09/06/2026
کیا آپ بھی اس غلط فہمی کا شکار ہیں؟ 🤔
"گرمی ہو تو ٹھنڈا، سردی ہو تو گرم..." کیا آپ بھی کھانوں کو اسی پرانے پیمانے سے پرکھتے ہیں؟ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بعض غذائیں بدن میں "گرمی" پیدا کرتی ہیں اور کچھ "ٹھنڈک"۔ لیکن سائنسی حقیقت کیا ہے؟
ہمارے سرگودھا کے معروف اور انتہائی تجربہ کار کنسلٹنٹ گیسٹرو انٹرالوجسٹ و ہیپاٹالوجسٹ، ڈاکٹر خواجہ توصیف اظہر، آپ کی اسی الجھن کو دور کرنے کے لیے حاضر ہیں۔ انہوں نے اپنے وسیع کلینیکل تجربے کی روشنی میں اس اہم موضوع پر سے پردہ اٹھایا ہے۔
📌 بنیادی سائنسی حقیقت:
ہمارے ڈاکٹر کے مطابق، انسانی جسم کا درجہ حرارت کسی غذا کی تاثیر سے نہیں، بلکہ دماغ میں موجود ہائپوتھیلمس (Hypothalamus) کے قدرتی نظام کے تحت کنٹرول ہوتا ہے۔ کھانا ہضم ہونے کے دوران میٹابولزم میں معمولی اضافہ عارضی ہوتا ہے، اسے "جسم کی گرمی" سمجھنا محض ایک مغالطہ ہے۔
✨ پوسٹر کے اہم ترین نکات جو آپ کو لازمی جاننے چاہئیں:
غلط فہمیاں بمقابلہ حقیقت (Myths vs Facts): اگر آپ صحت مند ہیں تو مناسب مقدار میں انڈا، مچھلی، گوشت اور آم کھا سکتے ہیں۔ اصل مسئلہ تاثیر کا نہیں بلکہ مقدار اور ہاضمے (Digestion) کا ہوتا ہے۔
کھانوں کا احساس: کچھ غذائیں زیادہ پانی کی وجہ سے زود ہضم ہوتی ہیں اور ٹھنڈک کا احساس دیتی ہیں، جبکہ پروٹین اور کیفین جیسی چیزیں میٹابولزم اور دل کی دھڑکن بڑھاتی ہیں جس سے حرارت محسوس ہوتی ہے۔
ڈاکٹر کا بہترین مشورہ: بہت سے لوگ آئی بی ایس (IBS)، تیزابیت، الرجی یا شوگر کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ گرم یا سرد کی لایعنی بحث میں پڑنے کے بجائے اس بات پر دھیان دیں کہ ان کے اپنے جسم کو کیا موافق ہے۔
صحت مند طرزِ زندگی کی بنیاد: یاد رکھیں! توازن ہی سب کچھ ہے۔ متوازن غذا، مناسب پانی کا استعمال، باقاعدہ ورزش اور پرسکون نیند ہی اصل صحت کی ضامن ہے۔
🏥 صحت کے مسائل کے درست حل کے لیے آج ہی رجوع کریں:
ڈاکٹر خواجہ توصیف اظہر صاحب سے ان کے کلینک پر ملاقات کریں:
📍 وی آئی پی نیازی میڈیکل کمپلیکس، کلب روڈ، سرگودھا
📞 رابطہ نمبر: 0304-6435537
صحت کے متعلق ایسی ہی سائنسی اور مستند معلومات کے لیے ہمارے پیج کو لائک اور فالو کریں!
#سرگودھا