17/08/2026
کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی باگ ڈور کس کے ہاتھوں میں ہوگی؟ اس کا حتمی فیصلہ تو ایک دو روز میں سامنے آ ہی جائے گا، لیکن وزیرِ اعلیٰ کو بھیجی گئی فہرست میں شامل قد آور شخصیات کو دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ مسندِ صدارت پر وہی فائز ہوگا جس کا کام خود اس کا تعارف ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق، سرچ کمیٹی کے انٹرویوز کے بعد محکمۂ صحت (سپیشلائزڈ ہیلتھ) نے وزیرِ اعلیٰ کو جو تین رکنی پینل ارسال کیا ہے، اس میں شامل تمام نام طب اور انتظامی امور کا درخشندہ ستارہ ہیں:
پروفیسر محمود ایاز: سابق وائس چانسلر، معروف لیپروسکوپک روبوٹک سرجن اور دھیمے مزاج کی حامل شخصیت، جنہوں نے اپنے گزشتہ چار سالہ دورِ حکومت میں بہترین ٹیم ورک کے ذریعے یونیورسٹی کا نام روشن کیا۔
پروفیسر اصغر نقی: علامہ اقبال میڈیکل کالج کے سابق پرنسپل، کنگ ایڈورڈ کے سابق رجسٹرار اور نامور میڈیکل ایجوکیشنسٹ؛ جو نہ صرف لیپروسکوپک و روبوٹک سرجری میں منفرد مقام رکھتے ہیں بلکہ اپنی ایمانداری، قابلیت اور عاجزانہ (Down-to-earth) طبیعت کے باعث بھی جانے جاتے ہیں۔ وہ شریف آدمی ہیں اور ان کے پاس کوئی سفارش نہیں سوائے خدا کے اور اس حکومت میں وہی ہوگا جس کی دنیاوی تگڑی سفارش ہوگی
اس ملک میں سفارش کے بغیر کچھ نہیں ہوتا کیونکہ یہ حکومت خود سفارش پر چل رہی ہے۔،
زاغوں کے تصرّف میں عقابوں کے نشیمن
آسیب زدہ گنبدِ گردوں کا کہن ہے!
پروفیسر طیبہ وسیم: ملک کی نامور گائنالوجسٹ اور علامہ اقبال میڈیکل کالج کی موجودہ پرنسپل، جو طبی و انتظامی میدان میں اپنی الگ پہچان رکھتی ہیں۔
ان تینوں ممتاز شخصیات میں سے کسی ایک کا انتخاب اب وزیرِ اعلیٰ کے حتمی قلم کا منتظر ہے۔