03/09/2026
بچپن میں جب بچہ چلنا سیکھ رہا ہوتا ہے تو شروع کے دنوں میں پنجوں کے بل چلنا ایک عام اور فطری بات ہے۔ اس مرحلے پر بچے کا توازن، پٹھے اور اعصابی نظام ابھی نشوونما کے عمل میں ہوتے ہیں۔ زیادہ تر بچے چند ہی مہینوں میں آہستہ آہستہ پورا پاؤں زمین پر رکھ کر چلنا سیکھ لیتے ہیں اور یہ عادت خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔
البتہ بعض بچوں میں پنجوں کے بل چلنا عارضی عادت کے بجائے کسی جسمانی یا اعصابی مسئلے کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ ایک عام وجہ ایڑی کے پٹھے، جسے ایکیلیز ٹینڈن کہا جاتا ہے، کا غیر معمولی طور پر چھوٹا ہونا ہے۔ ایسی صورت میں بچے کی ایڑی زمین تک پوری طرح نہیں پہنچ پاتی اور وہ مجبوری میں پنجوں پر چلتا ہے۔
عمومی طور پر دو سال کی عمر کے بعد بچے کو پورے پاؤں کے ساتھ چلنا شروع کر دینا چاہیے۔ اگر دو سال کے بعد بھی بچہ مسلسل پنجوں کے بل چلتا رہے، یا وقت کے ساتھ یہ عادت بڑھتی جائے، تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ کیفیت بعض اوقات اندرونی بیماری یا اعصابی کمزوری کی طرف اشارہ کر سکتی ہے۔
اس کی ممکنہ وجوہات میں پٹھوں کی پیدائشی بیماریاں، دماغی کمزوری یا سیریبرل پالسی، ایکیلیز ٹینڈن کا چھوٹا ہونا، آٹزم، یا دیگر نیورولوجیکل مسائل شامل ہو سکتے ہیں۔ بعض بچوں میں یہ صرف ایک عادت بھی ہو سکتی ہے، لیکن درست فرق جاننا بہت ضروری ہے۔
علاج اور نگہداشت بچے کی وجہ کے مطابق کی جاتی ہے۔ زیادہ تر کیسز میں ابتدائی معائنہ، فزیوتھراپی اور مخصوص ورزشوں سے واضح بہتری آ جاتی ہے۔ بعض بچوں کو خاص جوتوں یا سپورٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔ بہت کم اور پیچیدہ صورتوں میں سرجری کی ضرورت پیش آتی ہے۔
اہم پیغام والدین کے لیے:
اگر آپ کا بچہ دو سال کی عمر کے بعد بھی مسلسل پنجوں کے بل چل رہا ہو، یا ساتھ میں چلنے میں لڑکھڑاہٹ، کمزوری، یا نشوونما میں تاخیر نظر آئے، تو خود اندازے لگانے کے بجائے لازمی طور پر چائلڈ نیورولوجسٹ سے مشورہ کریں۔ بروقت تشخیص سے علاج آسان اور مؤثر ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ چائلڈ نیورولوجسٹ
ایگزیکٹو کلینک، فاطمہ میموریل ہسپتال، لاہور