17/04/2026
ہومیوپیتھی اس وقت دنیا کے مختلف حصوں میں تیزی سے ترقی کی طرف گامزن ہے، اور خاص طور پر ہانگ کانگ اور چین میں اس کے حوالے سے دلچسپی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ پروفیسر آرون کی قیادت میں “Living Homeopathy” مراکز کے ذریعے بڑی تعداد میں افراد نے خدمات حاصل کی ہیں، جن کی تعداد لاکھوں تک بتائی جاتی ہے۔
چین میں اس وقت ہومیوپیتھی کے حوالے سے مختلف سطحوں پر تحقیق جاری ہے، اور مستقبل میں اس شعبے میں مزید وسعت اور ترقی کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق آنے والے سالوں میں اس فیلڈ میں مزید پیش رفت اور نئی تحقیق سامنے آ سکتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہانگ کانگ، چین اور دیگر ممالک میں اب اس شعبے میں صرف عام سطح کے لوگ ہی نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پروفیشنل سطح کے ماہرین، حتیٰ کہ پروفیسر لیول کے افراد بھی اس تحقیق اور ترقیاتی کام میں شامل ہو رہے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ ہومیوپیتھی ایک زیادہ سائنسی، منظم اور تحقیق پر مبنی مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے، جس میں بین الاقوامی سطح پر دلچسپی اور شمولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بہت جلد آئندہ آنے والے دنوں میں آپکو ہر دوائی Made in China /Hong Kong ملے گی۔ بہت بڑا کام ہو رہا ہے اور ابھی جو افراد اس شعبے میں سامنے آرہے ہیں وہ پروفیسر لیول کے لوگ ہیں جن کے پاس بین الاقوامی سطع پر تسلیم کی جانے والی ڈگریاں اور تعلیم ہے۔
یاد رہے پروفیسر آرون ٹوکا لون نے حال ہی میں Belgium کے سابق وزیراعظم سے ہومیوپیتھی کی ترقی و ترویج کے حوالے سے ملاقات کی تھی۔ یہ وہی پروفیسر ہیں جنھوں نے ہومیوپیتھی کی مشہور زمانہ انقلابی سافٹ ویر راڈار پر کام کیا ہے۔
پروفیسر آرون ٹوکا لون کے حوالے سے مزید معلومات کیلئے اس لنک پر کلک کریں۔
Founder, Hong Kong Association of Homeopathy