03/08/2026
طب کے فیصلے سائنسی شواہد سے ہونے چاہئیں، سفارتی حالات سے نہیں۔
اگر افغانستان کی میڈیکل جامعات سے حاصل کردہ MD ڈگریاں تعلیمی معیار پر پورا نہیں اترتیں، تو اس کا فیصلہ واضح، شفاف اور یکساں تعلیمی معیار کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ لیکن اگر معیار وہی ہے اور صرف سیاسی حالات بدل گئے ہیں، تو پھر سوال تعلیمی نہیں، پالیسی کا ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ آج بھی سیکڑوں پاکستانی طلبہ افغانستان کی مختلف میڈیکل یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم ہیں۔ اگر یہ ادارے واقعی ناقابلِ قبول ہیں تو داخلے کے وقت خاموشی کیوں؟ اور اگر وہاں تعلیم قابلِ قبول ہے تو فارغ التحصیل پاکستانی ڈاکٹروں کے لیے دروازے کیوں بند؟
ریگولیٹری اداروں کی ذمہ داری تعلیمی معیار کا تحفظ ہے، نہ کہ سیاسی کشیدگی کو پیشہ ورانہ مستقبل پر نافذ کرنا۔ طب میں فیصلے شواہد، معیار اور قانون کی بنیاد پر ہونے چاہئیں، نہ کہ جغرافیائی سیاست کے اتار چڑھاؤ پر۔
پاکستان میڈیکل ٹربیون سمجھتا ہے کہ اگر ریگولیشن ہر بدلتی ہوئی سیاسی ہوا کے ساتھ بدلنے لگے، تو اسے ریگولیشن نہیں بلکہ سیاسی موسمیات کہا جائے گا۔
طب کو سیاست نہیں، میرٹ اور انصاف چلانا چاہیے۔