CTC Private Limited organization Islamabad.

CTC Private Limited organization Islamabad. All health related diseases , effects of virus, specially polio and Corona

03/07/2026

حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص کا کیا راز تھا جس نے بینائی لوٹا دی؟
اور کیا اس قمیص میں کوئی معجزاتی طاقت تھی؟

حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے میں سب سے زیادہ متاثر کن منظر وہ دن ہے جب کئی سالوں کے غم اور رونے کے بعد حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی واپس آئی۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿اذْهَبُوا بِقَمِيصِي هَٰذَا فَأَلْقُوهُ عَلَىٰ وَجْهِ أَبِي يَأْتِ بَصِيرًا﴾
"میری یہ قمیص لے جاؤ اور اسے میرے والد کے چہرے پر ڈال دو، وہ بینا (ٹھیک) ہو جائیں گے۔"

پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:

﴿فَلَمَّا أَن جَاءَ الْبَشِيرُ أَلْقَاهُ عَلَىٰ وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِيرًا﴾

"پھر جب خوشخبری لانے والا پہنچا، اس نے وہ قمیص یعقوب کے چہرے پر ڈال دی تو وہ اسی وقت بینا ہو گئے۔"

لیکن سوال یہ باقی رہتا ہے کہ...
کیا خود اس قمیص میں کوئی راز یا مافوق الفطرت (خارق العادت) طاقت تھی؟

جواب ہے: جی نہیں۔
اس قمیص کی اپنی کوئی ذاتی طاقت نہیں تھی جو شفا دیتی یا علاج کرتی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس قمیص کو حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی کی واپسی کا ایک سبب (ذریعہ) بنا دیا تھا۔ بالکل اسی طرح جیسے اللہ نے آگ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے ٹھنڈا اور سلامتی والا بنا دیا، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا (لاٹھی) کو اپنی نشانیوں میں سے ایک نشانی بنایا۔

چنانچہ شفا صرف اور صرف اللہ کے حکم سے ہوئی، قمیص کی کسی طاقت سے نہیں‌۔

بعض مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو اللہ کی وحی کے ذریعے یہ معلوم ہو گیا تھا کہ ان کی قمیص والد کے چہرے پر ڈالنا ان کی بینائی کی واپسی کا سبب بنے گا، اس لیے انہوں نے وہی کیا جو اللہ نے انہیں حکم دیا تھا۔

قرآنی بلاغت اور باریکی پر غور فرمائیں...
حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے کے اہم ترین مراحل میں یہ قمیص ہمیشہ موجود رہی:

1....پہلی قمیص:

بھائیوں کے جھوٹ کی گواہ بنی، جب وہ اس پر جھوٹا خون لگا کر لائے تھے۔

2...دوسری قمیص:

حضرت یوسف علیہ السلام کی پاکدامنی اور بے گناہی کی گواہ بنی، جب وہ پیچھے سے پھاڑی گئی تھی۔

3...تیسری قمیص:

خوشخبری لے کر آئی، جس سے طویل جدائی کے بعد حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی لوٹ آئی۔

سبحان اللہ...
ایک قمیص جس کا سفر غم سے شروع ہوا، پھر وہ بے گناہی کی گواہ بنی، اور آخر کار خوشی اور ملاپ کا سبب بن گئی۔

اسی طرح اللہ ہمیں سکھاتا ہے

01/07/2026

*حضرت اسماعیل علیہ السّلام کی ولادت اور ہجرت*

حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی پہلی شادی اپنی چچازاد، حضرت سارہؑ سے ہوئی، لیکن وہ ایک عرصے تک اولاد کی نعمت سے محروم رہے۔ ایک دن حضرت سارہؑ نے اُن سے فرمایا: ’’آپؑ، ہاجرہؑ سے نکاح کر لیں، شاید اللہ تعالیٰ اُن کے بطن سے اولاد عطا فرما دے۔‘‘ دراصل، یہ سب کچھ مِن جانب اللہ ہی تھا۔

چناں چہ، آپؑ نے حضرت ہاجرہؑ کو اپنی زوجیت میں لے لیا اور پھر شادی کے ایک سال بعد ہی اُنھوں نے حضرت اسماعیل علیہ السّلام کو جنم دیا۔ اُس وقت حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی عُمرِ مبارکہ 86 سال تھی۔ جب حضرت ہاجرہؑ اُمید سے تھیں، تو فرشتے نے آپؑ کو لڑکا ہونے کی نوید سُنائی اور ’’اسماعیل‘‘ نام رکھنے کو کہا۔ حضرت اسماعیلؑ اٹھارہ سو قبلِ مسیح میں پیدا ہوئے۔

حضرت ابراہیمؑ دعائوں، آرزوئوں اور تمنّائوں کے بعد پیرانہ سالی میں پہلے فرزند کی پیدائش پر خوشیوں کا بھرپور اظہار بھی نہ کر پائے تھے کہ اُنھیں ایک اور آزمائش سے گزرنا پڑا۔ وہ بہ حکمِ الہٰی نومولود لختِ جگر اور فرماں بردار بیوی کو مُلکِ شام سے ہزاروں میل دُور ایک ایسی وادی میں چھوڑ آئے کہ جہاں میلوں تک پانی تھا، نہ چرند پرند۔ اور آدم تھا، نہ آدم زاد۔

*صفا و مروہ کی سعی اور آبِ زم زم کا ظہور*

وادیٔ فاران کے سنگلاخ کالے پہاڑوں کے درمیان، تپتے صحرا کے ایک بوڑھے درخت کے نیچے، اللہ کی ایک نیک اور برگزیدہ بندی اپنے نومولود معصوم بیٹے کے ساتھ چند روز سے قیام پزیر ہیں۔ جو زادِ راہ ساتھ تھا، ختم ہو چُکا۔ ماں، بیٹا بھوک، پیاس سے بے حال ہیں۔ ماں کو اپنی تو فکر نہیں، لیکن بھوکے، پیاسے بچّے کی بے چینی پر ممتا کی تڑپ فطری اَمر ہے، لیکن اس لق و دق صحرا میں پانی کہاں…؟

جوں جوں لختِ جگر کی شدّتِ پیاس میں اضافہ ہو رہا تھا، ممتا کی ماری ماں کی بے قراری بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ اسی حالتِ اضطراب میں:

- قریب واقع پہاڑی، *’’صفا‘‘* پر چڑھیں کہ شاید کسی انسان یا پانی کا کوئی نشان مل جائے، لیکن بے سود۔

- تڑپتے دِل کے ساتھ بھاگتے ہوئے ذرا دُور، دوسری پہاڑی *’’مروہ‘‘* پر چڑھیں، لیکن بے فائدہ۔ اس طرح، دونوں پہاڑیوں کے درمیان پانی کی تلاش میں سات چکر مکمل کر لیے۔

ادھر اللہ جل شانہ نے حضرت جبرائیل امینؑ کے ذریعے شیر خوار اسماعیلؑ کے قدموں تلے دنیا کے سب سے متبرّک اور پاکیزہ پانی کا چشمہ جاری کر کے رہتی دنیا تک کے لیے ی

22/06/2026

🌸

*ایک عجیب و غریب تاریخی واقعہ*

جامع الحکایات میں لکھا ہے کہ نیشاپور میں جب امیر ناصر الدین سبکتگین ملازمت میں تھا تو اس کے پاس صرف ایک گھوڑا تھا، اور وہ تمام دن اسی گھوڑے پر سوار ہو کر جنگل میں گھوما کرتا تھا اور جانوروں کا شکار کیا کرتا تھا۔

ایک دن اس نے دیکھا کہ ایک ہرنی اپنے بچے کے ساتھ جنگل میں چر رہی ہے۔ سبکتگین نے اسے دیکھتے ہی گھوڑے کو دوڑایا اور ہرنی کے بچے کو پکڑ لیا۔ اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اس بچے کو اپنی زین سے باندھ دیا اور شہر کی طرف روانہ ہوا۔

ابھی وہ کچھ دور گیا ہو گا کہ اس نے مڑ کر پیچھے کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ ہرنی پیچھے پیچھے چلی آ رہی ہے، اور اس کی صورت اور حرکات سے پریشانی اور رنج کا اظہار ہو رہا ہے۔

یہ حال دیکھ کر سبکتگین کو اس بے زبان جانور پر بہت رحم آیا اور اس نے بچے کو چھوڑ دیا۔ ہرنی اپنے بچے کی رہائی سے بہت خوش ہوئی اور بچے کو ساتھ لے کر جنگل کی طرف روانہ ہوئی۔ وہ تھوڑی دور چل کر سبکتگین کی طرف مڑ مڑ کر دیکھ لیتی تھی، جیسے اپنی خوشی کا اظہار کر رہی ہو۔
جس دن کا یہ واقعہ ہے، اسی رات سبکتگین نے خواب میں آنحضرت ﷺ کو دیکھا۔

`آپ ﷺ نے فرمایا:`
“اے ناصر الدین! تو نے ایک بے زبان جانور پر جو رحم کیا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بہت مقبول ہوا ہے۔ لہٰذا اس کے صلے میں تجھے چاہیے کہ ہمیشہ یہی طریق اختیار کرے اور کبھی رحم کو اپنے ہاتھ سے نہ جانے دے، `کیونکہ یہی طریق دین و دنیا کا سرمایہ ہے۔`”

(تاریخ فرشتہ، ج 1، ص 95)

22/06/2026

*بنی اسرائیل کی سرکشی اور اللہ کا عذاب....!* 💔

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کے لیے طور پر گئے تو بنی اسرائیل میں سے ستر آدمیوں کو بھی اپنے ساتھ منتخب کرکے لے گئے۔ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کا کلام سنا، لیکن اس کے باوجود سرکشی اور ضد کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا:
"اے موسیٰ! ہم آپ پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔"
یہ مطالبہ ان کے تکبر، جہالت اور حد سے تجاوز کی دلیل تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ان کے اس گستاخانہ مطالبے پر ناراض ہوا اور ان پر صاعقہ (شدید کڑک اور آسمانی عذاب) نازل فرمایا، جس سے وہ سب ہلاک ہو گئے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اگر یہ لوگ واپس نہ گئے تو بنی اسرائیل انہیں اپنے سرداروں کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان سب کو دوبارہ زندہ کر دیا۔
امام ابن کثیرؒ نے سلف کے اقوال نقل کیے ہیں کہ یہ حقیقی موت تھی، محض بے ہوشی نہ تھی۔ مزید یہ کہ وہ ایک ساتھ نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے ایک کے بعد ایک زندہ ہوتے گئے؛ جو پہلے زندہ ہوتا وہ اپنے ساتھیوں کو زندہ ہوتے ہوئے دیکھتا تھا، یہاں تک کہ سب دوبارہ زندہ ہو گئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی قدرت کی عظیم نشانی دکھائی۔
اس واقعے میں بنی اسرائیل کی سرکشی، اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ، اور اس کے عظیم احسان کا بیان ہے کہ موت کے بعد انہیں دوبارہ زندہ کیا گیا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔
حوالہ: تفسیر ابن کثیر، سورۃ البقرۃ، آیات 55-56نوٹ: "ایک کے بعد ایک زندہ ہونے" کا مضمون سلف کے آثار میں مذکور ہے جسے ابن کثیرؒ نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے۔

20/06/2026

*اجڑی بستی کے انصاف پسند قاضی*

ایک دفعہ کا ذکر ھے کہ ایک طوطا طوطی کا گزر ایک ویرانے سے ھوا
ویرانی دیکھ کر طوطی نے طوطے سے کہا:
کس قدر ویران گاؤں ھے؟

طوطے نے کہا:
لگتا ھے یہاں کسی الو کا گزر ھوا ھے

جس وقت طوطا طوطی باتیں کر رہے تھے
عین اسی وقت ایک الّو بھی وہاں سے گزر رہا تھا
اس نے طوطے کی بات سنی اور وہاں رک کر ان سے مخاطب ھو کر بولا:
تم لوگ اس گاؤں میں مسافر لگتے ھو
آج رات تم لوگ میرے مہمان بن جاؤ
میرے ساتھ کھانا کھاؤ

اُلو کی محبت بھری دعوت سے طوطے کا جوڑا انکار نا کر سکا اور انہوں نے اُلو کی دعوت قبول کرلی
کھانا کھا کر جب انہوں نے رخصت ھونے کی اجازت چاہی تو اُلو نے طوطی کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا:
تم کہاں جا رھی ھو؟

طوطی پریشان ھو کر بولی:
یہ کوئی پوچھنے کی بات ھے؟
میں اپنے خاوند کے ساتھ واپس جا رھی ھوں

الو یہ سن کر ہنسا اور کہا
یہ تم کیا کہہ رھی ھو جبکہ تم تو میری بیوی ھو

اس پہ طوطا طوطی الو پر جھپٹ پڑے اور گرما گرمی شروع ہو گئی
دونوں میں جب بحث و تکرار زیادہ بڑھی تو اُلو نے طوطے کے سامنے ایک تجویز پیش کرتے ہوئے کہا:
ایسا کرتے ہیں ہم تینوں عدالت چلتے ہیں اور اپنا مقدمہ قاضی کے سامنے پیش کرتے ہیں
قاضی جو فیصلہ کرے وہ ہمیں قبول ھو گا

اُلو کی تجویز پر طوطا اور طوطی مان گئے اور تینوں قاضی کی عدالت میں پیش ھوئے

قاضی نے دلائل کی روشنی میں اُلو کے حق میں فیصلہ دے کر عدالت برخاست کر دی

طوطا اس بے انصافی پر روتا ہوا چل دیا تو اُلو نے اسے آواز دی:
بھائی اکیلئے کہاں جاتے ھو؟
اپنی بیوی کو تو ساتھ لیتے جاؤ!

طوطے نے حیرانی سے اُلو کی طرف دیکھا اور بولا:
اب کیوں میرے زخموں پر نمک چھڑکتے ہو؟
یہ اب میری بیوی کہاں ھے؟
عدالت نے تو اسےتمہاری بیوی قرار دے دیا ھے

اُلو طوطے کی بات سن کر نرمی سے بولا:
نہیں دوست یہ طوطی میری نہیں بلکہ تمہاری ہی بیوی ھے
میں تمہیں صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ بستیاں الو ویران نہیں کرتے
بستیاں تب ویران ہوتی ہیں جب ان سے انصاف اٹھ جا

20/06/2026

محرم میں شادی کرنا کیسا ہے اور شادی میں ڈول بجانا کیا جایا ہے؟

جواب

محرم الحرام میں شادی کرنا جائز ہے، اس مہینے میں نکاح سے منع نہیں کیا گیا۔ البتہ شادی میں ڈھول، باجا اور دیگر موسیقی کے آلات بجانا جائز نہیں۔

واللہ تعالی اعلم۔

20/06/2026

سوال:
کیا کنگھی سے نکلے ہوئے بالوں کو جلانا جائز ہے؟

جواب:

کنگھی سے نکلے ہوئے بال انسانی جسم کا حصہ ہیں، اس لیے انہیں جلانا مناسب نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ انہیں دفن کر دیا جائے یا ایسی جگہ ڈال دیا جائے جہاں ان کی بے حرمتی نہ ہو۔

واللہ تعالی اعلم

20/06/2026

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

جب ابن آدم یعنی انسان سجدہ والی آیت پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتا ہوا اور ہائے افسوس کہتا ہوا اس سے علیحدہ ہوجاتا ہے اور ابی کریب کی روایت میں ہے شیطان کہتا ہے ہائے افسوس ابن آدم کو سجدہ کا حکم کیا گیا تو وہ سجدہ کرکے جنت کا مستحق ہوگیا اور مجھے سجدہ کا حکم دیا گیا تو میں سجدے کا انکار کرکے جہنمی ہوگیا۔

صحیح مسلم: 244

20/06/2026

سوال یہ ہے کہ:
اک شخص نے اک پہلے نکاح کیا ہوا ہو اور وہ دوسرا نکاح خفیہ کر رہا ہو اور اگر اس سے کوئی پوچھے کہ کیا آپ نے پہلے کوئی نکاح کیا ہوا ہے کہ نہیں اور اگر وہ کہ دے کہ نہیں میرا پہلا کوئی نکاح نہیں ہوا تو کیا اس طرح کہنے سے اس کا پہلا نکاح باطل یعنی ختم ہوجائے گا یا نہیں، ؟؟؟؟؟
براہ کرم شرعی رہنمائی فرمادیں،

جواب

پہلا نکاح صرف یہ کہنے سے کہ “میرا پہلے کوئی نکاح نہیں ہوا” ختم نہیں ہوتا، بلکہ بدستور قائم رہتا ہے۔
البتہ ایسا کہنا جھوٹ اور دھوکہ ہے، جو شرعاً گناہ ہے۔

واللہ تعالی اعلم

Address

Peshawar

Telephone

+923169866843

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when CTC Private Limited organization Islamabad. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to CTC Private Limited organization Islamabad.:

Shortcuts

Share