DR WAHAD Bhatti Homoeo Clinic

DR WAHAD Bhatti Homoeo Clinic Two Blessing Which Many people do not make the most of: (Good Health and Spare time).

پتے کی پتھری: کیا ہر مریض کو آپریشن کی ضرورت ہوتی ہے؟جدید میڈیکل سائنس کے مطابق پتے کی پتھریاں (Gall Stones) حقیقی طور پ...
02/06/2026

پتے کی پتھری: کیا ہر مریض کو آپریشن کی ضرورت ہوتی ہے؟
جدید میڈیکل سائنس کے مطابق پتے کی پتھریاں (Gall Stones) حقیقی طور پر موجود ہوتی ہیں اور عموماً کولیسٹرول، بائل پگمنٹس یا دیگر اجزاء سے بنتی ہیں۔ بعض مریضوں میں یہ خاموش رہتی ہیں جبکہ بعض میں درد، سوزش، متلی، بدہضمی اور دیگر پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہیں۔

تاہم ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا پتے کی پتھری کا مطلب ہمیشہ آپریشن ہی ہوتا ہے؟

میڈیکل سائنس بھی یہ تسلیم کرتی ہے کہ ہر مریض کو فوری آپریشن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بہت سے افراد سالہا سال پتھری کے باوجود نارمل زندگی گزارتے ہیں اور صرف نگرانی، غذا میں احتیاط اور مناسب علاج سے بہتر رہتے ہیں۔

ہومیوپیتھک نقطۂ نظر بیماری کے بنیادی اسباب کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو صفراوی نظام میں بگاڑ، ہاضمے کی کمزوری، جگر کی خرابی، چکنائی کے ناقص ہضم اور پتھری بننے کے رجحان کو جنم دیتے ہیں۔

گردے یا مثانے کی پتھری میں اکثر صرف پتھری نکالی جاتی ہے جبکہ پتے کی پتھری کے بعض کیسز میں پورا پتہ نکالنے کی تجویز دی جاتی ہے کیونکہ جدید سرجری کے مطابق پتہ دوبارہ پتھری بنانے کا مرکز بن سکتا ہے۔ دوسری طرف ہومیوپیتھک معالج اس بات پر توجہ دیتے ہیں کہ جسم میں ایسا رجحان پیدا ہی کیوں ہوا۔

ہمارا مقصد مریض کے پورے نظامِ ہضم، جگر، صفراوی کیفیت، غذا، مزاج اور مایازمی رجحانات کا جائزہ لے کر اس کی عمومی صحت کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔

اگر آپ کو:

✓ پتے کی پتھری
✓ دائیں جانب پسلیوں کے نیچے درد
✓ چکنائی کھانے سے تکلیف
✓ بدہضمی، گیس یا اپھارہ
✓ متلی یا منہ کا کڑوا پن
✓ جگر اور صفرا کے مسائل

میں سے کوئی شکایت ہے تو کسی بھی حتمی فیصلے سے پہلے مکمل مشورہ ضرور حاصل کریں۔

یاد رکھیں!

آپریشن طب کا ایک اہم اور بعض اوقات ضروری طریقۂ علاج ہے، لیکن ہر مریض کی کیفیت مختلف ہوتی ہے۔ مناسب تشخیص، مکمل رہنمائی اور مریض کی انفرادی حالت کو سامنے رکھ کر ہی بہترین فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے جسم میں شفا کی بے شمار صلاحیتیں رکھی ہیں، انہیں سمجھنا اور بروئے کار لانا بھی علاج کا ایک اہم حصہ ہے۔

مشورہ و رہنمائی کیلئے:

ڈاکٹر محمد واحد بھٹی
ہومیوپیتھک معالج
📞 0300-8884953

WAHAD Complex, Baghichi Road, Zafarwal

اسلام وعلیکم دوستو! سپرم مارفولوجی (Morphology) خراب ہے؟ یعنی... "سولجرز" کی شکل بگڑ گئی ہے! بہت سے دوست جب اپنی سیمن ان...
01/06/2026

اسلام وعلیکم دوستو! سپرم مارفولوجی (Morphology)
خراب ہے؟ یعنی... "سولجرز" کی شکل بگڑ گئی ہے!
بہت سے دوست جب اپنی سیمن انیلسز (Semen Analysis) کی رپورٹ اٹھائے گھوم رہے ہوتے ہیں، تو "Abnormal Morphology" دیکھ کر سر پکڑ لیتے ہیں۔ اب آسان دیسی اور میڈیکل زبان میں سمجھیں کہ یہ بلا ہے کیا!
آخر یہ "مارفولوجی" کس چڑیا کا نام ہے؟
سیدھی بات یہ ہے کہ اس کا مطلب ہے **سپرم (نطفہ) کی شکل، ساخت اور بناوٹ**۔
ایک آئیڈیل اور تندرست سپرم کو آپ یوں سمجھیں جیسے ایک بہترین "سولجر" یا فٹ میزائل ہو—جس کا سر بیضوی (Oval) ہو، کندھے مضبوط ہوں اور دم بالکل سیدھی اور تیز ہو، تاکہ وہ اپنے ہدف (انڈے) تک کامیابی سے پہنچ سکے۔
لیکن جب رپورٹ میں لکھا ہو کہ مارفولوجی خراب ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کی فوج کے سپاہی اپنی اصلی شکل کھو چکے ہیں۔ کسی کا سر بڑا ہے، کسی کی دم ٹیڑھی ہے، تو کسی کا درمیانی حصہ کمزور ہے۔ اب آپ خود سوچیں، ٹیڑھی دم والا اور سست سپاہی بارڈر کیسے پار کرے گا؟ یہی وجہ ہے کہ حمل ٹھہرنے میں تاخیر ہو جاتی ہے۔
جدید میڈیکل سائنس کیا کہتی ہے؟ (وجوہات)
یہ بیچاروں کی شکلیں خراب کیوں ہوئیں؟ اس کے پیچھے یہ مجرم چھپے ہو سکتے ہیں:
* **آکسیڈیٹو اسٹریس:** جسم کے اندر کا اندرونی تناؤ اور گند۔
* **انفیکشن اور پس سیلز (Pus Cells):** منی میں ریشہ یا انفیکشن کا ہونا جو سپرمز کو بیمار کر دیتا ہے۔
* **ویریکوسیل (Varicocele):** خصیتین کی رگوں کا پھول جانا۔
* **ٹیسٹوسٹیرون کی کمی:**
مردانہ ہارمونز کا عدم توازن۔
* **طرزِ زندگی کی غلطیاں:** سگریٹ نوشی، باہر کے پیزے برگر، اور ہر وقت گود میں گرم لیپ ٹاپ رکھ کر بیٹھنا یا گرم ماحول میں رہنا۔
* **غذائی کمی:**
زنک، سیلینیم اور فولک ایسڈ جیسے ضروری وٹامنز کا نا ملنا۔
دیسی اور یونانی طب کا نظریہ
پرانے حکماء کی زبان میں بات کریں تو اسے **"فسادِ منی"** اور **"ضعفِ اعضائے تولید"** کہتے ہیں۔ یعنی جب جگر کی خرابی یا اعصابی کمزوری کی وجہ سے جسم میں صحیح، پاکیزہ اور خالص رطوبت پیدا نہیں ہوتی، تو منی کا مزاج بگڑ جاتا ہے۔ جب مٹی ہی زرخیز نہیں ہوگی تو پودا سیدھا کیسے اگے گا؟
اہم علامات جن پر نظر رکھنا ضروری ہے:
1. شادی کو عرصہ ہو گیا مگر حمل نہیں ٹھہر رہا۔
2. سپرم کاؤنٹ یا ان کی دوڑنے کی رفتار (Motility) بھی کم ہو رہی ہے۔
3. ہر وقت جسم میں تھکن اور سستی کا ڈیرہ رہنا۔
4. پیشاب یا پروسٹیٹ کے مسائل کا ہونا۔
5. منی کا پتلا پن یا اس کی رنگت و کیفیت میں تبدیلی۔
**یاد رکھیں!**
مارفولوجی خراب ہونے کا مطلب یہ بالکل نہیں کہ آپ کبھی باپ نہیں بن سکتے۔ لیکن ہاں، اس کا مطلب یہ ضرور ہے کہ فرٹیلٹی (قوتِ تولید) کمزور ہے اور اسے ٹھیک کرنے کے لیے صرف "سپرم بڑھانے والی" وقتی دوائیاں کافی نہیں ہیں۔ جب تک جڑ (انفیکشن، ہارمونز، طرزِ زندگی) کو نہیں سدھارا جائے گا، سولجرز سیدھے نہیں ہوں گے!
>
الحمدللہ! مایوسی گناہ ہے، علاج ممکن ہے!
ہم ایسے بے شمار مریضوں کا اللہ کے فضل سے کامیاب علاج کر چکے ہیں。 ہمارے ہاں جڑ پر کام کیا جاتا ہے تاکہ مستقل شفا ملے۔
** آپ کو کیا کرنا ہے؟**
گھر بیٹھے مکمل تشخیص کے لیے اپنے موبائل سے 3 تصویریں کھینچیں اور ہمیں واٹس ایپ کریں:
1. **اپنی زبان کی تصویر** (صبح نہار منہ)
2. **اپنی آنکھوں کی تصویر**
3. **ہاتھ کے ناخنوں کی تصویر**
**پارسل کی سہولت:**
پورے پاکستان اور انٹرنیشنل لیول پر ہماری میڈیسن مکمل رازداری کے ساتھ ڈلیور کی جاتی ہے۔
ابھی رابطہ کریں اور اپنا کیس ڈسکس کریں:**
**ڈاکٹر واحد بھٹی کلینک ظفروال 03008884953 **
*(Homoeopathic Herbalist,
Nutritionist & Psychotherapist)*

کیا آپ بھی چہرے کی ایکنی، پمپلز کیل چھائیاں مہاسے  اور چہرے کے ناگوار دانوں ودیگر امراض سے پریشان ہیں؟ کیا آپ مہنگے سکن ...
01/06/2026

کیا آپ بھی چہرے کی ایکنی، پمپلز کیل چھائیاں مہاسے
اور چہرے کے ناگوار دانوں ودیگر امراض سے پریشان ہیں؟
کیا آپ مہنگے سکن سپیشلسٹ ڈاکٹروں کے چکر لگا کر، ایلوپیتھک ادویات کھا کھا کر اور طرح طرح کے فیس واش یا کریمیں استعمال کر کے تھک چکے ہیں؟ اگر عارضی آرام کے بعد دانے، پھوڑے اور پھنسیاں دوبارہ نکل آتے ہیں، تو مایوس نہ ہوں! اب وقت ہے جلد کے مسائل کو جڑ سے ختم کرنے کا۔
جلد کے مسائل کی اصل وجہ کیا ہے؟
کریمیں اور فیس واش صرف جلد کی اوپری سطح پر کام کرتے ہیں، جبکہ ایکنی اور پھوڑے پھنسیوں کی اصل وجہ جسم کے اندرونی نظام کی خرابی، خون کی بے قاعدگی یا ہارمونز کا عدم توازن ہوتا ہے۔
ہومیوپیتھک علاج ہی کیوں؟
ہومیوپیتھی میں مریض کی جلد کا سطحی علاج نہیں کیا جاتا، بلکہ مرض کی گہرائی میں جا کر اس کی اصل وجہ کا خاتمہ کیا جاتا ہے۔ یہ علاج:
100% محفوظ اور قدرتی ہے
جس کے کوئی سائیڈ ایفیکٹس نہیں ہیں۔
خون کو صاف کرتا ہے** جس سے جلد قدرتی طور پر چمکدار اور صاف ہو جاتی ہے۔
*دوبارہ دانے نکلنے کے امکانات کو ختم کرتا ہے۔
شفا من جانب اللہ ہے!
ایک بار ہمارے کلینک پر تشریف لائیں
ہومیوپیتھک طریقہ علاج آزمائیں۔
انشاءاللہ بفضلِ خدا آپ مستقل شفا پائیں گے۔
آپ کی جلد، ہماری ترجیح!
>
**ہمارے کلینک کا پتہ:**
**ڈاکٹر واحد بھٹی ہومیو کلینک ظفروال
نزد رڑی پیر دربار سے باغیچی روڈ ظفروال**
📞 03008884953

65 سال کا بزرگ، ہومیوپیتھی اور سلفر کی زندہ مثال!**ایک عجیب و غریب سچی کہانی اور ہومیوپیتھک نکتہ نظر**کچھ عرصہ پہلے سوشل...
31/05/2026

65 سال کا بزرگ، ہومیوپیتھی اور سلفر کی زندہ مثال!
**ایک عجیب و غریب سچی کہانی اور ہومیوپیتھک نکتہ نظر**
کچھ عرصہ پہلے سوشل میڈیا اور عالمی میڈیا پر ایک خبر نے سب کو حیران کر دیا تھا کہ ایران کا ایک بزرگ، جو گزشتہ 65 سال سے نہیں نہایا تھا، دیہاتیوں کے اصرار پر پہلی بار نہانے کے فوراً بعد بیمار ہوا اور انتقال کر گیا۔ بظاہر یہ ایک عام سی عجیب و غریب خبر لگتی ہے، لیکن ہومیوپیتھی کے طالب علموں اور ماہرین کے لیے یہ "مٹیریا میڈیکا" (Materia Medica) کے ایک عظیم باب کی زندہ جاگتی تصویر تھی۔
اگر ہم ہومیوپیتھی کی عینک سے دیکھیں، تو یہ بزرگ روایتی اور کلاسک **سلفر (Sulphur)** کی ایک بہترین اور سچی مثال تھے، جیسا کہ تصویر میں بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ آج کے جدید دور میں جہاں صفائی ستھرائی کے نئے معیارات ہیں، اس طرح کا "Typical Sulphur" دیکھنے کو نہیں ملتا۔
# # # سلفر (Sulphur) کا مریض اور نہانے سے نفرت
ہومیوپیتھی میں سلفر کو "دوائیوں کا بادشاہ" یا "Antipsoric King" کہا جاتا ہے۔ اس دوا کی سب سے بڑی اور بنیادی علامت (Keynote Symptom) ہی یہ ہے کہ اس کا مریض **نہانے سے انتہائی نفرت** کرتا ہے۔ سلفر کا مریض گندگی، میل کچیل اور بدبو کے ساتھ بالکل مطمئن رہتا ہے۔ اسے نہانے سے خوف آتا ہے کیونکہ نہانے سے اس کی علامات یا تو بڑھ جاتی ہیں یا اس کا جسمانی توازن بگڑ جاتا ہے۔
اس ایرانی بزرگ نے 65 سال تک بغیر نہائے زندگی گزاری، جو کہ عام انسانی عقل کے لیے ناممکن لگتا ہے۔ ان کی جلد پر میل کی تہیں جم چکی تھیں، بال بکھرے ہوئے تھے اور وہ اسی حالت میں خود کو بالکل تندرست محسوس کر رہے تھے۔ یہ ان کے جسم کا ایک مخصوص دفاعی نظام (Vital Force) تھا جس نے اس گندگی کو ان کی زندگی کا حصہ بنا لیا تھا۔
نہاتے ہی دم کیوں ٹوٹ گیا؟ (سپریشن کا قانون)
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر نہانے کے فوراً بعد موت کیوں واقع ہوئی؟ ویسے تو زندگی اور موت کا حتمی فیصلہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، لیکن مادی دنیا میں ہر واقعے کی کوئی نہ کوئی وجہ یا قانون ہوتا ہے۔ ہومیوپیتھی کے قانون کے مطابق اسے **سپریشن (Suppression) یا "علامات کا دب جانا"** کہا جا سکتا ہے۔
جب اس بزرگ کو زبردستی نہلایا گیا، تو ان کی جلد پر موجود 65 سال پرانی میل کی وہ حفاظتی یا عادی تہہ اچانک اتر گئی۔ وہ جلد جو بیرونی ماحول کے ساتھ ایک خاص طریقے سے ہم آہنگ ہو چکی تھی، اچانک صاف ہو گئی۔ ہومیوپیتھک فلسفے کے مطابق، جب کسی مریض کی بیرونی علامت یا حالت کو (جو اس کے اندرونی نظام کا دفاع کر رہی ہو) بغیر کسی اندرونی علاج کے اچانک اور زبردستی دور کیا جائے، تو بیماری اندرونی اہم اعضاء (جیسے دل یا پھیپھڑے) کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نازک مدافعتی نظام اس اچانک تبدیلی کو برداشت نہیں کر سکا۔
کیا سلفر پلانے سے ان کی حساسیت کم کی جا سکتی تھی؟
تصویر میں ایک بہت اہم طبی سوال اٹھایا گیا ہے: *"کیا سلفر پلانے سے اس کی نہانے سے حساسیت کم کی جا سکتی تھی؟ اگر ہاں، تو کس طاقت (Potency) میں؟"*
**جواب ہے: جی بالکل!** ہومیوپیتھی میں "مردہ علامات" کا نہیں بلکہ "زندہ انسان" کا علاج کیا جاتا ہے۔ اگر یہ بزرگ کسی ماہر ہومیوپیتھ کے پاس آتے، تو ان کی اس شدید ترین حالت کو دیکھ کر سلفر ان کی بہترین آئینی دوا (Constitutional Remedy) بنتی۔ سلفر دینے سے ان کے اندرونی نظام میں نہانے کی حساسیت اور گندگی سے محبت آہستہ آہستہ ختم ہو جاتی۔
کون سی پوٹینسی (Potency) موزوں ہوتی؟
ایسے مائزمبیٹک (Miasmatic) اور پرانے کیسز میں جہاں علامات اتنی گہری اور جڑ پکڑ چکی ہوں، پوٹینسی کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرنا پڑتا ہے:
1. **اعلیٰ طاقت (High Potency - 1M یا 10M):** چونکہ نہانے سے نفرت کی یہ علامت ذہنی اور جسمانی طور پر انتہائی شدید اور پرانی (65 سالہ) تھی، اس لیے کچھ ماہرین کے نزدیک سلفر کی ایک ہائی ڈوز (جیسے 1M یا CM) ان کے جڑے ہوئے مائزم (Psora) کو توڑنے کے لیے دی جا سکتی تھی، تاکہ جسم کا وائٹل فورس بیدار ہو سکے۔
2. **کم طاقت (Low Potency / CM/ LM Scale):** دوسری طرف، چونکہ بزرگ کی عمر زیادہ تھی اور ان کا جسمانی ڈھانچہ کمزور ہو چکا تھا، اس لیے ہائی پوٹینسی سے شدید ہیجانی کیفیت (Aggravation) کا خطرہ بھی ہو سکتا تھا۔ ایسی صورتحال میں **LM Potency** (جیسے LM 1, LM 2) یا سلفر کی نیچی طاقت (30C) سے علاج کا آغاز کرنا زیادہ محفوظ رہتا، تاکہ جسم آہستہ آہستہ تبدیلی کو قبول کرتا اور ان کی جلد کی حساسیت نرمی سے کم ہوتی۔
حاصل کلام
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانی جسم اور اس کی حیاتیاتی قوت (Vital Force) کتنی پراسرار ہے۔ ہومیوپیتھی صرف بیماری کا علاج نہیں کرتی، بلکہ یہ انسان کے مزاج، اس کی عادات اور اس کے ماحول کے ساتھ اس کے تعلق کو سمجھتی ہے۔ یہ ایرانی بزرگ دنیا کے لیے ایک عجوبہ تھے، لیکن ہومیوپیتھی کی دنیا کے لیے یہ "سلفر" کی ایک لازوال ہسٹری شیٹ تھے۔
آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ نے اپنی پریکٹس میں سلفر کا ایسا مریض دیکھا ہے جو نہانے سے کتراتا ہو؟ کمنٹس میں اپنی قیمتی رائے ضرور دیں۔
** #ہومیوپیتھی #سلفر **
تحریر ڈاکٹر محمد واحد بھٹی ہومیو کلینک ظفروال

“موبائل، اوور تھنکنگ اور بے سکون قوم” آج کل ہمارے کلینک میں بیمار کم “Low Batteryانسان” زیادہ آتے ہیں۔چہرے سے نوجوان،مگر...
24/05/2026

“موبائل، اوور تھنکنگ اور بے سکون قوم”

آج کل ہمارے کلینک میں بیمار کم “Low Battery
انسان” زیادہ آتے ہیں۔

چہرے سے نوجوان،
مگر دماغ سے retired۔

مریض آتے ہی کہتے ہیں:
“ڈاکٹر صاحب!
نیند نہیں آتی…
دل گھبراتا ہے…
غصہ بہت آتا ہے…
دماغ ہر وقت چلتا رہتا ہے…”

میں پوچھتا ہوں:
“رات کو سوتے کب ہو؟”

جواب آتا ہے:
“بس ڈاکٹر صاحب…
دو تین بجے تک موبائل،
پھر تھوڑی سیاسی ویڈیوز،
مہنگائی پر تبصرے،
کچھ TikTok ریلز،
پرانے محبوب کی پروفائل،
کرکٹ highlights،
پھر ایک motivational clip دیکھ کر سوتے ہیں،

یعنی بندہ سونے نہیں جاتا…
دماغ پر پوری قومی اسمبلی چلا کر آتا ہے۔

پہلے لوگ سونے سے پہلے دعائیں پڑھتے تھے،
اب آخری الفاظ ہوتے ہیں:
“یار ایک ریل اور دیکھ لیتا ہوں…”

اور وہ “ایک آخری ریل”
ایسے ختم ہوتی ہے
جیسے پاکستان میں مہنگائی ختم ہوتی ہے…
یعنی کبھی نہیں۔

قوم آدھی مہنگائی سے پریشان،
اور آدھی WiFi کے slow ہونے سے۔

Mobile کی battery 2 فیصد ہو
تو charger ایسے ڈھونڈتے ہیں
جیسے ICU میں ڈاکٹر ڈھونڈ رہے ہوں۔

مگر اپنی mental battery
سالوں سے 1 فیصد پر چل رہی ہو،
تب بھی کہتے ہیں:
“الحمدللہ سب ٹھیک ہے…

کچھ مریض تو Google سے MBBS کر کے آتے ہیں۔

کہتے ہیں:
“ڈاکٹر صاحب،
میرے خیال میں مجھے anxiety بھی ہے،
BP بھی،
شوگر بھی،
weak nerves بھی،
اور شاید دو چار نایاب بیماریاں بھی

میں نے کہا:
“بھائی تمہیں بیماری کم،
internet زیادہ ہے

پھر وہ نوجوان نسل…

رات بھر online،
صبح فجر offline،
دن بھر غصہ،
چہرے پر تھکن،
اور Facebook bio میں:
“Silent boy… deep emotions…”

اوور تھنکنگ کا حال یہ ہے
کہ اگر کسی نے صرف “Hmm” لکھ دیا ہو
تو اگلا بندہ دماغ میں
پورا اقوامِ متحدہ اجلاس بلا لیتا ہے۔

اوپر سے سوشل میڈیا نے الگ تباہی مچائی ہوئی ہے۔

ہر دوسرا بندہ Dubai میں coffee،
Turkey میں breakfast،
اور Maldives میں sunset لگا رہا ہوتا ہے۔

پھر عام آدمی اپنی زندگی کو دیکھ کر سوچتا ہے:
“یا اللہ!
یہ لوگ خوش ہیں
یا میں ہی آزمائشی پیکج ہوں

سچ یہ ہے…
آج کا انسان بیمار کم،
ذہنی طور پر overloaded زیادہ ہے۔

ہر وقت scrolling،
comparison،
fake lifestyles،
سیاسی لڑائیاں،
attention کی بھوک،
اور اندر سے ٹوٹا ہوا سکون…

کبھی کبھی اصل بیماری معدے میں نہیں ہوتی…
زندگی کے دباؤ،
ناکامی کے خوف،
اور مسلسل موبائل scrolling میں ہوتی ہے۔

ہومیوپیتھی صرف جسم نہیں پڑھتی…
یہ انسان کی خاموش تھکن،
چھپی ہوئی بے چینی،
اور ٹوٹے ہوئے اعصاب بھی محسوس کرتی ہے۔

اس لیے کبھی کبھی
سب سے بڑی دوا یہ ہوتی ہے:

فون silent،
دماغ peaceful،
اور نیند پوری۔

ورنہ ایک دن
موبائل تو full charge ہوگا…
مگر انسان اندر سے dead battery بن چکا ہوگا۔

“کلینک میں اکثر یہ کیس آتے ہیں…
میں نسخہ لکھتا ہوں:
Coffea cruda / Nux vomica / Arsenicum album
اور ساتھ صرف ایک لائن کہتا ہوں:
“دوائی بعد میں… پہلے رات 6 بجے کے بعد موبائل کو ICU میں داخل کریں

ڈاکٹر واحد بھٹی
Homoeopathic Consultant

جسم کے مسّے     (Warts)  ایک عام مگر پریشان کن مسئلہ کبھی کبھی جسم پر چھوٹے چھوٹے ابھار یا سخت سے دانے نکل آتے ہیں جنہیں...
22/05/2026

جسم کے مسّے (Warts)
ایک عام مگر پریشان کن مسئلہ

کبھی کبھی جسم پر چھوٹے چھوٹے ابھار یا سخت سے دانے نکل آتے ہیں جنہیں ہم عام زبان میں “مسّے” کہتے ہیں۔ یہ بظاہر چھوٹے ہوتے ہیں مگر اکثر لوگوں کے لیے شرمندگی، تکلیف اور ذہنی پریشانی کا باعث بن جاتے ہیں۔ خاص طور پر ہاتھوں، چہرے، گردن یا پاؤں پر آنے والے مسّے انسان کی شخصیت اور اعتماد دونوں کو متاثر کرتے ہیں۔

مسّے کیوں بنتے ہیں؟
یہ عموماً ایک وائرس (HPV) کی وجہ سے جلد پر نمودار ہوتے ہیں۔ بعض لوگوں میں یہ ایک ہی مسّہ ہوتا ہے جبکہ کچھ میں یہ پھیل کر متعدد بھی ہو جاتے ہیں۔ کمزور مدافعت، نمی، گندگی یا جسمانی کمزوری بھی اس کو بڑھا سکتی ہے۔

مسّوں کی اقسام:
نرم اور چھوٹے مسّے
سخت اور کھردرے مسّے
پاؤں کے تلووں والے دردناک مسّے
چہرے اور ہاتھوں پر پھیلنے والے مسّے
چھوٹے چھوٹے جھرمٹ کی شکل والے مسّے

ہر مسّے کی شکل، جگہ اور نوعیت مختلف ہوتی ہے اور اسی بنیاد پر علاج بھی مختلف ہوتا ہے۔

ہومیوپیتھی میں مسّوں کا علاج
ہومیوپیتھی ایک ایسا قدرتی طریقہ علاج ہے جس میں جسم کی اندرونی کمزوری کو دور کر کے بیماری کی جڑ پر کام کیا جاتا ہے۔ مسّوں کے علاج میں مریض کی مکمل ہسٹری، جلد کی کیفیت، مزاج اور علامات کو دیکھ کر دوا دی جاتی ہے۔

عام طور پر مختلف کیسز میں Causticum، Thuja، Nitric Acid اور دیگر ادویات استعمال کی جاتی ہیں، لیکن اصل دوا ہمیشہ مریض کی حالت دیکھ کر منتخب کی جاتی ہے۔
یاد رکھیں:
ہر مسّہ ایک جیسا نہیں ہوتا، اور نہ ہی ہر مریض کا علاج ایک جیسا ہوتا ہے۔ اسی لیے خود سے علاج کرنے کے بجائے ماہر معالج سے مشورہ ضروری ہے۔
اگر آپ بھی مسّوں، جلدی بیماریوں یا کسی پرانے مسئلے سے پریشان ہیں تو آج ہی رابطہ کریں:

Dr Wahad Bhatti
Homoeo Clinic 📞 0300-8884953
دوائی کم، توجہ زیادہ
قدرتی علاج، محفوظ زندگی
کلینک پر ہم ہر مریض کو انفرادی توجہ دیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ علاج صرف علامات کا نہیں بلکہ اصل وجہ کا ہو۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی جلد صاف، صحت مند اور خوبصورت رہے تو صحیح وقت پر علاج شروع کرنا بہت ضروری ہے۔
اپنی صحت کو نظر انداز نہ کریں ـآج کا علاج، کل کی راحت ہے!

ہومیوپیتھی کی دنیا کے "سب سے بڑے فوبیا" یعنی **Arsenic Album (آرسینک البم)** کی ایک ایسی ڈرگ پکچر (Drug Picture)، جس کے ...
21/05/2026

ہومیوپیتھی کی دنیا کے "سب سے بڑے فوبیا"
یعنی **Arsenic Album (آرسینک البم)**
کی ایک ایسی ڈرگ پکچر (Drug Picture)، جس کے سائے میں اس کا پورا خاندان اور ڈاکٹر بھی جی رہے ہیں۔
آئیے اس "مسٹر پرفیکٹ پلس ہائپوکانڈریک" شخصیت کا ایک جائزہ لیتے ہیں:
۱۔ گھر اور خاندان میں آرسینک البم
(The Domestic Tyrant)
گھر والوں کے لیے آرسینک البم کا مریض کسی ڈکٹیٹر سے کم نہیں ہوتا۔ ان کا اصول ہے: *"صفائی نصف ایمان ہے، اور باقی نصف میری مرضی ہے۔"*
* **مائیکروسکوپک نظر:**
اگر ٹیبل پر مٹی کا ایک ذرہ بھی نظر آ جائے، یا دیوار پر لٹکی تصویر ایک ملی میٹر بھی ٹیڑھی ہو، تو گھر میں وہ "زلزلہ" آتا ہے کہ پورا خاندان کانپ اٹھتا ہے۔
* **خاندان کا جینا محال:**
E یہ وہ لوگ ہیں جو رات کو بار بار اٹھ کر چیک کرتے ہیں کہ تالا لگا ہے یا نہیں۔ الماری میں کپڑے رنگوں اور سائز کے حساب سے استری ہو کر تہہ شدہ ہونے چاہئیں۔ اگر کسی بچے نے چادر پر ایک شکن بھی ڈال دی، تو آرسینک البم کے غصے کی "جلن" پورے گھر کو جھلسا دیتی ہے۔
* **بخل اور کنجوسی:**
یہ صاحب خود پر اور دوسروں پر پیسہ خرچ کرتے ہوئے ایسے تڑپتے ہیں جیسے آرسینک کی اپنی روایتی جلن ہو۔ لیکن ہاں، اپنی بیماری اور صفائی کے سامان (جیسے سینیٹائزر اور جراثیم کش ادویات) پر دل کھول کر خرچ کریں گے۔
# # ۲۔ ڈاکٹر کے کلینک پر (The Doctor's Nightmare)
ہومیوپیتھک ڈاکٹرز کے لیے آرسینک البم کا مریض ایک "مستقل امتحان" ہوتا ہے۔
* **پرفیکٹ فائلنگ:**
یہ جب کلینک آئیں گے، تو ان کے ہاتھ میں پچھلے دس سال کے میڈیکل ریکارڈز، صاف ستھرے پلاسٹک کور میں، تاریخ وار ترتیب دیئے ہوئے ہوں گے۔
* **ڈاکٹر پر شک:**
یہ ڈاکٹر کی ہر بات کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے اگر کہہ دیا کہ "آپ کو صرف معمولی نزلہ ہے"، تو یہ دل میں سوچیں گے، *"ڈاکٹر کو کچھ نہیں پتا، مجھے یقیناً کوئی لاعلاج بیماری ہو چکی ہے اور یہ مجھ سے چھپا رہا ہے۔"*
* **پانی کا گھونٹ:**
کلینک میں بیٹھے بھی اپنی جیب سے صاف ستھری، ابلی ہوئی پانی کی بوتل نکالیں گے اور ہر دو منٹ بعد صرف **ایک چھوٹا سا گھونٹ** پیئیں گے۔ ڈاکٹر صاحب دوا دیں گے تو پوچھیں گے، *"اس چمچ کو ابال کر دوا لوں یا ڈائریکٹ؟"*
# # ۳۔ ذہنی علامات (The Anxious Control Freak)
آرسینک البم کا دماغ ایک ایسی مشین ہے جو صرف "خوف اور وہم" پیدا کرتی ہے۔
* **موت کا خوف (Fear of Death):**
یہ اس دوا کی سب سے بڑی علامت ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اب اس کا آخری وقت آ گیا ہے۔ لیکن طنز کی بات یہ ہے کہ یہ موت سے اتنا نہیں ڈرتا جتنا اس بات سے ڈرتا ہے کہ اس کے مرنے کے بعد اس کے کمرے کی صفائی کون کرے گا؟
* **تنہائی کا خوف لیکن لوگوں سے بیزاری:** اکیلے رہنے سے جان نکلتی ہے، لگتا ہے اکیلا رہا تو مر جائے گا۔ لیکن جب لوگ پاس بیٹھتے ہیں، تو ان کی بے ترتیبی اور جراثیم دیکھ کر اس کا خون کھولنے لگتا ہے۔
* **بے چینی (Restlessness):**
یہ ذہنی طور پر اتنے بے چین ہوتے ہیں کہ ایک جگہ ٹک کر نہیں بیٹھ سکتے۔ بستر پر ہوں گے تو کروٹیں بدلتے رہیں گے، کمرے میں ہوں گے تو چکر کاٹتے رہیں گے۔ جسم میں طاقت نہیں ہوگی، لیکن بے چینی انہیں گھسیٹتی رہے گی۔
# # ۴۔ جسمانی و جذباتی علامات
(The Burning Sufferer)
* **ہر جگہ جلن (Burning Pains):** آرسینک کے مریض کو سر سے لے کر پاؤں تک ہر تکلیف میں "آگ لگنے" کا احساس ہوتا ہے۔ معدے میں جلن، آنکھوں میں جلن، زخموں میں جلن۔ اور سب سے بڑا تضاد (Paradox) یہ ہے کہ **اس جلن کو سکون گرمی سے ملتا ہے!** یعنی اندر آگ لگی ہے، لیکن باہر سے انہیں گرم سیک یا گرم چائے چاہیے۔
* **پیاس کا تماشہ:**
پیاس شدید ہوگی، گلا سوکھ رہا ہوگا، لیکن پینے کا انداز؟ صرف ایک ایک گھونٹ (Sips of water at short intervals)۔ اگر پورا گلاس پی لیا تو معدہ فوری بغاوت کر دے گا۔
* **رات کا ہنگامہ:**
ان کی تمام علامات کا "پرائم ٹائم" **رات ۱۲ سے ۲ بجے** کے درمیان ہوتا ہے۔ جب دنیا سو رہی ہوتی ہے، آرسینک البم کا مریض جاگ کر اپنی سانس کی تنگی، دھڑکن کی تیزی اور موت کے خوف کا لائیو شو دیکھ رہا ہوتا ہے۔
**(Prostration):**
معمولی سی بیماری میں بھی ان کی طاقت ایسے غائب ہوتی ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ ذرا سا نزلہ ہوا نہیں کہ یہ بستر پر ایسے لیٹ جائیں گے جیسے وصیت لکھنے کا وقت آ گیا ہو۔
(Critical Summary)
> آرسینک البم ایک ایسی "پرفیکٹ" مصیبت کا نام ہے جو خود بھی جلتی ہے اور اپنے اردگرد کے ماحول کو بھی اپنے وہم کی آگ میں جلائے رکھتی ہے۔ یہ وہ مریض ہے جو صحت مند ہونے کے باوجود اس لیے پریشان رہتا ہے کہ *"میں اتنا ٹھیک کیسے ہوں؟ ضرور کوئی گڑبڑ ہے!"*
> اگر آپ کے پاس کوئی ایسا مریض آئے جو آپ کے کلینک کی کرسی کو پہلے اپنے رومال سے صاف کرے، پھر بیٹھ کر اپنی بیماری کی ایسی تفصیلی ہسٹری سنائے جیسے وہ کوئی قانونی کیس لڑ رہا ہو، تو بغیر کسی شک کے اسے
*Arsenic Album*
کی ایک خوراک دے دیں—تاکہ اس کے ساتھ ساتھ اس کے گھر والوں اور آپ کو بھی تھوڑا سکون مل سکے!
Muhammad Wahad Bhatti

اسلام علیکم دوستو آج سلفر میاں کا  "عوام الناس" والا کچا چٹھا کھولتے ہیں ضرور پڑھیں مزہ آئے گا اور ہومیوپیتھی بھی! "فلسف...
19/05/2026

اسلام علیکم دوستو آج سلفر میاں کا "عوام الناس" والا کچا چٹھا کھولتے ہیں ضرور پڑھیں مزہ آئے گا اور ہومیوپیتھی بھی!

"فلسفہ کروڑوں کا، دکان پکوڑوں کی"
سلفر کا دماغ کسی ویران کباڑ خانے جیسا ہے جہاں افلاطون اور ارسطو کے خیالات مٹی میں اَٹے پڑے ہوتے ہیں۔

خاندانی نواب، فکری کباڑی:
یہ وہ خود ساختہ جینئس ہے جو اپنے کمرے کے کونے میں لٹکے مکڑی کے جالے کو دیکھ کر کائنات کی بلیک ہول تھیوری پر گھنٹوں تقریر جھاڑ سکتا ہے، لیکن ماں یا بیوی اگر کہہ دے کہ "جا کر دہی لے آؤ"، تو اس پر موت طاری ہو جاتی ہے۔

چتھڑوں میں شہنشاہیت:
ادبی زبان میں اسے "مفلسِ مغرور" کہہ لیں یا طنزیہ طور پر "پھٹے حال نواب"۔ اسے اپنی میتھائل کی بو آتی ہوئی قمیض پر وہ ناز ہوتا ہے جو مغل بادشاہوں کو اپنے ریشمی خلعت پر بھی نہیں ہوا ہوگا۔ اس کی نظر میں باقی ساری دنیا جاہل ہے اور صرف وہی ایک "مفکرِ اعظم" بچا ہے۔

"پانی کا جانی دشمن، خارش کا سچا عاشق"
جسمانی طور پر سلفر کسی پرانے زمانے کے ملنگ کا جیوتا جاگتا نمونہ ہے۔

صابن سے خلع:
سلفر کی لغت میں "نہانا" ایک بدعت اور وقت کا ضیاع ہے۔ وہ پانی سے ایسے بھاگتا ہے جیسے کوئی گناہگار تھانے دار سے بھاگتا ہے۔ اس کی جلد گواہی دیتی ہے کہ اس کا آخری بار پانی سے سامنا شاید پچھلی عید پر ہوا تھا۔

ناکام عاشق کا پوز:
چلتا ایسے ہے جیسے پوری کائنات کا بوجھ اکیلے اسی کے کندھوں پر ہے۔ کندھے جھکے ہوئے، نظریں زمین پر (کسی گرے ہوئے نوٹ کی تلاش میں نہیں، بلکہ سستی کی وجہ سے)۔

11 بجے کا پیٹو راجہ:
صبح 11 بجے اس کے پیٹ میں وہ ہول اٹھتا ہے کہ اگر اسے مٹھائی یا روٹی نہ ملے، تو وہ انقلابِ فرانس کی نئی تاریخ رقم کرنے پر تل جاتا ہے۔

تلووں کا جہنم:
دن بھر سستی کا مارا یہ انسان رات کو بستر پر لیٹتے ہی پاؤں ایسے باہر نکالتا ہے جیسے اس کے تلووں پر کسی نے بارود چھڑک کر آگ لگا دی ہو۔

"خود غرضی کا کوہِ ہمالیہ"
اگر آپ نے یہ دیکھنا ہو کہ کوئی انسان اپنی ذات میں کتنا گم ہو سکتا ہے، تو سلفر کو دیکھ لیں۔

لذتِ خارش (The Romance of Scratching):
سلفر کے لیے خارش کرنا کوئی بیماری نہیں، ایک فن (Art) ہے۔ وہ اتنے ادبی ذوق، خشوع و خضوع اور توجہ سے جسم کو نوچتا ہے کہ دیکھنے والا دنگ رہ جائے۔ جب تک ناخنوں کی نوک خون سے رنگین نہ ہو جائے، اس کا عشق مکمل نہیں ہوتا۔ اور بعد میں ہونے والی جلن کو وہ اپنی "مقدس سزا" سمجھ کر بھگتتا ہے۔

کھڑے ہونے پر پابندی:
اس کی ٹانگوں میں کھڑے ہونے کا کوئی سافٹ ویئر ہی انسٹال نہیں ہوتا۔ بس میں سفر کرنا ہو یا کلینک کا انتظار، یہ فوراً کسی دیوار کا سہارا ڈھونڈے گا یا فرش پر ہی دوزانو بیٹھ جائے گا، اور ساتھ ہی کرپٹ سسٹم پر طنز کے تیر چلانا شروع کر دے گا

"سلفر وہ درویش صفت انسان ہے جو اگر کسی ملک کا صدر بن جائے، تو پارلیمنٹ کا اجلاس بستر پر طلب کرے گا، ہر شہری کے لیے نہانے پر پابندی کا صدارتی آرڈیننس جاری کرے گا، اور ملکی خزانے کا سارا فنڈ مٹھائی کی دکانوں پر لٹا دے گا!"
Dr Wahad Bhatti 03008884953

السلام علیکم دوستو!اج میں ایک نہایت اہم موضوع پر بات کرنا چاہتا ہوں، اور وہ موضوع ہے “اصل ڈاکٹر کون؟”اور “علاج صرف دوائی...
17/05/2026

السلام علیکم دوستو!
اج میں ایک نہایت اہم موضوع پر بات کرنا چاہتا ہوں، اور وہ موضوع ہے “اصل ڈاکٹر کون؟”
اور “علاج صرف دوائی کا نام ہے یا علم و شعور کا؟”

میرے بھائیو!
دنیا میں جتنے بھی طریقہ علاج موجود ہیں، ان سب کا بنیادی مقصد انسان کی تکلیف کو کم کرنا اور اسے صحت دینا ہے۔
فرق صرف طریقہ کار، فلسفے اور نظریات کا ہوتا ہے، مگر مقصد سب کا ایک ہی ہے:
“انسانیت کی خدمت”

آج بدقسمتی سے سوشل میڈیا اور شارٹ کٹ کلچر نے طب جیسے مقدس شعبے کو بھی متاثر کیا ہے۔ لوگ دو چار دوائیوں کے نام یاد کر کے خود کو ڈاکٹر سمجھنے لگتے ہیں، حالانکہ ڈاکٹر بننا صرف نسخے یاد کرنے کا نام نہیں، بلکہ انسان کو سمجھنے کا نام ہے۔

میرے دوستو!
ایک حقیقی معالج وہ ہوتا ہے جسے انسان کے جسم، اس کی نفسیات، اس کے مزاج، اس کی بیماری، اس کے ماحول اور اس کے جسمانی نظاموں کی گہری سمجھ ہو۔

اگر کوئی جانوروں کا ڈاکٹر بنتا ہے تو اسے جانوروں کی اناٹمی، فزیالوجی، پیتھالوجی، غذائی نظام اور بیماریوں کا مکمل علم حاصل کرنا پڑتا ہے۔
اسی طرح انسانوں کا معالج بننے کے لیے بھی Anatomy، Physiology، Pathology، Neurology، Gastroenterology، Hepatic System، Endocrine System اور انسانی نفسیات کا علم ضروری ہے۔

اب آئیے مختلف طریقہ ہائے علاج پر مختصر مگر علمی روشنی ڈالتے ہیں۔

ہومیوپیتھی (Homeopathy)
ہومیوپیتھی صرف میٹھی گولیوں کا نام نہیں۔ یہ ایک مکمل فلسفہ، سائنس اور مشاہدے پر مبنی نظام ہے۔
ہانیمن نے “Similia Similibus Curentur” یعنی “مشابہ، مشابہ کا علاج کرتا ہے” کا اصول پیش کیا۔
اس میں مریض کو بیماری کے نام سے نہیں بلکہ اس کی مکمل شخصیت، مزاج، ذہنی کیفیت، جسمانی علامات، نیند، خوف، پسند ناپسند اور میازمز کے مطابق دیکھا جاتا ہے۔

ایک حقیقی ہومیوپیتھ کو Organon، Materia Medica، Repertory، Anatomy، Physiology اور Pathology پر عبور حاصل ہونا چاہیے۔
اسے Psora، Sycosis، Syphilis جیسے بنیادی میازمز کا علم ہونا چاہیے، اور ساتھ Tubercular، Carcinosin اور جدید میازمز کو بھی سمجھنا چاہیے۔

یونانی طب (Unani Medicine)
یونانی طب صدیوں پر محیط ایک عظیم طبی نظام ہے۔
اس کی بنیاد مزاج اور اخلاط پر رکھی گئی ہے: سودا، صفرا، بلغم اور دم۔
حکیم مریض کے جسمانی مزاج، نبض، غذا، ماحول اور اخلاط کے توازن کو دیکھ کر علاج کرتا ہے۔
اس میں غذا، جڑی بوٹیاں، تدابیر اور قدرتی اصولوں کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

آیورویدک طب (Ayurveda)
آیوروید صرف علاج نہیں بلکہ “طرزِ زندگی” ہے۔
اس کی بنیاد وات، پت اور کف پر قائم ہے۔
یہ جسم، دماغ اور روح کے توازن کو صحت کی اصل بنیاد سمجھتی ہے۔
اس میں غذا، جڑی بوٹیاں، یوگا، مراقبہ اور جسمانی توازن کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔

ایلوپیتھی (Allopathic Medicine)
ایلوپیتھی جدید سائنسی تحقیق، لیبارٹری، سرجری، ایمرجنسی اور Evidence-Based Medicine پر قائم نظام ہے۔
اس میں Anatomy، Histology، Pharmacology، Biochemistry، Pathology، Neurology، Cardiology اور دیگر جدید علوم بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
ایمرجنسی، ICU، سرجری، ٹراما اور جان بچانے والے اقدامات میں اس کا کردار انتہائی اہم ہے۔

چائنیز میڈیسن (Chinese Medicine)
چائنیز طب میں جسمانی توانائی (Qi)، Yin Yang Balance اور Acupuncture جیسے اصول شامل ہیں۔
یہ جسمانی توانائی کے بہاؤ کو درست کر کے بیماری کے علاج پر یقین رکھتی ہے۔

روایتی اور دیسی طب
ہمارے دیہاتوں اور قدیم معاشروں میں صدیوں سے جڑی بوٹیوں، دیسی نسخوں اور قدرتی غذاؤں سے علاج کیا جاتا رہا ہے۔
اگر یہ علم تحقیق، احتیاط اور تجربے کے ساتھ استعمال ہو تو فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، مگر بغیر علم کے یہی چیز نقصان بھی دے سکتی ہے۔

میرے بھائیو!
اصل بات “پیتھی” نہیں… اصل بات “علم” ہے۔
اگر انسان کو سمجھ لیا تو علاج آسان ہو جاتا ہے، اور اگر انسان ہی نہ سمجھا تو بڑی سے بڑی ڈگری بھی صرف دیوار کی زینت رہ جاتی ہے۔

ایک حقیقی معالج کو یہ جاننا چاہیے:
✔ مریض کا مزاج کیا ہے؟
✔ بیماری کی جڑ کیا ہے؟
✔ جسم کا کون سا نظام متاثر ہے؟
✔ مریض کی ذہنی کیفیت کیا ہے؟
✔ دوا کا مزاج کیا ہے؟
✔ دوا جسم پر کس طرح اثر کرتی ہے؟
✔ بیماری عارضی ہے یا میازمی بنیاد رکھتی ہے؟

خاص طور پر ہومیوپیتھی میں صرف “فلاں بیماری کی دوا” پوچھنا بہت بڑی غلطی ہے۔
ہومیوپیتھی بیماری نہیں، مریض کا علاج کرتی ہے۔

اور اب آخر میں اپنے کچھ “محترم ہومیوپیتھک دوستوں” کے لیے ایک ہلکا سا پیغام
ہمارے کچھ ہومیوپیتھ دوست ایسے ہیں جن کے ہاتھ میں موبائل، سامنے فیس بک گروپ، اور ہر پانچ منٹ بعد سوال:
“سر بخار کی best remedy?”
“سر کھانسی کی ایک نمبر دوا؟”
“سر psoriasis کی guaranteed medicine?”
“سر کوئی شارٹ کٹ بتا دیں!”

نہ Organon پڑھی…
نہ Materia Medica دیکھی…
نہ Repertory کھولی…
نہ میازم سمجھا…
مگر نسخے ایسے پوچھتے ہیں جیسے ہانیمن مرحوم نے رات خواب میں آ کر ذاتی اجازت دے دی ہو!

میرے بھائیو!
صرف دوائیوں کے نام پوچھنے سے کوئی ہومیوپیتھ نہیں بنتا۔
ورنہ میڈیکل سٹور والا دنیا کا سب سے بڑا پروفیسر ہوتا!

خدارا!
سیکھیں… پڑھیں… سمجھیں…
مریض پر رحم کریں…
علم حاصل کریں…
اور واقعی “ڈاکٹر” بنیں۔

کیونکہ:
“علم والا معالج شفا کا ذریعہ بنتا ہے،
اور جاہل معالج مریض کی آزمائش!”

وما علینا الا البلاغ المبین

Dr Muhammad Wahad Bhatti 03008884953

✨ چاندی (Silver) کی مشہور ہومیوپیتھک Argentum Family ✨ہر remedy اپنی ایک خاص “گولڈن سمپٹم” رکھتی ہے 👇🔹 Argentum nitricum...
16/05/2026

✨ چاندی (Silver) کی مشہور ہومیوپیتھک Argentum Family ✨
ہر remedy اپنی ایک خاص “گولڈن سمپٹم” رکھتی ہے 👇

🔹 Argentum nitricum
جلد بازی، گھبراہٹ، ہر کام میں panic

🔹 Argentum metallicum
آواز بیٹھ جانا، گلا کمزور

🔹 Argentum muriaticum
رحم و اووری کی کمزوری

🔹 Argentum phosphoricum
دماغی تھکن، پڑھتے ہی exhaustion

🔹 Argentum cyanatum
شدید دم گھٹنا، سانس رکنے جیسی کیفیت

🔹 Argentum arsenicosum
بے چینی کے ساتھ دمہ

🔹 Argentum iodatum
پرانا نزلہ، گاڑھا mucus

🔹 Argentum sulphuricum
جلتی خارش اور skin irritation

🔹 Argentum aceticum
معدے کی جلن اور nausea

📚 “Argentum family” اعصابی کمزوری، anxiety اور respiratory complaints میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔

👨‍⚕️ Dr Wahad Bhatti
📞 03008884953

Address

WAHAD Natural Homoeo & Herbalife Health Complex
Zafarwala
51600

Opening Hours

Monday 08:00 - 18:00
Tuesday 08:00 - 18:00
Wednesday 08:00 - 18:00
Thursday 08:00 - 18:00
Saturday 08:00 - 18:00
Sunday 08:00 - 18:00

Telephone

923008884953

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when DR WAHAD Bhatti Homoeo Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to DR WAHAD Bhatti Homoeo Clinic:

Share