26/11/2025
کولیسٹرول کو اکثر مجرم سمجھا جاتا ہے۔ لیکن کولیسٹرول ہمارے جسم میں کچھ انتہائی ضروری کام بھی کرتا ہے۔
جیسا کہ ہمارے خلیوں کی باریک جھلیوں کو درست حالت میں رکھتا ہے، نیز ہمارے جنسی اور کچھ اور ہارمونز بھی کولیسٹرول سے بنتے ہیں۔
اسی لیے ہمارا جگر کولیسٹرول بناتا ہے۔ اور اس کولیسٹرول کو خود بھی استعمال کرتا ہے اور جسم کے باقی خلیوں کی کولیسٹرول کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اس کولیسٹرول کو خون میں بھی بھیجتا ہے۔ خون کے ذریعے یہ کولیسٹرول (ایل ڈی ایل کی شکل میں) جسم میں گھومتا ہے اور جسم کے خلیے اپنی ضرورت کے مطابق اس کولیسٹرول سے اپنا اپنا حصہ لے لیتے ہیں۔
اسکے بعد بچا ہوا کولیسٹرول خون کے ذریعے جگر میں واپس پہنچ جاتا ہے، اور جگر اسے مستقبل کے استعمال کے لیے محفوظ کر لیتا ہے۔
لیکن جیسا کہ ہر چیز کی زیارتی بری ہوتی ہے اسی طرح اس کولیسٹرول کی زیادتی سے بھی جسم میں طرح طرح کے مسائل آتے ہیں۔ خاص کر خون کی نالیوں کے مسائل۔
مگر کولیسٹرول کی زیادتی ہوتی ہی کیوں ہے ؟ بنیادی طور پر اس کی دو وجوہات ہوتی ہیں۔ پہلی وجہ؛ جب ہم خوراک میں ضرورت سے زیادہ کولیسٹرول، چکنائی یا شوگرز لیتے ہیں تو جگر کو مجبوراً کولیسٹرول کی پیداوار بڑھانی پڑتی ہے۔
دوسری وجہ؛ جب کولیسٹرول کو واپس جگر میں محفوظ کرنے والا نظام درست نہ ہو جس سے کولیسٹرول کا لیول خون میں بڑھا رہے۔
تو ایسے میں ہمارا یہ عام سا "اسپغول کا چھلکا" کیسے کام آتا ہے ؟
اس سے پہلے یہ بتائیں کہ آپکو "صفرا" یعنی "بائل" کا پتہ ہے ؟ اس کے بارے میں آپ یہ تحریر دیکھ سکتے ہیں۔
https://www.facebook.com/share/p/1Cr6o6MGGv/
ابھی کے لیے یہ جان لیں کہ صفرا یعنی بائل ہمارے نظام انہضام میں کام کرنے والا ایک کیمکل ہے، جو کہ ہماری خوراک میں موجود چکنائی کو ہضم کرنے کے کام آتا ہے۔
یہ بائل ہمارے جگر میں بنتی ہے، اور اسے بنانے کے لیے جگر کولیسٹرول کو استعمال کرتا ہے۔ یعنی کولیسٹرول کا ایک حصہ بائل بنانے میں خرچ ہوتا ہے۔
لیکن جب بائل نظام انہضام میں اپنا کام کرلیتی ہے تو اس بائل کا بڑا حصہ واپس جگر میں چلا جاتا ہے تاکہ اسے اگلی بار پھر استعمال کیا جاسکے۔ یعنی بائل اور اسے بنانے میں استعمال ہونے والے کولیسٹرول کی بچت ہو رہی ہے۔
مگر جب ہم اسپغول کا چھلکا استعمال کرتے ہیں تو یہ نظام انہضام میں جاکر اس بائل کو کافی حد تک اپنے ساتھ جوڑ لیتا ہے اور واپس جگر کے پاس نہیں جانے دیتا۔
مجبوراً جگر کو نئی بائل بنانی پڑتی ہے، جس میں کولیسٹرول خرچ ہوتا ہے۔ اس طرح جگر کے کولیسٹرول میں کمی آتی ہے اور وہ خون میں کولیسٹرول کو بھیجنا کم کر دیتا ہے اور خون سے جگر میں کولیسٹرول کا آنا بھی بڑھ جاتا ہے۔
گویا کہ اس طرح بڑھے ہوئے کولیسٹرول کی صورت میں مدد ملتی ہے۔
باقی اسپغول کے چھلکے کی قبض کشا خصوصیات اس کے نظام انہضام میں پانی کو اپنے پاس جمع کئے رکھنے کی وجہ سے ہوتا ہے، اور خود یہ چھلکا ہضم نہیں ہوتا بلکہ پاخانے کے ساتھ نکلتا ہے اور اپنے ساتھ جمع کیا ہوا پانی بھی پاخانے میں شامل کرتا ہے جس سے پاخانہ نرم اور زیادہ متحرک ہوجاتا ہے اور قبض کے خلاف مدد ملتی ہے۔
خیر یہ قبض کشا طریقے کی بات ہم پہلے بھی کچھ ادویات کی تحریروں میں کر چکے ہیں۔۔۔