08/05/2026
آج ایک لڑکی کو ڈاکٹر صاحب کے پاس روتے ہوئے دیکھا۔
وہ کہہ رہی تھی کہ “بچے کا سر بنانے کے چکر میں میں نے بچے کو دودھ پلا کر سیدھا لٹا دیا۔ بچے کو الٹی آئی اور وہ الٹی سانس کی نالی میں چلی گئی… اور میرے بچے کی وفات ہو گئی۔”
یہ سن کر دل ہل گیا۔
اگر اپنی بات کروں تو میری دوسری بیٹی کے وقت مجھ پر بھی بہت پریشر ڈالا گیا تھا۔ ہم ملتان میں رہتے تھے تو ہمسائی خواتین تقریباً روز یہی کہتی تھیں:
“بچی کا سر بنا لو، ایک طرف کو ہو گیا ہے، ٹیڑھا ہو گیا ہے…”
میں صرف ایک کام کرتی تھی ۔
ایک کان سے سن کے دوسرے کان سے نکال دینا ۔
خدارا ایک بات سمجھیں۔
جب ہم خود پیٹ بھر کر فوراً سیدھے لیٹ جاتے ہیں تو ہمیں بھی گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے۔ تو وہ ننھا سا بچہ، جو بول بھی نہیں سکتا اور اپنی تکلیف بتا بھی نہیں سکتا، اس پر یہ ظلم کیوں؟
بچے کو دودھ پلانے کے بعد فوراً سیدھا مت لٹائیں۔
پہلے اسے ڈکار دلوائیں، تھوڑی دیر کندھے سے لگا کر رکھیں یا مناسب پوزیشن میں رکھیں تاکہ دودھ ہضم ہو جائے۔ اس کے بعد اگر ضرورت محسوس ہو تو لٹائیں۔
اور یہ “سر بنانے” کے نام پر بچوں کو بار بار ایک خاص پوزیشن میں رکھنا یا زبردستی سیدھا لٹانا بعض اوقات خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔
براہِ مہربانی بڑی عمر کی خواتین کی ہر بات کو آخری بات نہ سمجھیں۔
ماں ہونے کے ناطے اپنے بچے کے لیے بہتر فیصلہ آپ خود کر سکتی ہیں۔
آپ کا بچہ… صرف آپ کا بچہ ہے۔
سمیہ شمسی copied from ..