13/07/2026
https://youtu.be/nxi45p5x4Zo?si=HdWmSXB8yoCEriV4
جنوبی وزیرستان (بیورورپورٹ) جنوبی وزیرستان اپر میں لشمینیا کے کیسز میں تشویشناک اضافہ، مکین سمیت مختلف علاقوں میں بچے اور بڑے متاثر، فوری ایمرجنسی اقدامات کا مطالبہ
تفصیلات کے مطابق ضلع جنوبی وزیرستان اپر میں لشمینیا (Leishmaniasis) کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ تحصیل مکین سمیت ضلع کے مختلف علاقوں سے کم عمر بچوں، خواتین اور مردوں کے اس خطرناک مرض میں مبتلا ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جس پر مقامی آبادی میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
مقامی ذرائع اور متاثرہ خاندانوں کے مطابق لشمینیا پھیلانے والے ریتی مچھر (Sand Fly) کے کاٹنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث متاثرہ افراد کے چہرے، ہاتھوں اور جسم کے دیگر کھلے حصوں پر گہرے زخم بن رہے ہیں۔ یہ زخم نہ صرف شدید تکلیف کا باعث بنتے ہیں بلکہ علاج میں تاخیر کی صورت میں مستقل بدنما داغ بھی چھوڑ جاتے ہیں، جس سے خصوصاً بچوں کی جسمانی اور نفسیاتی صحت متاثر ہو رہی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلع کے مختلف سرکاری اسپتالوں، رورل ہیلتھ سینٹرز (RHCs) اور بنیادی مراکز صحت (BHUs) میں لشمینیا کے علاج کے لیے ضروری ادویات، انجیکشن اور دیگر طبی سہولیات کی شدید کمی ہے، جس کے باعث مریضوں کو بروقت اور مؤثر علاج میسر نہیں آ رہا۔
عوامی، سماجی اور قبائلی حلقوں نے صورتحال کو صحتِ عامہ کے لیے ہنگامی خطرہ قرار دیتے ہوئے سیکرٹری ہیلتھ خیبر پختونخوا، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز، کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر جنوبی وزیرستان اپر سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع بھر میں فوری ایمرجنسی بنیادوں پر طبی ٹیمیں تعینات کی جائیں، تمام اسپتالوں، آر ایچ سیز اور بی ایچ یوز کو لشمینیا کے علاج کے لیے ضروری ادویات اور انجیکشن فراہم کیے جائیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں انسدادِ لشمینیا اسپرے، ریتی مچھر کے خاتمے کی خصوصی مہم اور عوامی آگاہی پروگرام بھی فوری طور پر شروع کیے جائیں۔
مقامی آبادی نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو لشمینیا مزید علاقوں میں پھیل کر صحتِ عامہ کے سنگین بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ عوام نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ جنوبی وزیرستان اپر کو ترجیحی بنیادوں پر ہنگامی طبی امداد فراہم کی جائے تاکہ اس خطرناک مرض پر بروقت قابو پایا جا سکے اور مزید شہری، خصوصاً معصوم بچے، اس سے محفوظ رہ سکیں۔
Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa Ministry of Information and Broadcasting, Pakistan Deputy Commissioner South Waziristan Upper Health Department, KP Durand News