Farrakh Dawakhana

Farrakh Dawakhana Farrakh Dawakhana 03121546373

27/05/2026
27/05/2026

اسلامیانِ عالَم کو عیدالاضحیٰ کی خوشیاں مبارک ہوں۔ سنّتِ ابراہیمی صرف مذہبی تہوار نہیں بلکہ انسانی معاشرے میں محبّت و اخوّت اور فلاح و بہبود کا درس ہے۔ قربانی انسان کے اندر ایثار کا وہ جذبہ پیدا کرتی ہے جو اُسے اپنی ذات سے نکل کر دوسروں کے دکھ درد کا احساس عطا کرتا ہے کیونکہ خوشی مکمّل ہی تب ہوتی ہے جب اُس میں محروم اور نادار بھی شریک ہوں۔ قربانی ایک ایسا عمل ہے جس سے ایک صالح، پرامن اور فلاحی معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔

28/04/2026

کراچی کی کچرا کنڈی اور 9 سالہ شاہد

لیاری، کراچی۔ 9 سالہ شاہد۔ قد اتنا چھوٹا کہ کچرے کے ڈرم میں جھانکنے کے لیے بھی اینٹ پر کھڑا ہونا پڑتا تھا۔ باپ نشے کی حالت میں فوت ہو چکا تھا، ماں لوگوں کے گھروں میں برتن مانجھتی تھی۔
گھر میں صرف ایک ہی خواب تھا: 17 سالہ بڑی بہن سدرہ ڈاکٹر بنے۔ سدرہ نے بارہویں جماعت میں پوزیشن حاصل کی تھی۔ دماغ کمپیوٹر جیسا، مگر فیس کے پیسے نہیں تھے۔
صبح 5 بجے شاہد بوری اٹھا کر نکلتا۔ کچرا کنڈیاں، گلیاں، دکانیں۔ پلاسٹک، لوہا، کاغذ (ردی) چنتا۔ شام کو کباڑی کو بیچ کر 80 سے 100 روپے ملتے تھے۔

سدرہ کا میڈیکل میں داخلہ ہو گیا۔ سالانہ فیس 2 لاکھ روپے تھی ماں رو پڑی: "بیٹی، مجھے معاف کر دینا، ہم غریب ہیں۔"
شاہد نے ماں کی گود میں سر رکھا: "امی، آپ نہ روئیں۔ باجی ڈاکٹر بنے گی، میں ہوں نا!"
اگلے دن سے شاہد نے دو شفٹیں لگا دیں۔ صبح 4 سے 8 بجے تک کچرا، پھر اسکول۔ پھر شام 4 سے رات 10 بجے تک کچرا چننا۔ رات کو اسٹریٹ لائٹ کے نیچے بیٹھ کر خود بھی پڑھتا تھا۔
سدرہ روتی تھی: "بھائی، تم پڑھو، میں کام کر لوں گی۔"
شاہد ہنستے ہوئے کہتا: "باجی، دو دماغ خراب کرنے سے بہتر ہے کہ ایک ڈاکٹر پکا بن جائے۔ آپ بس پڑھیں۔"

سردیوں کی رات تھی۔ شاہد کو 104 بخار تھا، مگر وہ بوری اٹھا کر نکل پڑا۔ کباڑی نے کہا: "مر جاؤ گے پاگل!"
شاہد نے جواب دیا: "چاچا، جب میری باجی کے ہاتھ میں اسٹیٹھوسکوپ ہوگا، تب ہی میرا بخار اترے گا۔"
محلے والے طعنے دیتے تھے: "کچرا چننے والا، بہن کو ڈاکٹر بنائے گا؟ خواب دیکھنا چھوڑ دو!"
شاہد کوئی جواب نہ دیتا۔ بس ہر شام سدرہ کی فیس کے پیسے گنتا اور شکر ادا کرتا۔

8 سال گزر گئے۔ شاہد اب 17 سال کا ہو چکا تھا۔ خود میٹرک میں پوزیشن لی، مگر کالج نہ گیا۔ "باجی کا فائنل ایئر ہے۔"
نتیجہ آیا۔ سدرہ نے MBBS میں ٹاپ کیا۔ پورے کراچی میں نام ہو گیا۔ اخبار میں تصویر آئی: "کچرا چننے والے کی بہن ڈاکٹر بن گئی"۔
سول اسپتال میں پہلی نوکری ملی۔ پہلی تنخواہ 85 ہزار روپے۔ سدرہ نے وہ لفافہ شاہد کے ہاتھ پر رکھا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
"یہ تمہاری کچرے کی کمائی ہے، بھائی! میرے ہاتھ میں جو اسٹیٹھوسکوپ ہے، اس کی ڈوری تمہاری بوری سے بندھی ہوئی ہے۔"

آج ڈاکٹر سدرہ لیاری میں "شاہد کلینک" چلا رہی ہے، جہاں غریبوں کا مفت علاج ہوتا ہے۔
اور شاہد؟ اس نے کچرا چننا نہیں چھوڑا، مگر اب اس کی اپنی کباڑ کی دکان ہے۔ 20 بچے اس کے پاس کام کرتے ہیں، مگر ایک شرط ہے:
"دن میں 2 گھنٹے میری دکان پر پڑھو گے، فیس میں بھر دوں گا۔"

دیوار پر ایک فریم لگا ہے۔ ایک طرف سدرہ کی ڈگری، دوسری طرف شاہد کی پھٹی ہوئی بوری۔
نیچے لکھا ہے:
"کچرے سے کامیابی تک کا سفر۔ محبت ہو تو منزل مل ہی جاتی ہے۔"

شاہد کہتا ہے:
"لوگ کہتے ہیں میں نے بہن کو ڈاکٹر بنایا، مگر سچ یہ ہے کہ باجی کے خواب نے مجھے انسان بنا دیا۔"

19/04/2026

🌷 *انصاف والی گفتگو کیسے ہوگی؟*
اس بات کو جاننے کی بے حد ضرورت ہے کہ ہم اپنی گفتگو میں انصاف کیسے کرسکتے ہیں، کیونکہ شیطان اس راستے سے آتا ہے، جہاں گفتگو میں انصاف نہ ہو۔
1- سب سے پہلے اللہ کا نام لیں۔
2- معاملے کی حقیقت کو جانے بغیر صرف ہاں میں ہاں مت ملائیں۔
3- گفتگو Logical / Facts based ہو، جذباتی نہ ہو۔
4- بے بنیاد کسی کا ساتھ مت دیں۔
5- اپنے اندر تقویٰ پیدا کریں اور حکمت سے حق کا ساتھ دیں۔
6- ہر کسی سے ایک جیسا رویہ رکھیں۔
7- حکم مت دیں، بات کو سمجھانے کی کوشش کریں۔
8- حق بات ادب سے کہیں، طعنہ زنی سے گریز کریں۔
9- فیصلہ اصول کی بنا پر ہو، تعلقات کی بنا پر نہیں۔

🌸 *رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:* ’’عدل کرنے والے اللہ کے ہاں رحمٰن عزوجل کی دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے اور اس کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں، یہ وہی لوگ ہوں گے جو اپنے فیصلوں، اپنے اہل و عیال اور جن کے یہ ذمہ دار ہیں ان کے معاملے میں عدل کرتے ہیں۔‘‘

18/04/2026

مان، اعتبار اور یقین ٹوٹ جائے تو دل بھی بدل جاتا ہے

زندگی واقعی بہت چھوٹی ہے، اس لیے کوشش کریں کہ ہمارے لفظ، رویے اور فیصلے کسی کے دل پر ایسا زخم نہ چھوڑیں جو عمر بھر محسوس ہوتا رہے۔ مان، اعتماد، اعتبار اور یقین بہت قیمتی ہوتے ہیں، یہ ایک بار ٹوٹ جائیں تو دوبارہ جڑ تو سکتے ہیں مگر پہلے جیسے نہیں رہتے۔ وقت گزر جاتا ہے، لمحے بیت جاتے ہیں، مگر دی ہوئی تلخیاں اور دکھ دل پر اپنے نشان چھوڑ جاتے ہیں۔ اس لیے ہمیشہ ایسا رویہ اپنائیں جو لوگوں کے دل میں عزت، سکون اور محبت چھوڑ جائے۔
دعا ہے اے اللہ حضرت محمد صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم کے صدقے ہمیں دین اسلام کی تعلیمات کی سمجھ عطا فرما اور ہمیں اخلاق سنوارنے کی توفیق دے ۔

17/04/2026

بہت سی بیماریاں دراصل بیماریاں نہیں بلکہ بڑھاپے کی قدرتی علامتیں ہیں۔
بیجنگ کے ایک اسپتال کے ڈائریکٹر نے بزرگوں کے لیے پانچ قیمتی مشورے دیے ہیں:

> "آپ بیمار نہیں ہیں، آپ صرف بوڑھے ہو رہے ہیں۔"
بہت سی چیزیں جنہیں آپ بیماری سمجھتے ہیں، دراصل جسم کے بڑھاپے کی علامتیں ہیں۔

1. یادداشت کی کمزوری
یہ الزائمر نہیں بلکہ دماغ کا خود حفاظتی نظام ہے۔
خود کو خوفزدہ نہ کریں۔ یہ دماغ کے بڑھنے کی علامت ہے، بیماری نہیں۔
اگر آپ صرف چابی یا چیزیں کہاں رکھی ہیں بھول جاتے ہیں مگر بعد میں ڈھونڈ لیتے ہیں، تو یہ ڈیمنشیا نہیں۔
2. چلنے میں سستی یا لڑکھڑاہٹ
یہ فالج نہیں بلکہ پٹھوں کی کمزوری (Degeneration) ہے۔
علاج دوائی نہیں بلکہ حرکت ہے۔ جتنا ہو سکے چلیئے، متحرک رہیئے۔
3. نیند نہ آنا (انسومنیا)
یہ بیماری نہیں بلکہ دماغ کا اپنی رفتار بدلنا ہے۔
عمر کے ساتھ نیند کے اوقات بدل جاتے ہیں۔
نیند کی گولیاں بار بار استعمال کرنا خطرناک ہے، اس سے گریزکیجیئے، اس سے یادداشت کمزور ہونے اور دماغی نقصان کا خطرہ بڑھتا ہے۔
بزرگوں کے لیے بہترین نیند کی دوا سورج کی روشنی ہے — دن میں دھوپ لیں اور مقررہ وقت پر سونے جاگنے کی عادت بنائیں۔
4. جسم میں درد
یہ گٹھیا یا روماتزم نہیں بلکہ اعصاب کے بڑھاپے کی علامت ہے۔
یہ جسم کا نارمل ردِ عمل ہے۔
5. بازو، ٹانگوں یا جوڑوں کا درد
اکثر بزرگ کہتے ہیں کہ پورا جسم دکھتا ہے — یہ عموماً ہڈیوں کی کمزوری نہیں بلکہ اعصاب کی رفتار سست ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
دماغ درد کے سگنلز زیادہ محسوس کرتا ہے — اسے Central Sensitization کہا جاتا ہے۔
اس کا علاج درد کی گولیاں نہیں بلکہ ورزش، گرم پانی سے پاؤں دھونا، گرم کپڑا پہننا اور ہلکی مالش ہے۔
یہ علاج دوا سے زیادہ مؤثر ہے۔
6. میڈیکل رپورٹس کی بے ترتیبی

اکثر جسمانی معائنے کی رپورٹس بیماری نہیں بلکہ پرانے معیاروں پر بنے ہوئے نتائج دکھاتی ہیں۔
7. ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق
بزرگوں کے لیے طبی معیار نرم ہونے چاہئیں۔
مثلاً تھوڑا سا زیادہ کولیسٹرول نقصان دہ نہیں، بلکہ لمبی عمر کی علامت ہے —
کیونکہ کولیسٹرول ہارمونز اور سیلز کے لیے ضروری جزو ہے۔
بلڈ پریشر بھی بزرگوں کے لیے 150/90 mmHg سے کم ہونا کافی ہے، 140/90 نہیں۔
لہٰذا بڑھاپے کو بیماری نہ سمجھیں اور جسمانی تبدیلی کو نقصان نہ جانیں۔
8. بڑھاپا بیماری نہیں بلکہ زندگی کا قدرتی سفر ہے۔
بزرگوں اور ان کے بچوں کے لیے چند نصیحتیں:
1. یاد رکھیں: ہر تکلیف بیماری نہیں ہوتی۔
2. بزرگوں کو خوفزدہ نہ کریں۔ رپورٹس یا اشتہارات سے ڈرائیں نہیں۔

3. اولاد کا سب سے بڑا فرض صرف والدین کو اسپتال لے جانا نہیں،
بلکہ ان کے ساتھ چلنا، بات کرنا، دھوپ میں بیٹھنا، کھانا کھانا اور وقت گزارنا ہے۔
> بڑھاپا دشمن نہیں، بلکہ "زندگی" کا دوسرا نام ہے۔
رک جانا ہی اصل دشمن ہے۔
🌿 صحت مند رہیں – خوش رہیں 🌿

یہ پیغام ہر بزرگ اور ان کے بچوں کے سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔
ایک برازیلین آنکالوجسٹ (کینسر کے ماہر) کی چند خوبصورت باتیں:

1. بڑھاپا 60 سال سے شروع ہو کر 80 سال تک رہتا ہے۔
2. "چوتھا دور" یعنی زیادہ بڑھاپا 80 سے 90 سال تک ہوتا ہے۔
3. "طویل العمری" 90 کے بعد شروع ہو کر موت پر ختم ہوتی ہے۔
4. بزرگوں کا سب سے بڑا مسئلہ تنہائی ہے۔
اکثر شوہر یا بیوی میں سے کوئی ایک پہلے چلا جاتا ہے۔
بیوہ یا اکیلا شخص اپنے خاندان کے لیے بوجھ محسوس ہوتا ہے۔
اس لیے دوستوں سے رابطہ قائم رکھنا، ملنا جلنا، بات چیت کرنا ضروری ہے۔
چند سنہری اصول:
اپنی زندگی پر خود اختیار رکھیں —
کب، کہاں، کس سے ملنا ہے، کیا کھانا ہے، کیا پہننا ہے، کہاں رہنا ہے —
یہ فیصلے خود کریں، ورنہ دوسروں پر بوجھ بن جائیں گے۔

ولیم شیکسپیئر نے کہا:

> "میں ہمیشہ خوش رہتا ہوں!"
کیوں؟ کیونکہ میں کسی سے امید نہیں رکھتا۔
انتظار ہمیشہ اذیت دیتا ہے۔
مسائل کبھی ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتے، ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے —
سوائے موت کے۔
زندگی کے چھ اصول:

1. ردِ عمل دینے سے پہلے — گہری سانس لیں۔
2. بولنے سے پہلے — سنیں۔
3. تنقید سے پہلے — خود کو دیکھیں۔
4. لکھنے سے پہلے — سوچیں۔
5. حملہ کرنے سے پہلے — خود کو روکیں۔
6. مرنے سے پہلے — زندگی کو خوبصورت بنائیں۔
یاد رکھیں:
بہترین تعلق کامل انسان سے نہیں، بلکہ اُس شخص سے ہوتا ہے جو زندگی کو خوبصورت طریقے سے جینا سیکھ رہا ہے۔
دوسروں کی کمزوریاں دیکھیں مگر ان کی خوبیوں کی بھی تعریف کریں۔

اگر آپ خوش رہنا چاہتے ہیں، تو کسی اور کو خوش کریں۔
اگر کچھ پانا چاہتے ہیں، تو پہلے خود کچھ دیں۔
اچھے، مخلص اور دلچسپ لوگوں کے ساتھ رہیں — اور خود بھی ویسے بنیں۔
مشکل وقت میں، آنکھوں میں آنسو ہونے کے باوجود مسکرا کر کہیے:
> "سب ٹھیک ہے، کیونکہ ہم ارتقائی سفر کے خوبصورت پھل ہیں!"
🌸 اگر آپ اس پیغام کو کسی سے شیئر نہیں کرتے تو شاید آپ اکیلے ہیں۔
🌺 اسے ان لوگوں کو بھیجیں جنہیں آپ عزیز رکھتے ہیں — تاکہ وہ بھی مسکرا سکیں۔🥰❤️

11/04/2026
01/04/2026

السلامُ علیکُم،
لوگوں کی غلطیوں کوتاہیوں سے غافل ہو جاو. جس طرح تم سوتے وقت دنیا سے غافل ہو جاتے ہو۔ یہ زندگی آزمائشوں کا سمندر ہے، کسی سے لےکر آزمایا جاتا ہے تو کسی کو بے تحاشہ دے کر آزمایا جاتا ہے، بس کہیں صبر تو کہیں شکر کی آزمائش ہے اپنی غلطی مان کے کسی سے معافی مانگ لینا بھی ایک بہت خوبصورت خوبی ہے.
اس سے بندے میں عاجزی پیدا ہوتی ہے. جو کہ اللّه پاک کو بہت پسند ہےاور ہمارے نفس سے غرور ختم ہو جاتا ہے. معاف کرنے اور معافی مانگنےکی عادت ڈال لیں ہمیشہ خوش رہیں گے۔ *ان شاءاللّه*
اللہ پاک ہم سب کی غلطیوں کوتاہیوں کو معاف فرمائے اور آسانیاں عطا فرمائے۔
آمین۔

https://www.facebook.com/share/p/14Y4SRhZi4Z/
26/03/2026

https://www.facebook.com/share/p/14Y4SRhZi4Z/

فالو کرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ ایسا کرنے کا کیا فائدا
اگر آپ اچھائی فالو کر رہے ہیں تو سمجھیں اچھائی میں حصہ ڈال رہے ہیں اور اگر برائی فالو کر رہے ہیں تو سمجھیں برائی میں حصہ ڈال رہے ہیں
عمل کا ردعمل ضرور ہوتا ہے
یا اللہ ہمیں دین اسلام کی سمجھ عطا فرما آمین یارب العالمین

25/03/2026

حب مدار :-
آج کا نسخہ انتہائی آسان اور تیز بہدف ہے
پھول مدارتازہ انکھلے یعنی جنکا منہ بند ہو 6 تولہ
اجوائن دیسی 3 تولہ
نمک سیاہ 3 تولہ
اجوائن اور نمک کوالگ الگ کھرل کریں
آک کے پھول میں تھوڑا تھوڑا ملا کر کھرل کرتے جائیں اور سایہ میں خشک کرکے محفوظ کرلیں
1 ماشہ تک ہمراہ گرم پانی سے دیں بعد از غذا
بلغمی کھانسی۔بلغمی دمہ۔محلل ریاح۔قبض کشا۔پیٹ درد اور باو گولہ کےلیے مجرب ہے

Address

Farrakh Dawakhana Bank Colony Dhamail Rawalpindi
Rawalpindi
47000

Telephone

+92 312 1546373

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Farrakh Dawakhana posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share