جسم اور دوا

جسم اور دوا میڈکل اور ادویات کی سائنس کے حوالے سے مستند معلومات۔ علاج کے لیے ذاتی طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
(1)

کولیسٹرول کو اکثر مجرم سمجھا جاتا ہے۔ لیکن کولیسٹرول ہمارے جسم میں کچھ انتہائی ضروری کام بھی کرتا ہے۔جیسا کہ ہمارے خلیوں...
26/11/2025

کولیسٹرول کو اکثر مجرم سمجھا جاتا ہے۔ لیکن کولیسٹرول ہمارے جسم میں کچھ انتہائی ضروری کام بھی کرتا ہے۔

جیسا کہ ہمارے خلیوں کی باریک جھلیوں کو درست حالت میں رکھتا ہے، نیز ہمارے جنسی اور کچھ اور ہارمونز بھی کولیسٹرول سے بنتے ہیں۔

اسی لیے ہمارا جگر کولیسٹرول بناتا ہے۔ اور اس کولیسٹرول کو خود بھی استعمال کرتا ہے اور جسم کے باقی خلیوں کی کولیسٹرول کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اس کولیسٹرول کو خون میں بھی بھیجتا ہے۔ خون کے ذریعے یہ کولیسٹرول (ایل ڈی ایل کی شکل میں) جسم میں گھومتا ہے اور جسم کے خلیے اپنی ضرورت کے مطابق اس کولیسٹرول سے اپنا اپنا حصہ لے لیتے ہیں۔

اسکے بعد بچا ہوا کولیسٹرول خون کے ذریعے جگر میں واپس پہنچ جاتا ہے، اور جگر اسے مستقبل کے استعمال کے لیے محفوظ کر لیتا ہے۔

لیکن جیسا کہ ہر چیز کی زیارتی بری ہوتی ہے اسی طرح اس کولیسٹرول کی زیادتی سے بھی جسم میں طرح طرح کے مسائل آتے ہیں۔ خاص کر خون کی نالیوں کے مسائل۔

مگر کولیسٹرول کی زیادتی ہوتی ہی کیوں ہے ؟ بنیادی طور پر اس کی دو وجوہات ہوتی ہیں۔ پہلی وجہ؛ جب ہم خوراک میں ضرورت سے زیادہ کولیسٹرول، چکنائی یا شوگرز لیتے ہیں تو جگر کو مجبوراً کولیسٹرول کی پیداوار بڑھانی پڑتی ہے۔

دوسری وجہ؛ جب کولیسٹرول کو واپس جگر میں محفوظ کرنے والا نظام درست نہ ہو جس سے کولیسٹرول کا لیول خون میں بڑھا رہے۔

تو ایسے میں ہمارا یہ عام سا "اسپغول کا چھلکا" کیسے کام آتا ہے ؟

اس سے پہلے یہ بتائیں کہ آپکو "صفرا" یعنی "بائل" کا پتہ ہے ؟ اس کے بارے میں آپ یہ تحریر دیکھ سکتے ہیں۔
https://www.facebook.com/share/p/1Cr6o6MGGv/

ابھی کے لیے یہ جان لیں کہ صفرا یعنی بائل ہمارے نظام انہضام میں کام کرنے والا ایک کیمکل ہے، جو کہ ہماری خوراک میں موجود چکنائی کو ہضم کرنے کے کام آتا ہے۔

یہ بائل ہمارے جگر میں بنتی ہے، اور اسے بنانے کے لیے جگر کولیسٹرول کو استعمال کرتا ہے۔ یعنی کولیسٹرول کا ایک حصہ بائل بنانے میں خرچ ہوتا ہے۔

لیکن جب بائل نظام انہضام میں اپنا کام کرلیتی ہے تو اس بائل کا بڑا حصہ واپس جگر میں چلا جاتا ہے تاکہ اسے اگلی بار پھر استعمال کیا جاسکے۔ یعنی بائل اور اسے بنانے میں استعمال ہونے والے کولیسٹرول کی بچت ہو رہی ہے۔

مگر جب ہم اسپغول کا چھلکا استعمال کرتے ہیں تو یہ نظام انہضام میں جاکر اس بائل کو کافی حد تک اپنے ساتھ جوڑ لیتا ہے اور واپس جگر کے پاس نہیں جانے دیتا۔

مجبوراً جگر کو نئی بائل بنانی پڑتی ہے، جس میں کولیسٹرول خرچ ہوتا ہے۔ اس طرح جگر کے کولیسٹرول میں کمی آتی ہے اور وہ خون میں کولیسٹرول کو بھیجنا کم کر دیتا ہے اور خون سے جگر میں کولیسٹرول کا آنا بھی بڑھ جاتا ہے۔

گویا کہ اس طرح بڑھے ہوئے کولیسٹرول کی صورت میں مدد ملتی ہے۔

باقی اسپغول کے چھلکے کی قبض کشا خصوصیات اس کے نظام انہضام میں پانی کو اپنے پاس جمع کئے رکھنے کی وجہ سے ہوتا ہے، اور خود یہ چھلکا ہضم نہیں ہوتا بلکہ پاخانے کے ساتھ نکلتا ہے اور اپنے ساتھ جمع کیا ہوا پانی بھی پاخانے میں شامل کرتا ہے جس سے پاخانہ نرم اور زیادہ متحرک ہوجاتا ہے اور قبض کے خلاف مدد ملتی ہے۔

خیر یہ قبض کشا طریقے کی بات ہم پہلے بھی کچھ ادویات کی تحریروں میں کر چکے ہیں۔۔۔

ایک خاتون کی اووری (بیضہ دانی) سے ماہواری کے دوران بیضہ/انڈا نکلنے کی یہ ایک حقیقی اور بہت واضح تصویر ہے۔خواتین میں عام ...
02/11/2025

ایک خاتون کی اووری (بیضہ دانی) سے ماہواری کے دوران بیضہ/انڈا نکلنے کی یہ ایک حقیقی اور بہت واضح تصویر ہے۔
خواتین میں عام طور پر ماہواری کا سائیکل 28 دن پر مشتمل ہوتا ہے، البتہ یہ وقت 21 سے 35 دن کے درمیان بھی ہوسکتا ہے، اس دوران پہلے 14 دن کے بعد انڈا اووری سے خارج ہوتا ہے (جو کہ تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے)۔

یہ تصویر ایک 45 سالہ خاتون کی اووری کی ہے اور اس تصویر کو ریکارڈ کرنے والے University of Louvain کے سرجن Jacques Donnez ہیں۔

تصویر میں جو پیلی گول سی چیز نظر آرہی ہے، اصل میں وہی بیضہ/ انڈا ہے، جو کہ ایک نقطے (.) کے سائز کا ہوتا ہے۔ یہ پیلے رنگ کا انڈا جس لال سی چیز سے خارج ہوتا ہوا دکھ رہا ہے، وہ اصل میں "فالیکل خلیے" ہیں جو کہ ایک مائع کے اردگرد اکٹھے ہوئے ہیں، ان سیلز سے نسوانی ہارمونز پیدا ہوتے ہیں اور ساتھ ہی یہ انڈے کی نشوونما بھی کرتے ہیں، لیکن اب انڈا ان کو چھوڑ کر اپنے سفر پر نکل رہا ہے۔ اس لال سی چیز کے نیچے گلابی رنگ کی اووری بھی دیکھی جاسکتی ہے۔

ایک خاتون کے جسم میں دو اوریز ہوتی ہیں اور بلوغت کے آغاز سے ہر مہینے عام طور پر ایک اوری ایک انڈا خارج کرتی ہے اور اگلے مہینے دوسری اوری۔

اوری سے نکل کر یہ انڈا فیلوپین ٹیوب میں سفر کرتا ہے، جس دوران اگر اس کا ملاپ سپرم سے ہوجائے تو اس انڈے سے ایمبریو بنتا ہے جو کہ بچہ دانی میں پہنچ جاتا ہے اور وہاں بچے کی ڈیولپمنٹ شروع ہوتی ہے۔ لیکن اگر انڈے کا ملاپ سپرم سے نہ ہو تو یہ انڈا کچھ گھنٹوں میں ختم ہوجاتا ہے۔۔۔

ویکسین کے حوالے سے مزید تحریر لکھنے کا ارادہ نہیں تھا مگر جب بھی سوشل میڈیا کھولو تو کسی نہ کسی نے ایک نیا "شوشا" چھوڑا ...
22/09/2025

ویکسین کے حوالے سے مزید تحریر لکھنے کا ارادہ نہیں تھا مگر جب بھی سوشل میڈیا کھولو تو کسی نہ کسی نے ایک نیا "شوشا" چھوڑا ہوتا ہے۔ جن سے کچھ سؤالات جنم لیتے ہیں جو عوام میں تشویش کی لہر پھیلاتے ہیں۔ جیسا کہ

سوال: جو ویکسین نہیں لگوانا چاہتے ان سے زبردستی کیوں؟

فرض کریں کہ اپکی فیملی ایک گھر میں رہتی ہے، جہاں سب کا اپنا کمرہ ہے، ایک دن گھر میں کچھ خونخوار جانور گھس آتے ہیں جو فیملی کے مختلف لوگوں کے کمروں میں چھپ جاتے ہیں، ایسے میں کچھ فیملی ممبر یہ کہتے ہیں کہ ہم کسی کو اپنے کمروں سے ان خطرناک جانوروں کو نکالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ تو کیا آپ چپ چاپ سکون سے بیٹھ جائیں گے؟ پہلے تو آپکو اپنے ان کمروں میں رہائش پذیر فیلمی ممبرز کی فکر ہو گی، مگر آپ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ وہ جانور ان کے کمروں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ باقی گھر والوں کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ آپ نے عقل کا استعمال کیا اور باقی گھر والوں کو جانوروں سے لڑنے اور انہیں مارنے والا ہتھیار دے دیا۔ مگر ان کمروں میں چھپے ہوئے جانور وہاں رہتے رہتے اتنے طاقتور ہوگئے کہ آپ کے دئے ہوئے ہتھیار بھی ان کے خلاف موئثر نہ رہے۔

بلکل یہی مثال معاشرے میں ویکسین نہ لگوانے والوں کی ہے، آپ خود تو وائرس یا باقی جراثیم کے لیے آسان شکار ہوسکتے ہیں، مگر اس طرح آپ وائرس کو میوٹیشنز کرکے نئے روپ میں حملہ اور ہونے کا راستہ بھی دے رہے ہیں جس سے ویکسین لینے والے بھی شکار ہوسکتے ہیں، جیسا کہ کرونا وائرس کی مختلف اقسام کا ظاہر ہونا دیکھا گیا تھا۔

اسکے علاؤہ "ایپی ڈیمیالوجی" (علم امراض وبائی) کی ایک اصطلاح "ہرڈ ایمیونٹی تھرش ہولڈ" ہے۔ جس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ ایک کمیونٹی یا علاقے کی آبادی میں اگر کوئی وبائی مرض (جو کسی جراثیم سے پھیلتی ہے) آتی ہے، تو اس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کم از کم اس آبادی کے کتنے فیصد لوگوں میں اس مرض کے خلاف مدافعت پیدا ہونی چاہیے۔ جیسے پولیو کے کے لیے "ہرڈ ایمیونٹی تھرش ہولڈ" 80 فیصد سے شروع ہوتی ہے۔ یعنی کسی علاقے میں پولیو کا پھیلاؤ روکنا ہے تو کم از کم 80 فیصد لوگوں میں پولیو کے خلاف مدافعت ہونی چاہیے۔

اور مدافعت پیدا کرنے کا سب سے محفوظ اور آسان طریقہ ویکسین کا ہے، تو دوسرے الفاظ میں کم از کم علاقے کے 80 فیصد لوگوں کو پولیو ویکسین لگنی چاہیے۔

جیسے کرونا وائرس کا جو پہلا ویرینٹ/شکل آئی تھی، اس کے لیے ہرڈ ایمیونٹی تھرش ہولڈ 60 سے 71 فیصد کے درمیان تھا۔ مگر میوٹیشنز کی وجہ سے جو آخری "اومیکرون" کرونا وائرس آیا تھا اس کے لیے یہ ویلیو 88 سے 92 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

تو اگر آپکو ایک پوری کمیونٹی یا پورے علاقے میں وبا کو روکنا ہوتا ہے تو کوشش کرنی ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ویکسین دیں، تاکہ کم سے کم کمزور کڑی بچے۔ اس لیے حکومت کوشش کرتی ہے کہ ہر کسی کو ویکسین کا پابند کیا جائے۔ سو ویکسین لگوا کر آپ اپنے ساتھ باقیوں کا بھی فائدہ کر رہے ہیں اور نہ لگوا کر کہیں نہ کہیں اپنے آس پاس والوں کے لیے خطرے کا سبب بن رہے ہیں۔

یہ اس سوال کا جواب بھی ہے کہ "ہمیں دو روپے کی گولی مفت میں نہیں ملتی، ہمارے بچے بھوکے ہیں پھر بھی صرف ویکسین ہی کیوں" کیونکہ جس بیماری کے لیے وہ گولی چاہیے وہ بیماری ایک سے دوسرے میں نہیں پھیل رہی، یا پھیلتی بھی ہے تو سنگین نہیں ہوتی، ویسے تو سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات بھی ملتی ہیں، اور اپکے نوزائیدہ بچوں کو حفاظتی ٹیکے (جو ویکسین ہی ہیں) مفت لگائے جاتے ہیں، جبکہ بچے کی بھوک مٹانا اسے پیدا کرنے والے کے ذمے ہے۔

اب پھر سازشی نظریات پر حد درجے تک یقین کرنے والے لوگ وہی باتیں کریں گے کہ ویکسین سے بے اولادی ہوگی، یا ہم بغیر ویکسین کی اجزاء جانے ویکسین کیوں لگوائیں تو ان کے جواب پہلی تحریر میں دئے ہیں۔
https://www.facebook.com/share/p/1Ft3WRJahk/

نیز ہرڈ ایمیونٹی کا حساب کیسے لگایا جاتا ہے، اس کا لنک یہ رہا
https://historyofvaccines.org/vaccines-101/what-do-vaccines-do/how-herd-immunity-works/

تحریر:

ایک عورت کی بچہ دانی کی نچلی طرف، بچہ دانی کا چھوٹا  سا منہ ہوتا ہے، جو اندام نہانی (یعنی "وجائنا") میں کھلتا ہے۔ اس منہ...
14/09/2025

ایک عورت کی بچہ دانی کی نچلی طرف، بچہ دانی کا چھوٹا سا منہ ہوتا ہے، جو اندام نہانی (یعنی "وجائنا") میں کھلتا ہے۔ اس منہ کو یا بچہ دانی اور اندام نہانی کے درمیان یہ جو چھوٹا سا راستہ ہے، اسے "سروکس" بولتے ہیں۔ "سرویکل کینسر" جسم کے اسی حصے میں ہوتا ہے، یا اس کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے۔

دنیا بھر میں خواتین کو سب سے زیادہ ہونے والے کینسر میں سے سرویکل کینسر کا چوتھا نمبر ہے۔

اس کینسر کی وجہ (نوے فیصد سے زیادہ) ایک وائرس "ایچ پی وی" (پورا نام اردو میں لکھنا مشکل ہے) بنتا ہے۔

وائرل انفیکشنز سے بچاؤ کا سب سے اچھا طریقہ ویکسین ہے، سو اس وائرس کے خلاف بھی ویکسینز موجود ہیں۔ جو کہ اب پاکستان حکومت کی طرف سے چلنے والی مہم کے زیر اثر بچیوں کو لگانے کا پلان ہے۔

جس سے پھر سوشل میڈیا پر وہ طوفان شروع ہوگیا جو کسی بھی ویکسن کے آنے سے شروع ہوتا ہے، بلکہ پولیو ویکسین کی تو ہر مہم پر شروع ہوجاتا ہے۔

اس ویکسین کے لیے بھی لوگوں کے پاس وہی دلائل ہیں جو پولیو ویکسین کے لیے ہیں۔ جیسا کہ "یہ ہماری بچیوں کو بے اولاد کردے گا"۔ بلکل یہی الزام دہائیوں سے پولیو ویکسین پر لگایا جاتا ہے۔ ان عظیم لوگوں کو کوئی بتائے کہ پولیو ویکسین کے ہوتے ہوئے بھی ملک کی آبادی کتنے گنا بڑھ چکی ہے اور مزید کس رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ نیز دنیا اتنی فارغ نہیں کہ آپ کے ہونے والے بچوں سے ڈر کر سازشیں شروع کردے۔

بلکہ یہ ویکسن بچیوں کی جنسی صحت کے لیے ایک بہتر اقدام ہے۔ ویسے عام زندگی میں دیکھیں تو ہماری بچیاں کوئی بہت صحت مند زندگی نہیں گزار رہیں، ہوا اور پانی میں بڑھتی ہوئی آلودگی دیکھ لیں، یا فاسٹ فوڈ کا رحجان دیکھیں، یا پھر ذہنوں پر اثر کرتی ہوئی فضول ٹک ٹاک، یوٹیوب ولاگز اور ساس بہو کے ڈرامے۔ یہ اصل نقصاندہ چیزیں ہیں نہ کہ ویکسین۔

دوسری بات یہ اڑائی جا رہی ہے کہ "یہ ویکسین تو اصل میں ہم پر ٹیسٹ ہو رہی ہے کہ ٹھیک بنی بھی ہے کہ نہیں"۔ ان عظیم لوگوں سے یہ عرض ہے کہ یہ ویکسین 2006 سے مارکیٹ میں موجود ہے، اب جاکر کہیں پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ملک تک پہنچی ہے۔

تیسری بات یہ کہ جس وائرس کا ذکر کیا جاتا ہے، وہ تو جنسی عمل سے پھیلتا ہے۔ تو جناب جنسی عمل دو لوگوں کے درمیان ہوتا ہے۔ ہم اپنی بچی کے کردار کی گارنٹی لیتے ہیں، مگر کیا اس کے ہونے والے شوہر کے ماضی اور حال کی بھی ؟

آغا خان یونیورسٹی کے مطابق 2023 کے ڈیٹا نے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال پانچ ہزار سے زیادہ خواتین کو سرویکل کینسر تشخیص ہوتا ہے اور تین ہزار سے زیادہ مر جاتی ہیں۔ مزید یہ کہ پاکستان میں سرویکل کینسر خواتین کو ہونے والا تیسرا بڑا کینسر ہے، جبکہ 15 سے 44 سال کی پاکستانی خواتین کو ہونے والا دوسرا بڑا کینسر ہے۔ یہ رپورٹ اور اس کی معلومات کے ذرائع آپ خود بھی دیکھ سکتے ہیں۔
https://www.aku.edu/mcpk/paeds/Pages/hpv.aspx

گویا کہ سرویکل کینسر اور ایچ پی وی وائرس کا مسلہ تو پاکستان میں موجود ہے، اور بڑھ بھی رہا ہے۔ تو کیا ان فضول باتوں سے نکل کر اپنی پیاری بیٹیوں، بہنوں کی صحت کے لیے ایک اچھا قدم نہیں لینا چاہیے ؟

پھر لوگ سوال کرتے ہیں کہ ویکسین میں پتہ نہیں کیا ڈالا۔ ایک آسان سی گوگل سرچ کرلیں "ایچ پی وی ویکسین" یا "ایچ پی وی ویکسین کمپوزیشن" آپکے سامنے اس کے اجزاء آجائیں گے۔ اور اگر آپ ان اجزاء کو بھی سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو مان لیں کہ آپ ان معاملات کو سمجھ نہیں سکتے مگر پھ بھی فضول کی مخالفت اور عداوت رکھ رہے ہیں۔۔۔

جو خوارک آپ کھاتے ہیں، اگر وہ اپکے نظام انہضام میں ہضم ہوتی ہے، جس کے بعد آپکے خون میں جاتی ہے اور جسم کو توانائی دینے ک...
10/08/2025

جو خوارک آپ کھاتے ہیں، اگر وہ اپکے نظام انہضام میں ہضم ہوتی ہے، جس کے بعد آپکے خون میں جاتی ہے اور جسم کو توانائی دینے کے کام آتی ہے۔ لیکن اگر آپ ایک ایسا طرز زندگی اپنائے ہوئے ہیں جس میں آپکی خوراک زیادہ اور آپکے جسم کی توانائی کی ضرورت کم ہے تو آپکا جسم اضافی خوراک کو چربی کی صورت میں سٹور کرے گا۔

نتیجتاً آپ کا جسم موٹاپے کا شکار ہوگا جس سے شوگر سمیت طرح طرح کی پیچیدگیاں آئیں گی۔ موٹاپا بڑھانے میں فیٹ یعنی چکنائی والی اشیاء کا خوراک میں شامل ہونا ایک مسلہ ہے، ویسے تو چکنائی بہت توانائی دیتی ہے لیکن جب اس توانائی کی ضرورت نہ ہو تو یہ چکنائی ہماری چربی/موٹاپا بڑھانے کا کام بھی بہت اچھا کرتی ہے۔

لیکن کیسا ہو کہ اگر آپ خوراک میں موجود فیٹ (چکنائی) تو کھائیں مگر اسے ہضم ہوکر جسم میں شامل نہ ہونے دیں۔ یہی کام ہماری یہ دوائی (Orlistat) کرتی ہے۔

یہ ہمارے نظام انہضام میں اس انزائم (lipase) کو روکتی ہے جو خوراک میں موجود چکنائی/فیٹ کو ہضم کرتا ہے۔ تو چکنائی کم ہضم ہوگی تو پھر خون میں شامل بھی نہیں ہوگی، اور پاخانے کے ساتھ ہی نکل جائے گی۔

یوں یہ دوائی ہمارے جسم کا حصہ بننے والے فیٹ کی مقدار کم کرتی ہے، جس سے موٹاپا کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

لیکن یاد رکھیں یہ دوائی صحت مند لوگوں کے لیے نہیں ہے، اگر آپ صحت مند ہیں، آپکا جسم حرکت کرتا ہے تو پھر موٹاپا کم کرنے کا صحیح طریقہ ورزش اور خوراک پر قابو کرنا ہی ہے۔

ورزش کا کوئی نعم البدل نہیں، ہر عمر کے شخص کو ورزش کرنی چاہیے۔ نیز یہ ادویات کچھ سائد ایفیکٹس بھی رکھتی ہیں اور انہیں مستند ڈاکٹر کی تجویز کے مطابق ہی استعمال کرنا چاہیے۔۔۔

اگر آپ سگریٹ پی رہے ہیں، تو آپ اپنے ہونے والے بچوں کے لیے خطرہ بڑھا رہے ہیں۔ ریسرچرز دیکھاتی ہیں کہاگر پریگننسی ہونے سے ...
30/05/2025

اگر آپ سگریٹ پی رہے ہیں، تو آپ اپنے ہونے والے بچوں کے لیے خطرہ بڑھا رہے ہیں۔ ریسرچرز دیکھاتی ہیں کہ

اگر پریگننسی ہونے سے پہلے بھی باپ سیگریٹ نوشی کا عادی ہو تو اسکے مستقبل میں اسکے ہونے والے بچے میں ایک طرح کا بلڈ کینسر (ALL) ہونے کے چانس 25 فیصد بڑھ جاتے ہیں۔

جو باپ یا ماں سیگریٹ نوشی کرتے ہیں، ان کے بچوں میں پیدائشی نقائص جیسا کہ دل، دماغ اور ہاتھ پاؤں میں ابنارمیلیٹی آنے کے 47 فیصد زیادہ چانس ہوتے ہیں۔

اسکے علاؤہ تمباکو نوشی کے عادی والدین کے ہاں جو بچے پیدا ہوتے ہیں، ان میں استما، پھیپھڑوں کے مسائل، موٹاپا اور عمر کم ہونے جیسی صورتحال کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ان سب ریسرچرز کے لنک نیچے کمنٹ میں دیتا ہوں۔ البتہ سوچیں کہ انسان اپنی اولاد کے لیے کیا کیا قربانیاں دیتا ہے، سب والدین چاہتے ہیں کہ اولاد کو کوئی کمی نہ آئے۔ تو تمباکو نوشی جیسی گندی عادت کو ترک کرکے اپنی اور اپنی اولاد کی صحت کا خیال کریں۔

آج 31 مئی کو "انسداد تمباکو نوشی" کا دن منایا جاتا ہے۔۔۔

دوستو کیلشئم، سوڈیم، پوٹاشیئم، وغیرہ منرلز ہیں جو جسم کے لیے بہت ضروری ہیں، اسی طرح آئرن (فولاد) بھی ایک منرل ہے جو جسم ...
30/05/2025

دوستو کیلشئم، سوڈیم، پوٹاشیئم، وغیرہ منرلز ہیں جو جسم کے لیے بہت ضروری ہیں، اسی طرح آئرن (فولاد) بھی ایک منرل ہے جو جسم کے لیے بہت ضروری ہے۔ مگر آئرن باقی منرلز سے مختلف ہے۔ وہ ایسے کہ باقی سب منرلز کو جسم مناسب طریقے سے خارج کرتا رہتا ہے۔ یعنی اگر آپکے جسم میں سوڈیئم، پوٹاشیئم یا کیلشئم وغیرہ کی زیادتی ہوگئی ہے تو آپکے گردے اور جسم کے کچھ دوسرے اعضا ان منرلز کو پیشاب وغیرہ کے راستے جسم سے باہر نکالنے کا طریقہ اپنائیں گے، اور ایک حد تک یہ طریقہ موئثر بھی ہوگا۔

لیکن آئرن کے ساتھ ایسا نہیں ہوگا کیونکہ ہمارے جسم میں کوئی ایسا موثر نظام ہے ہی نہیں جو خون میں بڑھے ہوئے آئرن کو جسم سے باہر نکال سکے۔ اس سے بڑا مسلہ یہ ہے کہ اگر آپکے خون میں آئرن آزاد ہوگا، یعنی "فری آئرن" ہوگا یعنی آئرن کسی سے بانڈ یا جڑا ہوا نہیں بلکہ آزادنہ حالت میں خون میں گھوم رہا ہو تو یہ شدید/ جان لیوا نقصان کرسکتا ہے، کیونکہ ایسا آئرن خون اور جسم میں "ریکٹو آکسیجن سپیشز" پیدا کرتا ہے۔ یہ کس بلا کا نام ہے ؟ اس کی تفصیل میں اس تحریر میں بیان کرچکا ہوں
https://www.facebook.com/share/p/1AzS6mbxv8/

اوپر سے ہم اس آئرن کو باہر بھی نہیں خارج کرسکتے، بلکہ یہ تو گردوں کو بھی نقصان پہنچائے گا۔ تو پھر اس مسلے کا حل یہی ہے کہ آئرن کو آزاد رہنے ہی نہ دیا جائے۔ اس کام کے لیے ہمارا جگر ایک پروٹین پیدا کرتا ہے اور اسے خون میں بھیجتا ہے۔ یہ "ٹرانسفرن" (transferin) پروٹین خون میں موجود آئرن کو اپنے ساتھ باندھے رکھتا ہے تاکہ وہ نقصان نہ کرسکے، اور صرف آئرن کو پکڑے نہیں رکھتا بلکہ جگر، بون میرو اور پٹھوں میں جہاں بھی اسکی ضرورت ہو وہاں آئرن کو پہنچاتا بھی ہے۔

لیکن کیا ہو اگر ہمیں کسی مریض کو آئرن کی ایک بڑی مقدار دینی ہو اور وہ بھی ایک ہی ڈوز میں تو کیا کرنا ہوگا ؟ جیسے 500 ملی گرام آئرن، تو یہ ڈوز کیسے دی جائے ؟

گولیوں کے ذریعے اتنی بڑی ڈوز ممکن نہیں، کیونکہ نظام انہضام میں جو آئرن خوراک یا دوائی کے ذریعے آتا ہے اس کا صرف 10 سے 15 فیصد ہی خون میں جذب ہوتا ہے۔ جب آپ اتنی بڑی مقدار میں آئرن نظام انہضام میں بھیجیں گے تو صرف 10 فیصد کے قریب ہی جذب ہوگا اور باقی آپکے نظام انہضام سے خارج ہونے تک مختلف مسائل پیدا کرے گا۔

تو کیا ڈائریکٹ خون میں اتنا آئرن بھیجا جاسکتا ہے؟ ہاں لیکن وہی "ریکٹو آکسیجن سپیشز" بننے کا مسلہ پیدا ہوگا جس کا ذکر ہم نے اوپر کیا۔ آئی وی کے ذریعے خون میں لگنے والے آئرن کے انجیکشن پہلے بھی موجود تھے، مگر وہ ایک ہی ڈوز میں 500 ملی گرام یا اس سے زیادہ آئرن خون میں شامل نہیں کرسکتے تھے (بغیر نقصان کے)، کیونکہ اتنے زیادہ آئرن کو آہستہ آہستہ خون میں شامل کرنے کی ضرورت ہوگی، تاکہ آئرن کو پکڑنے والا "ٹرانسفرنس پروٹین" اس سارے آئرن کو پکڑ پائے اور یہ آئرن نقصان نہ پہنچائے۔

جبکہ کچھ صورتوں میں ہمیں مریض کو بڑی مقدار میں آئرن دینا ہوتا ہے، خاص کر حاملہ یا حمل ضائع ہونے والی خواتین میں۔

ایسی صورت میں یہ "ferric carboxymaltose" کا انجیکشن کام کو آسان کر دیتا ہے۔ اس میں 500 ملی گرام آئرن ہے، جو کہ "carboxymaltose" نام کے کیمکل (کاربوہائیڈریٹ) کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ یہ کیمکل آئرن کو یک دم سے نہیں چھوڑتا بلکہ آہستہ آہستہ آزاد کرتا ہے۔

یہ انجیکشن/دوائی کو آئی وی (ڈرپ) کے ذریعے خون میں شامل کیا جاتا ہے، جہاں سے یہ جگر اور تلی میں پہنچتی ہے اور وہاں خلیے (macrophages) کے اندر داخل ہوکر یہ دوائی آہستہ آہستہ "ٹوٹتی" ہے اور آئرن خارج کرتی رہتی ہے، اس طرح آئرن آہستہ آہستہ خون میں جاتا ہے جہاں "ٹرانسفرن پروٹین" اس آئرن کو پکڑتی رہتی ہے۔

یہ دوائی ایک دو ہفتے تک جسم میں آئرن دیتی رہتی ہے۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ مریض کو ہفتے میں ایک بار ہی یہ انجیکشن لگوانا پڑتا ہے۔ اس طرح ایک ہی بار میں ایک بڑی مقدار میں آئرن انسانی جسم کے اندر داخل ہوجاتا ہے جو آہستہ آہستہ اپنا لیول بڑھائے جاتا ہے۔

ہوسکتا ہے یہ آئرن سالوں تک جسم کے کام آتا رہے۔ کیونکہ جسم نارمل حالت میں خود سے تو آئرن کو خارج نہیں کرتا، بلکہ آئرن کو ری سائیکل کرتا رہتا ہے۔۔۔

اچھا دوستو عام ادویات (بلکہ بہت عام) میں سے جس دوائی پر سب سے زیادہ تحقیق ہو رہی ہے وہ ہے یہ "میٹفارمن" (metformin) یا گ...
24/05/2025

اچھا دوستو عام ادویات (بلکہ بہت عام) میں سے جس دوائی پر سب سے زیادہ تحقیق ہو رہی ہے وہ ہے یہ "میٹفارمن" (metformin) یا گلوکوفیج (glucophage)۔ یہ شوگر کے مرض میں استعمال ہونے والی سب سے عام دوائی ہے، اور اسکے کام کا طریقہ میں اس تحریر میں بیان کرچکا ہوں۔
https://www.facebook.com/share/p/12KWd88nMmP/

البتہ اس کے ساتھ میٹفارمن پر اور بھی بہت سی تحقیقات اور کلینیکل ٹرائلز جاری ہیں۔ کینسر سے لے کر "اینٹی ایجنگ" (anti aging) تک میں اس کے فوائد دیکھے جا رہے ہیں۔

شوگر میں بھی یہ ایک سے زائد طریقوں سے فائدہ پہنچاتی ہے، جو اس کے زیادہ جانے اور سمجھے ہوئے طریقے ہیں وہ تو اس تحریر میں لکھے ہیں جس کا لنک اوپر دیا ہے۔

لیکن ایک قدرے نئی دریافت یہ ہوئی ہے کہ میٹفارمن آپکے نظام انہضام میں موجود بیکٹیریا (Akkermansia) پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ آپکے نظام انہضام میں اربوں کی تعداد میں بیکٹیریا موجود ہیں جو کھانے کے ہاضمے کے ساتھ اور بھی کچھ کام کرتے ہیں۔

تو ہماری میٹفارمن کیا کرتی ہے؟ حالیہ تحقیقات کے مطابق میٹفارمن نظام انہضام میں مخصوص بیکٹیریا کی گروتھ اور تعداد بڑھا دیتا ہے۔

یہ بیکٹیریا نظام انہضام میں "انفلامیشن" کو روکتے ہیں۔ جب جسم میں دیرپا انفلامیشن رہتی ہے تو انسولین کے کام میں رکاوٹ آتی ہے، سو انفلامیشن کے کم ہونے سے انسولین کی رکاوٹ (resistance) کم ہوتا ہے، یعنی شوگر کے مریض کو فائدہ ہوتا ہے۔ انفلامیشن اور انسولین کو ملنے والی رکاوٹ کا ذکر اس تحریر میں بھی کرچکا ہوں
https://www.facebook.com/share/p/1E3JR4BNQd/

آسکے علاوہ میٹفارمن ان بیکٹیریا کی تعداد بھی بڑھاتی ہے، جو بیکٹیریا کچھ خاص کیمکل (SCFA) خارج کرتے ہیں۔ یہ کیمکل معتدد طریقوں سے گلوکوز کے میٹابولزم پر اثر ڈالتے ہیں، اور نظام انہضام سے GLP-1 نام کا ہارمون بھی خارج کرواتے ہیں، جو شوگر کے خلاف فائدہ دیتا ہے۔

اس GLP-1 کا ذکر میں اس تحریر میں بھی کرچکا ہوں۔
https://www.facebook.com/share/p/16ZCtCSyaq/

تو ایک دو تین روپے کی گولی میڈیکل سائنس کے لیے تحقیق کے نئے راستے کھول رہی ہے، البتہ غلط استعمال سے یہ دو تین روپے کی گولی فائدے کی بجائے نقصان بھی دے سکتی ہے، اس لیے ادویات ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کریں۔۔۔

سلام دوستو، ایک تازہ خبر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے کہ چین کے سائنسدانوں نے "شوگر کو ریورس" کرنے والے یا "شوگر کو بلکل...
18/05/2025

سلام دوستو، ایک تازہ خبر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے کہ چین کے سائنسدانوں نے "شوگر کو ریورس" کرنے والے یا "شوگر کو بلکل ختم" کرنے والا کوئی انجیکشن بنایا ہے۔ تو اس تحریر کے ذریعے ہم کوشش کریں کہ اس حوالے سے درست حقائق جان سکیں اور ممکنہ غلط فہمیوں سے بچ سکیں۔

یہ خبر درست ہے کہ چین کی "پیکنگ یونیورسٹی" (Peking University) میں یہ تجربہ ہوا ہے۔ تو یہ تجربہ کیسے ہوا ؟ اسے سمجھنے کے لیے ہمیں دو باتیں سمجھنی ہوں گی

1- ہمارے لبلبے کے خاص خلیے (islets) انسولین پیدا کرتے ہیں، یہ انسولین خون میں گلوکوز کو ٹھکانے لگانے کا کام کرتی ہے، اگر انسولین نہ ہو تو گلوکوز طرح طرح کے مسلے پیدا کرتا ہے۔
شوگر کے مرض (قسم 1) میں مریض کا اپنا امیون سسٹم ان خلیوں کو دشمن سمجھ کر ان پر حملہ کردیتا ہے، یوں انسولین بنانے والے یہ خلیے ختم ہوتے رہتے ہیں اور مریض کو بیرونی انسولین دینی پڑتی ہے۔

2- دوسری بات ہے "سٹیم سیلز" (stem cells) کے متعلق۔ سٹیم سیلز ایسے خلیے ہوتے ہیں جو تقسیم ہوکر اپنی تعداد تو بڑھاتے ہیں لیکن ساتھ میں ان کی تقسیم سے نئی طرح کے خلیے بھی بنتے ہیں۔ یعنی سٹیم سیلز ایسے خلیے ہیں جو آپکے جسم کے دوسرے خلیوں کو جنم دیتے ہیں۔ آپکا سب سے طاقتور سٹیم سیل تو باپ کے سپرم اور ماں کے بیضے کے ملاپ سے بننے والا پہلا خلیہ یعنی "زئیگوٹ" ہے جس سے آپکے جسم کے سب خلیے بنتے ہیں۔ اس کے علاؤہ بون میرو میں موجود خون کے خلیوں کو جنم دینے والے سٹیم سیلز کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ مختصراً یہ کہ سٹیم سیلز کی مدد سے آپ جسم کے کچھ یا سب اقسام کے خلیے بنا سکتے ہیں۔
ہم مختلف طریقوں سے ایک بالغ انسان کے جسمانی خلیے کو ایک سٹیم سیل میں بدل سکتے ہیں۔ یہ بات سب سے اہم ہے اور یہی اس تجربے کی بنیاد ہے۔

تو یہ تجربہ کیسے کیا گیا ؟ ایک پچیس سالہ لڑکی جو شوگر (قسم 1) کی مریض تھی، اس کا جسمانی خلیے (فیٹ سیلز) لیے گئے، اور انہیں سٹیم سیلز میں بدلہ اور پھر ان سے انسولین پیدا کرنے والے خلیے (islets) بنائے گئے۔ ان انسولین بنانے والے خلیوں کو اس لڑکی کے جسم میں پیوند کردیا گیا۔ کچھ عرصے بعد یہ نئے آنے والے خلیے اتنی انسولین بنانے لگ گئے کہ لڑکی کو بیرونی انسولین کی ضرورت نہ رہی اور وہ ایک طرح سے شوگر کے مرض سے واپس آگئی۔ ایک سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی لڑکی کے وہ خلیے انسولین پیدا کر رہے ہیں۔

کیا پہلی بار سٹیم سیلز کا شوگر کے لیے استعمال کیا گیا ؟
نہیں پہلے بھی ایسے تجربات ہوچکے ہیں، سٹیم سیلز اور جسمانی خلیوں کو سٹیم سیلز بنانا کوئی بہت نئی چیز نہیں، البتہ اب اس میں کافی تیزی آچکی ہے۔ چینی سائنسدانوں کے اس تجربے کے علاؤہ اور بھی تجربات سے سٹیم سیلز کی تکنیک کے ذریعے انسولین والے خلیے بنائے بھی جاچکے ہیں اور انسانوں میں استعمال بھی کئے جاچکے ہیں۔ ان تجربات میں انسان کے اپنے خلیوں کی بجائے جسی دوسرے (ایمبریو) کے قدرتی سٹیم سیلز سے انسولین والے خلیے بھی بنائے گئے۔

ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا جس امیون سسٹم نے پہلے انسولین بنانے والے خلیوں پر حملہ کیا، وہ دوبارہ بھی تو کرسکتا ہے ؟
اس بات کا چانس تو موجود ہے۔ اس تجربے میں جس لڑکی کو لیا گیا، اس کا کچھ عرصہ پہلے جگر کا ٹرانسپلانٹ ہوا تھا اس لیے وہ امیون سسٹم کی کارکردگی کم کرنے والی ادویات لے رہی ہے، جس وجہ سے ممکنہ طور پر اس کو ملنے والے یہ خلیے بچے ہوئے ہیں۔ البتہ دوسرے تجربات میں بھی ایسے طریقے ڈھونڈے جا رہے ہیں کہ کسی طرح ان خلیوں کو جسم میں لگانے کے بعد انہیں امیون سسٹم کے حملے سے بھی بچایا جائے۔

تو چینی سائنسدانوں کے اس تجربے میں نیا کیا تھا ؟

اس تجربے نئی چیز تھی "جسمانی خلیوں کو سٹیم سیلز میں بدلنے کی تکنیک" اس سے پہلے جسمانی خلیوں سے سٹیم سیل بنانے کے لیے جو تکنیک استعمال کی جاتی رہی ہے اس سے بننے والے خلیوں کے کینسر ذرہ ہونے کا امکان ہوتا ہے۔

البتہ چینی سائنسدانوں نے جو تکنیک (CiPSCs) استعمال کی اس سے یہ امکان بہت کم ہوجاتا ہے۔ مگر اس طریقے کے ذریعے کامیابی سے سٹیم سیل بنانے کی شرح کم ہے۔ یعنی طریقہ زیادہ محفوظ ہے لیکن کامیابی تھوڑی ملتی ہے۔

یہ بھی واضح رہے کہ ابھی یہ تجربات بہت کم لوگوں پر ہوا ہے، زیادہ لوگوں پر ہونے کے بعد اس کی کچھ اور کمیاں بھی سامنے آسکتی ہیں۔ اس کے علاؤہ یہ طریقے سننے میں آسان لگتا ہے لیکن کافی پیچیدہ اور مہنگا ہے، اسے عام عوام کے استعمال کے قابل بنانے میں کافی وقت، تحقیق اور محنت درکار ہے۔

اگر ہم پاکستانی مریضوں کو دیکھیں تو وہ شوگر کو سئیرس اس وقت لیتے ہیں جب پیچیدگیاں بہت بڑھ چکی ہوں۔ اس لیے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اگر یہ طریقہ علاج کبھی مریضوں کے لیے عام ہوا تو مرض کی کس سٹیج پر زیادہ کارگر ثابت ہوسکے گا۔

بہرحال شوگر سمیت کسی بھی بیماری کا علاج سائنس کے ثمرات میں سے ایک ہے، اس لیے سائنس سیکھنے کی طرف خود بھی آئیں اور اپنے بچوں کو بھی لائیں۔۔۔

جم کرنے سے جنسی صحت پر کیا اثر ہوتا ہے ؟ تو میرے ایک کزن کی ابھی یونیورسٹی شروع ہوئی ہے اور نئی جوانی کے ساتھ اسے "جم" ک...
17/05/2025

جم کرنے سے جنسی صحت پر کیا اثر ہوتا ہے ؟

تو میرے ایک کزن کی ابھی یونیورسٹی شروع ہوئی ہے اور نئی جوانی کے ساتھ اسے "جم" کا بھی شوق چڑھا ہوا ہے۔ اسی حوالے سے لوگوں کی باتیں سن کر اس نے مجھ سے سوال کیا، تو اسکا سوال اور اپنا جواب "درست الفاظ" کے ساتھ پیش کرتا ہوں

سوال: کیا جم کرنے سے جنسی صحت متاثر ہوتی ہے؟ جنسی عضو متاثر یا ناکارہ ہونے کا خطرہ ہوتا ہے ؟

جواب: آپ کسی بھی قسم کی ورزش کرتے ہیں، واک کرتے ہیں، دوڑ لگاتے ہیں، یا پھر "ویٹ ٹریننگ" یا "رزسٹنس ٹریننگ" یعنی جم میں وزن وغیرہ اٹھاتے ہیں۔ تو یہ ساری چیزیں آپکی جنسی صحت کے لیے اچھی ہیں۔

یہ سب کام مختلف طریقوں سے آپکی مردانہ جنسی اعضا اور مردانہ جنسی ہارمونز (بنیادی طور پر ٹیسٹوسٹیرون) پر اچھا اثر ڈالتے ہیں۔ صرف جنسی اعضا ہی نہیں بلکہ پورے جسم کو فائدہ دیتے ہیں۔

تو پھر جم کے بارے میں جنسی صحت کو نقصان پہنچانے کی باتیں کیوں وابستہ ہیں؟

یہ باتیں ان لوگوں کے لیے ہیں جو "مصنوعی سٹیرائڈز" لیتے ہیں۔ دیکھیں، ٹیسٹوسٹیرون (testosterone) مردوں کا بنیادی جنسی ہارمون ہے جو جسم میں مرادنہ خصوصیات پیدا کرتا ہے جیسا کہ جنسی اعضا کی ڈیولپمنٹ اور کام، داڑھی مونچھ کا اگنا، آواز کا بھاری پن اور اسکے ساتھ ساتھ پٹھوں/مسلز کی گروتھ بھی کرواتا ہے۔

پٹھوں پر اس اثر کی وجہ سے جو لوگ تن سازی (body building) کرتے ہیں وہ مصنوعی طور پر یہ ہارمون جسم میں داخل کرتے ہیں (ٹیسٹوسٹیرون ایک سٹیرائڈ ہے)۔

اگر آپ نے میری پچھلی پوسٹ پڑھی ہے تو اس میں "نیگیٹو فیڈ بیک" کا ذکر کیا تھا۔ پوسٹ کا لنک یہ رہا

https://www.facebook.com/share/p/15v6ttNfZi/?mibextid=oFDknk

وہ عمل یہاں بھی کام کرتا ہے۔ یعنی دماغ سے کچھ ہارمونز خون کے راستے مرد کے خصیوں (te**es) میں آتے ہیں، اور خصیوں میں ٹیسٹوسٹیرون پیدا ہوتا ہے۔ لیکن جب اس ٹیسٹوسٹیرون کا لیول ایک حد سے بڑھ جاتا ہے تو یہ ٹیسٹوسٹیرون دماغ میں جاکر ان ہارمونز کو کم کردیتا ہے جن کی وجہ سے یہ ٹیسٹوسٹیرون بن رہا تھا۔

تو جب کوئی انسان ایک عرصے تک جسم میں مصنوعی ٹیسٹوسٹیرون داخل کرتا رہتا ہے تو یہ باہر سے آیا ٹیسٹوسٹیرون دماغ سے آنے والے ان ہارمونز کا لیول کم کردیتا ہے۔ لیکن دماغ سے آنے یہ ہارمونز (FSH اور LH) صرف خصیوں سے ٹیسٹوسٹیرون ہی نہیں خارج کرواتے بلکہ ساتھ میں سپرم بھی بنواتے ہیں۔ تو جب باہر سے آنے والے ٹیسٹوسٹیرون کی وجہ سے ان ہارمونز کا لیول کم ہوجاتا ہے تو سپرم بننے کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔

تو خصیوں کے دو کام تھے، ایک سپرم بنانا اور دوسرا ٹیسٹوسٹیرون بنانا، مگر باہر سے آنے والے ٹیسٹوسٹیرون کی وجہ سے یہ دونوں کام رک گئے، اس لیے خصیے آہستہ آہستہ ناکارہ ہوجاتے ہیں اور سکڑ جاتے ہیں۔

اس وقت کوئی پروفشنل تن سازی کر رہا ہے، بڑے لیول پر مقابلوں میں حصہ لیتا ہے، اور وہ یہ کہتا ہے کہ میں سٹیرائڈز نہیں لیتا تو وہ جھوٹ بولتا ہے۔ البتہ دنیا میں نیچرل/قدرتی باڈی بلڈنگ کے مقابلے بھی ہوتے ہیں جہاں مقابلے سے کافی وقت پہلے ہی باڈی بلڈرز کا باقاعدگی سے بلڈ ٹیسٹ کیا جاتا ہے تاکہ کوئی سٹیرائڈز نہ لے رہا ہو۔

جم کرنے والے نوجوانوں کو یہ مشورہ ہے کہ جم میں ورزش کریں، دوسروں کو بھی اس طرف لائیں، خاص کر اپنے والدین کو۔ لیکن جم میں آپکا پہلا مقصد اچھی صحت ہونا چاہیے، اس کے بعد آپ ایک "اچھا دیکھنے والا جسم" بھی بنا لیں۔ لیکن پروفیشنل تن سازی کرنا، اس میں اپنی زندگی وقف کرنا مجھے تو وقت اور صحت کی بربادی لگتی ہے۔

کیونکہ پروفشنل تن سازی میں سٹیرائڈز لئے بغیر گزارہ نہیں۔ آپ نہیں لے رہے لیکن سینکڑوں لوگ لیں گے اور پھر ان سے مقابلہ کرنے کے لیے آپکو بھی لینا پڑے گا۔ میں نے اس تحریر میں سٹیرائڈز کا جنسی صحت پر برا اثر بتایا ہے، اسکے علاوہ باقی اعضاء بھی نقصان سے نہیں بچ پاتے۔۔۔

Address

Sahiwal

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when جسم اور دوا posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share