02/06/2026
پتے کی پتھری: کیا ہر مریض کو آپریشن کی ضرورت ہوتی ہے؟
جدید میڈیکل سائنس کے مطابق پتے کی پتھریاں (Gall Stones) حقیقی طور پر موجود ہوتی ہیں اور عموماً کولیسٹرول، بائل پگمنٹس یا دیگر اجزاء سے بنتی ہیں۔ بعض مریضوں میں یہ خاموش رہتی ہیں جبکہ بعض میں درد، سوزش، متلی، بدہضمی اور دیگر پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہیں۔
تاہم ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا پتے کی پتھری کا مطلب ہمیشہ آپریشن ہی ہوتا ہے؟
میڈیکل سائنس بھی یہ تسلیم کرتی ہے کہ ہر مریض کو فوری آپریشن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بہت سے افراد سالہا سال پتھری کے باوجود نارمل زندگی گزارتے ہیں اور صرف نگرانی، غذا میں احتیاط اور مناسب علاج سے بہتر رہتے ہیں۔
ہومیوپیتھک نقطۂ نظر بیماری کے بنیادی اسباب کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو صفراوی نظام میں بگاڑ، ہاضمے کی کمزوری، جگر کی خرابی، چکنائی کے ناقص ہضم اور پتھری بننے کے رجحان کو جنم دیتے ہیں۔
گردے یا مثانے کی پتھری میں اکثر صرف پتھری نکالی جاتی ہے جبکہ پتے کی پتھری کے بعض کیسز میں پورا پتہ نکالنے کی تجویز دی جاتی ہے کیونکہ جدید سرجری کے مطابق پتہ دوبارہ پتھری بنانے کا مرکز بن سکتا ہے۔ دوسری طرف ہومیوپیتھک معالج اس بات پر توجہ دیتے ہیں کہ جسم میں ایسا رجحان پیدا ہی کیوں ہوا۔
ہمارا مقصد مریض کے پورے نظامِ ہضم، جگر، صفراوی کیفیت، غذا، مزاج اور مایازمی رجحانات کا جائزہ لے کر اس کی عمومی صحت کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔
اگر آپ کو:
✓ پتے کی پتھری
✓ دائیں جانب پسلیوں کے نیچے درد
✓ چکنائی کھانے سے تکلیف
✓ بدہضمی، گیس یا اپھارہ
✓ متلی یا منہ کا کڑوا پن
✓ جگر اور صفرا کے مسائل
میں سے کوئی شکایت ہے تو کسی بھی حتمی فیصلے سے پہلے مکمل مشورہ ضرور حاصل کریں۔
یاد رکھیں!
آپریشن طب کا ایک اہم اور بعض اوقات ضروری طریقۂ علاج ہے، لیکن ہر مریض کی کیفیت مختلف ہوتی ہے۔ مناسب تشخیص، مکمل رہنمائی اور مریض کی انفرادی حالت کو سامنے رکھ کر ہی بہترین فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جسم میں شفا کی بے شمار صلاحیتیں رکھی ہیں، انہیں سمجھنا اور بروئے کار لانا بھی علاج کا ایک اہم حصہ ہے۔
مشورہ و رہنمائی کیلئے:
ڈاکٹر محمد واحد بھٹی
ہومیوپیتھک معالج
📞 0300-8884953
WAHAD Complex, Baghichi Road, Zafarwal