14/08/2026
ایسڈ ریفلیکس (Acid Reflux) کیا ہے؟
ایسڈ ریفلیکس ایک عام کیفیت ہے جس میں معدے کا تیزاب یا معدے کا مواد واپس غذائی نالی (Esophagus) میں آ جاتا ہے۔ عام طور پر معدے اور غذائی نالی کے درمیان موجود Lower Esophageal Sphincter (LES) معدے کے مواد کو واپس اوپر آنے سے روکتا ہے۔ جب یہ کمزور ہو جائے یا مناسب طریقے سے بند نہ ہو تو ایسڈ ریفلیکس ہوتا ہے۔
ایسڈ ریفلیکس کی علامات:
اس کی عام علامات میں شامل ہیں:
1) سینے میں جلن، خاص طور پر کھانے کے بعد
2) سینے یا اوپری پیٹ میں درد یا بے آرامی
3) منہ میں کھٹا یا کڑوا ذائقہ آنا
4) معدے کا تیزاب یا خوراک واپس گلے میں آنا
5) لیٹنے یا سونے کے وقت علامات کا بڑھ جانا
6) بار بار خشک کھانسی
7) گلے میں خراش یا آواز کا بیٹھ جانا
8) گلے میں کچھ پھنسنے کا احساس
9) نگلنے میں دشواری یا تکلیف
10) بعض افراد میں بدہضمی، ڈکاریں اور پیٹ کا پھولنا بھی ہو سکتا ہے۔
ایسڈ ریفلیکس کی تشخیص کیسے ہوتی ہے؟
زیادہ تر مریضوں میں تشخیص علامات اور طبی تاریخ کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اگر علامات بار بار ہوں، شدید ہوں یا علاج سے بہتر نہ ہوں تو ڈاکٹر درج ذیل ٹیسٹ تجویز کر سکتا ہے:
1. اپر جی ائی اینڈوسکوپی Upper GI Endoscopy:
غذائی نالی اور معدے کے اندرونی حصے کو کیمرے کے ذریعے دیکھا جاتا ہے۔ اس سے سوزش، زخم یا غذائی نالی کو ہونے والے نقصان کا پتہ چل سکتا ہے۔
2. ٹوئنٹی فور ہاوور ایسوفیجئیل پی ایچ مونیٹرنگ 24-hour Esophageal pH Monitoring:
یہ ٹیسٹ 24 گھنٹے کے دوران غذائی نالی میں تیزاب کی مقدار اور اس کے واپس آنے کے واقعات کو ریکارڈ کرتا ہے۔
3. ایسوفیجئیل ایمپی ڈینس پی ایچ مونیٹرنگ Esophageal Impedance-pH Monitoring:
یہ تیزاب کے ساتھ ساتھ غیر تیزابی معدے کے مواد کے ریفلکس کا بھی جائزہ لے سکتا ہے۔
4. ایسوفیجئیل مانومیٹریEsophageal Manometry:
اس سے غذائی نالی کے پٹھوں اور LES کے دباؤ اور حرکت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
ایسڈ ریفلیکس کا علاج
ایسڈ ریفلیکس کا علاج علامات کی شدت اور بار بار ہونے پر منحصر ہے:
1. طرزِ زندگی میں تبدیلیاں
1) کھانا کھانے کے فوراً بعد نہ لیٹیں؛ کم از کم 2–3 گھنٹے کا وقفہ رکھیں۔
2) رات کو سوتے وقت سرہانے کو تقریباً 6–8 انچ اونچا رکھیں۔
3) بہت زیادہ کھانے کے بجائے چھوٹے اور ہلکے کھانے لیں۔
4) تلی ہوئی، چکنائی والی اور بہت مصالحے دار غذائیں کم کریں۔
5) اگر کافی، چاکلیٹ، کولڈ ڈرنکس یا کوئی مخصوص غذا علامات بڑھاتی ہے تو اسے محدود کریں۔
6) وزن زیادہ ہو تو وزن کم کرنے سے علامات میں بہتری آ سکتی ہے۔
7) سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں۔
2. ادویات:
علامات کے لیے ڈاکٹر Antacids/Alginates تجویز کر سکتے ہیں۔ بار بار ہونے والے ریفلیکس میں Proton Pump Inhibitors (PPIs) جیسے omeprazole، esomeprazole یا pantoprazole زیادہ مؤثر ہو سکتے ہیں۔ بعض مریضوں میں H2 blockers بھی استعمال ہوتے ہیں۔
اہم: PPI یا دوسری دوا طویل عرصے تک خود سے استعمال نہ کریں؛ ڈاکٹر سے مشورہ بہتر ہے۔
کب ڈاکٹر سے ضرور رجوع کریں؟
اگر سینے کی جلن بار بار ہو، نگلنے میں مشکل ہو، وزن بغیر وجہ کم ہو رہا ہو، بار بار قے ہو، خون کی قے آئے یا پاخانہ کالا ہو تو ڈاکٹر سے معائنہ کروانا ضروری ہے۔
نوٹ: اگر سینے کا درد شدید ہو یا ساتھ سانس پھولنا، ٹھنڈا پسینہ، چکر، یا درد بازو/جبڑے تک پھیلنا ہو تو اسے صرف ایسڈ ریفلیکس نہ سمجھیں؛ فوری طبی امداد حاصل کریں۔