08/06/2026
ہمارے معاشرے میں جب بھی ازدواجی زندگی کے مسائل کی بات ہوتی ہے تو ساری توجہ مرد پر دی جاتی ہے لیکن عورت کے جذبات احساسات اور نفسیاتی کیفیت کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ بہت سی خواتین شادی کے بعد صرف اس لیے پریشان رہتی ہیں کیونکہ انہیں کبھی یہ سکھایا ہی نہیں گیا کہ ازدواجی زندگی میں ان کی اپنی ضروریات اور احساسات بھی اہم ہیں۔ وہ ہر وقت یہ سوچتی رہتی ہیں کہ کہیں وہ اچھی بیوی ثابت نہ ہو سکیں یا اپنے شریک حیات کی توقعات پر پوری نہ اتر سکیں۔
حقیقت یہ ہے کہ عورت کا جسم اور اس کے جذبات ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ اگر عورت ذہنی دباؤ کا شکار ہو، گھر کے مسائل میں الجھی ہو، خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہو یا اسے اپنے شریک حیات کی محبت اور توجہ نہ مل رہی ہو تو اس کا اثر اس کی پوری ازدواجی زندگی پر پڑ سکتا ہے۔ بہت سی خواتین کو بیماری سمجھ لیا جاتا ہے جبکہ اصل مسئلہ صرف ذہنی تھکن، جذباتی دوری یا مسلسل دباؤ ہوتا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں عورت کے ہر مسئلے کو کمزوری یا ضد کا نام دے دیا جاتا ہے جبکہ حقیقت میں اکثر خواتین کو صرف عزت، توجہ، محبت اور سمجھنے والے رویے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک خوشحال ازدواجی زندگی صرف جسمانی تعلق سے نہیں بنتی بلکہ اعتماد، احترام، گفتگو اور جذباتی قربت سے بنتی ہے۔
جو مرد اپنی بیوی کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، اس کے جذبات کی قدر کرتا ہے اور اسے اپنی زندگی کا اہم حصہ سمجھتا ہے، وہاں رشتے مضبوط ہوتے ہیں۔ عورت کو صرف سنا نہیں بلکہ سمجھا بھی جانا چاہیے کیونکہ کئی بار خاموش عورت کے دل میں بہت سی ایسی باتیں ہوتی ہیں جو وہ الفاظ میں بیان نہیں کر پاتی۔
ڈاکٹر وقار