Maryam Nawaz Health Clinic Hathiwind Bhera

Call Contact the business

Maryam Nawaz Health Clinic Hathiwind Bhera Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Maryam Nawaz Health Clinic Hathiwind Bhera, Medical and health, MNHC Hathiwind tehsil bhera distt sargodha, Sargodha.

مریم نواز ہیلتھ کلینک ہاتھی ونڈ نے 26 مئی 2025 کو کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ MNHC وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے وژن اور مشن کے تحت کام کر رہا ہے۔ ہم OPD چیک اپ، ڈیلیوری اور الٹراساؤنڈ، ویکسینیشن، فیملی پلاننگ اور میڈیسن 24/7 مفت فراہم کر رہے ہیں۔

03/09/2026

بچپن میں جب بچہ چلنا سیکھ رہا ہوتا ہے تو شروع کے دنوں میں پنجوں کے بل چلنا ایک عام اور فطری بات ہے۔ اس مرحلے پر بچے کا توازن، پٹھے اور اعصابی نظام ابھی نشوونما کے عمل میں ہوتے ہیں۔ زیادہ تر بچے چند ہی مہینوں میں آہستہ آہستہ پورا پاؤں زمین پر رکھ کر چلنا سیکھ لیتے ہیں اور یہ عادت خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔
البتہ بعض بچوں میں پنجوں کے بل چلنا عارضی عادت کے بجائے کسی جسمانی یا اعصابی مسئلے کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ ایک عام وجہ ایڑی کے پٹھے، جسے ایکیلیز ٹینڈن کہا جاتا ہے، کا غیر معمولی طور پر چھوٹا ہونا ہے۔ ایسی صورت میں بچے کی ایڑی زمین تک پوری طرح نہیں پہنچ پاتی اور وہ مجبوری میں پنجوں پر چلتا ہے۔
عمومی طور پر دو سال کی عمر کے بعد بچے کو پورے پاؤں کے ساتھ چلنا شروع کر دینا چاہیے۔ اگر دو سال کے بعد بھی بچہ مسلسل پنجوں کے بل چلتا رہے، یا وقت کے ساتھ یہ عادت بڑھتی جائے، تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ کیفیت بعض اوقات اندرونی بیماری یا اعصابی کمزوری کی طرف اشارہ کر سکتی ہے۔
اس کی ممکنہ وجوہات میں پٹھوں کی پیدائشی بیماریاں، دماغی کمزوری یا سیریبرل پالسی، ایکیلیز ٹینڈن کا چھوٹا ہونا، آٹزم، یا دیگر نیورولوجیکل مسائل شامل ہو سکتے ہیں۔ بعض بچوں میں یہ صرف ایک عادت بھی ہو سکتی ہے، لیکن درست فرق جاننا بہت ضروری ہے۔
علاج اور نگہداشت بچے کی وجہ کے مطابق کی جاتی ہے۔ زیادہ تر کیسز میں ابتدائی معائنہ، فزیوتھراپی اور مخصوص ورزشوں سے واضح بہتری آ جاتی ہے۔ بعض بچوں کو خاص جوتوں یا سپورٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔ بہت کم اور پیچیدہ صورتوں میں سرجری کی ضرورت پیش آتی ہے۔
اہم پیغام والدین کے لیے:
اگر آپ کا بچہ دو سال کی عمر کے بعد بھی مسلسل پنجوں کے بل چل رہا ہو، یا ساتھ میں چلنے میں لڑکھڑاہٹ، کمزوری، یا نشوونما میں تاخیر نظر آئے، تو خود اندازے لگانے کے بجائے لازمی طور پر چائلڈ نیورولوجسٹ سے مشورہ کریں۔ بروقت تشخیص سے علاج آسان اور مؤثر ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ چائلڈ نیورولوجسٹ
ایگزیکٹو کلینک، فاطمہ میموریل ہسپتال، لاہور

02/09/2026

آج نیورولوجی کلینک، فاطمہ میموریل ہسپتال میں ایک نوزائیدہ بچے کا معائنہ کیا، جس کی کمر پر پیدائیشی پھوڑا تھا،بچے کی ٹانگوں میں بھی حرکت نہین اور تھی اور سر کا سائز بھی زیادہ تھا جو الٹراساونڈ پر سر میں پانی بتایا گیا تھا ۔ ان تمام مسائل کو ہم نیورل ٹیوب ڈیفیکٹ کہتے ہیں اور اسکی ایک اھم وجہ حاملہ عورت میں فولک ایسڈ کی کمی ہے۔ والدین سے جب پوچھا گیا تو پتا چلا کہ ماں نے حمل کے دوران فولک ایسڈ کا استعمال نہیں کیا تھا۔
فولک ایسڈ کی کمی بچے میں نیورل ٹیوب ڈیفیکٹس پیدا کرنے کا ایک اہم سبب بن سکتی ہے۔

نیورل ٹیوب حمل کے ابتدائی ہفتوں میں بنتی ہے اور یہ دماغ، ریڑھ کی ہڈی اور حرام مغز کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اگر یہ ٹیوب صحیح طریقے سے بند نہ ہو تو بچے میں شدید نقائص پیدا ہو سکتے ہیں، جیسے کمر پر پھوڑا، سر میں پانی کا جمع ہونا، پاؤں یا نچلے دھڑ میں معذوری، اور بعض صورتوں میں پیشاب یا پاخانے کے کنٹرول میں مسائل۔ یہ نقائص اکثر مستقل نوعیت کے ہوتے ہیں اور بچے میں زندگی بھر کی معزوری کروا سکتے ہیں۔

یہ تمام والدین کے لیے ایک اہم پیغام ہے کیونکہ ہمارے ملک میں کئی حاملہ خواتین حمل کے ابتدائی ہفتوں میں فولک ایسڈ کا استعمال نہیں کرتیں، یا انہیں اس کی اہمیت کا علم نہیں ہوتا۔
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ ہر حاملہ عورت کو حمل کے پہلے تین مہینوں میں روزانہ فولک ایسڈ لینا چاہیے تاکہ بچے کی نیورل ٹیوب کی مناسب تشکیل ہو سکے۔ اگر ماں کے سابقہ بچے میں نیورل ٹیوب ڈیفیکٹ ہوا ہو تو خوراک بڑھا کر چار ملی گرام کر کے حمل کی منصوبہ بندی سے پہلے شروع کرنی چاہیے۔ فولک ایسڈ کے استعمال کا آغاز حمل ٹیسٹ پوزیٹیو آنے کے انتظار سے پہلے کرنا ضروری ہے کیونکہ نیورل ٹیوب کا بننا حمل کے پہلے مہینے میں مکمل ہوجاتا ہے، اور اس وقت تک حمل کے ٹیسٹ سے حمل کنفرم نہی ہو تا ۔

مزید رہنمائی کے لیے والدین کو چاہیے کہ وہ حمل کے دوران متوازن غذا استعمال کریں، جیسے سبز پتوں والی سبزیاں، دالیں، انڈے اور دیگر وٹامن B9 سے بھرپور غذائیں۔ فولک ایسڈ کے استعمال کے لیے ہمیشہ ڈاکٹر یا چائلڈ نیورولوجسٹ کی رہنمائی لیں اور کسی بھی دوا یا سپلیمنٹ کے استعمال سے پہلے مشورہ ضروری ہے۔ بروقت احتیاط، صحیح معلومات اور مناسب رہنمائی بچے کی زندگی اور صحت میں نمایاں فرق ڈال سکتی ہے۔ نیورل ٹیوب ڈیفیکٹس کے زیادہ تر کیسز ابتدائی احتیاط اور فولک ایسڈ کے استعمال سے روکے جا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ چائلڈ نیورولوجسٹ
ایگزیکٹو کلینک، فاطمہ میموریل ہسپتال، لاہور

03/08/2026

آج ہماری نیورولوجی او پی ڈی میں ایک چھے سالہ بچی آئی، جسے نیند سے جاگتے ہی اچانک عجیب و غریب چیزیں نظر آناشروع ہو گئیں۔ بچی کے مطابق اس کے ہاتھ، جسم کے دوسرے حصے اور آس پاس کی چیزیں غیر معمولی طور پر چھوٹی چھوٹی نظر آنے لگیں۔ کبھی کبھی چیزیں بڑی بھی محسوس ہوئیں۔ یہ حالت تقریباً ایک گھنٹے تک رہی اور پھر اسے سر میں درد شروع ہو گیا۔ اس کے علاوہ بچے کو کوئی جھٹکے، چکر، یا کمزوری نہیں ہوئی، اور وہ عام طور پر بالکل ٹھیک محسوس کر رہی تھی، لیکن والدین بہت پریشان تھے۔

یہ علامات Alice in Wonderland Syndrome کے مطابق ہیں، جو ایک بہت کم دیکھی جانے والی دماغی کیفیت ہے۔ اس میں بچے کو اپنی آنکھوں سے چیزوں کا سائز یا شکل ابنارمل نظر آتا ہے، یا اپنے جسم کے سائز کے بارے میں عجیب سا احساس ہوتا ہے۔ اس میں سب سے زیادہ اھم چیز یہ ہیں کہ بچے کو چیزیں چھوٹی یا بڑی دکھائی دیں، یا ہاتھ اور پاؤں کا سائز بدلتا ہوا محسوس ہو۔ کبھی کبھی فاصلے یا وقت کا اندازہ بھی غلط ہو جاتا ہے۔ یہ کیفیت عام طور پر عارضی ہوتی ہے اور خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہے، لیکن بعض اوقات یہ بار بار بھی ہو سکتی ہے۔

اس کیفیت کے پیچھے مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، مگر بچوں میں سب سے زیادہ عام وجہ مائیگرین ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مرگی، یا دیگر دماغی مسائل بھی اس کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس لیے اگر بچے کو بار بار ایسی چیزیں آئیں یا اس کے ساتھ شدید سر درد ہو، تو اس کی مناسب جانچ ضروری ہے۔

زیادہ تر کیسز میں یہ علامات خود ختم ہو جاتی ہیں، مگر اگر یہ بار بار ہو یا ساتھ میں دیگر علامات ہوں تو پھر مزید ٹیسٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ تشخیص کے لیے بچے کی مکمل ہسٹری اور جسمانی معائنہ ضروری ہوتا ہے۔ بعض اوقات دماغ کا سی ٹی اسکین یا ایم آر آئی (CT /MRI) اور ای ای جی (EEG) بھی کرایا جاتا ہے تاکہ بنیادی مسئلے کو دیکھا جا سکے۔

علاج بنیادی طور پر وجہ پر مبنی ہوتا ہے۔ اگر ما ئیگرین ہو تو اسکی کی دوائیں، اگر انفیکشن ہو تو اس کا علاج، اور اگر مرگی ہو تو مرگی کی دوائیں دی جاتی ہیں۔ بعض بچوں میں صرف نیند، خوراک اور روزمرہ کی عادات میں تبدیلی سے بھی بہت فرق آ جاتا ہے۔

والدین کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایسی صورت میں خود سے تشخیص نہ کریں اور خود علاج نہ کریں۔ اگر بچے میں بصری تبدیلیاں یا عجیب احساسات ہوں تو چائلڈ نیورولوجسٹ سے ضرور رجوع کریں تاکہ درست تشخیص اور علاج ہو سکے۔

ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ
چائلڈ اسپیشلسٹ اینڈ چائلڈ نیورولوجسٹ
ایگزیکٹو کلینک، فاطمہ میموریل ہسپتال، لاہور

02/02/2026
24/01/2026

Febrile Fits (بخار کے دورے)

بخار کے دورے یا جھٹکے بچوں میں دماغی جھٹکے لگنے کی ایک اھم وجہ ہیں اور عموماً چھ ماہ سے پانچ سال کی عمر کے بچوں میں تیز بخار کے دوران ہوتے ہیں۔ یہ دورے اس وجہ سے پڑتے ہیں کہ اس عمر میں بچے کا دماغ ابھی مکمل طور پر پختہ نہیں ہوتا اور بخار کے اچانک بڑھنے پر دماغ عارضی طور پر جھٹکوں کی صورت میں ردِعمل دیتا ہے۔ یہ دورے عام طور پر پورے جسم میں اکڑاؤ، ہاتھ پاؤں کے جھٹکے، آنکھوں کا اوپر کی طرف چلے جانا اور چند لمحوں کے لیے ہوش ختم ہونے کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ زیادہ تر دورے ایک سے پانچ منٹ میں خود ہی رک جاتے ہیں اور بچے کو کوئی مستقل دماغی نقصان نہیں پہنچتا، حالانکہ والدین کے لیے یہ کیفیت نہایت خوفناک ہوتی ہے۔

بخار کے دوروں کی بنیادی وجہ تیز بخار ہے، خاص طور پر جب بخار اچانک اور تیزی سے بڑھے۔ اکثر بچوں میں یہ بخار وائرل انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے جیسے نزلہ، زکام، کان کا انفیکشن، گلا خراب ہونا، سینے یا پیٹ کا انفیکشن۔ بعض اوقات حفاظتی ٹیکوں کے بعد بھی بخار آ سکتا ہے جو چند بچوں میں دورے کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ دورہ بخار کی شدت سے زیادہ اس کے تیزی سے بڑھنے کی وجہ سے پڑتا ہے، اسی لیے بعض بچوں کو نسبتاً کم بخار میں بھی دورہ ہو جاتا ہے۔

کچھ بچوں میں بخار کے دوروں کا رجحان خاندانی ہوتا ہے۔ اگر والدین، بہن بھائی یا قریبی رشتہ داروں کو بچپن میں بخار کے دورے پڑے ہوں تو بچے میں بھی اس کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر بچے کو پہلا دورہ کم عمر میں پڑے، بخار کے دوران بار بار دورے ہوں یا دورہ نسبتاً لمبا ہو تو آئندہ بخار میں دوبارہ دورے پڑنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

زیادہ تر بچوں میں کسی خاص دماغی ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ عام طور پر بخار کے دورے خود ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ تاہم بعض مخصوص حالات میں ڈاکٹر مزید جانچ کا مشورہ دیتے ہیں۔ ان میں دماغ کی برقی سرگرمی جانچنے کے لیے EEG اور دماغ کی ساخت دیکھنے کے لیے MRI برین ٹیسٹ شامل ہیں۔ یہ ٹیسٹ اس وقت ضروری ہو سکتے ہیں جب دورہ پندرہ منٹ سے زیادہ رہے، ایک ہی بخار میں بار بار دورے ہوں، دورہ جسم کے ایک حصے تک محدود ہو، بچہ دورے کے بعد دیر تک ہوش میں نہ آئے یا بچے کی نشوونما پہلے سے نارمل نہ ہو۔

بخار کے دوروں کے لیے عموماً کسی مستقل علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اصل مقصد بخار کی وجہ کو پہچاننا، انفیکشن کا مناسب علاج کرنا اور بخار کو قابو میں رکھنا ہوتا ہے۔ زیادہ تر بچوں میں جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے اور دماغ پختہ ہوتا ہے، بخار کے دورے خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے عام طور پر روزانہ یا طویل عرصے تک دوروں کی دوائیں دینا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔

کچھ بچوں میں جنہیں بار بار بخار کے دورے پڑتے ہوں یا جن کے پچھلے دورے طویل رہے ہوں، ڈاکٹر بخار کے دنوں میں منہ کے ذریعے دی جانے والی دوا Va**um tablet (Diazepam) تجویز کر سکتے ہیں۔ یہ دوا بخار کے شروع ہوتے ہی محدود مدت کے لیے دی جاتی ہے تاکہ دورے کے امکانات کم ہو سکیں۔ اس دوا کے ممکنہ اثرات میں غنودگی، کمزوری اور سستی شامل ہو سکتی ہے، اس لیے اسے صرف ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کرنا چاہیے۔

اگر دورہ پانچ منٹ سے زیادہ جاری رہے، یا بچہ بار بار دورے میں جا رہا ہو اور فوری طور پر ہسپتال پہنچنا ممکن نہ ہو تو Re**al Diazepam (Va**um suppository) استعمال کی جاتی ہے۔ یہ دوا پاخانے کے راستے دی جاتی ہے اور چند منٹ میں دورہ روکنے میں مدد دیتی ہے۔ ایسے بچوں کے والدین کو اس دوا کے درست استعمال، مقدار اور طریقہ کار کے بارے میں مکمل آگاہی اور تربیت دینا نہایت ضروری ہے۔

زیادہ تر بچوں میں بخار کے دوروں کے بعد مرگی ہونے کا خطرہ نہیں بڑھتا، تاہم کچھ خاص حالات میں مستقبل میں مرگی کا امکان نسبتاً زیادہ ہو سکتا ہے۔ ان خطرے کے عوامل میں دورے کا غیر معمولی ہونا، پندرہ منٹ سے زیادہ دیر تک رہنا، ایک ہی بخار میں بار بار دورے ہونا، دورے کا جسم کے ایک حصے تک محدود ہونا، بچے کی اعصابی نشوونما میں پہلے سے مسئلہ ہونا یا خاندان میں مرگی کے مسلے کا ہونا شامل ہیں۔ اس کے باوجود یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایسے بچوں کی تعداد بہت کم ہے اور اکثریت مکمل طور پر نارمل زندگی گزارتی ہے۔

دورے کے دوران والدین کا پرسکون رہنا سب سے اہم ہے۔ بچے کو ایک کروٹ کے بل لٹا دینا چاہیے تاکہ تھوک یا قے سانس کی نالی میں نہ جائے۔ اردگرد موجود سخت یا نوکیلی چیزیں ہٹا دیں، کپڑے ڈھیلے کریں اور دورے کا وقت نوٹ کریں۔ بچے کے منہ میں کچھ نہ ڈالیں، نہ پانی پلائیں اور نہ ہی جھٹکے روکنے کی کوشش کریں، کیونکہ اس سے دانت ٹوٹنے یا سانس رکنے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

اگر دورہ پانچ منٹ سے زیادہ رہے، ایک ہی دن میں بار بار دورے پڑیں، بچہ دورے کے بعد ہوش میں نہ آئے، جسم کے کسی حصے میں کمزوری محسوس ہو، بخار کے ساتھ گردن اکڑ جائے، مسلسل قے ہو یا بچے کی عمر چھ ماہ سے کم ہو تو فوراً ہسپتال لے جانا ضروری ہے کیونکہ ایسی صورت میں کسی سنگین بیماری کو خارج کرنا لازمی ہوتا ہے۔

بخار کم کرنے والی دوائیں بچے کو آرام پہنچاتی ہیں اور بخار کی شدت کم کرتی ہیں، لیکن یہ بخار کے دوروں کو مکمل طور پر روک نہیں سکتیں۔ پیراسیٹامول یا بروفن بچے کے وزن کے مطابق اور مناسب وقفے سے دینی چاہیے۔ بار بار یا ضرورت سے زیادہ دوائیں دینے سے فائدہ نہیں ہوتا بلکہ نقصان کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔

اچھی اور متوازن غذا بچے کی قوتِ مدافعت کو مضبوط بناتی ہے۔ جب قوتِ مدافعت بہتر ہوتی ہے تو انفیکشن کم ہوتے ہیں، بخار کم آتا ہے اور یوں بخار کے دوروں کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔ مکمل ویکسینیشن بچوں کو کئی سنگین بیماریوں سے بچاتی ہے، اس لیے حفاظتی ٹیکے وقت پر لگوانا بہت ضروری ہے۔

آئرن کی کمی والے بچوں میں بخار کے دورے زیادہ دیکھے گئے ہیں کیونکہ آئرن دماغ کی نشوونما اور اعصابی افعال کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس لیے آئرن سے بھرپور غذا جیسے گوشت، کلیجی، انڈا، دالیں، سبز پتوں والی سبزیاں اور خشک میوہ جات بچے کی روزمرہ خوراک میں شامل ہونے چاہئیں۔ اگر آئرن کی کمی زیادہ ہو تو ڈاکٹر آئرن کی دوا تجویز کرتے ہیں۔

بخار کے دوروں میں Piracetam کو مخصوص دوا کے طور پر معمول کے علاج میں شامل کرنے کی سفارش نہیں کی جاتی، کیونکہ اس کے فائدے کے حوالے سے مضبوط سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں۔ اس لیے اس دوا کو بغیر واضح وجہ اور ڈاکٹر کے مشورے کے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

یہ حقیقت ذہن میں رکھنی چاہیے کہ بخار کے دورے دیکھنے میں جتنے خوفناک محسوس ہوتے ہیں، زیادہ تر اتنے خطرناک نہیں ہوتے۔ درست معلومات، والدین کا سکون، بروقت فرسٹ ایڈ اور مناسب طبی رہنمائی بچے کی حفاظت اور والدین کے اطمینان کے لیے نہایت اہم ہیں۔
ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ چائلڈ نیورولوجسٹ
فاطمہ میموریل ہاسپٹل لاہور

27/12/2025

جب بچوں کا سینہ جب خراب ھو جاتا ھے تو کچھ مائیں بچوں کا سینہ کپڑے سے مضبوطی کےساتھ باندھ لیتے ھیں۔ یہ ایک انتہائ خطرناک عمل ھے اس سے بچے کی جان جا سکتی ھے۔ یہ بچے کو فائدہ کے بجائے نقصان پہنچاتی ھے کیونکہ جب سینہ خراب ہوجاتا ھے تو فطری عوامل انسان کو موت سے بچانے کے لئے متحرک ھو جاتے ھے جیسے سانس کا پھولنا اور چھاتی کا تیز تیز حرکت شروع کرنا تاکہ زیادہ سے زیادہ آکسیجن کھینچ سکے ۔ لہذہ سینہ باند ھنے سے آکسیجن کھینچنے میں مزید دشواری ھو جاتی ھے اور بچے کی تکلیف میں مزید اضافہ ھو جاتا ھے۔ اسلئے اس عمل کی حوصلہ شکنی کریں...
سینہ خراب ہونے کی صورت میں فوری طور پر بچوں کے ڈاکٹرز سے چیک کروائیں۔
بچوں کی صحت سے متعلق مزید معلومات کے لیے !
ڈاکٹر ارشد محمود - چائلڈ اسپیشلیسٹ۔چلڈرن ہسپتال لاہور

17/11/2025

Address

MNHC Hathiwind Tehsil Bhera Distt Sargodha
Sargodha

Telephone

+923157441252

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Maryam Nawaz Health Clinic Hathiwind Bhera posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Maryam Nawaz Health Clinic Hathiwind Bhera:

Shortcuts

Share