21/08/2026
پردیس میں رہنے والا انسان اکثر ایک غلط فہمی کا شکار رہتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ بس چند سال اور محنت کرلوں، کچھ پیسے مزید جمع کرلوں، پھر واپس جاؤں گا۔ مگر یہ ’’چند سال‘‘ کبھی ختم نہیں ہوتے۔ سال مہینوں میں اور مہینے دنوں میں بدلتے رہتے ہیں، اور دیکھتے ہی دیکھتے انسان کی جوانی پردیس کی گلیوں میں گزر جاتی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ آپ نے پردیس میں کتنے پیسے کمائے، اصل سوال یہ ہے کہ آپ نے ان پیسوں سے اپنے مستقبل کے لیے کیا بنایا؟
اگر آپ نے پردیس میں رہ کر صرف گھر کے اخراجات چلائے، گاڑی بدلی، موبائل خریدے، شادیوں پر خرچ کیا اور ہر سال زندگی کا معیار تھوڑا سا بلند کرتے رہے، تو ممکن ہے کہ آپ نے اچھی زندگی گزاری ہو، لیکن آپ نے آنے والی نسل کے لیے کوئی راستہ نہیں بنایا۔
پردیس کی سب سے بڑی کمائی صرف تنخواہ نہیں ہوتی، پردیس میں رہ کر مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا اصل کمائی ہے۔
آپ پاکستان میں ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کر سکتے تھے۔ کوئی دکان، ورکشاپ، کرائے کی پراپرٹی، زرعی زمین، تعمیراتی کام یا ایسا کاروبار جسے آپ آہستہ آہستہ بڑا کر سکتے۔ شروع میں منافع کم ہوتا، شاید نقصان بھی ہوتا، مگر آپ اپنے بچوں کے لیے ایک بنیاد ضرور بنا رہے ہوتے۔
کیونکہ ایک وقت آتا ہے جب آپ کے بچے بڑے ہو جاتے ہیں۔
وہ آپ سے پوچھتے ہیں:
’’ابا! ہمارے لیے آپ نے کیا چھوڑا؟‘‘
اگر جواب میں صرف یہ ہو کہ ’’بیٹا! میں نے تمہیں پڑھایا ہے، تمہیں اچھا گھر دیا ہے اور تمہیں بیرونِ ملک بھیجنے کے لیے پیسے جمع کیے ہیں‘‘ تو شاید بچے دل سے خوش نہ ہوں۔
کیونکہ اگر آپ نے ان کے لیے وطن میں کوئی معاشی بنیاد نہیں بنائی تو کل انہیں بھی وہی کرنا پڑے گا جو آپ نے کیا تھا۔
انہیں بھی اپنا گھر چھوڑنا پڑے گا۔
انہیں بھی ایئرپورٹ پر ماں باپ سے گلے مل کر رخصت ہونا پڑے گا۔
انہیں بھی کسی اجنبی ملک میں اپنے وقت، جوانی اور صلاحیت کے بدلے تنخواہ لینی پڑے گی۔
اور سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ پردیس اب وہ پردیس نہیں رہا جو ہمارے والدین کے زمانے میں تھا۔
دنیا بدل چکی ہے۔ ہر ملک اپنی مقامی افرادی قوت کو ترجیح دے رہا ہے۔ اخراجات بڑھ گئے ہیں، مقابلہ بڑھ گیا ہے، ملازمتوں کی نوعیت بدل رہی ہے اور عام مزدور کے لیے وہ آسانیاں نہیں رہیں جو کبھی ہوا کرتی تھیں۔
اس لیے آج پردیس جانے کا منصوبہ بنانے سے زیادہ ضروری ہے کہ پردیس سے واپسی کا منصوبہ بنایا جائے۔
میں یہ نہیں کہتا کہ ہر شخص فوراً پاکستان واپس آجائے۔ نہیں۔
میری بات صرف اتنی ہے کہ اگر آپ دس، پندرہ یا بیس سال سے پردیس میں ہیں تو ایک دن بیٹھ کر حساب ضرور کریں۔
میں نے کتنا کمایا؟
کتنا خرچ کیا؟
کتنا بچایا؟
اور جو بچایا، اس سے اپنے وطن میں کیا ..
آج سے سیونگ اور انوسٹمنٹ پر کام شروع کرلو ۔۔۔
#زرداب