Medical information

Medical information health issues related information

20/06/2023

ایک ریسرچ
کے مطابق ماں کی آواز سننے
سے ڈپریشن اور ذہنی تھکاوٹ ختم ہوجاتی ہے
❤️

اس مخلوق کو ڈیموڈیکس (Demodex) کہا جاتا ہے اور یہ ہر انسان کی آنکھوں 👁  کی پلکوں  کے اندر رہتی ہے۔  یہ رات کو اس وقت باہ...
27/09/2022

اس مخلوق کو ڈیموڈیکس (Demodex) کہا جاتا ہے اور یہ ہر انسان کی آنکھوں 👁 کی پلکوں کے اندر رہتی ہے۔
یہ رات کو اس وقت باہر نکلتے ہیں جب آپ سو رہے ہوتے ہیں، یہ آپ کے چہرے پر چلتے ہیں۔ اس کے نر اور مادہ آپ کے چہرے پر ملاپ کرتے ہیں اس کی مادہ آپ کے پلکوں کے ہر بال کے اندر 20 سے 24 انڈے دیتی ہیں،
اس کیڑے کا کام ہر روز آپ کی مردہ جلد کو کھانا ہے تاکہ نئ جلد بن سکے، یعنی جب آپ سو رہے ہوتے ہیں تو یہ قدرتی کاسمیٹک کا عمل انجام دیتا ہے۔
یاد رکھیں.۔۔۔۔. اگر آپ اپنی زندگی میں بے کار ہیں تو بھی آپ لاکھوں جانداروں کی روزی اور زندگی کا ذریعہ ہیں

السلام و علیکم ۔سوال۔ انسان کے منہ میں کتنے دانت ہوتے ہیں ؟جواب ۔ خرگوش سبزی خور جانور ہے ۔ سوال ۔ انسان کے دل میں کتنے ...
17/09/2022

السلام و علیکم ۔

سوال۔ انسان کے منہ میں کتنے دانت ہوتے ہیں ؟
جواب ۔ خرگوش سبزی خور جانور ہے ۔
سوال ۔ انسان کے دل میں کتنے خانے ہوتے ؟
جواب ۔ انسان کے جسم میں 206 ہڈیاں ہوتی ہیں ۔

سوال ۔ کیا مینڈک بغیر پانی کے رہ سکتا ہے ؟
جواب ۔ پانی 0 ڈگری سینٹی گریڈ پر جم جاتا ہے ۔

کیوں جناب ، حیران ہو گئے ؟ بس یہی آپ لوگ میرے ساتھ کر رہے ہیں ۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ میری مہارت کیڑوں میں ہے ، گروپ ممبرز انباکس میں یا کمنٹس میں مجھ سے چوہے مار دوا اور چھپکلیوں کو بھگانے کے تجاویز پوچھ رہے ہیں جیسے میں نے مارنے اور بھگانے کا ٹھیکہ لیا ہے۔ صرف یہ نہیں بلکہ اور بھی سوالات ہوتے ہیں ۔

ایک صاحب پوچھ رہے تھے کہ اس کی بھینس پہلے سے چارہ کم کھا رہی ہے جب کہ دوسرا بندہ کتے کو ڈرانے کے تجاویز پوچھ رہا تھا ۔ کل رات ایک محترمہ کا میسج آیا کہ اس کا بیٹا دو سال کا ہے اور پوری رات روتا رہتا ہے تو آپ اسے سوئے رہنے کی ترکیب بتا دیں ۔

ایک صاحب کرایہ دار کو نکالنا چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا بغیر کرایہ دئیے رہنے کے ٹوٹکے مانگ رہا تھا ۔ جبکہ ایک محترمہ سالن میں نمک کم کرانے کا طریقہ پوچھ رہی تھی ۔ او پاکستانیوں ، اعزاز آپا سمجھ رکھا ہے کیا ؟

پوچھے جانے والے سوالات میں زیادہ تر چھپکلی بھگانے کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو آج اس پر روشنی ڈالتے ہیں ۔

چھپکلی مختلف علاقوں میں مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے ۔ پشتو میں اسے چرمخکے بولتے ہیں ۔ عام انگریزی میں اس کو common house lizard یا common house gecko بولتے ہیں ۔ سائنسی نام Hemidactylus frenatus ہے اور تعلق Class Reptilia کے Gekkonidae خاندان سے ہے۔
یہ عام طور پر گھروں میں پائے جاتے ہیں اور عموماً رات کے وقت ایکٹیو ہوتے ہیں ۔

یہ مختلف کیڑے کھاتے ہیں ۔ یہ بالکل بھی نہیں کاٹتے ۔ اگر کسی وجہ سے کاٹ بھی لیں تو وہ بہت نازک کاٹ ہوتی ہے جو کسی بھی طرح انسانی جسم کو زخمی نہیں کر سکتی اور نا نقصان دہ ہوتی ہے ۔ اس کے جسم میں ایک قسم کی بیکٹیریا ھوتی ہے جس کی وجہ سے چھپکلی کو خوراک میں کھانے سے موت واقع ہو جاتی ہے ۔

ایک چپکلی سال میں 60 تک انڈے دیتی ہے جس سے 2 ماہ میں بچے نکلتے ہیں ۔ چھپکلی کی عمر 5 سال ہوتی ہے ۔

چھپکلیوں کو کیسے بھگایا جائے ؟

پہلی بات تو یہ کہ چھپکلیاں آپکو مچھر ، لال بیگ وغیرہ جیسے کیڑوں سے نجات دلاتی ہے اور وہ آپ کے لئے بالکل بے ضرر ہیں اور ان کو مارنے یا بھگانے کی بالکل ضرورت نہیں ۔ لیکن پھر بھی اگر آپ بذاتِ خود یا آپکے بچے یا۔زوجہ محترمہ چھپکلی سے ڈرتی ہے تو نیچے دئیے گئے طریقے آزمائیں ۔

چھپکلیوں کو لہسن کی بو بالکل نہیں پسند ۔ لہسن کو پیس کر اس میں پانی ڈالیں اور وہاں سپرے کریں جہاں یہ موجود ہو ۔

لہسن کی جگہ پیاز بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

انڈے کے چھلکے پیس کر کچن میں جگہ جگہ رکھیں اس سے بھی افاقہ ہوگا ۔

اگر ان کو مارنا ہے تو kingtox lizard killer کا استعمال کریں یا کافی اور تمباکو کو ایک ساتھ پیس کر ان کے چھوٹے چھوٹے بال بنا لیں اور جہاں وہ موجود ہو۔ادھر رکھیں یا دیوار پر چپکا لیں ۔

آپ لوگ مجھ سے کسی بھی جاندار کے نوع کے بارے میں پوچھ سکتے ہیں ۔ خاص کر کیڑوں کے۔

آپ کے عجیب سوالات سے کیڑوں والی سرکار کو طیش آیا اور غصے سے گرم ہو کر تکیہ کو مار مار کر اس کا حشر نشر کیااور بعد میں امی نے سرکار کی چھڑی سے دھلائی کر کے اس کو ٹھنڈا کیا۔

تحریر ۔ اعزاز احمد ۔ المعروف کیڑوں والی سرکار ، پیر حشرات ، کیڑوں کا آئنسٹائن ۔ The insect boy

16/09/2022

پروفیسر ڈاکٹر لالہ رُخ۔ امریکہ
یہ ایک مہلک بیماری ہے ۔جو انسانوں کو بعض پالتو اور جنگلی جانوروں کے کاٹنے سے ہو جاتی ہے۔رے بیز کا وائرس ان جانوروں کے منہ کے لعاب میں پایا جاتا ہے۔جیسے کتے، بلیاں،گیڈر،پھیڑیا ،چمگادڑ،رکون لومڑی اور کچھ دوسرے دودھ پلانے والے جانور ہیں۔ہر سال دنیا میں 55,000سے زیادہ افراد اس بیماری سے مرتے ہیں۔
ننانوے فی ٓصد لوگوں کو یہ مرض پالتو جانوروں سے ہوتا ہے۔جن کو حفاظتی ٹیکے نہیں لگے ہوتے۔ایک معمولی خراش بھی اس کا باعث بن سکتی ہے۔
ایک دفعہ اس مرض کی علامات ظاہر ہو جائیں تو اکثر72گھنٹوں کے اندر اس کی موت واقع ہو جاتی ہے ۔اور یہ موت یقینی ہوتی ہے۔ جس جانور کو رے بیز ہو جائے۔وہ عموماً دس دن کے اندر مرجاتا ہے ۔
اس لئے اگر ممکن ہوتو کاٹنے والے جانور کو دس دن تک نگرانی میں رکھا جانے اگر اس دوران وہ مرجائے تو وہ ریبڈ ہو گا۔
اور کاٹے جانے والے فرد کو ویکسین لگانا پڑے گی۔نئی ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ بعض دفعہ جانور کی تھوک میں وائرس ہوتا ہے مگر وہ خود بہت عرصہ تک زندہ رہتے ہیں۔چنانچہ اب اگر کسی کو کوئی جانور کاٹے تو فوراً ویکسین لگا لینی چاہئے۔چاہے جانور میں بیماری کی علامات نہ ہوں۔جانور میں رے بیز کی علامات میں اس کی عادات میں تبدیلی نمایاں ہوتی ہے یا تو وہ خاموش ہو جاتا ہے یا خوراک نہیں کھاتا۔
پانی سے ڈرتا ہے ۔یا غضب ناک ہو کر ہر ایک کوکاٹنے کو دوڑتا ہے ۔اس کی چال ہیں تو ازن نہیں رہتا اور بعض دفعہ اس کے جسم کے بعض حصے مفلوج ہو جاتے ہیں ۔جب بھی کسی جانور پر ری بیز کا شک ہو تو اُسے کسی کم تکلیف دہ طریقے سے موت کی نیند سلادینا چاہئے تاکہ وہ کسی کوکاٹ نہ سکے۔
انسانوں میں علامات:۔جانور کے کاٹنے سے علامات کے ظاہر ہونے تک عموماً 2سے 8ہفتے لگتے ہیں کبھی کبھی یہ دورانیہ دس دن سے 2سال تک بھی ہو سکتا ہے۔
زخم دماغ سے جتنا نزدیک ہو گا۔علامات اُتنی جلدی ظاہر ہونگی زخم بڑا ہویامریض بچہ ہو تو بھی علامات کا ظہور جلدی ہو گا۔جب وائرس دماغ یا حرام مخز تک پہنچ جائے تو بچنا ناممکن ہوتا ہے ۔(آج تک دنیا میں چند ہی افراد اس بیماری سے شفایاب ہو سکے ہیں ۔وہ بھی گزشتہ چند سالوں میں)دماغ تک وائرس کو پہنچنے میں دس سے پچاس دن لگ سکتے ہیں۔
علامات مندرجہ ذیل ہو سکتی ہیں۔

1۔فلو کی قسم کے اثرات ،گلے میں درد
2۔چڑ چڑاپن اورمزاج میں سختی،خصیلاپن۔
3۔زیادہ ہلنا جلنا اور احتجاجی رویہ۔
4۔عجیب خیالات ،اور الجھن۔غیر معمولی جسمانی حرکات
5۔عضلات کی سختی۔سخت تھکن
6۔جسمانی اعضاء کی کمزوری یا فالج
7۔لعاب ۔دین کی زیادتی
8۔قے۔سردرد ،بخار
9۔پانی اور ہوا سے ڈرنا اور دور ہ پڑجانا۔
کچھ نگل نہ سکنا۔
یہ واقعہ1984ء کا ہے۔پشاور پاکستان کے لیڈی ریڈنگ ہاسٹل کے ڈریکل ”اے“یونٹ کے رجسٹرار اور ٹی ایم اور ڈاکٹر عبداللہ شاہ صاحب تھے۔ان کو اپنے ایف سی پی ایس امتحان کے لئے ایک ریسرچ پرچہ لکھنا تھا۔انہوں نے اپنے پروفیسر ڈاکٹر الف خان کے مشورہ سے فیصلہ کیا کہ وہ رے بیز کے مریضوں پر ریسرچ کریں گے۔چنانچہ انہوں نے اُن مریضوں پر کام کرنا اور مواد اکٹھا کرنا شروع کیا۔
جو مریض بھی علامات شروع ہونے کے بعد آتے تھے۔چاہے انہوں نے ویکسین کرائی ہو یا نہ کرائی ہو ۔وہ سب مرجاتے تھے۔تب انہوں نے اخبارات اور محکمہ صحت کی مدد سے صوبہ سرحد (اب کا کے پی)کے تمام اضلاع میں خصوصاً ڈاکٹروں میں یہ اطلاع کرائی کہ جس شخص کو بھی پاگل کتا کاٹے وہ جلد لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی ڈریکل اے یونٹ میں پہنچے۔اس کے علاوہ دوائیوں کی بڑی دوکان میڈیکوزکے مالک ملک اختر سے رابطہ کیا گیا کہ وہ رے بیز کی اسپوڑٹڈ ویکسین بڑی مقدار میں پاس رکھیں۔
تب بڑی تعداد میں مریض آنے لگے۔ اور ان کو باقاعدگی سے فرائض یا سوئٹزرلینڈ کی بنی ہوئی ویکسین کا مکمل کورس لگایا جاتا۔بہت جلد یہ معلوم ہو گیا ۔کہ جو مریض اسپوڑٹڈ ویکسین وقت پر لگالیتے تھے وہ بچ جاتے تھے اور جنہوں نے اسلام آباد کی انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی بنائی ہوئی ویکسین حکومتی ہسپتالوں میں لگوائی تھی ۔اُن میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچا تھا۔
یہ معلوم نہ ہو سکا کہ ملکی ویکسین میں کوئی خرابی تھی یا اس کو مناسب حرارت پر نہ رکھنے کے باعث وہ بیکار ہو گئی تھی(آج کل ویکسین ہندوستان سے آرہی ہے۔اس کے موثر ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں ہمیں کوئی علم نہیں)۔غریب مریضوں کی مدد یونٹ میں قائم کردہ فنڈ سے کی جاتی تھی۔
ایک اور بنوں سے آٹھ مریض اکھٹے آگئے۔جن میں بچے بھی تھے۔یہ لوگ اپنے گاؤں کی مسجد سے فجر کی نماز کے بعد نکلے ہی تھے کہ سامنے سے ایک بھیڑیا آتا دکھائی دیا۔
اس جانور نے حملہ کرکے ان آٹھ لوگوں کو کاٹ لیا ۔خوش قسمتی سے یہ لوگ وقت پر لیڈی ریڈنگ ہسپتال آگئے اور ان کو ویکسین لگ گئی۔اور خدا کے فضل سے وہ سب زندہ بچ گئے۔انہوں نے بتایا تھا کہ اس بھیڑیے کو مار کر دفن کر دیا گیا تھا۔ڈاکٹر شاہ صاحب نے اُ ن سے پہلے روز کہدیا تھا کہ اس بھیڑیے کا سر منگوادو۔
چنانچہ جلد ہی اس بات پر عمل ہوا۔ معلوم کرنا تھا کہ وہ بھیڑیا ریبڈر تھا یا نہیں۔
چنانچہ اس کے سر کو بوری میں ڈال کر یونٹ کے چپراسی دلبر کے ہاتھ ایک خط سمیت اسلام آباد کے ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ کو بھیجا گیا۔ائک کے مقام پر پولیس نے اسے روکا۔ایک اہل کار نے بوری کی طرف اشارہ کرکے اس سے پوچھا ”اس میں کیا ہے ؟“دلبر نے کہا۔”بھیڑیے کا سر“۔اہل کار نے غصہ سے کہا “ہم سے ذوای کرتے ہو“۔دلبر نے کہا ۔”آپ دیکھ لیں“۔
ایک اہل کار آگے بڑھا۔بوری کا منہ کھول کر اندر جھانکا تو چیخ مار کر پیچھے کو دوڑا۔چنانچہ دلبر اسلام آباد پہنچ گیا۔بعد میں انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق بھیڑیے کا دماغ نیگری بادینر سے بھرا ہوا تھا۔ یعنی کہ اس کو رے بیز کا مرض تھا۔
ایک اور واقعہ بھی قابل ذکر ہے ۔ان دنوں صوبہ کے گورنر فضل حق صاحب تھے۔اُن کی ایک دوست کو رجو چار سدہ کے خان تھے۔
پاگل کتے نے کاٹ لیا تھا۔دوست نے ملکی ویکسین بھی لگوالی تھی۔بعد میں طبیعت خراب ہوئی تو ڈریکل اے یونٹ میں داخل ہو ئے ۔دوسرے ہی روز اُن کا انتقال ہو گیا۔
صاحب گورنر کی طرف سے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر جمیل احمد صاحب کو خط آیا کہ میرا دوست اپنے پیروں پر چل کر ہسپتال آیا تھا اور دوسرے دن فوت ہو گیا۔ اس کی وجہ کیا تھی؟۔جواب یونٹ کے پروفیسر صاحب نے لکھا۔
رے بیز کے بارے میں بتایا اور یہ بھی کہ برطانوی حکومت کے عہد سے ہر بڑے شہرکی میونسیپلیٹی میں ایک شخص آوارہ کتے مارنے پر مقرر تھا اور اسے قیمہ اور سٹرکینین(Strychnine) ایک تیریلی دوا کے لئے رقم دی جاتی تھی۔قیمہ اور زہر کو ملا کر کتوں کو ڈالا جاتا تھا۔جس سے ان کی موت واقع ہو جاتی تھی۔آج کل وہ رقم لوگ اپنی جیب میں ڈال لیتے ہیں اور کتے مار افسروں کے گھر میں خدمت کرتے ہیں ۔
گورنر صاحب نے اس سلسلے میں احکامات جاری کئے اور پشاور کے گلی کو چوں میں آوارہ کتوں کی لاشیں نظر آنے لگیں۔چند ہفتے تک یہ سلسلہ جاری رہا پھر حسب معمول حالات پہلی والی ڈگرپر آگئے۔
احتیاط:۔
رے بیز کے بارے میں ضروری معلومات تمام لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کریں ۔کیا معلوم آپ کی اس کوشش کی وجہ سے کسی کی جان بچ جائے۔
اپنے علاقے سے آوارہ کتے بلیوں کا خاتمہ کریں۔
اپنے پالتو جانوروں کے گلے میں پٹہ ڈالیں۔انہیں اپنے گھر کے اندر نہیں بلکہ باہر رکھیں۔اگر گھر سے باہر ساتھ لے جانا ہو تو گلے میں رسی ڈالیں اور اپنے قابو میں رکھیں۔
اپنے پالتو جانوروں کو موثر ویکسین لگوائیں کسی محتبر ملک کی بنائی ہوئی ۔اگر آپ کی ملازمت ایسی ہو کہ جانوروں کیساتھ تھی کام کرنا ہوتو خود کو بھی ویکسین لگوائیں۔
مخلوط نسل کے کتے (جیسے کتے اور بھیڑیے کے ملاپ سے پیدا شدہ)کے لئے ویکسین پر ابھی زیادہ کام نہیں ہوا۔
اس لئے اُن کو مت پالیں۔خونخوار قسم کے کتے اکثر اپنے مالک کو بھی کاٹ لیتے ہیں۔
مردہ جانوروں کو چھونے سے بچیں۔مردہ پرندوں کے چھونے سے بھی رے بیز کے واقعات ہو ئے ہیں۔
اگر کوئی مشکوک جانور کاٹ لے تو فوراً زخم کو صابن اور پانی سے اچھی طرح اور چند بار دھوئیں اس کے بعد فوراً ویکسین لگوائیں۔اگر چہ زخم ایک زخم ایک خراش کی صورت میں ہی ہو۔
وائرس جانور کی تھوک میں ہوتا ہے ۔اس لئے اس کے چاٹنے سے بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔
ویکسین جتنی جلدی لگائی جائے اتنا زیادہ فائدہ ہو گا لیکن اگر چند دن دیر بھی ہو جائے تو بھی لگوالیں۔
ریبڈ جانور کو بند رکھیں۔اگر دس دن کے اندر مر جائے تو یقینی طور پر ریبڈ تھا۔اگر بچ جائے تو بھی خطرہ ختم نہیں ہوا کیونکہ نئی ریسرچ کے مطابق بعض ریبڈ جانور دیر تک زندہ رہ سکتے ہیں اس لئے ہر کاٹنے والے جانور کو ریبڈ ،سجیس اگر اسے موثر ویکسین نہیں لگی ہوئی۔

ویکسین:۔ ملکی اور ہندوستانی ویکسین کی افادیت کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔اس لئے فرانس یا سوئٹزر لینڈ کی بنی ہوئی ویکسین ہی استعمال کریں۔جو کہ صحیح درجہ حرارت میں رکھی گئی ہو ۔
بڑوں اور بچوں کے لئے مقدار یکساں ہے۔بڑوں کو انجکشن بازو کے اوپر ی حصے ڈیلٹو ئڈنسل میں لگاتے ہیں اور بچوں کو ران کے سامنے اور بیر دنی حصے میں۔

عموماً چار انجکشن لگتے ہیں۔پہلے دن پھر ساتویں ۔اکیسویں اور اٹھائیسویں دن پہلے دن امیو نو گلوبولین کا انجکشن بھی لگنا چاہئے۔جو زخم کے قریب آس پاس لگتا ہے اگر اس سے کچھ بچ جائے۔تو وہ بھی مسل (muscle)میں لگا دیں۔
آخر میں میری تمام پاکستانیوں سے درخواست ہے۔کہ رے بیز کے بارے میں علم زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچا دیں۔اور حکومت ۔محکمہ صحت ۔انتظامیہ اور میڈیا سب ملکر کوشش کریں کہ آج کے بعد رے بیز سے کوئی انسانی جان ضائع نہ ہو اور یہ بیماری ہمارے ملک سے ختم ہو جائے۔

ڈاکٹر لالہ رُخ خیبر میڈیکل کالج اور حیات شہید ٹیچنگ ہسپتال پشاورکی سابقہ ہیڈ آف گائناکولوجی اینڈ آبسٹیٹریکس ہیں۔

16/09/2022

ایک صحتمند مرد کے عورت سے ج**ع کرنے کے بعد جو منی خارج ہوتی ہے اس میں 400 ملین سپرمز موجود ہوتے ہیں۔ لہذا ، منطق کے مطابق، اگر اس مقدار میں نطفہ کو رحم میں جگہ مل جاتی ہے تو 400 ملین بچے پیدا ہوجاتے!
جبکہ یہ 400 ملین اسپرم ، ماں کی بچہ دانی کی طرف پاگلوں کی طرح بھاگتے ہیں، اور اس دوڑ میں صرف 300 یا 500 سپرمیے ہی بچ پاتے ہیں۔
اور باقی؟ وہ راستے میں ہی تھکن یا شکست سے مر جاتے ہیں۔ یہ 300-500 سپرمیے ہیں، جو بیضہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ان میں سے صرف ایک، جی ہاں صرف ایک بہت ہی مضبوط سپرمیہ ہوتا ہے، جو بیضہ میں داخل ہوکر فرٹیلائز ہوتا ہے ، یا بیضہ میں پہنچ کر اپنی نشست بنالیتا ہے۔
کیاآپ جانتے ہیں وہ خوش نصیب، فاتح اور مضبوط ترین سپرمیہ کون ہے؟
وہ خوش نصیب سپرمیہ آپ، میں، یا ہم سب ہیں۔
کیا آپ نے کبھی اس عظیم جنگ کے بارے میں سوچا ہے؟
جب آپ بھاگے "تو آنکھیں، ہاتھ، پاؤں، سر نہیں تھے، پھر بھی آپ جیت گئے!
جب آپ بھاگے تو آپ کے پاس سرٹیفکیٹس نہیں تھے، آپ کے پاس دماغ نہیں تھا، لیکن آپ پھر بھی جیت گئے!
جب آپ بھاگے تو آپ تعلیم یافتہ نہیں تھے، کسی نے آپ کی مدد نہیں کی تھی لیکن آپ جیتے۔
آپ کے وجدان کی نظر میں صرف منزل تھی جب آپ بھاگے اور آپ ایک ہی ذہن کے ساتھ بھاگے تھے، آپ کا عزم صرف وہ منزل تھی اور آپ آخر میں جیت گئے۔
اس کے بعد ، بہت سے بچے ماں کے پیٹ میں کھو گئے۔ لیکن آپ موجود رہے ، آپ نے اپنے 9 مہینے پورے کیے۔
اور آج ......
آپ گھبراتے ہیں جب کچھ ہوتا ہے تو آپ مایوس ہوجاتے ہیں، لیکن کیوں؟ آپ کو کیوں لگتا ہے کہ آپ ہار گئے؟ آپ نے اعتماد کیوں کھو دیا ہے؟ اب آپ کے پاس دوست، بہن بھائی ، سرٹیفکیٹس، سب کچھ ہے۔ یہاں ہاتھ پاؤں ہیں، تعلیم ہے، منصوبہ بندی کرنے کے لیے بہترین دماغ ہے، مدد کرنے کے لئے لوگ موجود ہیں، پھر بھی آپ نے امید ختم کردی ہے۔
جب کچھ ہوتا ہے تو آپ کیوں ٹوٹ جاتے ہیں؟
آپ کیوں کہتے ہیں کہ میں زندہ نہیں رہنا چاہتا؟
آپ نے کیوں کہا کہ میں ہار گیا؟
ایسی ہزاروں چیزوں کو اجاگر کرنا ممکن ہے ، لیکن آپ مایوس کیوں ہوگئے؟
آپ فرسٹریٹ کیوں ہوئے؟ آپ شروع میں جیتے، آپ آخر میں جیتے، آپ بیچ میں جیت جاتے ہیں۔

11/09/2022

👥 ٹرانس جینڈر ہیں کون؟

آئیے آج آسان اور واضح الفاظ میں سمجھتے ہیں۔

مرد یا عورت کی جنس کا تعین استقرار حمل یعنی پہلے خلیے /جنین کے بننے کے ساتھ ہی ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ ماں اور باپ سے آنے والے سیکس کروموسوم ہوتے ہیں۔ انہی کروموسوم کی وجہ سے جنین میں مرد یا عورت کے اندرونی اور بیرونی اعضا اور ہارمونز وغیرہ بنتے ہیں۔ اور وہ پیدائش کے وقت یا بلوغت کے ایام میں مرد یا عورت کی صنف کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں ۔

اس نظام یا ہارمونز وغیرہ میں خرابی کی وجہ سے کچھ بچوں کی جنس میں ابہام پیدا ہوجاتا ہے۔ یہ ابہام کبھی پیدائش کے وقت کی نظر آتا ہے اور کبھی بلوغت سے پہلے ظاہر نہیں ہوتا۔

👥 انٹر سیکس یا ہرمافروڈائٹ:

ایسے افراد جو پیدائشی طور ایسی کسی ایبنارمیلیٹی کی وجہ سے صنفی ابہام (sexual ambiguity ) کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں ۔ ان کو ہرمافروڈائٹ یا انٹر سیکس کہا جاتا ہے۔
ان میں ایبنارمیلیٹی کے اعتبار سے شدتوں کا فرق ہوتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں فقہا نے ایسے افراد کو یہ اختیار بھی دیا ہے کہ وہ غالب جنس/صنف اختیار کریں ۔ اور معاشرہ میچور اور خدا خوفی رکھتا ہو تو ان کو اسی حالت کے ساتھ عزت سے جینے کا حق دینے والا ہونا چاہیے۔ البتہ ان کی مختلف ضروریات کے مختلف ہارمونل یا سرجیکل طریقے موجود ہیں جو کچھ معاملات کو آسان کردیتے ہیں ۔
یہی وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ ہمارے معاشرے میں شدید امتیاز بھی برتا گیا اور ان کو زندگی کے بنیادی حقوق تک سے محروم رکھا گیا۔
👥 Cis gender سس جینڈر :

یہ وہ افراد ہیں جو پیدائشی طور اور جسمانی طور پر مکمل مرد یا عورت پیدا ہوئے اور اپنی اس صنفی شناخت پر راضی ہیں ۔ ان میں میرے آپ جیسی اکثریت شامل ہے۔

👥 ٹرانس جینڈر:

ایسے افراد ہیں جو پیدائشی طور پر، جسمانی اور ہارمونز کے اعتبار سے مکمل عورت یا مرد کی جنس کے ساتھ پیدا ہوئے۔ مگر بڑے ہوکر کسی نفسیاتی الجھن یا پیچیدگی ، معاشرتی دباؤ ، ٹرینڈ، ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر اپنی جنس سے ناخوش ہیں۔ اس ناخوشی کو gender dysphoria کہا جاتا ہے۔ یہ افراد اپنی مرضی سے اپنی صنف یا تعین کرتے ہیں ۔۔
مرد ہوں تو عورت بن جاتے ہیں، عورت ہو تو مرد۔
کچھ ایسے ہیں جو کہتے ہیں۔ کہ مرد یا عورت دونوں ہی کا فیصلہ نہیں کرتے ۔ یہ خود کو Non Binary
کہتے ہیں ۔
ایسے افراد کی رائے ظاہر ہے کہ وقت، حالات اور نظریات کے اعتبار سے بدل بھی سکتی ہے۔ یہ افراد کبھی صرف مخالف صنف کا حلیہ اور افعال اختیار کرتے ہیں اور کبھی سرجری یا ہارمون کے ذریعے اپنے اندرونی و بیرونی اعضاء میں تبدیلی کے آتے ہیں۔

👥 ٹرانس جینڈر کا اسلام سے کیا مسئلہ ہے:

اسلام میں مرد عورت کے درمیان پردے اور اختلاط کے علاؤہ شادی بیاہ اور وراثت وغیرہ کے قوانین ہیں۔
سوچیے ایک مرد کل کو عورت بننا پسند کرتا ہے تو وہ عورتوں کا باتھ روم، ان نا سویمنگ پول ان کا جم وغیرہ تو اختیار کرے گا، اس کی شادی کس سے ہوگی؟ اگر وہ خود کو عورت قرار دے کر کسی مرد سے شادی کرتا ہے تو کیا یہ ہم جنس پرستی نہیں ہے؟ کیونکہ کسی سرجری یا ہارمونل تھیراپی سے اس کی حقیقی جنس تو تبدیل نہیں ہوگی صرف ہئیت میں تبدیلی واقع ہوگی۔

👥 ایک اہم غلط فہمی کو سمجھیے :

دنیا میں ٹرانس جینڈر قوانین پیدائشی خواجہ سرا یعنی انٹر سیکس افراد کے تحفظ کے لیے نہیں بنائے گئے۔ وہ تو میڈیکلی اور فزیکلی اس طرح ہیں اور تعداد میں انتہائی کم ہیں۔ ترقی یافتہ دنیا میں ان کے حوالےسے وہ مسائل نہیں جو ہمارے یہاں ہیں۔ ترقی یافتہ دنیا میں ٹرانس جینڈر قوانین اختیاری طور پر اپنی صنف تبدیل کرنے والوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ہیں اور یہ صرف صنفی انتخاب تک محدود نہیں بلکہ جنسی رحجانات تک پھیلتے ہیں ۔ اس لیے ٹرانس جینڈر کے ساتھ ہم جنس پرستی کو مکمل تحفظ عطا کیا جاتا ہے۔

👥 آگے کیا ہونے والا ہے؟

آپ لوگوں کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ صرف ابتدا ہے۔ اور بہت آگے جاتا ہے۔ ایک ٹرانس جینڈر عورت اصلا مرد ہونے کی وجہ سے بچے پیدا کرنے پر قادر نہیں اس وجہ سے وہ بچہ پیدا کرنے کے لیے egg کسی سے صدقے میں لیتا ہے اور سپرم اپنا دیتا ہے۔ اس جنین کو پروان چڑھانے کے لیے وہ کسی تیسری عورت کا یوٹرس ادھار لیتا ہے۔
اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس طریقے سے پیدا ہونے والے بچوں کا نسب، ان کی ماں اور باپ کا تعین زنا سے پیدا ہونے والے بچوں سے بھی گیا گذرا ہوگا۔
ان کا حقیقی باپ کون ہے؟ اصل ماں کون ہے؟ کوئی ہے بھی یا نہیں ؟ کیونکہ جس کا دعویٰ بہت سے کریں اس کا کوئی بھی نہیں ہوتا۔

ایسے واقعات بھی ہیں کہ دو مردوں کی شادی کے بعد بہن نسوانی خلیہ فراہم کرتی ہے اور ان کی ماں اس جنین کو اپنی کوکھ میں پالتی ہے۔ اس سے آپ اسفل سافلین کا اندازہ لگالیجیے کہ ابھی تو ابتدا ہے چند نسلیں اور گذر گئیں تو کیا کیا سامنے آئے گا۔

ابھی مغربی دنیا میں حال یہ ہے کہ زنا کے نتیجے میں۔ پیدا ہونے والے بچے سنگل پیرنٹ یا دونوں والدین سے محروم ہوتے ہیں ۔ سوچیے اس قسم کے عمل سے پیدا ہونے والے بچوں کی روحانی، نفسیاتی، جسمانی اور جذباتی اٹیچمنٹ کس قدر متاثر ہوگی۔

گویا یہ نسل انسانی کی تباہی کا منصوبہ ہے۔

اس معاملے کو آگے بڑھائیں ۔ مغرب یہاں تک رکا نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر ایسے گروپ اور افراد سامنے آرہے ہیں جو خود کو جانور کے طور پر شناخت کروانا چاہتے ہیں۔ ۔ان کو
Furries
کہا جاتا ہے۔ میں نے ایسے furries اپنی آنکھوں سے تفریحی مقامات پر گھومتے دیکھے ہیں۔ ان میں سے اکثر کی sexual fantasies بھی جانوروں کے ساتھ یا ان کی طرح جنسی تسکین حاصل کرنے پر ہوتی ہے۔

👥 پاکستان میں کیا ہوا؟

پاکستان میں مذاق یہ ہوا کہ رنگین جھنڈوں کے ساتھ چالاک لوگوں نے انٹر سیکس لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے نام پر اپنی حیوانی خواہشات کی تسکین کا انتظام کروایا۔ اور ٹرانس جینڈر لا 2018 میں تمام بڑی پارٹیوں نے نہ صرف اسی متنازع اصطلاح کے ساتھ عوام کو لاعلمی میں رکھ کر پاس کروالیا۔ بلکہ آپ ویڈیو میں خود سنیں تو آپ کو علم ہو کہ تحریک انسان کی وزیر شیریں مزاری صاحبہ واضح الفاظ میں کہہ رہی ہیں کہ
Gender identity
ہر شخص کا اپنا حق ہونی چاہیے اور اس کے لیے کسی میڈیکل معائنہ کی شرط عائد نہیں کہ جانے چاہیے۔ یہ بات یہ اس اعتراض کے جواب میں کہہ رہی ہیں کہ حقیقی یا پیدائشی خواجہ سراؤں کے لیے قانون بنائیں اور ان کو جنس کے انتخاب کا اختیار دینے سے قبل طبی معائنے سے یہ کنفرم کر لیں کہ وہ پیدائشی طور پر مبہم صنف کے ساتھ پیدا ہوئے بھی ہیں یا نہیں ۔ تاکہ دوسرے نفس پرست اس سے فائدہ نہ اٹھا سکیں ۔

آپ لوگوں کو اندازہ نہیں لیکن مغرب میں کئی برس گذارے ہیں اور کئی برس سے ڈاکٹر کی حیثیت سے کام کررہی ہوں۔ ہر تیسرا بچہ اور بچی اپنی جنس تبدیل کروانا چاہتا ہے۔ کینیڈا جو کہ اس قانون کو پاس کرنے میں سب سے آگے ہے وہاں، امریکہ اور یورپی ممالک میں اسکولوں میں بچوں کی جینڈر چینج کی تقریب منعقد کی جاتی ہے۔ اور اگر والدین اس سے خوش نہ ہوں تو ان کو مطلع کرنا بھی ضروری خیال نہیں کیا جاتا۔ قانون،حکومت اور سارا معاشرہ ان کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔ یہ بچے تیسری چوتھی پانچویں ج**عت کے ننھے بچے بھی ہوسکتے ہیں۔

آپ اندازہ لگائیے اگر یہ قانون انہی الفاظ کے ساتھ پاکستان میں قائم رہا تو کیا صورتحال ہوگی ؟ دوہزار اٹھارہ سے لے کر کل کی تاریخ تک پاکستان میں اس قانون کی مخالفت صرف ج**عت اسلامی کے سنیٹر مشتاق احمد خان صاحب نے کی ہے اور وہی تن تنہا ان خطرناک لوگوں کے طنزو استزہزا اور مخالفت کا سامنا کررہے ہیں۔

فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے، آپ اس خطرے کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلیں، شش شش کرکے چپ کروائیں یا سیاسی تعصبات کی وجہ سے مصلحت سے کام لیں
یا اپنے لیڈران پر زور ڈالیں کہ وہ اس بل میں بنیادی نوعیت کی ترامیم کریں۔

ڈاکٹر جویریہ سعید

10/09/2022

ڈینگی وائرس کا بخار
ڈینگی وائرس جسم میں داخل ہونے کے تین دن کے اندر بخار کا باعث بن سکتا ہے۔ ان تین دنوں میں ڈینگی وائرس کا ٹیسٹ مثبت آئے گا۔ اس کے ساتھ تیز بخار ہوگا۔ اگر بخار کی میعاد تین دن سے زیادہ ہے تو کا ٹیسٹ مثبت آئے گا۔ اسکے بعد مریض یا اس کے معالج کو چاہیے کہ وہ CBC Test کروائے۔ جس میں اور ہیموگلوبن یا پرخصوصی نظر رکھے۔ Platelets کی نارمل تعداد 150-450 تک ہوتی ہے۔ ڈینگی وائرس کے بخار میں اگر ان کی تعداد 100 سے بھی نیچے آجائے تو پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ ڈاکٹر کے مشورے سے کسی اچھی بخار کش دوا، اینٹی الرجی اور اینٹی بائیوٹک کا استعمال کریں اور دن میں 3-4 لٹر ORS ملا پانی استعمال کریں۔ اگر Platelets کی تعداد 50 سے نیچے آجائے تو مریض کو ہسپتال منتقل کر دیا جائے۔ اور اسکے جگر اور گردوں کے ٹیسٹ بھی کروا لیے جائیں۔ Platelets کا 10 سے نیچے آ جانا انتہائی خطر ناک ہو سکتا ہے۔ ایسے مریض کو Platelets mega unit by Apharesis کی ضرورت ہوتی ہے۔
ڈینگی وائرس کے بخار میں 3-7 دن critical ہوتے ہیں۔ اسکے بعد مریض ٹھیک ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ مریض کے Platelets اگر 50 سے زیادہ ہو جائیں تو ہسپتال میں ٹھہرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اگر جسم میں خون کی مقدار یعنی ہیموگلوبن یا Hematocrit زیادہ ہو جائے تو اس کا مطلب ہے کہ جسم میں پانی کی کمی ہو گئی ہے۔ اسکے لیے ORS ملا پانی دن میں3-5 لٹر پلائیں یا Ringer Lactate Infusion کی ڈرپ لگائیں۔ اگر جسم میں White Blood Cells کم ہو رہے ہوں تو یہ ڈینگی وائرس کی تعداد بڑھنے کی علامت ہے۔ اگر جسم میں خون کی مقدار یعنی ہیموگلوبن یا Hematocrit یک دم کم ہو جائے تو یہ خون کے بہ کر ضائع ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے لیے مریض کو تازہ خون لگا نے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ڈینگی وائرس سے خوف زدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ڈینگی وائرس سے جاں بحق ہونے والے زیادہ تر مریض یا تو جگر اور گردوں کی پیچیدہ امراض میں مبتلا تھے یا پھر غفلت سے اور دیر سے ہسپتال لائے گئے اور جاں بر نہ ہو سکے۔

08/09/2022

پہلے ہارنے کا دکھ نہیں تھا لیکن اس بدتمیزی کے بعد جیتنا فرض ہوگیا تھا۔
سب سے پہلے پاکستان🇵🇰❤️🇵🇰❤️

Tongue,
06/09/2022

Tongue,

 ؟ڈینگی دراصل ایک وائرس کا نام ہے جس کا تعلق وائرس کے Flaviviridae خاندان سے ہے. اس وائرس کے 4 اقسام ہیں جن کو DEN-1, DE...
31/10/2021

؟

ڈینگی دراصل ایک وائرس کا نام ہے جس کا تعلق وائرس کے Flaviviridae خاندان سے ہے. اس وائرس کے 4 اقسام ہیں جن کو DEN-1, DEN-2, DEN-3 اور DEN-4 کہا جاتا ہے.

کیا یہ صرف پاکستان میں موجود ہے؟

نہیں. ڈینگی آدھی سے زیادہ دنیا میں پھیلا ہوا ہے اور تقریباً ہر ملک میں اس کے متاثرہ لوگ موجود ہیں.

یہ کیسے پھیلتا ہے؟

ڈینگی دو انواع کے مادہ مچھروں کے ذریعے پھیلتا ہے جن کے نام Aedes aegypti اور Aedes albopictus ہیں.
ان دو مچھروں میں زیادہ پھیلاؤ Aedes aegypti کے ذریعے ہوتا ہے.
جیسے ہی یہ وائرس مچھر کے جسم میں چلا جاتا ہے تو دس دن بعد وہ مچھر اپنی پوری زندگی وہی وائرس پھیلاتی رہتی ہے.
کاٹے جانے کے بعد جب انسانوں میں علامات ظاہر ہو تو اسی بندے سے تقریباً 12 دن تک Aedes جینس کے مچھروں کے ذریعے وائرس پھیلتا جاتا ہے.

ان مچھروں کی پہچان کیا ہے؟

ان مچھروں کی پہچان بہت آسان ہے. Aedes aegypti کی پہچان یہ ہے کہ اس کے پاؤں پر کالے اور سفید دھاریوں کے ساتھ ساتھ اس کے Thorax یعنی کمر پر بھی ایک سفید لکیر ہوگی. جبکہ Aedes albopictus کی پہچان یہ ہے کہ اس کے جسم پر کالے اور سفید دھاریاں ہوتی ہیں. اس کے thorax پر لکیر ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے آنکھوں کے درمیان سے لے کر اس کے thorax تک ایک اور سفید لکیر ہوتی ہے جو اس نوع کی خاص پہچان ہے.

یاد رکھیں کہ مچھروں کے بہت سے جنگلی انواع کے پاؤں پر بھی اس طرح کے کالے اور سفید دھاریاں ہوتی ہیں اور لوگ ان کو Dengue پھیلانے والا مچھر سمجھ لیتے ہیں جوکہ وہ ہوتے نہیں. آپ نے فوراً ان کے کمر پر لکیر دیکھنا ہے.

کیا یہ مچھر دوسرے وائرس بھی پھیلاتے ہیں؟

جی ہاں. Aedes aegypti ڈینگی وائرس سمیت Zika, chikungunya اور یرقان کے وائرس بھی پھیلاتا ہے.
اگر ایک بندے کو ڈینگی بخار ہو اور اس کو عام مچھر کاٹ لیں تو کیا وہ عام مچھر ڈینگی پھیلا سکتا ہے؟

نہیں، عام مچھر کسی بھی صورت ڈینگی کے وائرس نہیں پھیلا سکتا کیونکہ ان کا اندرونی جسم وائرس کے لئے موزوں نہیں ہے اور وائرس ان کے معدے میں جاتے ہی ہضم ہو جاتا ہے.

یہ مچھر کہاں رہتے ہیں؟

ان مچھروں کی پسندیدہ جگہ صاف پانی ہے. یہ عموماً پنکچر کی دکان والی ٹائروں جن میں پانی بھرا ہوتا ہے، گملوں، سوئمنگ پولز اور وہ پانی کی ٹینکیاں جن پر ڈھکن نہیں ہوتا، اس میں رہتے ہیں.

ڈینگی بحار کے علامات کیا ہیں؟

متاثرہ مچھر کے کاٹنے کے تقریباً 4 سے دو ہفتوں کے بعد علامات شروع ہو جاتے ہیں. ڈینگی بخار کے سب سے بنیادی علامات میں بہت تیز بخار (104 تک)، شدید سر درد، آنکھوں کے پیچھے درد، دل کا خراب ہونا، الٹی کرنا، پٹھوں اور جوڑوں کا درد اور جسم پر خارش جیسے سرخ دانوں کا نمودار ہونا ہے. یہ شروع کے علامات ہیں جو 3 دنوں سے لے کر ایک ہفتہ تک رہتے ہیں.

ڈینگی جب شدت اختیار کر لے تو ابتدائی علامات کے بعد جسم کا درجہ حرارت یعنی بخار کم ہو جاتا ہے اور پھر مسلسل الٹی شروع ہو جاتی ہے اور الٹیوں میں خون آنا شروع ہو جاتا ہے ، پیٹ میں شدید درد، تھکاوٹ، بے سکونی، سانس کا پھولنا، مسوڑوں سے خون آنا شامل ہے. یہ تب ہوتا ہے جب خون میں platelets کی مقدار بہت گر جاتی ہے اور اندرونی اعضاء سے خون جسم کے اندر رسنے لگتا ہے. یہ انتہائی خطر ناک علامات ہیں جو ایک سے دو دن تک رہتے ہیں اور جانلیوا ہیں مگر بر وقت طبی امداد سے بچ جانے کے امکانات ہیں.

اگر کسی بندے کو ایک دفعہ بخار ہو جائے تو کیا اس کو دوبارہ ڈینگی بخار ہو سکتا ہے؟

جیسے اوپر بتایا گیا ہے کہ ڈینگی وائرس کے 4 اقسام ہیں جو بخار کا سبب بنتے ہیں. ایک قسم کا وائرس ایک ہی دفعہ بیماری کا سبب بنتے ہیں. پھر جسم میں ان کے خلاف مدافعت پیدا ہو جاتی ہے اور وہی قسم دوبارہ بیماری یا شدید بیماری کا سبب نہیں بن سکتا.

کیا ڈینگی کا علاج دوائی سے ممکن ہے؟

نہیں، فی الوقت ڈینگی کا کوئی علاج نہیں. ہسپتال میں مریض کا fluid level برقرار رکھا جاتا ہے اور بخار کو کم کرنے کی دوائی دی جاتی ہے. اور ساتھ میں لیموں ملا سیب کا جوس. یاد رکھیں ڈینگی کے سارے اقسام جان لیوا نہیں ہوتے. مریض کے مرنے کے چانسز 20 فیصد ہوتے ہیں اور کسی قسم کا کوئی علاج نہ کیا جائے. بر وقت علاج کی صورت میں مرنے کے چانسز 1 فیصد سے بھی کم ہوتے ہیں.

کیا ڈینگی کے ویکسین موجود ہیں؟

جی ہاں. ڈینگی کے ویکسین موجود ہیں جن کو Dengvaxia کہا جاتا ہے جو 2015 میں بنائے گئے جو 9 سے لے کر 45 سال تک کے عمر کے افراد کے لئے موزوں ہیں جو فی الحال کئی ممالک میں دستیاب ہیں جو بہت زیادہ ڈینگی کی لپیٹ میں ہیں. یہ ویکسین پوری دنیا میں بہت سے وجوہات کی بناء پر دستیاب نہیں اور وہ مسئلے وقت کے ساتھ حل کئے جائیں گے.

کیا ڈینگی سے بچاؤ ممکن ہے؟

ڈینگی سے بچاؤ یا خاتمے کے لئے اس مچھر کو ختم کرنا ہوگا جو یہ وائرس پھیلاتے ہیں. ان کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ:

گھر میں موجود گملوں، سویمنگ پولز، یا کسی بھی برتن میں پانی کھڑا نہ رہنے دیں یا اس کو ڈھانپ کر رکھیں جس میں مچھر داخل نہ ہو سکے.

گلیوں یا گھروں کے آس پاس موجود پانی کے چھوٹے تالابوں کو بند کر دیں اور اس کے آس پاس موجود گھاس میں کیڑے مار دوا سپرے کریں.

رات کو مچھر دانی کا استعمال کریں اور اپنے اور بچوں کے جسم کے کھلے اعضاء پر کوئی بھی مچھر بھگانے والے کیمیکل کا استعمال کریں.

پورے آستینوں اور پائنچوں والا لباس پہن رکھیں.

کیا کوئی ایسی سپرے ہے جس کو گھر میں کرنے سے ان سے محفوظ رہا جا سکتا ہے؟

جی ہاں. پر اگر آپ کے گھر میں بچے ہیں تو سپرے کرنا محفوظ طریقہ نہیں ہے اور سپرے کرتے وقت خود بھی نہایت احتیاط کرنی چاہیے. آپ گھر میں Icon یا Lambda نامی سپرے کر سکتے ہیں پر سپرے کرتے وقت پورے جسم کو ڈھانپ لیں اور ماسک اور عینک کا استعمال لازمی ہے. سپرے کے وقت سب برتن ڈھانپ لیں اور بچوں کو دور رکھیں. سپرے کے بعد نہا لیں.

یہ مچھر کب کاٹتے ہیں ؟

ان مچھروں کو crepuscular کہا جاتا ہے جس کا مطلب یہ سورج طلوع اور غروب ہونے کے وقت ایکٹیو ہوتے ہیں اور کاٹتے ہیں. یہ زیادہ اونچا نہیں اڑ سکتے اس لئے عموماً پاؤں پر کاٹتے ہیں. سورج طلوع ہونے کے 2 گھنٹے بعد یہ کاروائی شروع کرتے ہیں اس لئے اگر آپ متاثرہ علاقوں میں رہتے ہیں تو گھاس پر چلتے وقت یا ان اوقات کے وقت ہاتھ پاؤں پر موسپل وغیرہ لگائے رکھیں.

انکے دئیے گئے انڈے کتنے وقت تک کار آمد ہوتے ہیں؟

اگر یہ کسی جگہ انڈے دیں اور وہاں سے پانی ختم ہو جائے تو ان کے انڈے 1 سال تک کار آمد ہوتے ہیں. جیسے ہی ان کو پانی دستیاب ہوجاتا ہے، ان سے بچے نکل آتے ہیں.

ڈینگی کے مچھروں کو انفرادی طور پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے یا پھر اجتماعی؟

اس کا سب سے مؤثر کنٹرول اجتماعی طور پر ہو سکتا ہے. اگر ایک گاؤں والے اجتماعی طور پر پورے گاؤں میں غیر ضروری تالاب بند کریں اور کمیونٹی بنیاد پر سپرے کریں تو ان کو آسانی سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے. اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ اپنے سکول، کالج، دفاتر، حجرہ یا کسی بھی کام والی جگہ پر ڈینگی کے متعلق آگاہی پھیلائیں.
COPY ....

Address

Peshawar
Peshawar

Telephone

+923429575375

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Medical information posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Medical information:

Share