03/07/2026
حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص کا کیا راز تھا جس نے بینائی لوٹا دی؟
اور کیا اس قمیص میں کوئی معجزاتی طاقت تھی؟
حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے میں سب سے زیادہ متاثر کن منظر وہ دن ہے جب کئی سالوں کے غم اور رونے کے بعد حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی واپس آئی۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿اذْهَبُوا بِقَمِيصِي هَٰذَا فَأَلْقُوهُ عَلَىٰ وَجْهِ أَبِي يَأْتِ بَصِيرًا﴾
"میری یہ قمیص لے جاؤ اور اسے میرے والد کے چہرے پر ڈال دو، وہ بینا (ٹھیک) ہو جائیں گے۔"
پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:
﴿فَلَمَّا أَن جَاءَ الْبَشِيرُ أَلْقَاهُ عَلَىٰ وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِيرًا﴾
"پھر جب خوشخبری لانے والا پہنچا، اس نے وہ قمیص یعقوب کے چہرے پر ڈال دی تو وہ اسی وقت بینا ہو گئے۔"
لیکن سوال یہ باقی رہتا ہے کہ...
کیا خود اس قمیص میں کوئی راز یا مافوق الفطرت (خارق العادت) طاقت تھی؟
جواب ہے: جی نہیں۔
اس قمیص کی اپنی کوئی ذاتی طاقت نہیں تھی جو شفا دیتی یا علاج کرتی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس قمیص کو حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی کی واپسی کا ایک سبب (ذریعہ) بنا دیا تھا۔ بالکل اسی طرح جیسے اللہ نے آگ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے ٹھنڈا اور سلامتی والا بنا دیا، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا (لاٹھی) کو اپنی نشانیوں میں سے ایک نشانی بنایا۔
چنانچہ شفا صرف اور صرف اللہ کے حکم سے ہوئی، قمیص کی کسی طاقت سے نہیں۔
بعض مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو اللہ کی وحی کے ذریعے یہ معلوم ہو گیا تھا کہ ان کی قمیص والد کے چہرے پر ڈالنا ان کی بینائی کی واپسی کا سبب بنے گا، اس لیے انہوں نے وہی کیا جو اللہ نے انہیں حکم دیا تھا۔
قرآنی بلاغت اور باریکی پر غور فرمائیں...
حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے کے اہم ترین مراحل میں یہ قمیص ہمیشہ موجود رہی:
1....پہلی قمیص:
بھائیوں کے جھوٹ کی گواہ بنی، جب وہ اس پر جھوٹا خون لگا کر لائے تھے۔
2...دوسری قمیص:
حضرت یوسف علیہ السلام کی پاکدامنی اور بے گناہی کی گواہ بنی، جب وہ پیچھے سے پھاڑی گئی تھی۔
3...تیسری قمیص:
خوشخبری لے کر آئی، جس سے طویل جدائی کے بعد حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی لوٹ آئی۔
سبحان اللہ...
ایک قمیص جس کا سفر غم سے شروع ہوا، پھر وہ بے گناہی کی گواہ بنی، اور آخر کار خوشی اور ملاپ کا سبب بن گئی۔
اسی طرح اللہ ہمیں سکھاتا ہے