Dr waqar bhuta

Dr waqar bhuta Infertility Specialist
Providing safe and effective holistic treatment
Committed to patient care and wellbeing

آج جمعہ کے دن دل چاہا کہ اپنی زندگی کی محنت کا ایک چھوٹا سا حصہ آپ دوستوں کے ساتھ شیئر کروں۔ میں نے زندگی ہمیشہ آسان راس...
11/09/2026

آج جمعہ کے دن دل چاہا کہ اپنی زندگی کی محنت کا ایک چھوٹا سا حصہ آپ دوستوں کے ساتھ شیئر کروں۔ میں نے زندگی ہمیشہ آسان راستوں پر نہیں گزاری۔ میرا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا، جہاں ضرورتیں زیادہ اور وسائل بہت کم تھے۔ میرے والد صاحب نے تقریباً 20 سال لاہور میں رکشہ چلا کر ہمیں پڑھایا، ہماری فیسیں دیں، ہماری ضروریات پوری کیں اور اپنے آرام سے زیادہ ہمارے مستقبل کو اہمیت دی۔ ان کی محنت میرے لیے آج بھی سب سے بڑی مثال ہے۔

میں نے بھی اپنی زندگی میں وہ دن دیکھے ہیں جب زمینوں سے آلو اکٹھے کیے، انہیں منڈی میں فروخت کیا، دیہاڑی لگائی اور جو کام ملا، کر لیا۔ مقصد صرف یہ تھا کہ گھر کا نظام بھی چلتا رہے اور میری تعلیم بھی جاری رہے۔ حالات مشکل تھے، لیکن میں نے محنت کا راستہ نہیں چھوڑا۔

آج اللہ کے کرم سے میں ڈاکٹر ہوں، اپنا کلینک چلا رہا ہوں اور قانون کی تعلیم بھی حاصل کر رہا ہوں۔ لیکن میری اصل پہچان یہ عہدے نہیں، بلکہ وہ سفر ہے جس نے مجھے یہ سکھایا کہ غربت صرف پیسوں کی کمی کا نام نہیں، غربت انسان کو دوسروں کے درد کو سمجھنا بھی سکھاتی ہے۔

آپ میں سے بہت سے لوگ شاید سوچتے ہوں گے کہ یہ ڈاکٹر ہر بندے کو جواب کیوں دیتا ہے؟ لوگوں کو وقت کیوں دیتا ہے؟ اتنی مفت مشاورت کیوں کرتا ہے؟ تو اس کے پیچھے بھی میری یہی گزری ہوئی زندگی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ محدود وسائل میں گھر چلانا کیا ہوتا ہے، بیماری کے وقت جیب خالی ہونا کیا ہوتا ہے اور ضرورت مند انسان کے لیے ایک چھوٹی سی مدد کتنی بڑی چیز بن سکتی ہے۔

اسی لیے آج بھی جب کوئی ضرورت مند شخص مجھ سے مشورہ مانگتا ہے تو میں کوشش کرتا ہوں کہ اسے خالی ہاتھ واپس نہ بھیجوں۔ میں نے خود مشکل حالات دیکھے ہیں، اسی لیے دوسروں کی مشکلات کو صرف ایک سوال نہیں سمجھتا، بلکہ ان کے پیچھے چھپی مجبوری کو بھی سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں۔

میں یہ سب اپنی تعریف کے لیے نہیں لکھ رہا۔ بس یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جو شخص خود مشکل راستوں سے گزرا ہو، وہ دوسروں کے راستے کی تکلیف شاید کچھ زیادہ سمجھ سکتا ہے۔

اللہ نے مجھے جہاں تک پہنچایا، یہ میرے والدین کی دعاؤں، ان کی محنت اور اللہ کے فضل کا نتیجہ ہے۔ دعا ہے کہ اللہ مجھے ہمیشہ اپنی اصل یاد رکھنے، ضرورت مندوں کے کام آنے اور حلال طریقے سے آگے بڑھنے کی توفیق دے۔ آمین۔ ❤️

ڈاکٹر وقار بھٹہ

خاموش مزاج، بلند حوصلہ، اپنی پہچان خود۔ 🤟نہ کسی کی نقل، نہ کسی کے سہارے… اپنا مقام خود بنانا ہے۔ 🔥
10/09/2026

خاموش مزاج، بلند حوصلہ، اپنی پہچان خود۔ 🤟
نہ کسی کی نقل، نہ کسی کے سہارے… اپنا مقام خود بنانا ہے۔ 🔥

07/09/2026
ایک شخص نے مشاورت میں بتایا: “ڈاکٹر صاحب، میرا وزن کافی بڑھ گیا ہے۔ پہلے ازدواجی زندگی میں دلچسپی ہوتی تھی، لیکن اب جسم ...
05/09/2026

ایک شخص نے مشاورت میں بتایا: “ڈاکٹر صاحب، میرا وزن کافی بڑھ گیا ہے۔ پہلے ازدواجی زندگی میں دلچسپی ہوتی تھی، لیکن اب جسم ہر وقت بھاری محسوس ہوتا ہے، تھوڑی سی محنت سے تھکن ہونے لگتی ہے اور سب سے بڑھ کر دل ہی نہیں چاہتا۔ کبھی کبھی میں اپنی بیوی سے دور رہتا ہوں تو اندر سے شرمندگی بھی محسوس ہوتی ہے، لیکن سمجھ نہیں آتا کہ خود کو کیسے بدلوں۔” میں نے انہیں کہا کہ وزن بڑھنے کے بعد صرف کپڑوں کا سائز نہیں بدلتا، بعض لوگوں میں جسمانی توانائی، حرکت، نیند، خود اعتمادی اور جنسی خواہش بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ لیکن اس صورتحال میں خود سے نفرت شروع کر دینا سب سے غلط قدم ہے۔ موٹاپا کوئی کردار کی خرابی نہیں، ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر آہستہ آہستہ کام کیا جا سکتا ہے۔ اگر جسم ہر وقت تھکا ہوا ہو، نیند پوری نہ ہو، روزمرہ سرگرمی کم ہو یا آدمی اپنے جسم کے بارے میں مسلسل شرمندگی محسوس کرتا رہے تو ازدواجی خواہش متاثر ہونا سمجھ میں آنے والی بات ہے۔ بعض اوقات وزن کے ساتھ شوگر، بلڈ پریشر، نیند کے مسائل یا ہارمونز جیسے عوامل بھی شامل ہو سکتے ہیں، اس لیے صرف یہ سوچ لینا کہ “میں موٹا ہوں، اسی لیے میری خواہش ختم ہے” ہمیشہ درست نہیں۔ اپنی زندگی میں چھوٹی تبدیلیوں سے آغاز کریں: کھانے میں اعتدال، روزانہ مناسب چہل قدمی، بہتر نیند اور وزن کو آہستہ آہستہ کم کرنے کی کوشش۔ چند دن میں سب کچھ بدلنے کی کوشش نہ کریں؛ جسم کو سزا نہیں، مستقل مزاجی چاہیے۔ اور اپنی بیوی سے بھی کھل کر بات کریں، کیونکہ ازدواجی زندگی صرف جسمانی کارکردگی کا نام نہیں بلکہ ایک دوسرے کو سمجھنے اور ساتھ دینے کا نام ہے۔ وزن کم کرنا صرف خوبصورت نظر آنے کے لیے نہیں، بلکہ بہتر صحت، زیادہ توانائی، بہتر اعتماد اور بہتر زندگی کے لیے ہے۔
ڈاکٹر وقار بھٹہ

ایک بھائی نے مشاورت میں لکھا: “ڈاکٹر صاحب، مجھے شوگر ہے اور پچھلے کچھ عرصے سے میری جنسی طاقت پہلے جیسی نہیں رہی۔ خواہش ب...
05/09/2026

ایک بھائی نے مشاورت میں لکھا: “ڈاکٹر صاحب، مجھے شوگر ہے اور پچھلے کچھ عرصے سے میری جنسی طاقت پہلے جیسی نہیں رہی۔ خواہش بھی کم محسوس ہوتی ہے اور جب ازدواجی تعلق قائم کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو مطلوبہ سختی برقرار نہیں رہتی۔ میں بہت پریشان ہوں، بیوی سے بات کرتے ہوئے شرمندگی محسوس ہوتی ہے اور مجھے ڈر لگتا ہے کہ شاید اب میں پہلے جیسا نہیں رہا۔” میں نے انہیں بتایا کہ ذیابیطس صرف خون میں شوگر کا نمبر نہیں، بلکہ اگر طویل عرصے تک شوگر مناسب کنٹرول میں نہ رہے تو خون کی نالیوں اور اعصاب سمیت جسم کے مختلف نظام متاثر ہو سکتے ہیں، اور اسی وجہ سے بعض مردوں میں er****on یا جنسی کارکردگی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہاں ایک بہت اہم بات سمجھنے کی ہے: شوگر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ازدواجی زندگی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔ بعض اوقات آدمی جسمانی مسئلے کے ساتھ ساتھ ذہنی دباؤ بھی لے لیتا ہے، پھر ایک ناکام تجربے کے بعد اگلی بار پہلے ہی خوف شروع ہو جاتا ہے کہ “پتا نہیں اس بار بھی ہوگا یا نہیں”، اور یہ خوف مسئلہ مزید بڑھا دیتا ہے۔ اس لیے خود کو ناکام یا نامرد کہنا مسئلے کا حل نہیں۔ شوگر کو سنجیدگی سے کنٹرول کرنا، اپنی غذا، وزن، نیند اور جسمانی سرگرمی پر توجہ دینا اور اپنی مجموعی صحت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اگر مسئلہ مسلسل موجود ہے تو اس کی وجہ سمجھنا زیادہ اہم ہے، کیونکہ ہر شخص کے لیے وجہ ایک جیسی نہیں ہوتی۔ اپنی بیماری کو اپنی مردانگی کا فیصلہ نہ بنائیں۔ شوگر ایک طبی مسئلہ ہے، اور اس کے ساتھ آنے والی جنسی مشکلات بھی شرمندگی کی نہیں بلکہ سمجھنے اور مناسب طریقے سے حل کرنے کی بات ہیں۔
ڈاکٹر وقار بھٹہ

ایک خاتون نے مشاورت میں لکھا: “ڈاکٹر صاحب، میرے شوہر اکثر میرے جسم اور خاص طور پر میرے سینے کے بارے میں ایسی باتیں کرتے ...
05/09/2026

ایک خاتون نے مشاورت میں لکھا: “ڈاکٹر صاحب، میرے شوہر اکثر میرے جسم اور خاص طور پر میرے سینے کے بارے میں ایسی باتیں کرتے ہیں کہ مجھے اپنے اندر ہی کمی محسوس ہونے لگتی ہے۔ میں آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی ہوں تو مجھے لگتا ہے شاید واقعی میں خوبصورت نہیں ہوں، شاید میرے شوہر مجھ سے خوش نہیں۔ آہستہ آہستہ میرا اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے اور ازدواجی زندگی میں بھی دل نہیں لگتا۔” میں نے انہیں سمجھایا کہ سب سے پہلے یہ بات اپنے دل سے نکال دیں کہ عورت کی خوبصورتی یا اس کی قدر صرف جسم کے کسی ایک حصے سے طے ہوتی ہے۔ ہر عورت کا جسم قدرتی طور پر مختلف ہوتا ہے؛ کسی کا جسم بھرا ہوا ہوتا ہے، کسی کا کم، کسی کے جسم میں وقت کے ساتھ تبدیلی آتی ہے، اور یہ سب انسانی جسم کی فطری باتیں ہیں۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ نہیں کہ جسم کیسا ہے، بلکہ یہ ہے کہ انسان کو بار بار اس کے جسم کے بارے میں ایسی باتیں سننی پڑیں کہ وہ خود کو کمتر سمجھنے لگے۔ ازدواجی رشتے میں محبت کے ساتھ عزت بھی ضروری ہے۔ اگر ایک شریکِ حیات دوسرے کو بار بار شرمندہ کرے تو اس کا اثر صرف چند لمحوں تک نہیں رہتا، بلکہ خود اعتمادی، ذہنی سکون اور ازدواجی تعلق تک متاثر ہو سکتا ہے۔ میری بہن، اپنے آپ کو کسی دوسرے کے تبصرے کی نظر سے دیکھنا چھوڑیں۔ آپ کی قدر صرف ظاہری شکل نہیں بلکہ آپ کی شخصیت، محبت، کردار اور انسان ہونے کی وجہ سے ہے۔ اگر جسم میں کوئی حقیقی طبی تبدیلی یا تکلیف ہے تو اسے الگ مسئلے کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے، لیکن صرف کسی کے طعنوں کی وجہ سے اپنے جسم کو ناقص سمجھ لینا درست نہیں۔ آپ میں کمی نہیں، آپ کو اپنی قدر دوبارہ پہچاننے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر وقار بھٹہ

Address

City Kasur
Lahore
TAIR

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr waqar bhuta posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Dr waqar bhuta:

Shortcuts

Share