28/07/2026
عالمی یوم ھیپاٹائٹس کے موقع پر ایک معلوماتی تحریر
صحت مند جگر صحت مند زندگی
Homoeopathic Registered Doctors
ہومیو ڈاکٹر خضر ریاض
ہومیو ڈاکٹر جنید خضر
ہر سال 28 جولائی کو دنیا بھر میں عالمی یوم ھیپاٹائٹس منایا جاتا ہے تاکہ عوام میں اس خاموش مگر خطر ناک بیماری کے بارے میں آگاہی پیدا کی جاسکے۔ ہمیں یہ جاننا ہے کہ بر وقت تشخیص، احتیاطی تدابیر اور مناسب علاج کے ذریعے ھیپاٹائٹس سے ہونے والی پیچیدگیوں اور اموات میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔
جگر انسانی جسم کا ایک نہایت اہم عضو ہے۔ غیر متوازن غذا، غذائی بے احتیاطی ، الکحل کی زیادتی، زہریلے مادے اور بعض ممنوعہ ادویات کے استعمال سے جگر میں سوزش پیدا ہو سکتی ہے، جسے ھیپاٹائٹس کہا جاتا ہے۔ یہ سوزش مختلف وائرسز کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے۔ ھیپاٹائٹس اے، بی اور سی جگر کو متاثر کرنے والی مختلف اقسام کی وائرل بیماریاں ہیں۔ اگرچہ یہ تینوں بیماریاں وائرس کی وجہ سے ہوتی ہیں، لیکن ان کے پھیلنے کے طریقے ، علامات، بیماری کی شدت، پیچیدگیاں ، بچاؤ کے اقدامات اور علاج ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔
ھیپاٹائٹسA :
آلودہ خوراک اور پانی کے ذریعے پھیلنے والا جگر کا وائرل انفیکشن۔
ھیپاٹائٹس B
متاثرہ خون، جسمانی رطوبتوں اور ماں سے بچے میں منتقل ہونے والا جگر کا وائرل انفیکشن۔
ھیپاٹائٹس C:
زیادہ تر متاثرہ خون، آلودہ سرنجوں اور غیر جراثیم سے پاک آلات کے ذریعے منتقل ہونے والا جگر کا وائرل انفیکشن
HEPATITIS A
HEPATITIS B
HEPATITIS C
پاکستان میں اندازاً ایک کروڑ سے زائد افراد ھیپاٹائٹس سے جبکہ 38 لاکھ سے زائد افراد ھیپاٹائٹس B کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کے علاوہ لاکھوں افراد ھیپاٹائٹس کے مرض سے لا علم ہوتے ہیں، کیونکہ ابتدائی مراحل میں ھیپاٹائٹس کی علامات واضح طور پر ظاہر نہیں ہو تیں۔
عام علامات میں مسلسل تھکاوٹ، بھوک میں کمی، متلی، دائیں جانب پیٹ میں درد، آنکھوں اور جلد کا پیلا ہونا، گہرے رنگ کا پیشاب اور ہاضمے کی خرابی شامل ہیں۔ ھیپاٹائٹس کی بر وقت تشخیص کے لیے خون کے بنیادی ٹیسٹ اور ضرورت کے مطابق جگر کا الٹراساؤنڈ LFT کروانا مفید ثابت ہوتے ہیں۔ اگر بر وقت، تشخیص اور مناسب علاج شروع کر دیا جائے تو ھیپاٹائٹس کی پیچیدگیوں، جگر کے شدید نقصان، سروسس اور جگر کے کینسر کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے بروقت تشخیص ہی ھیپاٹائٹس سے مؤثر تحفظ اور صحت مند زندگی کی کلید ہے۔
ھیپاٹائٹس سے بچاؤ کے لیے چند اہم احتیاطی تدابیر اختیار کر ناضروری ہیں۔ روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والے تمام آلات ، خصوصاً شیو یا حجامت کے آلات، جراثیم سے پاک (اسٹر لائزڈ) ہونے چاہیں۔ اگر انجیکشن لگوانے کی ضرورت ہو تو ہمیشہ مستند ڈاکٹر یا تربیت یافتہ طبی عملے کی نگرانی میں لگوائیں اور نئی سرنج کے استعمال کو یقینی بنائیں۔ دانتوں کے علاج ( ڈینٹل پروسیجر ) کے لیے جاتے وقت اس بات کی تسلی کر لیں کہ استعمال ہونے والے تمام آلات جراثیم سے پاک ہوں۔ اگر خون لگوانا ضروری ہو تو ہمیشہ اچھی طرح جانچ شدہ اور محفوظ خون ہی لگوائیں۔ ذاتی استعمال کی اشیاء جیسے ریزر ، نیل کٹر ، ٹوتھ برش اور دیگر نوکیلے آلات کسی کے ساتھ مشتر کہ استعمال نہ کریں۔ ھیپاٹائٹس B سے بچاؤ کے لیے حفاظتی ویکسین ضرور لگوائیں، جبکہ ھیپاٹائٹس A سے بچاؤ کے لیے صاف پانی استعمال کریں، متوازن اور حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق تیار کردہ غذا کھائیں، اور ذاتی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ ھیپاٹائٹس سے بچنے کے لیے صاف پانی، حفظانِ صحت اور ہاتھ دھونے کی عادت اپنائیں۔
ہو میو پیتھی ایک مؤثر ، محفوظ اور فطری طریقہ علاج ہے جس پر گذشتہ دو صدیوں سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد اعتماد کرتے آرہے ہیں۔ اس نظام علاج میں مریض کی قدرتی قوت مدافعت اور جسمانی توازن کو بہتر بنا کر صحت کی بحالی میں معاونت کی جاتی ہے۔ جب ہو میو پیتھی میں معیار ، تحقیق اور اعتماد کی بات آتی ہے تو ڈاکٹر ریکو یک جرمنی کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ جر من معیار ، سائنسی تحقیق، جدید فارماسیوٹیکل ٹیکنالوجی اور سخت کوالٹی کنڑول کے امتزاج سے تیار کی جانے والی ڈاکٹر ریکو ٹیگ کی ادویات آج دنیا کے 45 سے زائد ممالک میں لاکھوں ہو میو پیتھک معالجین کی اولین ترجیح سمجھی جاتی ہیں۔
ہومیو پیتھک میں اس کا کامیاب علاج ممکن ہے ابھی مفت مشورے کیلئے رابطہ کریں
AL RIAZ HOMOEOPATHIC CLINIC
03054270001