/02/2026

میڈیکل نیگلیجنس: حقیقت، افسانہ اور قانون

پاکستان میں “میڈیکل نیگلیجنس” اب صرف ایک قانونی اصطلاح نہیں رہی، بلکہ یہ غصے، مایوسی، خوف اور ناکام نظام کا مشترکہ اظہار بن چکی ہے۔ کسی مریض کی حالت بگڑنے، علاج میں تاخیر یا موت کے بعد سب سے پہلا سوال اکثر یہ نہیں ہوتا کہ کیا ہوا؟ بلکہ یہ ہوتا ہے کہ کس کو قصوروار ٹھہرایا جائے؟
اور بدقسمتی سے، اس سوال کا سب سے آسان جواب اکثر “ڈاکٹر” بن جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر طبی نقصان، ہر پیچیدگی، اور ہر موت میڈیکل نیگلیجنس نہیں ہوتی۔
میڈیکل نیگلیجنس ایک واضح اور محدود تصور ہے۔ یہ تب ثابت ہوتی ہے جب کوئی ڈاکٹر یا ادارہ متفقہ طبی اصولوں (Standard of Care) سے ہٹ کر عمل کرے، اور اس لاپرواہی کا براہِ راست اور ثابت شدہ نقصان مریض کو پہنچے۔
صرف یہ کہنا کہ “علاج فائدہ نہیں ہوا” یا “مریض بچ نہیں سکا” نیگلیجنس نہیں کہلاتا، کیونکہ طب کوئی ریاضی کا فارمولہ نہیں—یہ امکانات، خطرات اور غیر یقینی نتائج پر مبنی علم ہے۔

افسانہ یہ ہے کہ ہر ناکام علاج، ہر آپریشن کے بعد کی پیچیدگی، یا ہر ایمرجنسی میں ہونے والی موت لازماً کسی کی غفلت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کینسر، دل کے شدید امراض، سیپسس، حادثات، دماغی فالج اور انفیکشنز میں بہترین سہولیات اور تجربہ کار ماہرین کے باوجود بھی نتائج ہمیشہ انسانی کنٹرول میں نہیں ہوتے۔ دنیا کے جدید ترین ہسپتالوں میں بھی اموات ہوتی ہیں—فرق یہ ہے کہ وہاں جذبات کے بجائے شواہد بولتے ہیں۔

پاکستان میں مسئلہ اس وقت سنگین ہو جاتا ہے جب میڈیکل نیگلیجنس اور نظامی ناکامی (System Failure) کو ایک ہی ترازو میں تول دیا جاتا ہے۔
جب ہسپتال میں ضروری ادویات دستیاب نہ ہوں،
جب ایک نرس پر پچاس مریضوں کی ذمہ داری ہو،
جب آئی سی یو بیڈ نہ ملے،
جب ایمبولینس تاخیر سے پہنچے،
جب مریض علاج کے آخری مرحلے میں لایا جائے—
تو ان تمام فیصلوں اور ناکامیوں کا بوجھ اکثر اس ڈاکٹر پر ڈال دیا جاتا ہے جو فرنٹ لائن پر کھڑا ہوتا ہے، حالانکہ ان فیصلوں میں اس کا اختیار ہی نہیں ہوتا۔

قانونی پہلو بھی اسی ابہام کا شکار ہے۔ پاکستان میں میڈیکل نیگلیجنس کے لیے واضح، تیز اور قابلِ اعتماد قانونی راستے کمزور ہیں۔ ہیلتھ کیئر کمیشن، پی ایم ڈی سی، اور عدالتیں موجود تو ہیں، مگر مریض کے لیے یہ طے کرنا مشکل ہوتا ہے کہ کہاں جائے، کیس کیسے ثابت کرے، ماہر رائے کیسے حاصل کرے، اور برسوں کے عدالتی عمل کا سامنا کیسے کرے۔
دوسری طرف، ڈاکٹر اکثر بغیر کسی عدالتی فیصلے کے ہجوم، سوشل میڈیا ٹرائل، کردار کشی اور تشدد کا سامنا کرتے ہیں—جو خود ایک سنگین انسانی اور قانونی مسئلہ ہے۔

ترقی یافتہ ممالک نے اس مسئلے کو الزام سے نہیں، نظام سے حل کیا ہے۔
برطانیہ، کینیڈا اور دیگر ممالک میں آزاد میڈیکل ریویو بورڈز، شفاف انکوائری میکانزم، اور بعض جگہ No-Fault Compensation Systems موجود ہیں۔ اگر غلطی ثابت ہو تو مریض کو بروقت معاوضہ ملتا ہے، اور اگر نہیں تو ڈاکٹر کو قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ مقصد انصاف ہوتا ہے، انتقام نہیں۔

پاکستان کو بھی اسی سمت جانا ہوگا۔ میڈیکل نیگلیجنس کو جذباتی نعروں، ہجوم کے فیصلوں اور میڈیا ٹرائل سے نکال کر قانونی، سائنسی اور ادارہ جاتی دائرے میں لانا ہوگا۔ مریض کو یہ حق ضرور ہونا چاہیے کہ وہ شکایت کرے، سوال کرے اور انصاف مانگے—لیکن ڈاکٹر کو بھی یہ حق ہونا چاہیے کہ اسے بغیر ثبوت مجرم نہ ٹھہرایا جائے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ
“ڈاکٹر قصوروار ہے یا نہیں؟”
اصل سوال یہ ہے کہ:
کیا ہمارے پاس سچ جاننے، غلطی ثابت کرنے، اور انصاف فراہم کرنے کا منصفانہ نظام موجود ہے؟

جب تک ہم نیگلیجنس اور نظامی ناکامی میں فرق نہیں کریں گے، نہ مریض محفوظ ہوگا، نہ ڈاکٹر، اور نہ ہی صحت کا نظام۔
یہ بحث کسی ایک فریق کے دفاع میں نہیں—یہ انصاف، اعتماد اور ایک ذمہ دار ریاست کے حق میں ہے۔
کیونکہ صحت کا نظام الزام سے نہیں، قانون، شفافیت اور اعتماد سے مضبوط ہوتا ہے۔

ڈاکٹر سید شکیل بادشاہ
سلسلہ: صحت، ریاست اور معاشرہ

پاکستان میں کس بیماری پر کہاں جانا چاہیے؟(عوام کے لیے بنیادی صحت کا سادہ مگر ضروری نقشہ)پاکستان میں ہسپتالوں کی بھیڑ کی ...
30/01/2026

پاکستان میں کس بیماری پر کہاں جانا چاہیے؟
(عوام کے لیے بنیادی صحت کا سادہ مگر ضروری نقشہ)

پاکستان میں ہسپتالوں کی بھیڑ کی اصل وجہ بیماریوں کی زیادتی نہیں بلکہ یہ الجھن ہے کہ کس بیماری پر کہاں جانا ہے۔ ہمارے ہاں مریض کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ علاج کا پہلا دروازہ کون سا ہے، دوسرا قدم کیا ہونا چاہیے، اور کب واقعی بڑے ہسپتال یا ایمرجنسی کی ضرورت پڑتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر درد ایمرجنسی بن جاتا ہے، ہر بخار ٹیچنگ ہسپتال پہنچتا ہے، اور اصل خطرے میں موجود مریض پیچھے رہ جاتے ہیں۔

زیادہ تر بیماریاں جن کا سامنا ایک عام انسان روزمرہ زندگی میں کرتا ہے، جیسے بخار، نزلہ، کھانسی، گلا خراب ہونا، پیٹ درد، الٹی، اسہال، جسم درد، بلڈ پریشر یا شوگر کی فالو اپ، ان سب کے لیے بڑے ہسپتال جانا نہ ضروری ہے اور نہ فائدہ مند۔ ایسی بیماریوں کا بہترین علاج قریبی مستند جنرل فزیشن، بنیادی صحت مرکز یا رورل ہیلتھ سینٹر میں ممکن ہوتا ہے۔ یہی وہ جگہیں ہیں جہاں مریض کو وقت دیا جا سکتا ہے، پوری بات سنی جا سکتی ہے، اور بیماری کو شروع میں ہی قابو میں لایا جا سکتا ہے، اس سے پہلے کہ وہ پیچیدہ شکل اختیار کرے۔

بڑے سرکاری یا نجی ٹیچنگ ہسپتال اس لیے بنائے جاتے ہیں کہ وہاں پیچیدہ، دیرینہ یا بگڑے ہوئے کیسز کو سنبھالا جا سکے۔ جب کوئی بیماری بار بار ٹھیک نہ ہو رہی ہو، علامات غیر واضح ہوں، یا علاج کے باوجود مسئلہ بڑھ رہا ہو، تب مریض کو ریفرل کے ذریعے اسپیشلسٹ یا بڑے ہسپتال جانا چاہیے۔ براہ راست بڑے ہسپتال پہنچ جانا نہ مریض کے حق میں بہتر ہوتا ہے اور نہ نظام کے، کیونکہ وہاں موجود ڈاکٹر پہلے ہی شدید اور جان لیوا کیسز میں مصروف ہوتا ہے۔

ایمرجنسی کا تصور ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ غلط سمجھا جاتا ہے۔ ایمرجنسی وہ نہیں ہوتی جس میں جلدی ہو، غصہ ہو یا سفارش ہو۔ اصل ایمرجنسی وہ حالت ہے جہاں مریض کی جان کو فوری خطرہ ہو، جیسے سانس لینے میں شدید دشواری، سینے میں ناقابل برداشت درد، اچانک بے ہوشی، فالج کی علامات، شدید حادثہ، جلنے کا واقعہ یا بے قابو خون بہنا۔ ان حالات میں ایمرجنسی جانا زندگی بچا سکتا ہے، مگر معمولی بخار یا پرانی تکلیف کو ایمرجنسی میں لے جانا اصل مریضوں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔

زچگی، بچوں اور خواتین کے عام مسائل بھی اسی الجھن کا شکار ہیں۔ حمل کی معمول کی فالو اپ، بچوں کا بخار، ویکسینیشن، وزن یا غذائیت کے مسائل، اور خواتین کے عام ہارمونل مسائل کے لیے بنیادی صحت مراکز، MNCH یونٹس یا قریبی مستند ڈاکٹر ہی بہترین جگہ ہوتے ہیں۔ ہر درد آپریشن نہیں مانگتا اور ہر مسئلہ خطرے کی گھنٹی نہیں ہوتا، مگر لاعلمی خوف پیدا کرتی ہے اور خوف غلط فیصلے کرواتا ہے۔

جب پرائمری ہیلتھ کیئر کو نظر انداز کیا جائے، ریفرل سسٹم نہ سکھایا جائے اور عوام کو یہ نہ بتایا جائے کہ علاج کا پہلا دروازہ کون سا ہے، تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ایمرجنسی میں عام مریضوں کا ہجوم لگ جاتا ہے، او پی ڈی آئی سی یو کا منظر پیش کرنے لگتی ہے، اور اصل ضرورت مند مریض وقت پر علاج سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس افراتفری میں نہ مریض مطمئن ہوتا ہے اور نہ ڈاکٹر اپنا کام بہتر انداز میں کر پاتا ہے۔

اگر عوام چند سادہ باتیں سمجھ لیں تو پورا نظام سانس لے سکتا ہے۔ ہر بیماری کا پہلا قدم قریبی مستند ڈاکٹر یا بنیادی صحت مرکز ہونا چاہیے۔ بڑے ہسپتال وہاں جانے چاہییں جہاں واقعی ان کی ضرورت ہو، اور ایمرجنسی صرف جان کے خطرے میں استعمال ہونی چاہیے۔ یہی ترتیب علاج کو مؤثر بناتی ہے، وقت بچاتی ہے اور سب کے لیے انصاف پیدا کرتی ہے۔

یہ تحریر کسی کو نیچا دکھانے کے لیے نہیں بلکہ راستہ دکھانے کے لیے ہے۔ جس دن عوام کو یہ سمجھ آ گئی کہ کس بیماری پر کہاں جانا ہے، اسی دن ہسپتالوں کی بھیڑ کم ہو گی، اصل مریض کو بروقت علاج ملے گا، اور ڈاکٹر بھی وہ خدمت کر سکیں گے جس کے لیے انہوں نے یہ پیشہ چنا تھا۔
ڈاکٹر سلیم مبین
سلسلہ: صحت، ریاست اور معاشرہ

Address

8-A, Aitchison Society, Raiwind Road, Thoakr Niaz Baig
Lahore
53700

Opening Hours

Monday 10:30 - 15:00
17:00 - 22:00
Tuesday 10:30 - 15:00
17:00 - 22:00
Wednesday 10:30 - 15:00
17:00 - 22:00
Thursday 10:30 - 15:00
17:00 - 22:00
Friday 10:30 - 15:00
17:00 - 22:00
Saturday 10:30 - 15:00
17:00 - 22:00

Telephone

+923121474708

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Azbah Medical & Gynae Center posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share