Omair Homoeo Clinic

Omair Homoeo Clinic I am service provider to patient care professionally

07/07/2025

؟
اگر آپ کو اچانک کسی شخص کا نام یاد نہ آئے، یا آپ کو بھولنے کی عادت ہو گئی ہے، تو یہ دماغی خرابی کی علامت ہو سکتی ہے جسے ڈیمنشیا (Dementia) کہا جاتا ہے۔
یہ بیماری دماغ کے خلیات (neurons) کو تباہ کرتی ہے اور دماغ کے سُکڑنے کا باعث بنتی ہے جسے Cerebral Atrophy کہا جاتا ہے۔

❓ ایسا کیوں ہوتا ہے؟

🧩 وہ افراد جو...
مسلسل دماغی کام کرتے ہیں۔ ایک وقت میں کئی کام انجام دیتے ہیں۔ نیند پوری نہیں کرتے۔
ان کے نیورون سیلز متاثر ہوتے ہیں۔ وقت کے ساتھ دماغ سکڑنا شروع ہو جاتا ہے اور یادداشت کمزور ہو جاتی ہے۔ یہ عمل Neurodegeneration کہلاتا ہے اور آگے چل کر ڈیمنشیا میں بدل جاتا ہے۔

😴 نیند کی اہمیت

نیند دماغ کے لیے ویسی ہی ضروری ہے جیسے جسم کے لیے غذا۔
📌 صرف 3-4 گھنٹے سونا دماغی خلیات کو تباہ کرتا ہے
📌 نیند کی کمی ذہنی دباؤ، غصہ، چڑچڑاپن پیدا کرتی ہے
📌 مسلسل نیند کی کمی ڈیمنشیا کا خطرہ بڑھاتی ہے

🍬 ہائی بلڈ شوگر اور یادداشت

ہائی بلڈ شوگر دماغ کے خلیات کو نقصان پہنچاتی ہے۔
ایسے افراد جو مسلسل شوگر کا شکار رہتے ہیں، ان میں بھی Cerebral Atrophy اور یادداشت کے مسائل سامنے آ سکتے ہیں، خاص طور پر 50 سے 60 سال کی عمر کے بعد۔

📱 نوجوانوں میں بھولنے کی وجوہات۔

نوجوانوں میں یادداشت کی کمزوری کی بڑی وجوہات:

📵 موبائل اور انٹرنیٹ کا حد سے زیادہ استعمال

😴 نیند کی کمی

💦 بار بار مشت زنی

😰 ذہنی دباؤ

ایسے کیسز میں ہم درج ذیل دوائیں تجویز کرتے ہیں:
کالی فاس، ایسڈ فاس، چائنا، ایگنس، لائیکو۔

🤕 چوٹ یا حادثے کے بعد یادداشت کی کمی۔
حادثہ، سرجری یا سر پر چوٹ کے بعد۔

ارنیکا، ہائپیریکم، جنکو، جنسنگ
یادداشت کو بہتر بنانے میں مفید رہتی ہیں۔

👴 بزرگوں کے لیے ادویات

بزرگ افراد میں یادداشت کی کمزوری کے لیے مؤثر ادویات:

کونیم، برائٹا کارب، لائیکو، میڈورائنم، سفلینم، کالی آیوڈ، نائٹریک ایسڈ، لیکیسس، فاسفورس، جنکوبائیلوبا۔

🧾 علاج کیسے ہوگا؟

❌ گوگل، یوٹیوب یا AI سے خود علاج کرنا خطرناک ہو سکتا ہے
✅ ہر مریض کا جسم، مزاج، علامات اور جذبات مختلف ہوتے ہیں
📍 اس لیے انفرادی علاج ضروری ہوتا ہے جو صرف ماہر معالج کر سکتا ہے۔

🛌 مفید مشورہ

✅ کم از کم 8 گھنٹے کی نیند لیں
✅ وقت پر کھائیں، وقت پر سوئیں
✅ دماغ اور جسم کو آرام دیں
✅ ذہنی دباؤ سے بچیں

26/06/2025

رنگ ورم (Ringworm) ایک عام جلدی بیماری ہے جو دراصل کسی "کیڑے" یا "ورم" کی وجہ سے نہیں بلکہ فنگس (fungus) کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ ایک متعدی (infectious) بیماری ہے جو جلد، بالوں اور ناخنوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔

رنگ ورم کیا ہے؟

رنگ ورم کو اردو میں چنبل یا داد بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک گول دائرہ نما خارش والی جلد کی بیماری ہے جو فنگس Dermatophytes کی وجہ سے ہوتی ہے۔

🔍 علامات (Symptoms):

1. ✅ جلد پر گول، سرخ دھبے

2. ✅ دھبے کے کنارے اُبھار دار اور درمیان میں صاف

3. ✅ شدید خارش

4. ✅ جلد پر کھُردرا پن

5. ✅ بعض اوقات دانے یا چھالے بن سکتے ہیں

6. ✅ بالوں میں ہو تو بال جھڑنے لگتے ہیں (Tinea Capitis)

وجوہات (Causes):

1. گندی یا نم جلد رکھنا

2. کسی متاثرہ شخص یا جانور سے رابطہ

3. کپڑے، تولیہ یا بستر کا مشترکہ استعمال

4. جم یا سوئمنگ پولز جیسے نم مقامات

5. زیادہ پسینہ آنا

6. مدافعتی نظام کی کمزوری

🧪 اقسام (Types of Ringworm):

Tinea Corporis
جسم کی جلد
Tinea Capitis
سر اور بال
Tinea Pedis
پاؤں (ایتھلیٹ فٹ)
Tinea Cruris
رانوں کے درمیان (جاک ایچ)
Tinea Unguium
ناخن

🏥 ہومیوپیتھک علاج (Homeopathic Treatment):

ہومیوپیتھی میں مکمل علامات کے مطابق دوا دی جاتی ہے۔ یہاں چند عام دوائیں درج ہیں:

Bacillinum
کا کردار رنگ ورم (Ringworm) میں

اگر مریض کو رنگ ورم بار بار ہو رہا ہو، یا خارش بار بار واپس آ رہی ہو تو Bacillinum کو مٹیریا میڈیکا کے مطابق بطور constitutional remedy استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ جسم کی مدافعتی قوت بڑھا کر جلد کو بیماری سے مکمل نجات دلانے میں مدد دیتی ہے۔

2. جب دوسری دوائیں وقتی فائدہ دیں لیکن مسئلہ واپس آ جائے:

جیسے: Tellurium، Sulphur وغیرہ وقتی آرام دیں، لیکن بیماری پھر لوٹ آئے — تو Bacillinum کی ضرورت ہوتی ہے۔

3. جب مریض میں ٹی بی کی خاندانی ہسٹری ہو:

اگر مریض یا اس کے خاندان میں ٹی بی، الرجی، دمہ یا جلدی بیماریاں رہی ہوں تو Bacillinum زیادہ موزوں دوا ثابت ہو سکتی ہے

Tellurium
گول دائرہ دار داد، خارش اور بدبو
Sepia
جلد خشک، داد پر خارش اور پگھلا ہوا احساس
Sulphur
پرانی داد، شدید خارش، سوتے وقت خارش بڑھتی ہے
Graphites
گاڑھی پیپ والی داد، خارش اور خراش
Thuja
متواتر جلدی انفیکشن، داد اور مسے

 #اینڈومیٹریوسس کی علامات کیا ہیں؟یوں تو اینڈومیٹریوسس کی بہت سی علامات ہیں ،مگر سب علامات ہر مریض میں ظاہر نہیں ہوتی۔1۔...
23/09/2023

#اینڈومیٹریوسس کی علامات کیا ہیں؟

یوں تو اینڈومیٹریوسس کی بہت سی علامات ہیں ،مگر سب علامات ہر مریض میں ظاہر نہیں ہوتی۔

1۔ ماہواری میں بے قاعدگی (ماہواری کے دوران زیادہ مقدار میں اور زیادہ دن خون آنا)

2۔ماہواری کے دوران معمول سے ہٹ کر ایسا درد ہونا جو آپ کے کام کاج اور معمول کے کاموں میں رکاوٹ پیدا کرے۔

3۔ازدواجی تعلق کے وقت درد محسوس کرنا

4۔پیشاب اور پاخانہ کے مسائل۔۔(قبض یا دست کی شکایت مستقل رہنا،پیشاب و پاخانہ کرتے ہوے درد،متلی،الٹی اور پیٹ میں گیس کی شکایت)

5۔اعصابی تکلیف(نیوروپیتھی)۔۔۔۔۔اینڈومیٹریوسس اعصاب نظام کو انوالو کر کے جسم کے نچلے حصے میں درد کا سبب بنتا ہے۔

6۔بانجھ پن۔۔۔بعض اوقات اینڈومیٹریوسس کی باقی علامات کی غیر موجودگی میں واحد علامت بانجھ پن ہوتی ہے۔ جو اعضاء کے آپس میں چپکنے،اور انڈے دانی(اووری) میں چاکلیٹ سسٹ بننے کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔

7۔تھکاوٹ اور ذہنی پریشانی۔۔۔۔مستقل درد میں رہنے اور تشخیص میں رکاوٹ اور تاخیر کی وجہ سے اینڈومیٹریوسس کے مریض ڈپریشن میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔

23/04/2023
14/12/2022

پتے کی پتھریاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

پتے کی پتھری ایک عالمی مسئلہ ہے اور پاکستان میں بھی اس کے بہت مریض موجود ہیں۔
ایسے کیس عموما" اتفاقی طور پر عام معائنوں کے دوران سامنے آتے ہیں جب مریض کو اس کے وجہ سے پیٹ میں درد محسوس ہوتا ہے اور پتے کی پتھری کے باعث بائل ڈکٹ بند ہوچکی ہوتی ہے۔
بروقت علاج سے مریض مکمل صحت یاب ہوجاتا ہے ۔
پتے کی پتھری کیا ہے
پتے کی پتھری وہ کولیسٹرول اور بائل پگمنٹس پر مشتمل ایسی ٹھوس ساخت ہے جو پتے میں (ایک چھوٹی تھیلی جو جگر کے نیچے ہوتی ہے ) میں بنتی ہے ۔

پتھری کیوں بنتی ہے ؟
اس سوال کا کوئی سادہ جواب نہیں کچھ لوگوں میں جگر بہت زیادہ کولیسٹرول بنانا شروع کردیتا ہے جس کی وجہ سے بائل ڈکٹ میں کولیسٹرول کرسٹلز بن سکتے ہیں جو بڑھ کر پتھری بن جاتے ہیں.
مردوں کے مقابلے میں یہ بیماری عورتوں میں عام ہے۔
اس کے علاوہ ایسے افراد جن کا وزن زیادہ ہو یا جن کے خاندان میں اس بیماری کی موروثیت پائی جاتی ہو وہ بھی اس کا زیادہ شکار ہو تے ہیں ۔
پتھری کی علامات
تقریبا ہر دس میں سے سات افراد میں پتھری کی کوئی علامت نہیں ہوتی۔
باقی افراد میں ہاضمے کی خراجی، پیٹ کا پھولنا ، کھٹی ڈکاریں وقفے وقفے سے پیٹ کے اوپری حصے یا پیٹھ میں درد ہوتا ہے جب پتے کی پتھری بائل ڈکٹ میں پہنچ جاتی ہے توشدید درد ہوتا ہے یا بائل ڈکٹ کی جزوی بندش سے یرقان اور انفیکشن کی علامات دیکھنے میں آتی ہیں ۔
پتے کی پتھری کی تشخیص کے لئے الٹرا ساونڈ انتہائی موزوں طریقہ ہے ۔
علاج۔
پتھری کو تحلیل کیا جاسکتا ہے
ہومیوپیتھک علاج میں مریض کی علامات نہایت اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ اور دوا کے انتخاب کا انحصار انہی پہ ھوتا ہے ۔

ہومیو پیتھی !
آپکی جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی تمام بیماریوں کا مستقل اور بے ضرر حل

05/11/2022

چین کے اس علاقہ میں جہاں لوگوں کی عمریں بہت طویل ہیں، وہاں پر زیادہ تر خوراک کا انحصار دودھ اوردہی پر ہے....
جو کہ جسم انسانی کی تیزابیت کو کنٹرول کرتے ہیں.....

تیزابیت کے بڑھتے ہی انسانی جسم میں قلیل دھاتی مرکبات کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ جسم میں تانبے کی مقدار بڑھ جاتی ہے....

اور زنک کی مقدار کم ہو جاتی ہے جس سے انسانی جسم کی قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے....

اس کمی سے انسان مختلف امراض کا شکار ہونے لگتا ہے۔ دھاتی مرکبات میں ایک بنیادی کردار کیلشیم کا ہے.....

قدرتی طور پر یہ دودھ میں پایا جاتا ہے اور جلد انسانی جسم میں جذب ہونے کی خاصیت رکھتا ہے لیکن ہمارے یہاں دودھ کا استعمال کم سے کم ہوتا جا رہا ہے اور اس کی جگہ چائے لے رہی ہے......

چائے انسانی جسم میں تیزابیت کو بڑھاتی ہے اور ساتھ ہی کیلشیم کے جزو بدن بننے میں رکاوٹ ڈالتی ہے .....

جس کی وجہ سے انسانی جسم کا رجحان تیزابیت کی طرف بڑھ جاتا ہے.....

تیزابیت کے بڑھنے سے انسانی جسم میں ہسٹامین کی زیادتی ہو جاتی ہے....

جدید سائنسی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ انسانی جسم میں جتنی زیادہ ہسٹامین ہو گی مرد کی طاقت کم ہوتی چلی جائے گی.....

ایک تحقیق کو مدنظررکھتے ہوئے یہ واضح طور پر کہا جا سکتا ہے کہ تیزابیت انسانی جسم کے اندر دھاتی آئنز کے توازن کو برقرار نہیں رہنے دیتی.....

کیلشیم اور زنک قدیم دور سے اینٹی ہسٹامین کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں اور جدید تحقیق نے بھی اس کو درست قرار دیا ہے۔

جدید سائنسی تحقیق کے مطابق بڑھاپے کے جلد آنے کی وجہ انسانی جسم میں کیلشیم، میگنیشیم، زنک اور سلفر کی کمی ہے.....

اگر اس کمی کو نہ ہونے دیا جائے تو انسان لمبے عرصہ تک جوان رہ سکتا ہے.......!!!
علاج کےلیے رابطہ کریں

علاج کےلیے رابطہ کریں
Doctor Hafiez Zafar Iqbal
03422704867

05/11/2022

خون کی کمی کی بیماریوں کی ابتدا خون میں تیزابیت کے بڑھنے سے ہو سکتی ہے....

نارمل حالات میں خون کا پی ایچ سات کے قریب ہوتا ہے جبکہ کینسر میں خون کا پی ایچ کئی درجے نیچے پہنچ سکتا ہے....

خون کے تیزابی رجحان کے بڑھ جانے سے مندرجہ ذیل امراض کا خطرہ رہتا ہے:

👈 خون کی کمی....
👈 خون کا کینسر....
👈 دمہ....
👈 یرقان....
👈 خون کا جلد نہ جمنا....
👈 جلدی بیماری....
👈 خون کے سفید خلیے Leucocyte کا نارمل سے زیاد ہ ہونا....

تیزابیت انسان کو جذباتی بنا دیتی ہے اور غصہ، بے چینی، بے آرامی، خوف اور پریشانی پیدا کرتی ہے....

اس کے ساتھ ساتھ تیزابیت کینسر، دل کی بیماریوں، ذیابیطس، السر اور جگر کی خرابی وغیرہ کا باعث بھی بنتی ہے.....

گردوں کی پتھری بھی تیزابیت کی وجہ سے ہوسکتی ہے۔ تیزابیت سے اعصابی بیماریاں ہو سکتی ہیں، ان میں اعضا میں سختی، غیر ارادی طور پر اعضا کا حرکت کرنا، ریڑھ کی ہڈی میں سوزش اور مختلف اعضا کا نارمل کام چھوڑ جانا شامل ہیں.....

👈 تیزابیت انسانی جسم میں کیوں پیدا ہوتی ہے.؟

اس کا بڑا سبب خوراک ہے....

خوراک میں بے اعتدالی انسان کو بیماریوں کی گرفت میں لے جاتی ہے۔ خوراک کو جسم بڑی آسانی سے گروہوں میں تقسیم کر سکتا ہے یعنی....

۱۔ تیزابیت پیدا کرنے والی خوراک۔
۲۔ اساسیت کو قائم رکھنے والی خوراک۔

تیزابیت پیدا کرنے والی خوراک میں سرفہرست
👈 گوشت.....
👈 چائے.....
👈 کاربونیٹڈ مشروب.....
👈 انڈے......
👈 نمک وغیرہ ہیں.....

جبکہ اساسیت پیدا کرنے والی خوراک میں بیشتر تازہ سبزیاں اور پھل، دودھ اور دودھ سے بنی چیزیں (پنیر وغیرہ)، دالیں، گری دار میوے، جڑی بوٹیاں اور مصالحے (سرسوں اور جائفل کے علاوہ) شامل ہیں.....

انسان کے طریقۂ خوراک میں جو عادات شروع سے پیدا ہو جاتی ہیں، وہ ان پر گامزن رہتا ہے اور 20 سے 30 سال کے بعد یا تو اس میں تیزابیت عود آتی ہے یا اساسیت بڑھ جاتی....

لیکن عقلمند لوگ اپنی خوراک کو اس طرح سے استعمال کرتے ہیں کہ اس میں تیزابیت کسی طرح سے بھی غالب نہ آئے....

دودھ اور دہی کا مسلسل استعمال کرنے والے لوگ تیزابیت کا شکار نہیں ہوتے....

وہ خوراک جو انسان جسم میں معمولی اساسیت پیدا کرتی ہے وہ انسان کو تندرست و توانا اور لمبی عمر کی طرف لے جاتی ہے۔

05/11/2022

Acidosis.............!!!

#ایسیڈوسس...............!!!

جب جسمانی رطوبتوں میں تیزابیت بہت زیادہ ہوجاتی ہے تو اس کو کے نام سے جانا جاتا ہے....

یہ عموماً اس وقت ہوتا ہے جب گردے اور پھیپھڑے جسم کا پی ایچ ( ph ) لیول متوازن نہیں رکھ پاتے .....!

دراصل انسانی جسم میں بہت سے کیمیائی اعمال سرانجام پاتے ہیں اور انہیں نارمل طریقے سے سرانجام پانے کے لیے جسم کے مختلف اعضا میں پی ایچ مختلف ہوتی ہے.....

جب تیزابیت بڑھتی ہے تو بیماریوں کے جراثیم کی افزائش آسان ہو جاتی ہے، انسانی جسم ان کی گرفت میں آتا چلا جاتا ہے....

اور کمزور سے کمزور تر ہوتا جاتا ہے، اور بیماری کی پکڑ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی جاتی ہے.....

قدرت جو دودھ ماں کے ذریعہ بچے کو پہنچاتی ہے اس کی پی ایچ یعنی ہائیڈروجن آئنز کی طاقت تقریباً نارمل ہوتی ہے یہ سات ہوتی ہے.....

سات سے کم پی ایچ تیزابیت ظاہر کرتی ہے اور جتنی پی ایچ کم ہو گی، تیزابیت بڑھ جائے گی.....

اور جتنی پی ایچ بڑھے گی یعنی سات سے اوپر جائے گی، اس میں اساسیت بڑھے گی یعنی سات سے اوپر جائے گی اور اس کی زیادہ سے زیادہ طاقت 14 ہو تی ہے.....

تندرست جسم جب بیمار ہوتا ہے تو اس کی ایک بنیادی وجہ اس کے جسم کا تیزابیت کی طرف رجحان ہے.....

جس سے شروع میں انسان تھکاوٹ محسوس کرتا ہے اس میں دماغی اور جسمانی دونوں تھکاوٹیں شامل ہیں....

تھکاوٹ رات کی نیند پوری ہونے کے بعد بھی محسوس ہوتی ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے فرد سویا ہی نہیں جبکہ تندرست آدمی کی تھکاوٹ سونے کے بعد ختم ہو جاتی ہے....

وہ اپنے آپ کو ہلکا اور سرشار محسوس کرتا ہے تھکاوٹ کی ایک بڑی پہچان یہ بھی ہے کہ گردن اور بازو دبانے سے اگر درد محسوس ہو تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ تھکاوٹ موجود ہے...

اور اس کی دو بڑی وجوہات مندرجہ ذیل ہو سکتی ہیں:
👈 ورزش نہ کرنا....
👈 ضرورت سے زیادہ کھانا، پینا....

خاص طور پر گوشت، چینی، چائے اور کافی کازیادہ استعمال....

ان وجوہات سے انسانی جسم تیزابیت کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور اس سے جسم کے مختلف اعضا میں درد محسوس ہوتا ہے مثلاً ۔۔۔۔

👈 سر درد....
👈 اعصابی درد....
👈 پٹھوں کا درد....
👈 معدے کا درد....
👈 خواتین میں ایام کے دوران شدید درد ...

یہ علامات اعصابی نظام کی کمزوری کی بھی ہیں اور یہ کمزوری تیزابیت کی مرہون منت ہوسکتی ہے....

12/09/2022

Dengue Fever (ڈینگی بخار)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ایک وائرل بیماری ہے جو ایک مچھر کے کاٹنے سے پھیلتی ہے۔اس مچھر کو ڈینگی مچھر یا پیلے بخار والا مچھر کہا جاتاہے۔اس مچھر کے ذریعے ڈینگی بخار کے علاوہ چکن گونیا، ذکا بخار،میئرو،اور دیگر کئی وائرل بیماریاں پھیلتی ہیں۔
اس مچھر کی شناخت اب تقریباً ہم سب با آسانی کر سکتے ہیں کیونکہ اس کی ٹانگوں اور پروں پر سیاہ وسفید نشانات اس کو واضح طور پر دیگر اقسام کے مچھر سے ممیز کرتے ہیں، یہ مچھر صاف پانی پر پرورش پاتا ہے۔
ڈینگی مچھر جب کسی متاثرہ شخص کو کاٹتا ہے تو وہ وائرس خون کے ذریعے اٹھا کر صحت مند شخص کو کاٹ کر اس میں منتقل کرتا ہے ۔جس سے یہ وائرس آگے سے آگے پھیلتا جاتا ہے۔
اس وائرس کے پھیلنے سے جب صحت مند جسم متاثر ہوتا ہے تو درج ذیل علامات سامنے آتی ہیں۔
1-جسمانی درجہ حرارت کا انتہائ بڑھ جانا( بخار)
2- پورے جسم میں شدید درد
3- سر درد، ھڈیوں اور جوڑوں کا درد
4-آنکھوں کے ڈیلوں کے پیچھے والے حصے میں شدید درد
5- جی متلانا، الٹی آنا
6-جسم پر خارش اور ریشز کا ہونا وغیرہ
اس بیماری میں خاص طور پر خون کے سفید خلیات، جنہیں میڈیکل/ کیمسٹری کی زبان میں پلیٹیلٹس کہا جاتا ہے کم ہونا یا ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔جن کی وجہ سے خون کا نظام درہم برہم ہونے لگتا ہے اور مریض کی موت واقع ہو جاتی ہے۔
اس بخار کیلئے خون کے ذریعے ٹیسٹ کیا جاتا ہے ،ٹیسٹ رپورٹ کوئ نمیریکل نمبرز میں نہیں ہوتی بلکہ پازیٹوو یا نیگٹوو کے الفاظ سے لکھی جاتی ہے۔
ہومیو پیتھک ادویات میں Acconite, Beladona,Bryonua,Eupetori um,
وغیرہ چوٹی کی دوائیں ہیں۔

خبردار؛
کوئ بھی دوا ازخود استعمال نہ کریں بلکہ کسی مستند ڈاکٹر کے مشورہ سے استعمال کریں۔

تحریر ؛
ہومیو پیتھک ڈاکٹر ظفر اقبال
03422704867

Address

Street#2 Islam Chowk Sec11. 1/2 Orangi Town Near Sarawan Pakwan
Orangi Town

Telephone

+923422704867

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Omair Homoeo Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Omair Homoeo Clinic:

Share