Psychologist Society of Pakistan- PSP

  • Home
  • Psychologist Society of Pakistan- PSP
Website

Psychologist Society of Pakistan- PSP Prof.Dr.Tahir Hafeez ( Gold Medalist )
( RD’MD ‘ Ph.D )
Memeber of American Psychological Association

17/08/2026

💙 خصوصی بچے، خصوصی توجہ کے مستحق ہیں

خصوصی بچوں کی بحالی صرف تھراپی سینٹر تک محدود نہیں ہوتی۔

والدین کی محبت، توجہ، صبر اور مسلسل محنت بچے کی نشوونما اور روزمرہ زندگی کی صلاحیتوں میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔

🧩 گھر پر روزانہ مشق
🗣️ Speech Therapy میں تعاون
🖐️ Occupational Therapy کی مشقیں
🏃 Physiotherapy کی پابندی
📚 Special Education میں والدین کی شمولیت
❤️ سب سے بڑھ کر مستقل حوصلہ افزائی

یاد رکھیں، ہر بچہ اپنی رفتار سے سیکھتا ہے۔ بروقت تشخیص، مناسب تھراپی اور والدین کی مسلسل شمولیت بچے کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔

بچے کو صرف علاج نہیں، آپ کا وقت بھی چاہیے۔
آج کی آپ کی ایک گھنٹے کی محنت، کل اس کی زندگی میں ایک بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔

Tahir Holistic Healing & Research Institute
📞 0345-6940692 / 0332-8033140

‎صحت کے نظام کا مستقبل — صرف علاج نہیں بلکہ بچاؤ ہے‎ایک دن ہسپتال کا بستر کسی کی جان بچا سکتا ہے۔‎لیکن اگر ہم اس شخص کو ...
09/08/2026

‎صحت کے نظام کا مستقبل — صرف علاج نہیں بلکہ بچاؤ ہے

‎ایک دن ہسپتال کا بستر کسی کی جان بچا سکتا ہے۔

‎لیکن اگر ہم اس شخص کو اس بستر کی ضرورت پڑنے سے پہلے ہی بیمار ہونے سے روک سکیں تو کیا ہوگا؟

‎اگر ہم خاندان کو صحت مند غذائیت کے بارے میں آگاہ کر دیں اور ایک بچہ ذیابیطس کے بغیر صحت مند زندگی گزار سکے تو کیا ہوگا؟
‎اگر کسی نوجوان کو اس کے بلڈ پریشر، وزن اور طرزِ زندگی کے بارے میں بروقت سمجھا دیا جائے اور وہ دل کی بیماری میں مبتلا ہونے سے بچ جائے تو کیا ہوگا؟
‎اگر کسی بزرگ والدین کی بیماری ناقابلِ واپسی ہونے سے پہلے ہی تشخیص کر لی جائے اور وہ اپنے بچوں کے ساتھ مزید صحت مند سال گزار سکیں تو کیا ہوگا؟

‎صحت کی دیکھ بھال اس وقت شروع نہیں ہونی چاہیے جب انسان شدید بیمار ہو جائے۔

‎صحت کی دیکھ بھال اس سے بہت پہلے شروع ہونی چاہیے۔

‎آج دل کی بیماریاں، ذیابیطس، موٹاپا، کینسر اور دیگر غیر متعدی بیماریاں خاندانوں اور صحت کے نظام پر ایک بہت بڑا بوجھ ڈال رہی ہیں۔ ہم پیچیدگیوں کے علاج پر اربوں خرچ کرتے ہیں، حالانکہ بچاؤ اکثر سادہ مگر مؤثر اقدامات سے شروع کیا جا سکتا ہے:

‎• 🥗 بہتر غذائیت اور صحت مند غذائی ماحول
‎• 🚶 باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور صحت مند طرزِ زندگی
‎• 🚭 تمباکو اور نشہ آور اشیا کے استعمال سے بچاؤ
‎• 🩺 بروقت اسکریننگ اور بیماری کے خطرے کا جائزہ
‎• 🧠 ذہنی اور سماجی بہبود
‎• 🏫 اسکولوں اور کمیونٹی میں صحت کی تعلیم
‎• 🏥 مضبوط اور قابلِ رسائی بنیادی صحت کی سہولیات
‎• 📊 شواہد پر مبنی اور اعداد و شمار سے رہنمائی حاصل کرنے والی عوامی صحت کی پالیسیاں

‎ٹیکنالوجی ہسپتالوں کو مسلسل تبدیل کرتی رہے گی۔ مصنوعی ذہانت، جدید سرجری، نئی ادویات اور جدید تشخیصی طریقے بے شمار جانیں بچائیں گے۔

‎لیکن صحت کے شعبے کی سب سے بڑی کامیابی شاید یہ نہ ہو کہ آخری لمحے میں کسی مریض کی جان بچا لی جائے۔

‎بلکہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس مریض کو پہلی جگہ بیمار ہونے سے ہی روک دیا جائے۔

‎کیونکہ ہر بیماری کے پیچھے ایک انسان ہوتا ہے۔

‎ایک ماں۔
‎ایک باپ۔
‎ایک بچہ۔
‎ایک شریکِ حیات۔
‎ایک دوست۔

‎اور ہر قابلِ تدارک بیماری کے پیچھے ایک ایسا خاندان ہوتا ہے جسے برسوں کی تکلیف، مالی بوجھ اور نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔

‎لہٰذا صحت کے نظام کا مستقبل ردِعمل سے بچاؤ کی طرف، بیماری مرکوز علاج سے انسان مرکوز نگہداشت کی طرف، اور بیماری کے علاج سے صحت کے تحفظ کی طرف منتقل ہونا چاہیے۔

‎طب کا حتمی مقصد صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ انسان زیادہ عرصہ زندہ رہے۔

‎بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ انسان زیادہ طویل، زیادہ صحت مند اور زیادہ بامقصد زندگی گزارے۔

‎بچاؤ صحت کے نظام کا صرف مستقبل نہیں ہے۔

‎بچاؤ ہی وہ صحت کا نظام ہے جسے ہمیں آج تشکیل دینا چاہیے۔

Tahir Holistic Healing & Research Institute
0345-6940692
0332-8033140

کبھی کسی ماں نے رات کی تنہائی میں خود سے یہ سوال ضرور کیا ہوگا…“آخر مجھ سے ایسی کیا کمی رہ گئی کہ میرا بچہ آٹسٹک ہے؟”اگر...
07/08/2026

کبھی کسی ماں نے رات کی تنہائی میں خود سے یہ سوال ضرور کیا ہوگا…

“آخر مجھ سے ایسی کیا کمی رہ گئی کہ میرا بچہ آٹسٹک ہے؟”

اگر یہ سوال کبھی آپ کے دل میں آیا ہے، تو آج خود کو معاف کر دیجیے۔

آٹزم کسی ماں کی غلطی نہیں۔
یہ نہ کسی گناہ کی سزا ہے، نہ لاپرواہی کا نتیجہ، اور نہ ہی ناقص تربیت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ موجودہ سائنسی شواہد کے مطابق آٹزم ایک نیوروڈیولپمنٹل حالت ہے، جس کی تشکیل میں جینیاتی عوامل کے ساتھ دیگر حیاتیاتی عوامل بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ہم اکثر صرف اتنا دیکھتے ہیں کہ بچہ بولتا کم ہے، آنکھوں میں کم دیکھتا ہے، یا مختلف رویے اختیار کرتا ہے…
لیکن ہم یہ نہیں دیکھ پاتے کہ وہ اپنے جسم کے اندر کتنی خاموش جنگ لڑ رہا ہوتا ہے۔

بہت سے آٹسٹک بچوں میں دماغ اور جسم کے درمیان پیغامات کی ترسیل کا انداز مختلف ہوتا ہے، جس کی وجہ سے:

💙 بعض بچوں کو قبض، اسہال، گیس یا معدے کی دیگر مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

💙 جب انہیں درد ہوتا ہے تو وہ اسے الفاظ میں بیان نہیں کر پاتے، اس لیے کبھی چیختے ہیں، کبھی خود کو مارتے ہیں، کبھی شدید بے چینی کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ ضد نہیں، بلکہ تکلیف کی زبان ہو سکتی ہے۔

💙 کچھ بچوں میں درد یا چھونے کے احساس کی شدت عام بچوں سے مختلف ہوتی ہے۔ کسی کو شدید چوٹ بھی کم محسوس ہوتی ہے، جبکہ کسی کو ہلکا سا لمس بھی ناقابلِ برداشت لگ سکتا ہے۔

💙 بعض بچوں میں بھوک، پیٹ بھرنے یا جسمانی ضروریات کے احساسات بھی مختلف انداز میں ظاہر ہوتے ہیں۔

💙 نیند کے مسائل بھی بہت عام ہیں، جس کی وجہ سے صرف بچہ ہی نہیں بلکہ پوری فیملی، خاص طور پر ماں، شدید جسمانی اور ذہنی تھکن سے گزرتی ہے۔

💙 کچھ بچوں کو توازن برقرار رکھنے، جسمانی حرکات کو منظم کرنے یا اپنے جسم کے احساس کو سمجھنے میں بھی دشواری پیش آتی ہے۔

اس لیے جب آپ کسی آٹسٹک بچے کو دیکھیں تو صرف اس کا رویہ نہ دیکھیں…
یہ بھی سوچیں کہ شاید وہ ایسی مشکلات سے لڑ رہا ہے جنہیں وہ خود بیان بھی نہیں کر سکتا۔

اور اگر آپ ایک آٹسٹک بچے کی ماں یا والد ہیں، تو یاد رکھیے:

آپ ناکام نہیں ہیں۔
آپ ہر دن ایک ایسی جنگ لڑ رہے ہیں جسے دنیا اکثر دیکھ ہی نہیں پاتی۔

اپنے بچے کو محبت دیجیے، قبولیت دیجیے، وقت دیجیے، اور اس کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر خوش ہونا سیکھ لیجیے۔

آٹسٹک بچوں کو ترس نہیں…
سمجھ، احترام، صبر اور غیر مشروط محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔

آئیے، ہم سب مل کر ایسا معاشرہ بنائیں جہاں آٹسٹک بچے خود کو مختلف نہیں بلکہ قابلِ قبول محسوس کریں، اور جہاں ہر ماں خود کو قصوروار نہیں بلکہ باوقار اور مضبوط سمجھے۔

— طاہر ہولسٹک ہیلنگ اینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ

بہت سی جسمانی بیماریاں ایسی ہیں جن میں ذہنی دباؤ (Stress)، بے چینی (Anxiety)، ڈپریشن (Depression)، صدمہ (Trauma) یا طویل...
29/07/2026

بہت سی جسمانی بیماریاں ایسی ہیں جن میں ذہنی دباؤ (Stress)، بے چینی (Anxiety)، ڈپریشن (Depression)، صدمہ (Trauma) یا طویل نفسیاتی تناؤ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ بیماریاں “صرف ذہن کی پیداوار” ہیں، بلکہ ذہنی عوامل ان کے آغاز، شدت یا علامات کو بڑھا سکتے ہیں۔

1. اعصابی (Neurological) مسائل

* ٹینشن ہیڈیک (Tension Headache)
* مائیگرین
* چکر آنا
* جسم کے مختلف حصوں میں سن ہونا یا جھنجھناہٹ (جب دیگر جسمانی وجوہات خارج ہو جائیں)

2. دل اور دورانِ خون

* ہائی بلڈ پریشر
* دل کی دھڑکن تیز ہونا (Palpitations)
* سینے میں درد (بعض اوقات Anxiety کی وجہ سے)
* دل کی بیماریوں کا خطرہ مسلسل ذہنی دباؤ سے بڑھ سکتا ہے۔

3. نظامِ ہاضمہ

* معدے کی تیزابیت (Acidity)
* گیس اور اپھارہ
* چڑچڑا آنتوں کا مرض (Irritable Bowel Syndrome - IBS)
* متلی
* بھوک میں کمی یا زیادتی

4. عضلات اور ہڈیاں

* گردن، کندھوں اور کمر کا درد
* پٹھوں کا کھچاؤ
* جبڑے کا درد یا دانت پیسنا (Bruxism)
* بعض افراد میں فائبرومائیلجیا (Fibromyalgia) کی علامات زیادہ شدید ہو سکتی ہیں۔

5. جلد کی بیماریاں

* ایگزیما
* چنبل (Psoriasis)
* مہاسے (Acne)
* خارش یا الرجی کی شدت میں اضافہ

6. سانس کے مسائل

* دمہ (Asthma) کے دوروں میں اضافہ
* سانس پھولنے کا احساس (خاص طور پر Panic Attack میں)

7. ہارمونل اور تولیدی مسائل

* خواتین میں ماہواری کی بے قاعدگی
* جنسی خواہش میں کمی
* مردوں میں Erectile Dysfunction
* بانجھ پن کے علاج کے دوران ذہنی دباؤ نتائج کو متاثر کر سکتا ہے۔

8. نیند کے مسائل

* بے خوابی
* بار بار نیند ٹوٹنا
* ڈراؤنے خواب
* دن بھر تھکن

9. قوتِ مدافعت

* بار بار انفیکشن ہونا
* زخموں کا دیر سے بھرنا
* بعض خودکار مدافعتی (Autoimmune) بیماریوں کی علامات کا بڑھ جانا

10. نفسیاتی دباؤ سے وابستہ جسمانی علامات (Psychosomatic Symptoms)

ایسے افراد میں تمام ٹیسٹ نارمل ہونے کے باوجود درج ذیل علامات موجود ہو سکتی ہیں:

* پورے جسم میں درد
* شدید تھکن
* گلے میں کچھ پھنسنے کا احساس
* ہاتھ پاؤں کانپنا
* سانس کی گھٹن
* سینے میں جکڑن
* معدے کی تکلیف

اہم بات

اگر کسی شخص کو جسمانی علامات مسلسل رہیں، شدید ہوں، یا نئی شروع ہوئی ہوں تو پہلے طبی معائنہ اور ضروری ٹیسٹ کروانا ضروری ہے تاکہ کسی حقیقی جسمانی بیماری کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ اگر معائنے کے بعد ذہنی دباؤ یا اضطراب اہم وجہ ثابت ہو، تو نفسیاتی علاج (جیسے CBT)، اسٹریس مینجمنٹ، مناسب نیند، باقاعدہ ورزش، اور ضرورت پڑنے پر ادویات سے اکثر نمایاں بہتری آتی ہے۔

جسم اور ذہن ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں؛ ذہنی صحت بہتر ہونے سے بہت سی جسمانی علامات بھی کم ہو سکتی ہیں، جبکہ جسمانی بیماری خود بھی ذہنی دباؤ کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ تعلق دو طرفہ ہے۔

‎اسپیچ تھراپی (Speech Therapy)‎اسپیچ تھراپی ایک سائنسی اور طبی شعبہ ہے جو بچوں اور بڑوں میں بولنے، زبان، آواز، روانی، سم...
25/07/2026

‎اسپیچ تھراپی (Speech Therapy)

‎اسپیچ تھراپی ایک سائنسی اور طبی شعبہ ہے جو بچوں اور بڑوں میں بولنے، زبان، آواز، روانی، سماعت سے متعلق مواصلاتی مسائل اور نگلنے (Swallowing) کی خرابیوں کی تشخیص، علاج اور بحالی سے متعلق ہے۔ اس شعبے کے ماہر کو Speech-Language Pathologist (SLP) کہا جاتا ہے۔

‎اسپیچ تھراپی کے مقاصد

‎* واضح اور مؤثر گفتگو کی صلاحیت پیدا کرنا۔
‎* زبان کو سمجھنے اور استعمال کرنے کی مہارت بہتر بنانا۔
‎* آواز اور تلفظ کی خرابیوں کا علاج۔
‎* ہکلانے (Stammering/Stuttering) میں کمی لانا۔
‎* نگلنے کے مسائل (Dysphagia) کی بحالی۔
‎* مریض کی سماجی، تعلیمی اور پیشہ ورانہ کارکردگی بہتر بنانا۔

‎اسپیچ تھراپی کے اہم شعبے

1. Speech Disorders

‎* تلفظ کی غلطیاں (Articulation Disorders)
‎* آواز کی خرابی (Voice Disorders)
‎* روانی کی خرابی (Fluency Disorders)
‎* ہکلانا (Stuttering)

2. Language Disorders

‎* زبان سمجھنے میں دشواری (Receptive Language)
‎* اظہارِ خیال میں مشکل (Expressive Language)
* Developmental Language Delay

3. Cognitive-Communication Disorders

‎* یادداشت، توجہ، مسئلہ حل کرنے اور منصوبہ بندی کی کمزوری
‎* دماغی چوٹ (TBI) یا فالج کے بعد ہونے والی مشکلات

4. Swallowing Disorders (Dysphagia)

‎* کھانا یا پانی نگلنے میں دشواری
‎* فالج، پارکنسن یا اعصابی بیماریوں کے بعد بحالی

‎اسپیچ تھراپی کن افراد کے لیے مفید ہے؟

‎بچوں میں

‎* بولنے میں تاخیر (Speech Delay)
‎* آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر (ASD)
* ADHD
* Cerebral Palsy
* Down Syndrome
‎* سماعت کی کمی
‎* سیکھنے کی مشکلات

‎بالغ افراد میں

‎* فالج (Stroke)
* Aphasia
* Parkinson’s Disease
* Dementia
* Traumatic Brain Injury
* Voice Disorders

‎جدید اسپیچ تھراپی کی تکنیکیں

* Neuro-Linguistic Processing
* Autism Communication Training
* ADHD Executive Function Training
* Neuromotor Speech Rehabilitation
* Aphasia Therapy
* AAC (Augmentative & Alternative Communication)
* Assistive Technology
* Oral Motor Exercises
* Play-Based Therapy
* Family Counselling

‎اسپیچ تھراپسٹ کی ذمہ داریاں

‎* مریض کا جامع Assessment
‎* انفرادی علاج کا منصوبہ (Individualized Therapy Plan)
‎* والدین اور اساتذہ کی رہنمائی
‎* مریض کی پیش رفت کا جائزہ
‎* مختلف شعبوں کے ماہرین کے ساتھ مل کر بحالی کا عمل

‎اسپیچ تھراپی کے فوائد

‎* واضح اور مؤثر گفتگو
‎* اعتماد میں اضافہ
‎* تعلیمی کارکردگی میں بہتری
‎* سماجی روابط مضبوط ہونا
‎* روزگار کے بہتر مواقع
‎* بہتر معیارِ زندگی

‎اس کورس سے حاصل ہونے والی مہارتیں

* Speech & Language Assessment
* Autism Communication Intervention
* ADHD Communication Management
* Cognitive-Communication Rehabilitation
* Aphasia Management
* AAC Devices کا استعمال
* Evidence-Based Clinical Practice

‎یہ کورس کن افراد کے لیے موزوں ہے؟

* MBBS Doctors
* Speech Therapy کے خواہشمند طلبہ
* Psychologists
* Special Education Teachers
* Occupational Therapists
* Physiotherapists
* Nurses
* Allied Health Professionals
* Healthcare Workers
‎* والدین اور خصوصی بچوں کے ساتھ کام کرنے والے افراد

‎خلاصہ

‎اسپیچ تھراپی ایک انتہائی اہم طبی اور بحالی کا شعبہ ہے جو بچوں اور بالغوں کو بہتر انداز میں بولنے، سمجھنے، اظہارِ خیال کرنے اور مؤثر رابطہ قائم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جدید سائنسی طریقوں، عملی تربیت اور شواہد پر مبنی علاج کے ذریعے اسپیچ تھراپی مریض کی تعلیمی، سماجی، پیشہ ورانہ اور روزمرہ زندگی کے معیار کو نمایاں طور پر بہتر بناتی ہے
‎۔

کیا پرندوں کے گیت انسانی جسم پر اثر انداز ہوتے ہیںہزاروں سالوں سے، انسانوں نے صبحِ نو کے وقت پرندوں کی آوازوں میں ایک مق...
17/07/2026

کیا پرندوں کے گیت انسانی جسم پر اثر انداز ہوتے ہیں
ہزاروں سالوں سے، انسانوں نے صبحِ نو کے وقت پرندوں کی آوازوں میں ایک مقدس، ماورائی احساس کو محسوس کیا ہے۔ یہ محض خوبصورتی نہیں ہے۔ یہ ایک ردھم ہے، ایک ارتعاش (Vibration) ہے، ایک مروجہ نمونہ ہے، اور ہمارے اعصابی نظام سے ہونے والی ایک گہری گفتگو ہے۔
فریکوئنسی کا سفر: ہوا سے جسم تک
پرندوں کی چہچہاہٹ ہوا کے دوش پر ایک فریکوئنسی بن کر سفر کرتی ہے۔
ہمارے کان اسے وصول کرتے ہیں۔
ہمارا دماغ اس کا ترجمہ کرتا ہے۔
اور ہمارا جسم اس پر ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔ "فطرت مشینیں وجود میں آنے سے بہت پہلے سے شفایابی کی نشریات کر رہی ہے۔"قدرت کے یہ نرم اور فطری صوتی مناظر ہمیں پرسکون کرنے، جذباتی توازن پیدا کرنے، پیراسمپیتھٹک نظام (Parasympathetic Calm) کو بیدار کرنے، اور کائنات کے ساتھ ایک گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں قدیم حکمت اور جدید بائیو انرجیٹکس (Bioenergetics) ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔
طاہر ہولیسٹک ہیلنگ اینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ

‎اپنے تحت الشعور کے مالک بنیںاس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے!آپ کا ذہن آپ کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ درست فوکس، مضبوط یقین اور ...
09/07/2026

‎اپنے تحت الشعور کے مالک بنیں
اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے!

آپ کا ذہن آپ کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ درست فوکس، مضبوط یقین اور تحت الشعور کی مؤثر پروگرامنگ کے ذریعے آپ اپنی سوچ، عادات اور زندگی کو مثبت انداز میں بدل سکتے ہیں۔

3 ماہ کے Mind Power NLP Bootcamp میں شامل ہوں

اس جامع کورس میں آپ سیکھیں گے:

* تحت الشعور کی مؤثر پروگرامنگ
* فوکس، اعتماد اور خود نظم و ضبط میں اضافہ
* بہتر فیصلے کرنے کی صلاحیت
* منفی سوچ اور محدود عقائد پر قابو پانا
* ذاتی اور پیشہ ورانہ کامیابی کے لیے مؤثر ذہنی مہارتیں

محدود مدت کی خصوصی پیشکش

📲 رجسٹریشن کے لیے واٹس ایپ پر “Mind Power” لکھ کر بھیجیں:

0345-6940692
0332-8033140

Tahir Holistic Healing & Research Institute

اپنی پوشیدہ ذہنی صلاحیتوں کو بیدار کریں، اپنی سوچ بدلیں، اور اپنی زندگی کو نئی کامیابیوں کی طرف لے جائیں۔

Address

7 SIRA CHOCK M.B.DIN

50400

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Psychologist Society of Pakistan- PSP posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

  • Want your business to be the top-listed health & beauty business?

Share