11/04/2026
السلام علیکم زیر نظر تحریر کا اقتباس میں نے ایک بہت اچھی کالم نگار اور افسانہ نگار محترمہ مقیتہ وسیم کے فیس بک پیج سے اخذ کیا ہے اس اقتباس میں بریکٹ کے اندر دی گئی عبارت انہی کی ہے انہوں نے تدبر قران کے نام سے ایک سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس میں وقتا فوقتا وہ اپنی قلبی واردات کا ذکر کرتی رہتی ہیں اور تفسیر قران کے حوالے سے بہت ہی جامع اور عمیق علوم کا ذکر کرتی رہتی ہیں مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے یہ معلومات کہاں سے اخذ کی ہیں آیا یہ ان کی قلبی واردات ہیں یا ان کے ذہن میں اترنے والے کچھ علمی نکات ہیں جن کو وہ صفہ قرطاس پر بکھیرتی ہیں ان کے بعض خیالات سے اختلافات بھی ہو سکتے ہیں مگر مجموعی طور پر ان کی تحریر انسان کی سوچ کا رخ ضرور بدلتی ہے میں یہ نہیں کہتا کہ آپ ان کی تحریروں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے بلکہ یہ کہتا ہوں کہ تحقیق قران اور قران کا تدبر حاصل کرنے کے لیے انسان کئی زاویوں سے اس کے متعلق اپنے خیال کے دائرے کو وسیع کر سکتا ہے اس پیراگراف میں یا اس کالم میں انہوں نے العصر کی تشریح کی ہے اور اس لفظ کی گہرائی اور گیرائی کو بیان کیا ہے عربی لغات میں عصر کے بہت سارے معنی آئے ہیں لیکن یہ معنی جو کہ مقیتہ وسیم نے بیان کیا ہے یہ قران کی الہامی خصوصیات اور قران کے مزاج کے مطابق نظر آتا ہے اس سلسلے میں آپ مجھ سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن اس کو ایک دفعہ پڑھ لیں تحقیق کے بہت سارے زاویے آپ پر کھل جائیں گے
عصر کا لفظ خاص نچوڑنے کے عمل کے لیے بولا جاتا ہے،عاصر یا عصار نچوڑنے والےکو کہتے ہیں اور عصار کا لفظ خصوصا اس کاریگر کے لیے بھی بولا جاتا ہے جو مختلف چیزوں سے رس کو کشید کرتا ہے یا نچوڑتا ہے اس کے ساتھ عصارہ کا لفظ خاص نچوڑے ہوئے رس یا اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی چیز سے نچوڑ کر حاصل کیا جاتا ہے اس تمام علمی تشریح کا مطلب قارئین کے لیے صرف اور صرف یہی ہے کہ ہم قران کے مطالب کی گہرائی میں جا کر بہت ساری ایسی چھپی ہوئی معلومات کشید کر سکتے ہیں جو نہ صرف ہمارے آنے والے دنوں کے لیے ایک صحیح راہ کا انتخاب کر سکتی ہے بلکہ ہمیں اس بام عروج پر پہنچا سکتی ہے جس کی خواہش شاید صدیوں سے مختلف اقوام کرتی چلی آ رہی ہیں لیکن اس عروج کی فارمولیشن صرف اور صرف قران کے گہرے مطالعے میں موجود ہے میں مقیتہ وسیم کے اس کالم کو آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں اس کے متعلق آپ کی رائے اور فیڈ بیک کا شدت سے انتظار رہے گا خادم خاص حکیم فیضان شاہد
(((اورالعصر.... جب وقت رس بن کر نچوڑ لیا جاتا ہے.
#مقیتہ وسیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہم "عصر" کو اُس وقت تک نہیں سمجھ سکتے، جب تک اس کے باطن میں اتر کر اس کے اصل.... ع ص ر.... کو نہ چھو لیں۔
قرآن کی سورۃ العصر کی قسم.... یہ کوئی معمولی قسم نہیں…
"وَالعَصْرِ"
یہ ایک لفظ ہے …مگر اپنے اندر ایک پوری کائنات سمیٹے ہوئے۔
قرآن کا اسلوب یہی ہے…جتنا اختصار… اتنی وسعت.
جتنے کم الفاظ… اتنا گہرا سمندر۔
ہم اکثر "العصر" کا ترجمہ... صرف "زمانے کی قسم" کر کے گزر جاتے ہیں…
مگر کیا واقعی یہ اتنا سادہ ہے؟
نہیں…
یہ وہ وقت ہے جو صرف گزرتا نہیں بلکہ نچوڑتا ہے۔
عربی میں "عَصَّار" اُس کو کہتے ہیں جو پھلوں اور بیجوں کا رس نکالتا ہے…
اور رس نکالنا کیا ہے؟
کسی شے سے اس کا اصل لے لینا…
اس کا جوہر کھینچ لینا…یہاں تک کہ پیچھے صرف وہ باقی رہے
جس کی کوئی قیمت نہ ہو۔
بالکل ایسے ہی…
"عصر" وہ وقت ہے، جب زندگی ہمیں نچوڑنے لگتی ہے۔
دن کا وہ حصہ…جب سورج ڈھلنے کو ہو…
روشنی کم ہونے لگے…اور سایے لمبے ہو جائیں۔
یہ صرف دن کا نہیں…انسان کا بھی "عصر" ہے۔
جب طاقتیں کم ہونے لگتی ہیں…
رفتار سست پڑ جاتی ہے…اور دل کو پہلی بار احساس ہوتا ہے
کہ واپسی قریب ہے۔
زندگی کی بھی اپنی نمازیں ہیں…
ایک فجر.... بچپن
ایک ظہر.... جوانی
اور ایک عصر.... ادھیڑ عمر…
پھر مغرب…
جہاں سورج بھی ڈوبتا ہے اور انسان بھی۔
"عصر" صرف وقت نہیں…یہ ایک کیفیت ہے۔
تھکن کی کیفیت…
جلدی کی کیفیت…
واپسی کے احساس کی کیفیت۔
اسی لیے عصر کی نماز…صرف ایک عبادت نہیں…بلکہ ایک یاد دہانی ہے:
کہ تمہارا وقت نچوڑا جا رہا ہے…اب بھی سنبھل جاؤ۔
"وَالعَصْرِ" دراصل ایک خاموش اعلان ہے…کہ انسان!
تمہاری زندگی کا رس نکالا جا رہا ہے…
دیکھو…
کیا تم نے اس میں سے کچھ حاصل بھی کیا؟
یا صرف کھو دیا؟
اللہ کرے…ہماری زندگی کا "عصر"... پچھتاوے کا نہیں…نور کا وقت بن جائے۔)))
آمین ثم آمین یا رب العلمین 💞
#مقیتہ وسیم