09/10/2026
"اللہ چھینک کو پسند اور جمائی کو ناپسند فرماتا ہے" میڈیکل سائنس نے دونوں پر تحقیق کی تو اس راز بھری حدیث کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا:
«إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ»
”بے شک اللہ چھینک کو پسند فرماتا ہے اور جمائی کو ناپسند فرماتا ہے۔“ (صحیح بخاری)۔
اس دور میں جب نہ کوئی مائیکروسکوپ تھی، نہ جراثیم کا علم اور نہ ہی انسانی اناٹمی (Anatomy) پر کوئی ریسرچ، اس وقت آپ ﷺ کا یہ اصول بیان کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ آپ کا ہر فرمان وحیِ الٰہی کا مفسر ہے۔ آج جب جدید طب نے نیورولوجی اور ریسپیریٹری سسٹم (Respiratory System) کی گہرائیوں کا مطالعہ کیا، تو دنیا دنگ رہ گئی کہ کیوں چھینک خالقِ کائنات کی پسندیدہ ترین حالت ہے اور جمائی کیوں ناپسندیدہ ہے۔
جدید ترین میڈیکل ریسرچ کے مطابق، چھینک (Sneeze) محض ایک لاشعوری عمل نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی جسم کا وہ طاقتور دفاعی نظام (Defensive Mechanism) ہے جس کے بغیر انسان کا زندہ رہنا محال ہو جائے۔ جب ہوا میں موجود نظر نہ آنے والے خطرناک جراثیم، الرجی، وائرس یا مٹی کے ذرات ہماری ناک کے راستے پھیپھڑوں کی طرف بڑھتے ہیں، تو جسم کا ہائی الرٹ نظام متحرک ہو جاتا ہے۔ دماغ فوری طور پر پورے جسم کو ایک شدید جھٹکے کا حکم دیتا ہے، پھیپھڑوں میں ہوا کا زبردست دباؤ بنتا ہے، اور جسم ان تمام قاتل جراثیم کو 100 میل فی گھنٹہ (تقریباً 160 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی طوفانی رفتار سے باہر پھینک دیتا ہے۔
سائنسدانوں نے اعتراف کیا ہے کہ چھینک دراصل ناک کا "ری سیٹ بٹن" (Reset Button) ہے جو پورے سانس کے نظام کو سیکنڈ کے سویں حصے میں دھو کر صاف کر دیتا ہے۔ مزید یہ کہ چھینک کے دوران چہرے اور دماغ کے پٹھے سکیڑنے سے خون کا بہاؤ تیز ہوتا ہے، جس سے انسان کو فوری طور پر چستی، تازگی اور ایک عجیب سکون ملتا ہے۔ اسی لیے جب مومن کی زبان سے "الحمد للہ" نکلتا ہے، تو وہ دراصل اس رب کا شکر ادا کر رہا ہوتا ہے جس نے اسے ایک سیکنڈ میں لاکھوں جراثیموں کے حملے اور پھیپھڑوں کے انفیکشن سے بچا لیا۔
دوسری جانب، جب سائنس نے جمائی (Yawn) پر تحقیق کی، تو حضورِ اکرم ﷺ کی حکمت کے آگے پوری دنیا کے طبی ماہرین سرنگوں ہو گئے۔ میڈیکل سائنس کہتی ہے کہ جمائی انسان کی چستی کی نہیں، بلکہ شدید سستی، ذہنی غفلت، تھکن اور آکسیجن کی کمی کی علامت ہے۔
جب انسان کا دماغ مسلسل کام کرنے سے اوور ہیٹ (Overheat) ہو جاتا ہے، تو اعصابی نظام سست پڑنے لگتا ہے۔ اس حالت میں دماغ خود کو ٹھنڈا کرنے کے لیے پھیپھڑوں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ایک لمبی سانس کھینچیں، جسے ہم جمائی کہتے ہیں۔ جمائی کا آنا اس بات کا اعلان ہے کہ انسان اس وقت ذہنی طور پر مفلوج یا غافل ہو رہا ہے اور اس کی توجہ ختم ہو رہی ہے۔ سب سے خطرناک بات جو جدید طب نے ثابت کی وہ یہ ہے کہ جمائی کے دوران جب منہ حد سے زیادہ کھلتا ہے، تو ہوا میں معلق لاکھوں جراثیم اور بیکٹیریا براہِ راست حلق کے راستے معدے اور پھیپھڑوں میں داخل ہونے کے لیے تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نہ صرف جمائی کو ناپسند فرمایا، بلکہ حکم دیا کہ جب جمائی آئے تو منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے روکو۔
آج کی سائنس چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ چھینک ایک رحمت ہے جو جسم کو پاک کرتی ہے، اور جمائی ایک غفلت ہے جو جسم کو سست کرتی اور جراثیم کو دعوت دیتی ہے۔ چودہ سو سال پرانی حدیث کا ایک ایک لفظ آج کی لیبارٹریوں میں سچ ثابت ہو رہا ہے۔ یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ اسلام ہی سچا دین ہے اور محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں، جن کا کوئی بھی فرمان علم و حکمت سے خالی نہیں۔ سبحان اللہ!