26/08/2026
حرام زادہ
گندہ ہے پر دھندہ یے۔۔۔۔۔
نجانے کس کا بچہ کس کے گھر میں پیدا ہو جاے۔
------------------------------------------------------------------------------------
بے اولادی انسان کو کہاں لے جاتی ہے۔۔۔۔
کچھ لیبارٹریز اس ملک میں ایک نئے دھندے میں ملوث ہیں کہ جن کے ہاں اولاد نہیں ہو رہی یا جن کا مرد کمزور ہے وہ ہم سے رابطہ کریں ۔ مرد کے سپرم رکھوائیں اور بچہ شروع۔
یہ 25000 سے 50000 میں کھیل چل رہا ہے۔ کہ عورتوں کو جھانسہ دیا جاتا ہے۔ کہ ہم سیمپل رکھیں گے۔ وہ سیمپل وہی ہوتا ہے جو کسی ان کے جان پہچان والے مرد کا ہوتا ہے یا کسی لیب سے اٹھاتے ہیں جہاں کوئی دوسرا شریف مرد اپنا سیمن ٹیسٹ کروانے کے کیے سیمپل دیتا ہے وہاں سے فریش سیمپل اٹھا کا اس کا سپرم کسی دوسری عورت کے رحم میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اور اس سارے معاملے کو کھول کر نہیں بتایا جاتا کہ شرعی احکام سے ڈر کر کسٹمر بھاگ نہ جاے۔ گول مٹول باتوں میں یہ بتا کر پروسس پورا کر ڈیا جاتا ہے۔ اور کسی کا بچہ کسی کے گھر میں جنم لے رہا ہوتا ہے۔۔۔
کئی لوگ جن کے سیمن بہت طاقتور ہوتے ہیں وہ باقاعدہ ڈونر لیبز کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں ۔اپنا سیمن بیچتے ہیں ۔
یہ کام عام لیبز پر نہیں ہوتے بلکہ خفیہ جگہوں پو ہوتے ہیں ۔جہقں کسٹمر کو باقاعدہ لیجایا جاتا ہے ۔
جو بے اولاد مرد یا عورتیں ہوتی ہیں وہ اپنے سسرال یا رشتہ داروں کی وجہ سے اتنی پریشان ہو جاتی ہیں کہ وہ کئی بار جان بوجھ کر یہ قدم اٹھا کیتی ہیں کہ میں کہنے والی تو بنوں کہ میں بھی باپ یا ماں بن گئ ہوں۔ اس فرسٹیشن ، ڈہریشن اینزائٹی سے بچنے کے لیے بھی یہ قدم اٹھایا جاتا ہے۔۔
اور اس کا سارا قصور معاشرے کا ہے جس نے اتنا دبایا کہ وہ شرعیت بھول کر کسی انتہائی غلیظ کام میں جا گھسے۔ اور بچہ بنوا لیا ۔۔لیکن وہ کس کا یے کوئی پتی نہیں
اور جو لیب والے خفیہ طور پر یہ کر رہے ہیں ان کو بھی الکہ ہداییت دے یہ بھت کمینہ کام ہے بعض ا جاو۔ اللہ کو کیا جواب دو گے۔۔
یہ کہانی ایک عورت نے سنائی جا کو 25000 پر بلایا گیا کہ کام کروا دیتے ہیں ۔ جو بعد میں ایک گائناکالوجسٹ ڈاکٹر صاحبہ نے سنائی۔
ڈاکٹر عتیق فاروق فرازی