03/07/2026
ماشاءاللہ ❤️
صحت صرف علاج کا نام نہیں، اعتماد کا نام بھی ہے
انسان جب بھی صحت کی بات کرتا ہے تو اس کے ذہن میں صرف دوا نہیں، بلکہ معیاری علاج، باوقار رویہ، صاف ستھرا ماحول اور قابلِ اعتماد طبی سہولیات کا تصور ابھرتا ہے۔ بنیادی ذمہ داری یقیناً حکومت کی ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرے، لیکن جہاں گڈ گورننس کمزور ہو، عوامی مفاد پر ذاتی مفادات غالب آ جائیں اور نظام اعتماد کھو بیٹھے، وہاں لوگ دوا سے زیادہ دعا کے سہارے جیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
گزشتہ چند دنوں سے میری چھوٹی بہن کی طبیعت بار بار خراب ہو رہی تھی۔ وجہ وہی بازار میں باآسانی دستیاب غیر معیاری اور مضرِ صحت اشیاء، جنہیں میں تو کھانے کی چیزیں نہیں بلکہ آہستہ آہستہ جسم میں اترنے والا زہر کہتا ہوں۔ بارہا منع کرنے کے باوجود انہی چیزوں کا استعمال بالآخر ہسپتال تک لے آیا۔
پھر وہی سوال ذہن میں آیا؛ سرکاری ہسپتال جائیں یا پرائیویٹ؟ کس ڈاکٹر پر اعتماد کریں؟ آخرکار، پہلے کے خوشگوار تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے دولتی ہسپتال کا رخ کیا، جہاں مختلف طبی معاملات میں پہلے بھی جا چکے تھے۔
ڈاکٹر ارشاد حسین نہ صرف ایک باصلاحیت معالج ہیں بلکہ ایک نہایت نفیس، بااخلاق اور مخلص انسان بھی ہیں۔ علاج صرف دوائی سے نہیں بلکہ ڈاکٹر کے رویے سے بھی شروع ہوتا ہے، اور ان کی شخصیت اس بات کا عملی ثبوت ہے۔
اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے میرے ساتھ بینچ پر بیٹھے دو افراد کی گفتگو غیر ارادی طور پر میرے کانوں تک پہنچ رہی تھی۔۔۔۔۔
“یہ ہسپتال واقعی بہت صاف ستھرا ہے۔”
“جی، اور یہاں کا عملہ بھی انتہائی خوش اخلاق ہے۔”
“میں تو پہلی مرتبہ آیا ہوں، لیکن دل مطمئن ہے کہ صحیح جگہ آیا ہوں۔”
دوسرا مسکراتے ہوئے بولا:
“میں تو سر درد بھی ہو تو یہیں آتا ہوں۔”
پھر بات خرچ کی طرف مڑ گئی۔
“میں نے سنا تھا کہ پرائیویٹ ہسپتال مریض کی کھال تک اتار لیتے ہیں، مگر یہاں تو فیس بھی مناسب ہے۔”
جواب آیا:
“بھائی جان! جب جان پر بن آئے تو علاج ضروری ہوتا ہے، خرچہ کون دیکھتا ہے؟”
پھر دوسرے صاحب نے کہا:
“یہ بات درست ہے، لیکن میرے والد صاحب اور میری اہلیہ دونوں کا علاج بھی یہیں چل رہا ہے۔ کبھی محسوس نہیں ہوا کہ کسی مہنگے پرائیویٹ ہسپتال میں آئے ہوں۔ اور سب سے اچھی بات یہ کہ ایمرجنسی کی سہولت ہمیشہ مفت ہے۔”
چند لمحوں بعد ایک اور دلچسپ جملہ سننے کو ملا۔
“ایک اور بات نے تو مجھے بہت متاثر کیا ہے۔”
“وہ کیا؟”
“یہ ڈاکٹر مریض کو پورا وقت دیتے ہیں۔ پولیس کی تفتیش میں بھی شاید اتنا وقت نہ لگتا ہو۔”
دونوں بے اختیار ہنس پڑے۔
پھر ایک نے کہا:
“لگتا ہے پہلی ہی ملاقات میں آپ بھی ان کی سروس کے مداح بن گئے ہیں۔”
جواب آیا:
“ابھی تک تو یہی محسوس ہو رہا ہے۔ دیکھیں نا، صاف ماحول، منظم نظام اور مریض کے ساتھ عزت والا رویہ… یوں لگتا ہے جیسے واقعی صحت یاب ہونے کے لیے درست جگہ آ گئے ہوں۔”
اسی دوران ان میں سے ایک کا نمبر آ گیا اور وہ اپنے ڈاکٹر کی طرف بڑھ گیا۔ کچھ دیر بعد ہماری باری بھی آ گئی۔
ڈاکٹر ارشاد حسین نے ہمیشہ کی طرح مسکراتے ہوئے پہلے مریض کی کیفیت سنی، پوری توجہ سے علامات دریافت کیں، پھر بیماری کی وجوہات سمجھائیں۔ اس کے بعد جنک فوڈ (جسے میں تو صاف الفاظ میں کچرا کہتا ہوں) کے نقصانات اس انداز سے بیان کیے کہ میری چھوٹی بہن بھی خوفزدہ ہو گئی۔ اس کے چہرے کے تاثرات دیکھنے کے قابل تھے، جیسے وہ سوچ رہی ہو کہ آخر وہ اب تک کیا کچھ کھاتی رہی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا نرم لہجہ، شفیق انداز اور حقیقت پر مبنی گفتگو علاج کا ہی ایک حصہ محسوس ہو رہی تھی۔
ضروری ادویات اور مفید طبی مشوروں کے ساتھ ہم گھر واپس لوٹ آئے، مگر اس مرتبہ صرف دوائیاں ہی ساتھ نہیں تھیں بلکہ ایک مثبت احساس بھی تھا کہ ہمارے شہر میں ایسے طبی مراکز اور ایسے ڈاکٹر موجود ہیں جن پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔
آخر میں، اس تحریر کا مقصد صرف ایک ذاتی تجربہ بیان کرنا نہیں بلکہ دولتی ہسپتال کی انتظامیہ کو یہ احساس دلانا بھی ہے کہ لوگ آپ پر اعتماد کر رہے ہیں۔ یہ اعتماد آپ کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اسے برقرار رکھنا، خدمت کے جذبے کو زندہ رکھنا، صفائی، نظم و ضبط، خوش اخلاقی اور معیارِ علاج کو مزید بہتر بنانا ہی آپ کی اصل ذمہ داری ہے۔
یاد رکھیے، ایک اچھا ہسپتال صرف عمارت سے نہیں بنتا، بلکہ وہاں موجود انسانوں کے رویے، احساسِ ذمہ داری اور خدمت کے جذبے سے پہچانا جاتا ہے۔ اگر یہ معیار برقرار رہا تو یقیناً لوگوں کی دعائیں بھی آپ کے ساتھ ہوں گی اور اعتماد بھی۔
منظورامین سکردو