11/09/2026
آج جمعہ کے دن دل چاہا کہ اپنی زندگی کی محنت کا ایک چھوٹا سا حصہ آپ دوستوں کے ساتھ شیئر کروں۔ میں نے زندگی ہمیشہ آسان راستوں پر نہیں گزاری۔ میرا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا، جہاں ضرورتیں زیادہ اور وسائل بہت کم تھے۔ میرے والد صاحب نے تقریباً 20 سال لاہور میں رکشہ چلا کر ہمیں پڑھایا، ہماری فیسیں دیں، ہماری ضروریات پوری کیں اور اپنے آرام سے زیادہ ہمارے مستقبل کو اہمیت دی۔ ان کی محنت میرے لیے آج بھی سب سے بڑی مثال ہے۔
میں نے بھی اپنی زندگی میں وہ دن دیکھے ہیں جب زمینوں سے آلو اکٹھے کیے، انہیں منڈی میں فروخت کیا، دیہاڑی لگائی اور جو کام ملا، کر لیا۔ مقصد صرف یہ تھا کہ گھر کا نظام بھی چلتا رہے اور میری تعلیم بھی جاری رہے۔ حالات مشکل تھے، لیکن میں نے محنت کا راستہ نہیں چھوڑا۔
آج اللہ کے کرم سے میں ڈاکٹر ہوں، اپنا کلینک چلا رہا ہوں اور قانون کی تعلیم بھی حاصل کر رہا ہوں۔ لیکن میری اصل پہچان یہ عہدے نہیں، بلکہ وہ سفر ہے جس نے مجھے یہ سکھایا کہ غربت صرف پیسوں کی کمی کا نام نہیں، غربت انسان کو دوسروں کے درد کو سمجھنا بھی سکھاتی ہے۔
آپ میں سے بہت سے لوگ شاید سوچتے ہوں گے کہ یہ ڈاکٹر ہر بندے کو جواب کیوں دیتا ہے؟ لوگوں کو وقت کیوں دیتا ہے؟ اتنی مفت مشاورت کیوں کرتا ہے؟ تو اس کے پیچھے بھی میری یہی گزری ہوئی زندگی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ محدود وسائل میں گھر چلانا کیا ہوتا ہے، بیماری کے وقت جیب خالی ہونا کیا ہوتا ہے اور ضرورت مند انسان کے لیے ایک چھوٹی سی مدد کتنی بڑی چیز بن سکتی ہے۔
اسی لیے آج بھی جب کوئی ضرورت مند شخص مجھ سے مشورہ مانگتا ہے تو میں کوشش کرتا ہوں کہ اسے خالی ہاتھ واپس نہ بھیجوں۔ میں نے خود مشکل حالات دیکھے ہیں، اسی لیے دوسروں کی مشکلات کو صرف ایک سوال نہیں سمجھتا، بلکہ ان کے پیچھے چھپی مجبوری کو بھی سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں۔
میں یہ سب اپنی تعریف کے لیے نہیں لکھ رہا۔ بس یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جو شخص خود مشکل راستوں سے گزرا ہو، وہ دوسروں کے راستے کی تکلیف شاید کچھ زیادہ سمجھ سکتا ہے۔
اللہ نے مجھے جہاں تک پہنچایا، یہ میرے والدین کی دعاؤں، ان کی محنت اور اللہ کے فضل کا نتیجہ ہے۔ دعا ہے کہ اللہ مجھے ہمیشہ اپنی اصل یاد رکھنے، ضرورت مندوں کے کام آنے اور حلال طریقے سے آگے بڑھنے کی توفیق دے۔ آمین۔ ❤️
ڈاکٹر وقار بھٹہ