Nutritionist Qurrat Ul Ain

Nutritionist Qurrat Ul Ain Specialist in PCOS, Weight loss ,Uric acid, Cholesterol, Fatty liver, Kidney, Anemia, Arthritis, Diabetes
(7)

18/05/2026

11/03/2026

02/03/2026

23/02/2026
مجید ایک نجی بینک میں سینئر آفیسر تھا۔ صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک کمپیوٹر کے سامنے بیٹھنا، میٹنگز، فائلیں، ٹارگٹس اور...
16/02/2026

مجید ایک نجی بینک میں سینئر آفیسر تھا۔ صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک کمپیوٹر کے سامنے بیٹھنا، میٹنگز، فائلیں، ٹارگٹس اور ڈیڈ لائنز – اس کی زندگی بس اسی دائرے میں گھومتی رہتی تھی۔ شروع شروع میں سب کچھ نارمل تھا۔ وہ خود کو ایک صحت مند اور فعال انسان سمجھتا تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ اس کی روٹین ایسی بن گئی کہ صبح جلدی میں ناشتہ چھوڑ دینا، دوپہر میں آفس کینٹین سے برگر یا فرائیڈ چیزیں کھا لینا، اور رات کو گھر آ کر بھرپور مرغن کھانا – یہ سب اس کے معمول کا حصہ بن چکا تھا۔
بینک کی نوکری میں ذہنی دباؤ بہت زیادہ تھا۔ اکثر وہ تناؤ کم کرنے کے لیے دوستوں کے ساتھ باہر کھانا کھانے چلا جاتا۔ بریانی، کڑاہی، فاسٹ فوڈ، کولڈ ڈرنکس – یہ سب اس کی پسندیدہ غذائیں بن چکی تھیں۔ اسے لگتا تھا کہ چونکہ اس کا وزن بہت زیادہ نہیں بڑھ رہا، اس لیے وہ بالکل ٹھیک ہے۔ مگر جسم کے اندر خاموشی سے ایک اور ہی کہانی بن رہی تھی۔
پچھلے کچھ مہینوں سے مجید کو عجیب سی کیفیت محسوس ہونے لگی تھی۔ ہلکی سی سیڑھیاں چڑھنے پر سانس پھول جاتا، کبھی سینے میں بھاری پن محسوس ہوتا، کبھی بے وجہ تھکن، کبھی سر کے پچھلے حصے میں درد۔ وہ اکثر سوچتا: “شاید زیادہ کام کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے۔” مگر اندر ہی اندر اسے ایک خوف بھی ستانے لگا تھا۔
ایک دن بینک میں اچانک اسے ہلکی سی گھبراہٹ اور سینے میں جلن محسوس ہوئی۔ ساتھیوں نے مشورہ دیا کہ ٹیسٹ ضرور کروا لو۔ گھر والوں کے اصرار پر اس نے ایک لیبارٹری سے مکمل چیک اپ کروا لیا۔ جب رپورٹس آئیں تو ڈاکٹر نے بتایا کہ اس کا کولیسٹرول لیول خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ یہ سن کر مجید کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ وہ حیران تھا کہ اسے تو کوئی بڑی بیماری محسوس ہی نہیں ہوتی تھی، پھر یہ سب کیسے ہو گیا؟
ڈاکٹر نے فوراً دوائیں لکھ دیں اور کہا کہ لمبے عرصے تک یہ ادویات چلیں گی۔ مجید دوائیں لے تو آیا، مگر دل مطمئن نہیں تھا۔ اسے خوف تھا کہ کہیں ساری زندگی دواؤں پر ہی نہ گزارنی پڑے۔ اسی پریشانی میں ایک دن آفس کے ساتھی نے اسے بتایا کہ اس کے والد کا بھی کولیسٹرول بہت زیادہ تھا، لیکن انہوں نے میاں چنوں میں ایک نیوٹریشنسٹ قراۃ العین سے ڈائٹ پلان لیا اور بغیر زیادہ دواؤں کے ہی بہت بہتری آ گئی۔
یہ سن کر مجید کے دل میں امید جاگی۔ اس نے نمبر لیا اور واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کیا۔ اپنی رپورٹس شیئر کیں تو قراۃ العین نے اسے مکمل تفصیل کے ساتھ کلینک آنے کا مشورہ دیا تاکہ اس کی لائف اسٹائل اور خوراک کا صحیح جائزہ لیا جا سکے۔
اگلے ہی دن مجید سعید میڈی کیئر ہسپتال تلمبہ روڈ میاں چنوں پہنچ گیا۔ وہاں مریضوں کا رش دیکھ کر اسے اندازہ ہوا کہ واقعی لوگ غذا کے ذریعے علاج پر اعتماد کر رہے ہیں۔ جب اس کی باری آئی تو قراۃ العین نے بہت تسلی سے اس کی پوری روٹین پوچھی: وہ کیا کھاتا ہے، کتنا پانی پیتا ہے، ورزش کرتا ہے یا نہیں، نیند کیسی ہے۔ ساری باتیں سن کر انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا:
“مجید صاحب! آپ کی بیماری کی اصل وجہ کوئی جادو نہیں، صرف اور صرف غلط طرزِ زندگی اور غیر متوازن غذا ہے۔ روزانہ فاسٹ فوڈ، زیادہ تیل، سفید آٹا، کولڈ ڈرنکس – یہ سب آہستہ آہستہ خون میں خراب کولیسٹرول بڑھا دیتے ہیں۔”
انہوں نے اسے سمجھایا کہ کولیسٹرول دراصل دو طرح کا ہوتا ہے: اچھا اور برا۔ جب غذا میں تیل، تلی ہوئی چیزیں اور پراسیسڈ فوڈ زیادہ ہو جائے تو برا کولیسٹرول بڑھنے لگتا ہے، جو دل کے امراض، ہائی بلڈ پریشر اور فالج تک کا سبب بن سکتا ہے۔
پھر انہوں نے مجید کو ایک نہایت سادہ مگر مؤثر ڈائٹ پلان دیا۔ روزانہ کی خوراک میں سبزیاں، دالیں، جو کا دلیہ، زیتون کا تیل، مچھلی، اخروٹ، بادام، سلاد اور پھل شامل کیے۔ سرخ گوشت کم کرنے، تلی ہوئی چیزیں چھوڑنے، کولڈ ڈرنکس بند کرنے اور روزانہ کم از کم تیس منٹ چہل قدمی کرنے کی سختی سے ہدایت دی۔
مجید نے دل سے فیصلہ کیا کہ اب وہ اپنی زندگی بدل کر دکھائے گا۔ پہلے دو ہفتے اسے مشکل لگے، مگر پھر آہستہ آہستہ یہ سب اس کی عادت بن گیا۔ تین ماہ بعد جب اس نے دوبارہ ٹیسٹ کروائے تو رپورٹ دیکھ کر وہ حیران رہ گیا۔ اس کا کولیسٹرول لیول نمایاں طور پر کم ہو چکا تھا، وزن بھی گھٹ گیا تھا، اور سب سے بڑھ کر وہ خود کو پہلے سے کہیں زیادہ ہلکا اور توانائی سے بھرپور محسوس کر رہا تھا۔
آج مجید فخر سے سب کو بتاتا ہے:
“میں سمجھتا تھا بیماری صرف دواؤں سے ٹھیک ہوتی ہے، مگر اصل علاج تو ہمارے روزمرہ کے کھانوں میں چھپا ہوتا ہے۔ اگر وقت پر غذا درست کر لی جائے تو بڑی بڑی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔”
وہ اب اپنے ہر دوست اور رشتہ دار کو یہی مشورہ دیتا ہے کہ دواؤں سے پہلے اپنی پلیٹ ٹھیک کریں، کیونکہ صحت کا اصل راز خالص اور متوازن غذا میں ہی ہے۔

انیقہ ایک پرائیویٹ کالج میں لیکچرار تھی۔ صبح سے شام تک کلاسیں، اسائنمنٹس، پیپر چیکنگ اور میٹنگز – زندگی جیسے بس دوڑ بن چ...
21/01/2026

انیقہ ایک پرائیویٹ کالج میں لیکچرار تھی۔ صبح سے شام تک کلاسیں، اسائنمنٹس، پیپر چیکنگ اور میٹنگز – زندگی جیسے بس دوڑ بن چکی تھی۔ اکثر کالج سے واپسی پر دیر ہو جاتی تو وہ گھر جا کر کھانا بنانے کے بجائے راستے میں ہی کچھ کھا لیتی۔ کبھی برگر، کبھی پیزا، کبھی شوارما، اور ساتھ کولڈ ڈرنک۔ آہستہ آہستہ یہی اس کا معمول بن گیا تھا۔ شروع شروع میں اسے کچھ محسوس نہیں ہوا۔ بالکل نارمل زندگی چل رہی تھی۔ پیریڈز بھی باقاعدہ تھے، جلد بھی ٹھیک تھی، توانائی بھی ٹھیک۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس کے جسم نے جیسے خاموش احتجاج شروع کر دیا۔
اب وہ اکثر تھکی تھکی رہنے لگی تھی۔ بال پہلے سے زیادہ جھڑنے لگے، ناخن کمزور ہو گئے، چہرے پر دانے نکلنے لگے، ہلکی سی محنت پر سانس پھول جاتی۔ سب سے زیادہ پریشان کرنے والی بات یہ تھی کہ اس کے پیریڈز جو پہلے گھڑی کی طرح باقاعدہ تھے، اب بے قاعدہ ہونے لگ گئے تھے۔ گھر والے اس کے رشتے کی باتیں بھی دیکھ رہے تھے، مگر انیقہ دل ہی دل میں خوفزدہ تھی۔ وہ سوچتی رہتی: “پہلے اپنا علاج کرواؤں یا رشتہ دیکھوں؟ کہیں شادی کے بعد مسئلے اور نہ بڑھ جائیں؟”
اس نے خود ہی حل ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ میڈیکل اسٹور سے ملٹی وٹامن، ٹانک اور مختلف سپلیمنٹ لے کر استعمال شروع کر دیے۔ دوستوں کے مشورے پر کبھی کوئی سیرپ، کبھی کوئی کیپسول۔ لیکن ہفتے مہینوں میں بدل گئے اور فرق کچھ خاص نہ پڑا۔ اندر سے وہ مزید مایوس ہونے لگی۔ اسے ڈاکٹروں کے پاس جانے سے بھی ڈر لگتا تھا۔ اس کے ذہن میں یہی خیال رہتا کہ انگریزی دوائیں مہنگی بھی ہوتی ہیں اور ان کے سائیڈ ایفیکٹس بھی بہت ہوتے ہیں۔

ایک دن کالج کے اسٹاف روم میں بیٹھے ہوئے اس کی ایک کولیگ نے اس کی حالت دیکھ کر پوچھ لیا: “انیقہ! تم کچھ دنوں سے بہت کمزور لگ رہی ہو، سب ٹھیک ہے؟” باتوں باتوں میں انیقہ نے اپنی ساری پریشانی بتا دی۔ تب اس کولیگ نے اسے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے اسے خود شدید وٹامن ڈی کی کمی ہو گئی تھی، بہت علاج کروائے مگر فرق نہیں پڑ رہا تھا۔ پھر کسی نے اسے میاں چنوں کی ایک نیوٹریشنسٹ قراۃ العین کا بتایا۔ اس نے صرف ڈائٹ پلان فالو کیا اور بغیر کسی دوائی کے چند ہفتوں میں مکمل ٹھیک ہو گئی۔ ایک روپیہ بھی دواؤں پر خرچ نہیں ہوا۔
یہ بات سن کر انیقہ کے دل میں پہلی بار امید کی کرن جاگی۔ اس نے سوچا: “جب بغیر دوائی کے مسئلہ ٹھیک ہو سکتا ہے تو ایک بار ملنے میں کیا حرج ہے؟” اسی کولیگ سے نمبر لیا، اور اسی شام واٹس ایپ کے ذریعے قراۃ العین سے رابطہ کیا۔ اپنا مسئلہ تفصیل سے بتایا تو انہوں نے بہت تسلی سے بات سنی اور کہا کہ پہلے کلینک آ کر مکمل مشورہ کریں، ساتھ ہی کچھ ممکنہ
ٹیسٹ بھی تجویز کیے تاکہ مسئلے کی صحیح تشخیص ہو سکے۔

اگلے دن کالج سے واپسی پر انیقہ نے رکشے والے کو کہا: “بھائی،
سعید میڈی کیئر ہسپتال، تلمبہ روڈ میاں چنوں لے چلیں۔” دل میں تھوڑا خوف بھی تھا اور تھوڑی امید بھی۔ ہسپتال پہنچی تو رسپشن پر کافی رش تھا۔ اسے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ صرف میاں چنوں ہی نہیں، آس پاس کے شہروں سے بھی لوگ علاج کروانے آئے ہوئے تھے۔ دل میں مزید اعتماد پیدا ہوا کہ شاید واقعی یہاں کچھ بہتر ہوگا۔

کچھ دیر انتظار کے بعد اس کا نمبر آیا۔ جب وہ قراۃ العین صاحبہ کے کمرے میں داخل ہوئی تو پہلی ہی ملاقات میں ان کے شائستہ اور نفیس انداز نے انیقہ کو بہت مطمئن کر دیا۔ انہوں نے بہت تفصیل سے اس کی ہسٹری لی، وزن اور قد کی پیمائش کی، روزمرہ خوراک کے بارے میں پوچھا، نیند، روٹین، ہر چیز نوٹ کی۔ جب ٹیسٹ رپورٹس دیکھیں تو مسکرا کر بولیں:
“انیقہ! آپ کا اصل مسئلہ کوئی بڑی بیماری نہیں – آپ کو زنک کی شدید کمی ہو گئی ہے، اور اس کی بنیادی وجہ آپ کی غیر متوازن غذا ہے۔”

یہ سن کر انیقہ حیران رہ گئی۔ اسے اندازہ ہی نہیں تھا کہ صرف غلط کھانے کی عادت اس کے جسم کو اتنا متاثر کر سکتی ہے۔ نیوٹریشنسٹ قراۃ العین نے اسے سمجھایا کہ زنک انسانی جسم کے لیے بہت ضروری معدنی جز ہے۔ اس کی کمی سے بالوں کا گرنا، جلد کے مسائل، تھکن، قوتِ مدافعت کی کمزوری اور ہارمونل بے قاعدگی جیسے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں – بالکل وہی سب کچھ جو انیقہ کے ساتھ ہو رہا تھا۔

قراۃ العین نے اسے کوئی مہنگی دوا نہیں لکھی۔ صرف ایک سادہ، متوازن اور عملی ڈائٹ پلان دیا۔ روزانہ کی خوراک میں انڈے، دالیں، چنے، مچھلی، بیج، دودھ، دہی، سبزیاں اور پروٹین شامل کرنے کا کہا۔ فاسٹ فوڈ اور کولڈ ڈرنکس تقریباً بند کرنے کی ہدایت دی۔ پانی زیادہ پینے اور وقت پر کھانے کا معمول بنانے کو کہا۔

انیقہ نے پوری سنجیدگی سے ڈائٹ پلان پر عمل شروع کیا۔ چند ہی ہفتوں میں اس نے واضح فرق محسوس کرنا شروع کر دیا۔ تھکن کم ہونے لگی، جلد بہتر، بال مضبوط، موڈ بہتر، اور سب سے بڑی خوشی یہ کہ اس کے پیریڈز دوبارہ باقاعدہ ہونے لگے۔ اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ جو مسئلہ مہنگی دواؤں سے ٹھیک نہیں ہوا تھا، وہ صرف غذا درست کرنے سے ٹھیک ہو گیا۔
آج انیقہ جب اپنی پرانی زندگی کو دیکھتی ہے تو مسکرا کر کہتی ہے:
“بیماری اکثر خود پیدا نہیں ہوتی، ہم اپنی غلط عادتوں سے اسے دعوت دیتے ہیں۔ اور اصل علاج ہمیشہ گولیوں میں نہیں – صحیح غذا میں چھپا ہوتا ہے۔”

رابطہ ذریعہ واٹس ایپ

0341 3550200

Address

Saeed Medicare Hospital Tulamba Road
Mian Channun
58000

Opening Hours

Monday 10:00 - 17:00
Tuesday 10:00 - 17:00
Wednesday 10:00 - 17:00
Thursday 10:00 - 17:00
Friday 10:00 - 17:00
Saturday 10:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nutritionist Qurrat Ul Ain posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share