Saleemi Children Hospital & Diagnostic Centre

Saleemi Children Hospital & Diagnostic Centre Children OutDoor, 24 Hours Nursary, Children Ward, Emergency, Colour Doppler Ultrasound, All Kind of

15/04/2026
چھوٹے بچوں کے لیے نیند کے ڈراپس کے حوالے سے والدین میں کافی سوالات اور الجھن پائی جاتی ہے، اس لیے اس موضوع کو سائنسی بنی...
15/04/2026

چھوٹے بچوں کے لیے نیند کے ڈراپس کے حوالے سے والدین میں کافی سوالات اور الجھن پائی جاتی ہے، اس لیے اس موضوع کو سائنسی بنیادوں پر سمجھنا بہت ضروری ہے۔

میلاٹونن ایک قدرتی ہارمون ہے جو انسانی دماغ کے ایک نہایت چھوٹے مگر انتہائی اہم غدود پائنئیل گلینڈ سے خارج ہوتا ہے۔ یہ ہارمون ہمارے جسم کی قدرتی نیند اور جاگنے کے نظام، جسے سرکیڈین ردھم کہا جاتا ہے، کو کنٹرول کرتا ہے۔ رات کے وقت میلاٹونن کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس سے دماغ کو یہ پیغام ملتا ہے کہ سونے کا وقت ہے، جبکہ دن کے وقت اس کی مقدار بہت کم ہو جاتی ہے۔

ادویاتی شکل میں دستیاب میلاٹونن، جیسے کہ اورل ڈراپس یا ٹیبلٹس، میں یہی ہارمون شامل ہوتا ہے اور اسے مخصوص حالات میں نیند کے مسائل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ دوا بعض بڑے بچوں میں، خاص طور پر آٹزم یا اے ڈی ایچ ڈی کے شکار بچوں میں نیند کی خرابی کے علاج کے لیے تجویز کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بالغ افراد میں جیٹ لیگ یا شفٹ ورک کی وجہ سے نیند کے مسائل میں بھی اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔

جہاں تک نقصان یا سائیڈ ایفیکٹس کا تعلق ہے، بالغ افراد اور بڑے بچوں میں اس کے فوری طور پر کوئی خطرناک اثرات ثابت نہیں ہوئے۔ تاہم چھوٹے بچوں، خاص طور پر نوزائیدہ اور کم عمر شیرخوار بچوں میں اس کے طویل مدتی اثرات کے بارے میں تحقیق ابھی محدود ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ طویل عرصے تک میلاٹونن دینے سے بچوں کے ہارمونل یا تولیدی نظام پر اثر پڑ سکتا ہے، لیکن اس حوالے سے حتمی سائنسی ثبوت ابھی موجود نہیں۔

اکثر والدین یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا دو یا تین ماہ کے بچے کو نیند کے لیے میلاٹونن ڈراپس دی جا سکتی ہیں۔ سائنسی طور پر یہ بات واضح ہے کہ زندگی کے ابتدائی چند مہینوں میں بچے کا نیند اور جاگنے کا قدرتی نظام ابھی مکمل طور پر تیار نہیں ہوتا۔ اس عمر میں بچے کے دماغ کو دن اور رات کا واضح فرق سمجھنے میں وقت لگتا ہے۔ ایسے میں میلاٹونن دینا نہ صرف غیر ضروری ہوتا ہے بلکہ قدرتی عمل میں مداخلت بھی سمجھا جاتا ہے۔

بچوں میں نیند کے مسائل کی صورت میں سب سے پہلا اور اہم قدم غیر دوائی طریقے اختیار کرنا ہے۔ رات کے وقت روشنی کم رکھنا، شور شرابے سے بچنا، ٹی وی اور موبائل اسکرین بند کرنا، سونے کا ایک باقاعدہ وقت مقرر کرنا اور والدین کا خود پرسکون رہنا بچے کی نیند میں نمایاں بہتری لا سکتا ہے۔ زیادہ تر بچوں میں یہی اقدامات کافی ثابت ہوتے ہیں۔

اگر ان تمام تدابیر کے باوجود نیند کا مسئلہ برقرار رہے، یا بچہ کسی مخصوص طبی مسئلے کا شکار ہو، تو اس صورت میں صرف ماہرِ اطفال کے مشورے سے دوا کے استعمال پر غور کیا جانا چاہیے۔ خود سے یا سوشل میڈیا کے مشوروں پر کسی بھی دوا کا آغاز کرنا بچے کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

آخر میں یہ بات یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ یہ تحریر صرف معلومات اور آگاہی کے لیے ہے۔ کسی بھی بچے کے لیے دوا شروع کرنے یا بند کرنے کا فیصلہ ہمیشہ مستند ڈاکٹر کے معائنے اور مشورے کے بعد ہی ہونا چاہیے۔

Dr Waqas Shafique Saleemi.
Consultant Child Specialist and Neonatologist.
Saleemi Children Hospital And Diagnostic Centre Phalia 0546 566346

بچپن میں جب بچہ چلنا سیکھ رہا ہوتا ہے تو شروع کے دنوں میں پنجوں کے بل چلنا ایک عام اور فطری بات ہے۔ اس مرحلے پر بچے کا ت...
14/04/2026

بچپن میں جب بچہ چلنا سیکھ رہا ہوتا ہے تو شروع کے دنوں میں پنجوں کے بل چلنا ایک عام اور فطری بات ہے۔ اس مرحلے پر بچے کا توازن، پٹھے اور اعصابی نظام ابھی نشوونما کے عمل میں ہوتے ہیں۔ زیادہ تر بچے چند ہی مہینوں میں آہستہ آہستہ پورا پاؤں زمین پر رکھ کر چلنا سیکھ لیتے ہیں اور یہ عادت خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔
البتہ بعض بچوں میں پنجوں کے بل چلنا عارضی عادت کے بجائے کسی جسمانی یا اعصابی مسئلے کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ ایک عام وجہ ایڑی کے پٹھے، جسے ایکیلیز ٹینڈن کہا جاتا ہے، کا غیر معمولی طور پر چھوٹا ہونا ہے۔ ایسی صورت میں بچے کی ایڑی زمین تک پوری طرح نہیں پہنچ پاتی اور وہ مجبوری میں پنجوں پر چلتا ہے۔
عمومی طور پر دو سال کی عمر کے بعد بچے کو پورے پاؤں کے ساتھ چلنا شروع کر دینا چاہیے۔ اگر دو سال کے بعد بھی بچہ مسلسل پنجوں کے بل چلتا رہے، یا وقت کے ساتھ یہ عادت بڑھتی جائے، تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ کیفیت بعض اوقات اندرونی بیماری یا اعصابی کمزوری کی طرف اشارہ کر سکتی ہے۔
اس کی ممکنہ وجوہات میں پٹھوں کی پیدائشی بیماریاں، دماغی کمزوری یا سیریبرل پالسی، ایکیلیز ٹینڈن کا چھوٹا ہونا، آٹزم، یا دیگر نیورولوجیکل مسائل شامل ہو سکتے ہیں۔ بعض بچوں میں یہ صرف ایک عادت بھی ہو سکتی ہے، لیکن درست فرق جاننا بہت ضروری ہے۔
علاج اور نگہداشت بچے کی وجہ کے مطابق کی جاتی ہے۔ زیادہ تر کیسز میں ابتدائی معائنہ، فزیوتھراپی اور مخصوص ورزشوں سے واضح بہتری آ جاتی ہے۔ بعض بچوں کو خاص جوتوں یا سپورٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔ بہت کم اور پیچیدہ صورتوں میں سرجری کی ضرورت پیش آتی ہے۔
اہم پیغام والدین کے لیے:
اگر آپ کا بچہ دو سال کی عمر کے بعد بھی مسلسل پنجوں کے بل چل رہا ہو، یا ساتھ میں چلنے میں لڑکھڑاہٹ، کمزوری، یا نشوونما میں تاخیر نظر آئے، تو خود اندازے لگانے کے بجائے لازمی طور پر چائلڈ نیورولوجسٹ سے مشورہ کریں۔ بروقت تشخیص سے علاج آسان اور مؤثر ہو جاتا ہے۔

Dr Waqas Shafique Saleemi.
Consultant Child Specialist and Neonatologist.
Saleemi Children Hospital And Diagnostic Centre Phalia. 0546 566346

اگر آپ کا بچہ، خصوصاً ایک سال سے کم عمر کا، بہت زیادہ اور مسلسل رو رہا ہو تو براہِ کرم اُسے چپ کروانے کے لیے اُس کے سر ی...
11/04/2026

اگر آپ کا بچہ، خصوصاً ایک سال سے کم عمر کا، بہت زیادہ اور مسلسل رو رہا ہو تو براہِ کرم اُسے چپ کروانے کے لیے اُس کے سر یا جسم کو زور سے ہلانے یا جھٹکے دینے سے ہرگز گریز کریں۔
نوزائیدہ اور کم عمر بچوں میں رونا ایک عام بات ہے، خاص طور پر تین ماہ سے کم عمر بچوں میں۔ اس عمر میں اکثر بچوں کو پیٹ میں گیس یا کولک کی شکایت ہوتی ہے، جس کے باعث وہ دن میں تین گھنٹے تک اور ہفتے میں کئی دن مسلسل رو سکتے ہیں۔ اس دوران بچہ مشکل سے ہی چپ ہوتا ہے، جو والدین کے لیے ذہنی اور جسمانی طور پر بہت تھکا دینے والا ہو سکتا ہے۔
مسلسل رونے کی وجہ سے والدین، خاص طور پر مائیں، شدید دباؤ اور بے بسی محسوس کر سکتی ہیں۔ عام حالات میں بچے کو آہستگی اور نرمی سے جھلانا بعض اوقات سکون دیتا ہے، لیکن تھکن، غصے یا گھبراہٹ میں آ کر اگر بچے کو زور سے ہلا دیا جائے تو یہ انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
نوزائیدہ بچوں کی گردن ابھی مکمل طور پر مضبوط نہیں ہوتی اور اُن کے جسم کے مقابلے میں سر نسبتاً بھاری ہوتا ہے۔ جب بچے کو زور سے ہلایا جاتا ہے تو دماغ کے اندر موجود نازک خون کی نالیاں پھٹ سکتی ہیں۔ اس سے ایک نہایت سنگین کیفیت پیدا ہو سکتی ہے جسے شیکن بے بی سنڈروم کہا جاتا ہے۔
یہ دماغی چوٹ بچے میں مستقل مسائل کا باعث بن سکتی ہے، جیسے ذہنی معذوری، دماغی فالج، دورے پڑنا، نظر کا کمزور یا ختم ہو جانا، اور بعض اوقات خدانخواستہ موت بھی ہو سکتی ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس کے اثرات اکثر عمر بھر کے لیے ہوتے ہیں اور بچے کی پوری زندگی بدل جاتی ہے۔
اس لیے والدین سے مخلصانہ گزارش ہے کہ اگر بچہ مسلسل رو رہا ہو تو سب سے پہلے اُس کی بنیادی ضروریات کو چیک کریں:
بھوک، نیند، گیلا ڈائپر، کپڑوں کی تکلیف، یا کسی جسمانی درد کا امکان۔
اگر پھر بھی بچہ نہ چپ ہو تو اُسے کسی محفوظ جگہ پر لٹا دیں اور خود چند منٹ کے لیے پرسکون ہو جائیں۔ کسی قریبی فرد سے مدد لینا کمزوری نہیں بلکہ سمجھ داری ہے۔
یاد رکھیں، والدین کا صبر، سکون اور برداشت ہی بچے کی سب سے بڑی حفاظت ہے۔
مزید مستند طبی رہنمائی اور بچوں کی اعصابی صحت سے متعلق آگاہی کے لیے ہماری پوسٹس دیکھتے رہیے۔

Dr Waqas Shafique Saleemi.
Consultant Child Specialist and Neonatologist.
Saleemi Children Hospital And Diagnostic Centre Phalia. 0546566346

Address

Phalia
50430

Telephone

+923416640098

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Saleemi Children Hospital & Diagnostic Centre posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Saleemi Children Hospital & Diagnostic Centre:

Share