03/06/2026
کیس رپورٹ
یہ 30 سالہ خاتون کا کیس ہے جن کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ مریضہ کئی سالوں سے مختلف جسمانی اور ذہنی مسائل کا شکار تھیں۔ انہیں ڈپریشن، شدید نوعیت کے سر درد، معدے کی خرابی اور عجیب و غریب خیالات کی شکایات عرصۂ دراز سے موجود تھیں۔ تاہم بواسیر کے مرض کے آغاز کے بعد ان کی زندگی مزید دشوار ہو گئی اور مجموعی صحت میں واضح بگاڑ آ گیا۔
بواسیر کے ساتھ شدید قبض کی شکایت تھی۔ پاخانہ سخت آتا تھا اور زور لگانا پڑتا تھا۔ بواسیر کے مسوں سے خون بہت زیادہ آتا تھا، بعض اوقات خون ریزی بخار کے ساتھ ہوتی تھی۔ خون آنے کے بعد شدید جلن محسوس ہوتی تھی اور بیٹھنا انتہائی مشکل ہو جاتا تھا۔ مقعد کے مقام پر شدید درد اور بے آرامی رہتی تھی جس کی وجہ سے روزمرہ کے معمولات بری طرح متاثر ہوتے تھے۔
معدے کے مسائل بھی نمایاں تھے۔ شدید تیزابیت رہتی تھی، معدہ اکثر خراب رہتا تھا، بھوک نہ ہونے کے برابر تھی اور ہاضمہ مسلسل متاثر رہتا تھا۔
تفصیلی کیس ہسٹری لینے پر معلوم ہوا کہ سر درد بھی بہت پرانا تھا۔ یہ عام نوعیت کا سر درد نہیں تھا بلکہ ایک عجیب قسم کا درد تھا جس میں اچانک سر کے اندر جھٹکا محسوس ہوتا تھا۔ یہ کیفیت کئی سالوں سے موجود تھی اور مختلف شدت کے ساتھ ظاہر ہوتی رہتی تھی۔
فیملی ہسٹری بھی خاصی اہم تھی۔ خاندان میں ڈپریشن اور اینگزائٹی جیسے نفسیاتی مسائل نمایاں طور پر موجود تھے اور متعدد قریبی رشتہ دار ذہنی دباؤ اور بے چینی کا شکار رہ چکے تھے۔
ذہنی اور جذباتی سطح پر مریضہ نہایت حساس اور جلد مشتعل ہونے والی شخصیت کی مالک تھیں۔ انہیں شدید غصہ آتا تھا اور چڑچڑاپن بہت زیادہ تھا۔ معمولی باتوں پر بھی برداشت ختم ہو جاتی تھی اور اکثر اپنے غصے کا اظہار بچوں پر کرتی تھیں۔ اس کے علاوہ وہم اور اندیشوں کا رجحان بھی نمایاں تھا۔ مختلف معاملات کے بارے میں غیر ضروری فکر مندی رہتی تھی اور منفی خیالات ذہن پر حاوی رہتے تھے۔
جسمانی شکایات میں ایک اور نمایاں رجحان بار بار پھوڑے پھنسیوں اور سفید سر والے دردناک دانوں کا بننا تھا۔ جسم کے مختلف حصوں پر وقفے وقفے سے ایسے دانے نکلتے رہتے تھے جن میں شدید درد اور سوزش ہوتی تھی۔ بعض اوقات درد کی شدت اس قدر بڑھ جاتی تھی کہ چلنا پھرنا اور روزمرہ کے کام انجام دینا بھی مشکل ہو جاتا تھا۔
ان تمام مسائل سے نجات کے لیے مریضہ نے مختلف طریقہ ہائے علاج اختیار کیے اور طویل عرصے تک متعدد ادویات استعمال کرتی رہیں، لیکن خاطر خواہ فائدہ نہ ہوا۔ مسلسل تکلیف اور بار بار علاج کی ناکامی کے بعد بالآخر انہوں نے سرجری کروانے کا فیصلہ کیا۔ تاہم سرجری کے باوجود پاخانے کے ساتھ خون آنا بند نہ ہوا اور قبض کا مسئلہ بھی برقرار رہا۔ اس صورت حال نے انہیں ذہنی طور پر مزید پریشان اور مایوس کر دیا۔
آخرکار روایتی علاج سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے پر انہوں نے ہومیوپیتھک علاج کروانے کا فیصلہ کیا اور اسی غرض سے ہمارے کلینک سے رابطہ کیا۔
مریضہ کا علاج باقاعدگی سے تقریباً چھ ماہ تک جاری رہا۔ اس دوران علامات میں بتدریج اور ہمہ جہت بہتری آتی گئی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مریضہ کی صحت میں نمایاں تبدیلی رونما ہوئی۔
علاج کے بعد جسم میں بار بار بننے والے پھوڑے پھنسیوں اور سفید سر والے دردناک دانوں کا رجحان مکمل طور پر ختم ہو گیا۔ بواسیر کی شکایت ختم ہو گئی اور پاخانے کے ساتھ خون آنا بند ہو گیا۔ دیرینہ قبض مکمل طور پر ٹھیک ہو گئی اور اجابت معمول کے مطابق ہونے لگی۔
معدے کی خرابی اور شدید تیزابیت میں بھی واضح بہتری آئی۔ بھوک بحال ہو گئی اور ہاضمہ معمول پر آ گیا۔ سب سے اہم اور قابلِ ذکر تبدیلی یہ تھی کہ برسوں پرانا عجیب نوعیت کا سر درد، جس میں سر کے اندر جھٹکے محسوس ہوتے تھے، مکمل طور پر ختم ہو گیا۔
ذہنی اور جذباتی سطح پر بھی غیر معمولی بہتری دیکھنے میں آئی۔ غصہ اور چڑچڑاپن ختم ہو گیا، بچوں پر بلاوجہ غصہ نکالنے کی عادت میں نمایاں تبدیلی آئی اور وہم و اندیشوں کی کیفیت بھی بہت حد تک ختم ہو گئی۔ مریضہ اب ذہنی طور پر زیادہ پُرسکون، متوازن اور مطمئن محسوس کرتی ہیں۔
اس وقت مریضہ اپنی روزمرہ زندگی معمول کے مطابق اور اطمینان کے ساتھ گزار رہی ہیں۔ انہیں کسی خاص پرہیز کی ضرورت نہیں، معدہ درست کام کر رہا ہے، قبض نہیں ہے، بواسیر کی کوئی علامت موجود نہیں، سر درد ختم ہو چکا ہے اور مجموعی طور پر جسمانی و ذہنی صحت پہلے کی نسبت کہیں بہتر ہے۔
#ہومیوپیتھی
#بواسیر
#قبض
#ڈپریشن
#صحت
فیڈ بیک کے سکرین شاٹ ساتھ اٹیچ ہیں
Female Consultant is available
WhatsApp 0307-8585291