Psychoremedy

Psychoremedy Struggling with anxiety, depression, or relationship pain? You are not alone. Real help. Real healing. 100% confidential.
(10)

Psychoremedy connects you with Pakistan's top licensed psychologists — in your own language, from the comfort of your home.

🌼Sexual Desire Discrepancy — ایک ساتھی کی خواہش زیادہ اور دوسرے کی کم کیوں ہوتی ہے؟🌼رشتوں میں ایک ایسا اختلاف بھی ہوتا ہ...
21/08/2026

🌼Sexual Desire Discrepancy — ایک ساتھی کی خواہش زیادہ اور دوسرے کی کم کیوں ہوتی ہے؟🌼

رشتوں میں ایک ایسا اختلاف بھی ہوتا ہے جس پر اکثر کھل کر بات نہیں کی جاتی۔ ایک ساتھی قربت چاہتا ہے، جبکہ دوسرا اُس وقت ذہنی یا جسمانی طور پر آمادہ نہیں ہوتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ایک کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید اسے چاہا نہیں جا رہا، جبکہ دوسرے کو لگتا ہے کہ اُس پر مسلسل توقعات کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے محبت کر سکتے ہیں، پھر بھی جنسی خواہش کی شدت اور وقت ایک جیسا نہیں ہوتا۔ نفسیات میں اس فرق کو Sexual Desire Discrepancy — جنسی خواہش میں تفاوت کہا جاتا ہے۔

♈خواہش کا فرق محبت کا پیمانہ کیوں نہیں؟♈

اکثر انسان لاشعوری طور پر یہ مساوات بنا لیتا ہے کہ زیادہ خواہش = زیادہ محبت، اور کم خواہش = کم کشش یا بے رغبتی۔ لیکن انسانی جنسی خواہش اتنی سادہ نہیں ہوتی۔

کسی شخص کی خواہش پر ذہنی کیفیت، جسمانی توانائی، نیند، روزمرہ کا دباؤ، تعلق میں جذباتی کیفیت، ادویات، ہارمونی تبدیلیاں اور بہت سے دوسرے عوامل اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

اس لیے کسی خاص وقت پر خواہش کم ہونا لازماً ساتھی کے لیے کشش ختم ہونے کا ثبوت نہیں ہوتا۔

♈ایک ہی رشتہ، مگر دو مختلف دماغی کیفیتیں♈

فرض کریں ایک شخص دن بھر کے ذہنی دباؤ کے باوجود اپنے ساتھی کے ساتھ قربت چاہتا ہے، جبکہ دوسرا اسی دن مسلسل تھکن، ذمہ داریوں اور ذہنی تناؤ کے باعث خود کو بالکل تیار محسوس نہیں کرتا۔

پہلا اسے ذاتی ردِعمل سمجھ سکتا ہے: "شاید اب وہ مجھے پہلے جیسا نہیں چاہتا۔"

دوسرے کے ذہن میں شاید یہ ہو: "میں اسے مسترد نہیں کر رہا، میں صرف اس وقت ذہنی طور پر available نہیں ہوں۔"

اگر دونوں اپنے اپنے مطلب کو حقیقت سمجھ لیں تو مسئلہ خواہش کے فرق سے بڑھ کر غلط فہمی اور جذباتی فاصلے کا بن سکتا ہے۔

♈کبھی خواہش خود بخود نہیں آتی، قربت کے بعد پیدا ہوتی ہے♈

جنسی خواہش کے بارے میں ایک اہم نفسیاتی نکتہ یہ ہے کہ ہر شخص میں خواہش ہمیشہ اچانک اور خودبخود پیدا نہیں ہوتی۔ بعض افراد میں responsive desire — ردِعمل کے طور پر پیدا ہونے والی خواہش زیادہ نمایاں ہو سکتی ہے، یعنی جذباتی قربت، سکون، توجہ اور محفوظ ماحول کے بعد خواہش بیدار ہوتی ہے۔

اس کے برعکس کچھ افراد میں خواہش پہلے محسوس ہوتی ہے اور وہ قربت کی طرف بڑھتے ہیں۔

یہ فرق کبھی کبھی ایک ہی تعلق میں موجود دو افراد کے لیے بہت مختلف تجربہ پیدا کرتا ہے۔

♈جب اختلاف خاموشی سے رشتے کی زبان بدل دے♈

اگر خواہش کا فرق بار بار ہو اور اس پر صحت مند گفتگو نہ ہو تو ایک ساتھی خود کو ناپسندیدہ محسوس کر سکتا ہے، جبکہ دوسرا خود کو pressured یعنی دباؤ میں محسوس کرنے لگتا ہے۔

پھر ایک شخص زیادہ کوشش کرتا ہے، دوسرا مزید پیچھے ہٹتا ہے، اور دونوں کے درمیان وہی چکر بن سکتا ہے جو کسی بھی حساس موضوع میں پیدا ہوتا ہے: ایک جتنا یقین چاہتا ہے، دوسرا اتنا ہی دفاعی ہو جاتا ہے۔

یہاں مسئلہ صرف یہ نہیں رہتا کہ "کس کی خواہش زیادہ ہے؟" بلکہ سوال یہ بن جاتا ہے کہ کیا دونوں اپنی خواہش، حدود اور جذبات کے بارے میں بغیر شرمندگی اور الزام کے بات کر پا رہے ہیں؟

♈اصل مسئلہ خواہش کا فرق نہیں، اس فرق کا مطلب بنانا ہے♈

کسی بھی رشتے میں جنسی خواہش کا مکمل طور پر ایک جیسا ہونا ضروری نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ دونوں اس فرق کو ذاتی توہین، محبت کی کمی یا فرض کے طور پر نہ دیکھیں۔

اگر خواہش میں اچانک یا مستقل تبدیلی آئے، اس کے ساتھ جسمانی تکلیف، شدید ذہنی دباؤ یا دوسری قابلِ تشویش علامات ہوں تو طبی یا نفسیاتی جائزہ بھی مفید ہو سکتا ہے، کیونکہ کبھی اس فرق کے پیچھے صرف تعلق نہیں بلکہ جسمانی یا ذہنی عوامل بھی موجود ہوتے ہیں۔

اور شاید ایک صحت مند رشتے میں سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ "کون زیادہ چاہتا ہے؟"

بلکہ یہ ہے:

"کیا ہم ایک دوسرے کی خواہش کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی حدود اور خاموش ضرورتوں کو بھی سمجھ رہے ہیں؟"

کیونکہ جنسی قربت صرف خواہش کا نام نہیں؛ اس میں رضامندی، تحفظ، جذباتی سکون اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی صلاحیت بھی شامل ہوتی ہے۔

ڈاکٹر سعدی

Pakistan Psychological Forum | علمِ نفسیات
​ Pakistan Psychology Today
Psychoremedy Arabia
Psychoremedy

نارسیسزم: شخصیت، تعلقات اور معاشرتی اثراتنارسیسسٹک پرسنالٹی ڈس آرڈر ایک پیچیدہ نفسیاتی عارضہ ہے جسے صرف خود پسندی، غرور ...
21/08/2026

نارسیسزم: شخصیت، تعلقات اور معاشرتی اثرات

نارسیسسٹک پرسنالٹی ڈس آرڈر ایک پیچیدہ نفسیاتی عارضہ ہے جسے صرف خود پسندی، غرور یا اپنی ذات سے محبت تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے پیچھے شخصیت کی گہری نفسیاتی ساخت، اندرونی عدمِ تحفظ، دوسروں سے تعلق قائم کرنے میں دشواری اور اپنی قدر کے احساس کو برقرار رکھنے کی ایک خاص جدوجہد شامل ہو سکتی ہے۔

ایسے افراد بظاہر انتہائی پُراعتماد، کامیاب اور پُرکشش دکھائی دے سکتے ہیں، لیکن بعض صورتوں میں ان کے اندر اپنی ذات کے بارے میں گہرا عدمِ تحفظ بھی موجود ہو سکتا ہے۔ یہی تضاد نارسیسزم کو سمجھنے کے لیے بہت اہم ہے۔

نارسیسسٹک پرسنالٹی ڈس آرڈر کیا ہے؟

نارسیسسٹک پرسنالٹی ڈس آرڈر شخصیت کا ایک ایسا عارضہ ہے جس میں فرد اپنی اہمیت یا برتری کا غیر معمولی احساس رکھ سکتا ہے، دوسروں سے مسلسل تعریف اور توجہ کا خواہش مند ہو سکتا ہے اور دوسروں کے جذبات و ضروریات کو سمجھنے یا اہمیت دینے میں دشواری محسوس کر سکتا ہے۔

تاہم یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ہر خود پسند، پُراعتماد یا توجہ حاصل کرنے والا شخص نارسیسسٹ نہیں ہوتا۔ نارسیسسٹک خصوصیات عام انسانوں میں بھی مختلف درجات میں پائی جا سکتی ہیں، جبکہ باقاعدہ عارضے کی تشخیص کے لیے شخصیت کے دیرپا اور مختلف حالات میں نمایاں ہونے والے رویوں کا مکمل نفسیاتی جائزہ ضروری ہوتا ہے۔

نارسیسزم کو سمجھنے کے دو اہم نظریات

نارسیسزم کی نفسیاتی بنیادوں کو سمجھنے کے لیے مختلف نظریات پیش کیے گئے ہیں۔ ان میں ہنز کوہٹ اور اوٹو کرنبرگ کے نظریات خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

ہنز کوہٹ کے مطابق نارسیسزم کو بچپن میں مناسب جذباتی توجہ، قبولیت اور جذباتی ہم آہنگی نہ ملنے سے جوڑا جا سکتا ہے۔ اگر بچے کو اپنی ذات کے بارے میں صحت مند احساسِ قدر پیدا کرنے کے لیے مناسب جذباتی سہارا نہ ملے تو وہ اپنی اندرونی کمی کو چھپانے کے لیے خود کو غیر معمولی، خاص یا دوسروں سے برتر سمجھنے کا سہارا لے سکتا ہے۔

دوسری جانب اوٹو کرنبرگ نے نارسیسزم میں اندرونی جارحیت، حسد، دوسروں کو کم تر سمجھنے اور تعلقات میں طاقت کے مسائل پر زیادہ زور دیا۔ اس نظریے کے مطابق بظاہر بلند خود پسندی کے پیچھے دوسروں کے لیے حقارت یا شدید منفی جذبات بھی موجود ہو سکتے ہیں۔

یوں ایک نظریہ اندرونی کمی اور عدمِ تحفظ پر زیادہ توجہ دیتا ہے، جبکہ دوسرا جارحیت، حسد اور دوسروں کو کم تر سمجھنے کے رجحان کو نمایاں کرتا ہے۔

نارسیسزم کے دو نمایاں انداز

نارسیسزم ہمیشہ ایک ہی شکل میں ظاہر نہیں ہوتا۔

۱۔ نمایاں یا بڑائی پر مبنی نارسیسزم

اس انداز میں فرد خود کو دوسروں سے بہتر سمجھ سکتا ہے، اپنی کامیابیوں پر فخر کر سکتا ہے، مسلسل توجہ اور تعریف چاہ سکتا ہے اور تنقید کو برداشت کرنے میں دشواری محسوس کر سکتا ہے۔

ایسا شخص بظاہر بہت پُراعتماد، بااثر اور پُرکشش دکھائی دے سکتا ہے۔

۲۔ پوشیدہ یا کمزور نارسیسزم

اس صورت میں نارسیسزم زیادہ خاموش انداز میں ظاہر ہو سکتا ہے۔ فرد خود کو نظرانداز کیا گیا، مظلوم یا دوسروں کی طرف سے ناانصافی کا شکار محسوس کر سکتا ہے۔ اس کے اندر احساسِ کمتری اور دوسروں سے قبولیت حاصل کرنے کی شدید خواہش بھی موجود ہو سکتی ہے۔

یہ دونوں انداز ہمیشہ مکمل طور پر الگ نہیں ہوتے۔ ایک ہی فرد مختلف حالات میں کبھی بہت مغرور اور برتر، جبکہ کبھی انتہائی حساس، مظلوم اور کم تر محسوس کر سکتا ہے۔

ہمدردی میں دشواری

نارسیسزم کا ایک اہم پہلو دوسروں کے جذبات سے تعلق رکھنے کی دشواری ہے۔

بعض نارسیسسٹک افراد دوسروں کے جذبات کو سمجھنے اور پہچاننے کی اچھی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ جان سکتے ہیں کہ سامنے والا کس بات سے خوش، غمگین یا پریشان ہے۔ لیکن کسی کے جذبات کو سمجھ لینا لازماً یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ اس کے درد کو اسی شدت سے محسوس بھی کرتے ہیں۔

اسی لیے بعض اوقات ایک شخص یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کے رویے سے سامنے والے کو تکلیف ہو رہی ہے، اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتا۔

نارسیسسٹک چوٹ اور شدید غصہ

جب کسی فرد کے اپنے بارے میں قائم کردہ تصور کو تنقید، مسترد کیے جانے، ناکامی یا تذلیل سے خطرہ محسوس ہوتا ہے تو اس کے اندر شدید جذباتی ردِعمل پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ ردِعمل غصے، دفاعی رویے، دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے، توہین یا تعلق ختم کرنے کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے۔

اس کیفیت کو عموماً نارسیسسٹک چوٹ اور نارسیسسٹک غصے کے تناظر میں سمجھا جاتا ہے۔

بعض اوقات مسئلہ صرف غصہ نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پیچھے یہ گہرا خوف بھی موجود ہو سکتا ہے کہ:

“اگر میں اتنا خاص یا بہترین نہیں ہوں تو پھر میری قدر کیا ہے؟”

تعلقات میں نارسیسسٹک رویوں کا چکر

کچھ نارسیسسٹک تعلقات میں ابتدا بہت زیادہ توجہ، محبت، تعریف اور غیر معمولی دلچسپی سے ہو سکتی ہے۔ اسے عام طور پر محبت کی حد سے زیادہ بارش یا لوو بومبنگ کہا جاتا ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ یہی رویہ تنقید، بے قدری، توجہ میں کمی، جذباتی فاصلے یا ساتھی کو کم تر محسوس کروانے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

بعض تعلقات میں پھر اچانک دوبارہ محبت اور امید پیدا کی جاتی ہے، جس سے ایک ایسا چکر بن سکتا ہے جس میں دوسرا شخص مسلسل الجھن اور جذباتی اتار چڑھاؤ کا شکار رہتا ہے۔

تاہم یہ بات بہت اہم ہے کہ ہر شدید محبت، مشکل تعلق یا بار بار ہونے والی بحث کو نارسیسسٹک تعلق قرار نہیں دیا جا سکتا۔

نارسیسزم کے ممکنہ اسباب

نارسیسسٹک پرسنالٹی ڈس آرڈر کی کوئی ایک وجہ ثابت نہیں ہے۔ اس میں مختلف حیاتیاتی، مزاجی، نفسیاتی، نشوونمایی اور ماحولیاتی عوامل مختلف درجات میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

بچپن کے تجربات بھی اہم ہو سکتے ہیں۔ بعض بچوں کو جذباتی طور پر نظرانداز کیا جاتا ہے، جبکہ بعض کو ضرورت سے زیادہ خاص اور دوسروں سے برتر قرار دیا جاتا ہے۔ کچھ بچوں کو یہ احساس بھی دیا جا سکتا ہے کہ ان کی قدر صرف کامیابی، کارکردگی یا والدین کی توقعات پوری کرنے سے وابستہ ہے۔

ایسے حالات میں بچہ یہ سیکھ سکتا ہے:

“مجھے قابلِ قدر رہنے کے لیے ہمیشہ کچھ ثابت کرنا ہوگا۔”

حد سے زیادہ تعریف اور مشروط محبت

بچپن میں حد سے زیادہ تعریف بھی بعض حالات میں ایک پیچیدہ صورتِ حال پیدا کر سکتی ہے، خصوصاً جب تعریف بچے کی حقیقی کوشش یا شخصیت کے بجائے اس کی برتری سے وابستہ ہو۔

اگر بچے کو مسلسل یہ پیغام ملے کہ:

“تم سب سے بہتر ہو، تمہیں ہمیشہ کامیاب ہونا ہے اور تمہیں دوسروں سے آگے رہنا ہے”

تو ممکن ہے کہ وہ اپنی اندرونی قدر کے بجائے بیرونی تعریف پر زیادہ انحصار کرنا سیکھے۔

بعد میں اسے مسلسل توجہ، تعریف اور توثیق کی ضرورت محسوس ہو سکتی ہے۔ بظاہر وہ انتہائی پُراعتماد نظر آئے، لیکن تنقید، ناکامی یا مسترد کیے جانے کی صورت میں اس کا اندرونی عدمِ تحفظ نمایاں ہو سکتا ہے۔

یعنی ظاہری پیغام ہو سکتا ہے:

“میں بہت خاص ہوں۔”

جبکہ اندرونی خوف یہ ہو سکتا ہے:

“اگر میں خاص ثابت نہ ہوا تو شاید میں قابلِ قدر نہیں ہوں۔”

نارسیسزم اور معاشرہ

نارسیسزم صرف خاندان یا ذاتی تعلقات تک محدود نہیں۔ معاشرتی اور ثقافتی ماحول بھی بعض نارسیسسٹک رویوں کو تقویت دے سکتا ہے۔

ایسے معاشرے میں جہاں ظاہری شخصیت کو اصل کردار سے، کامیابی کو انسان کی قدر سے، اور خود نمائی کو حقیقی صلاحیت سے زیادہ اہمیت دی جائے، وہاں مسلسل تعریف اور دوسروں کی منظوری حاصل کرنے کی خواہش بڑھ سکتی ہے۔

خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں انسان کو بار بار یہ پیغام ملتا ہے:

“اپنی کامیابی دکھاؤ، خود کو نمایاں کرو، دوسروں سے بہتر نظر آؤ اور لوگوں کی توجہ حاصل کرو۔”

یہ رویے ہر شخص میں نارسیسزم پیدا نہیں کرتے، لیکن کچھ افراد میں پہلے سے موجود نارسیسسٹک رجحانات کو تقویت دے سکتے ہیں۔

کرسٹوفر لاش اور ثقافتی نارسیسزم

مفکر کرسٹوفر لاش نے اپنی کتاب The Culture of Narcissism میں اس خیال پر بحث کی کہ بعض جدید معاشرتی حالات خود پسندی اور مسلسل خود نمائی کے رجحانات کو فروغ دے سکتے ہیں۔

اس نقطۂ نظر کے مطابق مسئلہ صرف یہ نہیں کہ:

“ایک شخص نارسیسسٹک کیوں ہے؟”

بلکہ یہ سوال بھی اہم ہے:

“کیا ہمارا معاشرہ بعض نارسیسسٹک رویوں کو کامیابی اور انعام بھی دے رہا ہے؟”

اگر کسی معاشرے میں ظاہری تاثر، شہرت، طاقت، کامیابی اور مسلسل خود تشہیر کو زیادہ اہمیت دی جائے تو انسان کی اصل شخصیت اور اندرونی کردار کے بجائے اس کی ظاہری تصویر زیادہ اہم ہو سکتی ہے۔

ایک اہم نفسیاتی حقیقت

نارسیسزم کو سمجھتے ہوئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ خود اعتمادی اور نارسیسزم ایک ہی چیز نہیں ہیں۔

صحت مند خود اعتمادی میں انسان اپنی خوبیوں کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی خامیوں کو بھی قبول کر سکتا ہے۔ وہ تنقید سے سیکھ سکتا ہے، دوسروں کی کامیابی سے خطرہ محسوس کیے بغیر خوش ہو سکتا ہے اور دوسروں کے جذبات کو اہمیت دے سکتا ہے۔

اس کے برعکس غیر صحت مند نارسیسسٹک رویوں میں انسان کی اپنی قدر کا احساس دوسروں کی تعریف، برتری، کامیابی یا مسلسل توجہ پر زیادہ منحصر ہو سکتا ہے۔

آخر میں

نارسیسزم کو صرف یہ دیکھ کر نہیں سمجھا جا سکتا کہ کوئی شخص باہر سے کتنا مغرور یا خود پسند نظر آتا ہے۔

اصل میں یہ دیکھنا زیادہ اہم ہے کہ:

وہ اپنی قدر کو کس چیز سے جوڑتا ہے؟
تنقید اور ناکامی کو کس طرح برداشت کرتا ہے؟
مسترد کیے جانے پر اس کا ردِعمل کیا ہوتا ہے؟
کیا وہ دوسروں کے جذبات کو اہمیت دے سکتا ہے؟
اور کیا اس کی شخصیت کے یہ رویے مستقل طور پر اس کے تعلقات اور روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہے ہیں؟

اور سب سے اہم بات، کسی شخص کو صرف چند رویوں کی بنیاد پر “نارسیسسٹ” قرار دینا درست نہیں۔ باقاعدہ تشخیص کے لیے ماہرِ نفسیات یا ماہرِ نفسیاتِ امراض کی جانب سے مکمل طبی اور نفسیاتی جائزہ ضروری ہوتا ہے۔

Psycoremedy
Aisha Clinical Psychologist

الزائمر صرف بھولنے کا نام نہیں… یہ دماغ کے اندر ہونے والی ایک خاموش تبدیلی ہے، جو یادداشت، سوچ اور شخصیت تک کو متاثر کر ...
21/08/2026

الزائمر صرف بھولنے کا نام نہیں…

یہ دماغ کے اندر ہونے والی ایک خاموش تبدیلی ہے، جو یادداشت، سوچ اور شخصیت تک کو متاثر کر سکتی ہے۔

جانیں، سمجھیں، اور علامات کو نظرانداز نہ کریں۔

کبھی کبھی مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ آپ کو گھبراہٹ کیسے روکنی ہے معلوم نہیں… مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کا ذہن بار بار اسی جگہ کی...
21/08/2026

کبھی کبھی مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ آپ کو گھبراہٹ کیسے روکنی ہے معلوم نہیں… مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کا ذہن بار بار اسی جگہ کیوں پہنچ رہا ہے۔
اگر یہ کیفیت بار بار لوٹ رہی ہے، شاید اب صرف اسے برداشت کرنے کے بجائے اس کی جڑ سمجھنے کا وقت ہے۔

آپ کے گھر والے یہ نہیں سوچتے کہ بات کیسے کریں —یہ سوچتے ہیں کہ آج آپ کس موڈ میں ہیں۔یہ عزت نہیں۔ یہ ڈر ہے۔اور جو غصہ باس...
21/08/2026

آپ کے گھر والے یہ نہیں سوچتے کہ بات کیسے کریں —
یہ سوچتے ہیں کہ آج آپ کس موڈ میں ہیں۔
یہ عزت نہیں۔ یہ ڈر ہے۔
اور جو غصہ باس کے سامنے رک جاتا ہے، وہ بےقابو نہیں — بس گھر کے لیے بچا کر رکھا جاتا ہے۔
اچھی خبر یہ ہے کہ جو رویہ آپ روک سکتے ہیں، اُسے بدلا بھی جا سکتا ہے۔
Anger Management — پہلی نشست کے لیے پیغام بھیجیں۔
📞 +92 301 9564075

آپ نے آخری بار کس پر غصہ نکالا جو اس کا حقدار نہیں تھا؟

⁠ #غصہ

فون بار بار چیک کرنا۔ جواب نہ آئے تو دل بیٹھ جانا۔آپ کا پورا دن کسی ایک شخص کے موڈ پر ٹنگا ہوتا ہے — اور وہ اس بات سے بے...
21/08/2026

فون بار بار چیک کرنا۔ جواب نہ آئے تو دل بیٹھ جانا۔
آپ کا پورا دن کسی ایک شخص کے موڈ پر ٹنگا ہوتا ہے — اور وہ اس بات سے بےخبر ہے۔

محبت میں کسی کی ضرورت ہونا فطری ہے۔ مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب اُس کے بغیر اپنی قدر ہی نظر آنا بند ہو جائے۔

Emotional Regulation — سیشن بک کرنے کے لیے پیغام کریں۔
📞 +92 301 9564075

آپ نے آخری بار کب کسی کا جواب آنے تک سکون سے کوئی کام کیا تھا؟



Psychoremedy
Pakistan Psychological Forum | علمِ نفسیات

Psychoremedy Pakistan Psychological Forum | علمِ نفسیات​
21/08/2026

Psychoremedy
Pakistan Psychological Forum | علمِ نفسیات

Psychoremedy
20/08/2026

Psychoremedy

کبھی ہم خود کو بدلنے کے لیے لڑتے رہے… پھر خود کو سمجھنے لگے۔ اصل تبدیلی تب آتی ہے جب انسان دوسروں کو بدلنے کے بجائے خود ...
20/08/2026

کبھی ہم خود کو بدلنے کے لیے لڑتے رہے… پھر خود کو سمجھنے لگے۔

اصل تبدیلی تب آتی ہے جب انسان دوسروں کو بدلنے کے بجائے خود پر کام کرنا شروع کرتا ہے۔

تھراپی صرف باتیں نہیں… یہ وہ جگہ ہے جہاں آپ اپنے درد کے پیچھے چھپی اصل کہانی سمجھنا شروع کرتے ہیں۔
20/08/2026

تھراپی صرف باتیں نہیں… یہ وہ جگہ ہے جہاں آپ اپنے درد کے پیچھے چھپی اصل کہانی سمجھنا شروع کرتے ہیں۔

Address

Sialkot Wazirbad Road Near Superior College Sambrial
Sambrial
51070

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Psychoremedy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Psychoremedy:

Shortcuts

Share