Javaid Rather Official

Itinéraire

Javaid Rather Official Informations de contact, plan et itinéraire, formulaire de contact, heures d'ouverture, services, évaluations, photos, vidéos et annonces de Javaid Rather Official, Santé, Democratic Republic of the.

12/10/2026
تمام جمعہ خطیب صاحباں اور مولوی صاحبان یہ تحریر ضرور پڑھیں جمعہ خطیب صاحب کی 30 صفات (قرآن و حدیث کی روشنی میں)۱. خطیب ص...
10/10/2026

تمام جمعہ خطیب صاحباں اور مولوی صاحبان یہ تحریر ضرور پڑھیں
جمعہ خطیب صاحب کی 30 صفات (قرآن و حدیث کی روشنی میں)
۱. خطیب صاحب پکا موحد ہونا چاہیے۔
قرآن کا مطالبہ: اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کو توحید ہی کی دعوت دی: «وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ» (الذاریات: 56)۔ اور حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: «مَنْ قَالَ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ» (مسند احمد)۔ توحید ہر خطیب کا بنیادی وصف ہے۔

۲. خطیب صاحب شرک کاٹنے والا ہونا چاہیے۔
قرآن کا مطالبہ: «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» (النحل: 36)۔ خطیب کا فرض ہے کہ وہ شرک کی ہر صورت کو واضح انداز میں رد کرے اور لوگوں کو خالص توحید کی طرف بلائے۔

۳. خطیب صاحب عالم با عمل ہونا چاہیے۔
قرآن کا مطالبہ: «أَفَمَنْ يَعْلَمُ أَنَّمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَى» (الرعد: 19)۔ اور حدیث میں ہے: «مَثَلُ الْعَالِمِ الَّذِي لَا يَعْمَلُ بِعِلْمِهِ كَمَثَلِ السِّرَاجِ يُضِيءُ لِلنَّاسِ وَيَحْرِقُ نَفْسَهُ» (الجامع الصغير)۔ یعنی علم بغیر عمل خطیب کی اپنی ہلاکت کا سبب ہے۔

۴. خطیب صاحب سنتوں کا پابند اور واجبات و شریعت کا جاننے والا ہونا چاہیے۔
قرآن کا مطالبہ: «وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا» (الحشر: 7)۔ نبی ﷺ نے فرمایا: «عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي» (ترمذی)۔ خطیب کا ہر فعل و قول سنت کے مطابق ہونا چاہیے۔

۵. خطیب صاحب قصہ کہانیاں سنانے والا نہیں، بلکہ قرآن و حدیث کا سنانے والا ہونا چاہیے۔
قرآن کا مطالبہ: «فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَنْ يَخَافُ وَعِيدِ» (ق: 45)۔ نبی ﷺ کی خطبات قرآن و حدیث ہی پر مبنی ہوتی تھیں، جیسا کہ جابرؓ سے مروی ہے: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا خَطَبَ... يَقُولُ: أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ» (مسلم)۔

۶. خطیب صاحب موجودہ حالات (کرنٹ سچویشن) پر گفتگو کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔
خطیب کو امت کے مسائل سے باخبر رہنا چاہیے۔ حضرت علیؓ کا قول ہے: «الْعَالِمُ مَنْ يَعْرِفُ زَمَانَهُ» (کنز العمال)۔ یعنی وہ عالم جو اپنے زمانے کو نہ سمجھے وہ لوگوں کی رہنمائی نہیں کر سکتا۔

۷. خطیب صاحب صرف پرانی باتیں نہیں سنانے والا، بلکہ اصول قرآن، اصول حدیث، اصول فقہ اور تاریخ کا جاننے والا ہونا چاہیے۔
قرآن کا مطالبہ: «يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا» (البقرة: 269)۔ اصول کا علم خطیب کو ہر مسئلے کا صحیح حل نکالنے کی صلاحیت دیتا ہے۔

۸. خطیب صاحب کو سیرت النبی ﷺ نظر ہونی چاہیے۔
قرآن کا مطالبہ: «لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ» (الأحزاب: 21)۔ نبی ﷺ کی سیرت خطیب کے لیے ہر لمحہ نمونہ ہے، اور اسی سے وہ لوگوں کی تربیت کرے۔

۹. خطیب صاحب لیڈر ہونا چاہیے، یعنی کسی کے دباؤ میں آ کر توحید کو نہ چھپانے والا ہونا چاہیے۔
حدیث کا مطالبہ: نبی ﷺ نے فرمایا: «أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ» (ابو داؤد، ترمذی)۔ اور بیعت کا واقعہ: «بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَلَى أَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ أَيْنَمَا كُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ» (ابن ماجہ)۔ خطیب کو حق کہنے میں کسی ملامت سے نہیں ڈرنا چاہیے。

۱۰. خطیب صاحب خود سنتوں کا پابند ہونا چاہیے۔
قرآن کا مطالبہ: «وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا» (الأحزاب: 71)۔ پہلے خود عمل، پھر دوسروں کو دعوت — یہی مبلغ کا طریقہ ہے۔

۱۱. خطیب صاحب کی قراءت بہت اچھی ہونی چاہیے۔
حدیث کا مطالبہ: نبی ﷺ نے فرمایا: «يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ» (مسلم)۔ جمعہ کے خطبے میں نبی ﷺ سورۃ ق کی تلاوت فرماتے تھے (مسلم)۔ خطیب کو قرآن کی درست تلاوت کا ماہر ہونا چاہیے۔

۱۲. خطیب صاحب کے گھریلو اور دینی حالات بہت اچھے ہونے چاہیے۔
قرآن کا مطالبہ: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ» (الصف: 2-3)۔ خطیب کا گھر اس کے کردار کا آئینہ ہے۔

۱۳. خطیب صاحب کو جادو کرنے والا نہیں ہونا چاہیے۔
قرآن کا مطالبہ: «وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ» (البقرة: 102)۔ اور حدیث میں ہے: «مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً» (مسلم)۔ جادو اور کاہنوں سے تعلق خطیب کے لیے قطعاً ناجائز ہے۔

۱۴. خطیب صاحب شیریں بیان ہونا چاہیے۔
قرآن کا مطالبہ: حضرت موسیٰؑ کی دعا: «وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي» (طه: 27-28)۔ اور اللہ نے داؤدؑ کو «فَصْلَ الْخِطَابِ» (ص: 20) عطا فرمایا۔ خطیب کا بیان فصیح و بلیغ ہونا چاہیے۔

۱۵. خطیب صاحب کا بیان شارٹ کٹ (مختصر اور جامع) ہونا چاہیے۔
حدیث کا مطالبہ: نبی ﷺ نے فرمایا: «إِنَّ طُولَ الصَّلَاةِ وَقِصَرَ الْخُطْبَةِ مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ» (مسلم)۔ یعنی لمبی نماز اور مختصر خطبہ فقہ کی علامت ہے۔

۱۶. خطیب صاحب کی ہر بات قرآن و حدیث کی روشنی میں ہونی چاہیے۔
قرآن کا مطالبہ: «وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى» (النجم: 3-4)۔ نبی ﷺ کی خطبات میں «خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ» فرمانا اسی اصول کا اعلان ہے۔

۱۷. خطیب صاحب کو بیان کے دوران شعر و شاعری اور فضول کہانیوں میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
قرآن کا مطالبہ: «وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ» (لقمان: 6)۔ خطیب کا وقت قیمتی امانت ہے، اسے وعظ و نصیحت ہی میں صرف کرے۔

۱۸. خطیب صاحب لوگوں کی روحانی بیماریوں کو پہچاننے والا ہونا چاہیے۔
خطیب کو طبیبِ روحانی ہونا چاہیے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا: «الْعَالِمُ طَبِيبُ الدِّينِ» (کتاب الخطابة)۔ یعنی عالم دین کا کام روحانی بیماریوں کا علاج ہے۔

۱۹. خطیب صاحب خود مفتی یا کوئی دینی ڈگری کیا ہوا ہونا چاہیے۔
حدیث کا مطالبہ: نبی ﷺ نے فرمایا: «مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ» (بخاری، مسلم)۔ خطیب کو باقاعدہ دینی تعلیم یافتہ اور فقہی بصیرت رکھنے والا ہونا چاہیے۔

۲۰. خطیب صاحب میں اخلاص ہونا چاہیے۔
قرآن کا مطالبہ: «وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ» (البينة: 5)۔ اخلاص کے بغیر خطبہ ریاکاری بن جاتا ہے۔

۲۱. خطیب صاحب متقی اور پرہیزگار ہونا چاہیے۔
قرآن کا مطالبہ: «إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ» (الحجرات: 13)۔ تقویٰ خطیب کے کردار کی بنیاد ہے۔

۲۲. خطیب صاحب متواضع اور عاجز ہونا چاہیے۔
قرآن کا مطالبہ: «وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ» (الإسراء: 24)۔ تکبر خطیب کے لیے زہر قاتل ہے۔

۲۳. خطیب صاحب صابر اور برداشت کرنے والا ہونا چاہیے۔
قرآن کا مطالبہ: «وَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَاهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِيلًا» (المزمل: 10)۔ خطیب کو لوگوں کی مخالفت پر صبر کرنا چاہیے۔

۲۴. خطیب صاحب عدل و انصاف کرنے والا ہونا چاہیے۔
قرآن کا مطالبہ: «وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ» (النساء: 58)۔ خطیب کا انصاف ہر معاملے میں ظاہر ہونا چاہیے۔

۲۵. خطیب صاحب کو امانت دار ہونا چاہیے۔
قرآن کا مطالبہ: «إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا» (النساء: 58)۔ خطیب کا منصب ایک عظیم امانت ہے۔

۲۶. خطیب صاحب دوسروں کے عیوب کی پردہ پوشی کرنے والا ہونا چاہیے۔
حدیث کا مطالبہ: نبی ﷺ نے فرمایا: «مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» (مسلم)۔ خطیب کو لوگوں کی برائیاں فاش کرنے کے بجائے ان کی اصلاح کرنی چاہیے۔

۲۷. خطیب صاحب لوگوں کا خیرخواہ اور نصیحت کرنے والا ہونا چاہیے۔
قرآن کا مطالبہ: «وَأَمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ» (لقمان: 17)۔ خطیب کا فرض خیرخواہی اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے۔

۲۸. خطیب صاحب کی زبان اور کردار میں مطابقت ہونی چاہیے۔
قرآن کا مطالبہ: «لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ» (الصف: 2)۔ لوگ خطیب کے عمل سے زیادہ اثر لیتے ہیں، اس لیے قول و فعل میں تضاد نہیں ہونا چاہیے۔

۲۹. خطیب صاحب اپنے علم پر فخر اور دوسروں کو حقیر نہ سمجھنے والا ہونا چاہیے۔
حدیث کا مطالبہ: نبی ﷺ نے فرمایا: «مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا لِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ... أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ» (ترمذی)۔ علم کا مقصد اللہ کی رضا ہونا چاہیے، نہ کہ لوگوں میں بڑائی۔

۳۰. خطیب صاحب کو اللہ کی رضا اور آخرت کی فکر رکھنے والا ہونا چاہیے۔
قرآن کا مطالبہ: «وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ» (الأنعام: 32)۔ خطیب کا اصل مقصد دنیا نہیں، آخرت کی کامیابی ہونی چاہیے
راقم: جاوید احمد راتھر چراری پورہ پکھر پورہ بڈگام سرینگر کشمیر

حضرت شیخ نور الدین ولی، شیخ العالم رحمۃ اللہ علیہمحسنِ کشمیر، محبوبِ رب العالمین، عارف باللہ، ولیِ کامل، توحید کے علمبرد...
08/10/2026

حضرت شیخ نور الدین ولی، شیخ العالم رحمۃ اللہ علیہ

محسنِ کشمیر، محبوبِ رب العالمین، عارف باللہ، ولیِ کامل، توحید کے علمبردار، توحید کے پاسبان، توحید کے سپہ سالار، علمدارِ ملک کشمیر، نند ریشی،
حضرت شیخ نور الدین نورانی، شیخ العالم رحمۃ اللہ علیہ، کشمیر کی وہ عظیم روحانی ہستی ہیں جنہیں تاریخ نے ”علمدارِ کشمیر“، ”شیخ العالم“، ”محسنِ کشمیر“ اور ”محبوبِ رب العالمین“ جیسے القاب سے نوازا۔ آپ کا پورا نام شیخ نور الدین نورانی ہے، اور کشمیری عوام آپ کو پیار سے ”نند ریشی“ کہتے ہیں۔ آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے توحید، رسالت، آخرت اور نفس کی پاکیزگی کا پیغام عام کیا۔ آپ کے کلام کو ”شْرُک“ کہا جاتا ہے، جو کشمیری زبان میں عوام تک پہنچنے کا سب سے مؤثر ذریعہ تھا۔

📜 ولادت اور ابتدائی زندگی

حضرت شیخ العالمؒ 6 جمادی الاول 779ھ (مطابق 1377ء) کو کشمیر کے ضلع کولگام کے گاؤں کیموہ (قیموہ) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام سالار سنز اور والدہ کا نام سدرہ (سدرہ موجی) تھا۔ آپ کا نسب کشتواڑ کے راجپوت خاندان سے جڑتا ہے، جہاں آپ کے دادا شیخ صلاح الدین راجپوت شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والدین نے حضرت میر سید سمنانیؒ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔

روایت ہے کہ پیدا ہونے کے بعد تین دن تک آپ نے ماں کا دودھ نہیں پیا، اور آپ کی پرورش میں حضرت لال دیدؒ کا بھی روحانی کردار رہا، جسے بعض روایات میں ”روحانی پرورش“ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَاللَّهُ يُخْرِجُ مِنَ الْأَرْحَامِ مَا يَشَاءُ
اور اللہ جسے چاہے رحم سے باہر لاتا ہے۔

🌱 جوانی اور روحانی سفر

ابتدائی عمر سے ہی آپ میں زہد و تقویٰ کے آثار نمایاں تھے۔ 30 سال کی عمر میں آپ نے دنیاوی معاملات سے مکمل کنارہ کشی اختیار کی اور جنگلات و پہاڑوں میں عبادت و ریاضت کو اپنا معمول بنا لیا۔ آپ نے کئی مقامات پر چلہ کشی کی، جن میں ٹسیر، پہلگام اور مکھتا پکھری (سورہ، سری نگر) شامل ہیں۔ آپ نے 1417-18ء میں سری نگر کے قریب ایک روحانی مرکز قائم کیا، جہاں سے آپ نے امراء اور عوام تک توحید کا پیغام پہنچایا۔

آپ نے 63 سال کی عمر میں 842ھ (1440ء) میں وفات پائی اور چرار شریف (بڈگام) میں دفن ہوئے۔ آپ کے چار خلفاء تھے: بابا بام الدین، بابا نصر الدین، بابا زین الدین اور بابا لطیف الدین، جن پر آپ کو فخر تھا۔

🔗 روحانی سلسلہ (سلسلۂ طریقت)

حضرت شیخ العالمؒ کا روحانی سلسلہ سلسلۂ کبرویہ سے جڑتا ہے۔ آپ کے والدین حضرت میر سید سمنانیؒ کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوئے، اور بعد میں میر سید محمد ہمدانیؒ (امیر کبیر) سے آپ کا روحانی تعلق قائم ہوا۔ ایک دستاویز کے مطابق، 1408ء میں آپ کو سلسلۂ کبرویہ میں باضابطہ طور پر شامل کیا گیا۔

آپ کا سلسلہ اویس قرنیؒ کے واسطے سے نبی کریم ﷺ تک پہنچتا ہے، جس میں زلکا ریشی، پلاس ریشی، روما ریشی اور میراں ریشی کے نام آتے ہیں۔ آپ نے رشی آرڈر کی بنیاد رکھی، جو کشمیر میں روحانی رواداری اور ہندو مسلم اتحاد کی علامت بنی۔

قرآنِ مجید میں ہے:

أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
خبردار! اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
(یونس: 62)

🕋 توحید کے بارے میں اشعار

حضرت شیخ العالمؒ کا کلام توحید کے نور سے معمور ہے۔ آپ فرماتے ہیں:

کشمیری:

کُنرے بوزکھ کنہ نو روزکھ
امی کُنرن کوتاہ دیت جلاو
عقل تے فکر تور کوت سوزکھ
کانسہ نبا ہیوک چیتھ سہ دریاو

اردو ترجمہ
اگر اللّہ کی وحدانیت کا پتہ چلے آپ اسی وقت فنا ہو جاؤ گے کیونکہ اس طرح ہے جس طرح کوئی انسان دریا کو پینے کی کوشش کرے گا

کشمیری:

شِرکُک ہون چھی منز کھہس صاف کتی سپدی پونی
دھگ چک طولان زھڈسی
تو ہس عقلی چینِ دین

اردو ترجمہ:

شرک کی آلودگی کو دل سے صاف کر دو، پھر پانی (وحدت) میں غوطہ لگاؤ
جب تک جسم میں جان ہے، عقل اور دین کو تھام لو

مفہوم: یہ شعر توحید خالص کی دعوت دیتا ہے، یعنی شرک کی تمام آلودگیوں سے پاک ہو کر دریائے وحدت میں غوطہ زن ہو جاؤ۔

قرآنِ مجید میں ہے:

إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ
بے شک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، اور اس کے سوا جسے چاہے معاف کر دیتا ہے۔
(النساء: 48)

---

کشمیری:

سوی ہو چی تی سوئی ہو اسی سوئی سوئی قرضی ہا ہے ہا زوو
سی ہو ساری اندیشہ کاسی
ہا زوو پایس پتو

اردو ترجمہ:

وہ خود ہی ہے اور وہی ہم ہیں، وہی سب کچھ ہے، اپنا قرض ادا کر
وہی سب اندیشوں کا مالک ہے
اپنے پاؤں پر چل کر اس تک پہنچ

مفہوم: یہ شعر وحدت الوجود کے مفہوم کو پیش کرتا ہے، جہاں اللہ ہر چیز میں موجود ہے اور انسان کو خود شناسی کے ذریعے اللہ تک پہنچنا ہے۔

---

کشمیری:

کُس مری تے کُس ماری، کُس گژھِ ہری ہری
کَرِتھ یُس پَنُن پان پانے ماری

اردو ترجمہ:

کون مرتا ہے اور کون مارتا ہے، کون ہر طرف سے ہرا بھرا ہو جاتا ہے
جو اپنے آپ کو خود ہی مارتا ہے (نفس کشی کرتا ہے)

مفہوم: زندگی اور موت کا مالک صرف اللہ ہے، اور اصل کامیابی نفس کو قابو کرنے میں ہے

---

⚰️ موت کے بارے میں اشعار

کشمیری:

موت چھ آ کھ، تحقیق میں نہ کا نہہ فرار
ہیکہ سپوٹھ، ساہ یہ آسان لفظ مٹر چھ موت

اردو ترجمہ:

موت آنے والی ہے، تحقیق میں کوئی اس سے فرار نہیں پا سکتا
سنو! یہ آسان لفظ موت ہے

مفہوم: موت ایک ناقابلِ فرار حقیقت ہے جس سے کوئی نہیں بچ سکتا۔

قرآنِ مجید میں ہے:

كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ
ہر جان موت کا ذائقہ چکھے گی۔
(آل عمران: 185)

---

کشمیری:

کرول کرہ با کور نم نورس، کرول ڈورس وھجم ڈھاے راس
آجھ آچھ کھتہ مورس، سبھ جھم شالہ موکھر کرجھ ماء

اردو ترجمہ:

وہ کون ہے جس نے نور پر کا لک مل دیا ہے
اس چور کا تو میں نے صرف سایہ دیکھا ہے
میں جال میں بند ہوں، لہذا آنکھیں کیسے بچا سکتا ہوں
شیر تو گیدڑ کے کھیس میں میری تاک میں ہے

مفہوم: یہ شعر موت کے تصور کو پیش کرتا ہے، جو ہر ایک کو آنے والی ہے اور انسان کو اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

🌅 قیامت کے بارے میں اشعار

کشمیری:

نہت سہ جہنم، عالمہ برزخ یا نے قبر نہند غلام
قیامت سہ پر آڑ قوم سہ ہیں فِجہ اٹھ مَزْفَرِجَ

اردو ترجمہ:

نہ جہنم، نہ برزخ اور نہ قبر میں غلام کو آرام ملے گا
قیامت کے دن ہر قوم اپنے اعمال کے مطابق اٹھے گی

مفہوم: قیامت کے دن ہر انسان کو اس کے اعمال کا بدلہ ملے گا، اور وہاں کوئی جگہ آرام کی نہیں ہوگی۔

ایک اور شعر میں آپ قیامت کی ہولناکی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”وہ آگ پہاڑوں کو راکھ کر دے گی، جس میں نافرمان ڈالے جائیں گے، اور نیک لوگ جنت میں رہیں گے۔“

قیامت اور شفاعتِ نبویؐ:

آپ کے کلام میں قیامت کے دن نبی کریم ﷺ کی شفاعت کی اہمیت بھی بیان کی گئی ہے:

”اے عاقل! بت پرستی کا راستہ چھوڑ دو، سچائی کا راستہ اختیار کرو۔ ہمارے گناہ ہمیں آگ کی طرف کھینچیں گے، لیکن اس سے بھی شدید عذاب وہ پریشانی ہے جو قیامت کے دن ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ کو اپنے رب کے سامنے پیش ہونے پر ہوگی۔“

قرآنِ مجید میں ہے:

يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ
جس دن نہ مال فائدہ دے گا نہ اولاد، سوائے اس کے جو اللہ کے پاس سلامتی والا دل لے کر آئے۔
(الشعراء: 88-89)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
میں قیامت کے دن اولادِ آدم کا سردار ہوں گا۔

📚 خلاصہ

حضرت شیخ العالمؒ کی پوری زندگی توحید، رسالت اور آخرت کی یاد دہانی کا نمونہ تھی۔ آپ نے کشمیری زبان میں ایسے اشعار کہے جو آج بھی عوام کی زبان پر ہیں۔ آپ کا کلام ”کشمیری ترجمہ قرآن“ کہلاتا ہے، کیونکہ اس میں قرآن و حدیث کے مضامین کو عوام کی زبان میں پیش کیا گیا ہے۔

آپ کا پیغام آج بھی کشمیر میں ہندو مسلم اتحاد اور روحانی بیداری کا ذریعہ ہے۔ آپ کے اشعار نہ صرف مذہبی تعلیمات کا خزانہ ہیں بلکہ کشمیری ثقافت اور زبان کی عظیم میراث بھی ہیں۔

آپ کا مشہور قول:

”اَنّہ پوشی تیلی ییلی وَن پوشی“
اناج اُس وقت تک پروان چڑھے گا جب تک جنگل سلامت رہیں گے۔

راقم: جاوید احمد راتھر، چراری پورہ، بڈگام، کشمیر

اسلام علیکم محترم قارئین کرام بِسّم اللّٰہ الرَحمٰنِ الرَحِیم عنوان: قیامت کے دن مشرکین کا اللہ سے جھوٹا حلف – "واللہ رب...
06/10/2026

اسلام علیکم محترم قارئین کرام
بِسّم اللّٰہ الرَحمٰنِ الرَحِیم عنوان: قیامت کے دن مشرکین کا اللہ سے جھوٹا حلف – "واللہ ربنا ما کنا مشرکین"
قیامت کا دن ایک ایسا دن ہے جب ہر چھپی ہوئی حقیقت کھل جائے گی اور انسان اپنے رب کے سامنے بے بس کھڑا ہوگا۔ اس دن کی ہولناکیوں میں سے ایک منظر وہ بھی ہے جب مشرکین، جو دنیا میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے تھے، اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر قسم کھا کر کہیں گے کہ وہ مشرک نہیں تھے۔ یہ منظر قرآن مجید میں سورۃ الانعام کی آیت 23 میں بیان کیا گیا ہے:

ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ (الأنعام: 23)

"پھر ان کا کوئی عذر نہ ہوگا سوائے اس کے کہ وہ کہیں گے: اللہ کی قسم! اے ہمارے رب! ہم مشرک نہیں تھے۔"

مشرکین کا دنیاوی فریب

یہ آیت ایک انتہائی گہرے نفسیاتی اور عقیدتی پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ مشرکین دنیا میں اپنے کیے کو شرک نہیں سمجھتے تھے۔ وہ غیر اللہ کو اللہ نہیں مانتے تھے، بلکہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ ہمیں اللہ تک پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔ اسی عقیدے کی وجہ سے وہ قیامت کے دن بھی یہی سمجھیں گے کہ انہوں نے شرک نہیں کیا۔

مفسرین اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ جب مشرکین قیامت کے دن دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی خطائیں معاف فرما رہا ہے، تو وہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے جھوٹ بولنے کا فیصلہ کریں گے۔ مجاہد کہتے ہیں: "مشرکین جب دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ نہیں بخشے گا، تو وہ ایک دوسرے سے کہیں گے: افسوس! تم ایسے عمل لے کر آئے ہو جسے اللہ نہیں بخشے گا۔ آؤ اب جھوٹ بولیں اور قسم کھا کر کہیں کہ ہم مشرک نہیں تھے"۔

ابن عباسؓ کی روایت میں ہے کہ جب مشرکین نے دیکھا کہ جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہوں گے، تو انہوں نے کہا: "آؤ، جب ہم سے پوچھا جائے تو ہم کہہ دیں کہ واللہ ربنا ما کنا مشرکین"۔

بنیادی وجہ: دنیا میں اپنے شرک کو شرک نہ سمجھنا

یہ بات انتہائی اہم ہے کہ مشرکین قیامت کے دن جھوٹ کیوں بولیں گے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ دنیا میں اپنے کیے کو شرک ہی نہیں سمجھتے تھے۔ علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ان کا یہ قول کہ "ہم مشرک نہیں تھے" دراصل ان کے اس دنیاوی عقیدے کا نتیجہ ہے کہ وہ غیر اللہ کو اللہ کا شریک نہیں مانتے تھے، بلکہ انہیں اللہ تک پہنچنے کا وسیلہ سمجھتے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ قیامت کے دن وہ اللہ سے قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم مشرک نہیں تھے، حالانکہ دنیا میں انہوں نے عملی طور پر شرک کیا تھا۔ لیکن چونکہ ان کے عقیدے میں یہ شرک نہیں تھا، اس لیے وہ اپنے آپ کو سچا سمجھیں گے۔

قرآن نے پہلے ہی اس بات کی وضاحت کر دی ہے

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح فرما دیا ہے کہ دنیا میں بھی یہ لوگ شرک کرتے تھے، اگرچہ وہ اسے شرک نہیں مانتے تھے۔ سورۃ الزمر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِهِ إِلَّا أَن يُقَرِّبُوهُمْ إِلَى اللَّهِ زُلْفَىٰ (الزمر: 3)

"اور وہ جن کی عبادت کرتے ہیں، وہ صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ انہیں اللہ تک پہنچا دیں۔"

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ مشرکین کا عقیدہ یہ تھا کہ وہ غیر اللہ کو اللہ تک پہنچانے کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے شرک قرار دیا اور فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ (النساء: 48)

"بے شک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، اور اس کے سوا باقی گناہ جسے چاہے معاف کر دیتا ہے۔"

ہمارے کہنے سے کچھ نہیں ہوگا

یہ ایک انتہائی اہم نکتہ ہے۔ اگر ہم دنیا میں یہ کہیں کہ "یہ شرک نہیں ہے" تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہمارے اس دعوے کو نہیں مانے گا۔ ہم چاہے اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ "ہم نے شرک نہیں کیا"، تب بھی اللہ تعالیٰ ہمارے اس جھوٹ کو نہیں مانے گا۔

اسی طرح اگر کوئی شخص دنیا میں اپنے شرک کو شرک نہ سمجھے، تو قیامت کے دن اس کا یہ عذر قبول نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح کر دیا ہے کہ ان کا یہ قول بھی ایک جھوٹ ہوگا اور اللہ تعالیٰ ان کے جھوٹ کو پکڑ لے گا:

انظُرْ كَيْفَ كَذَبُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ (الأنعام: 24)

"دیکھو! انہوں نے اپنے آپ پر کیسا جھوٹ باندھا، اور جو کچھ وہ گھڑتے تھے، وہ ان سے گم ہو گیا۔"

جوارح کا گواہی دینا

جب مشرکین قیامت کے دن اپنے شرک کا انکار کریں گے اور اللہ کی قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم مشرک نہیں تھے، تو اللہ تعالیٰ ان کے منہ پر مہر لگا دے گا اور ان کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ یہ منظر قرآن مجید میں سورۃ یٰسین میں بیان کیا گیا ہے:

الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَىٰ أَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَا أَيْدِيهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (یٰسین: 65)

"آج ہم ان کے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بولیں گے اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے ان کاموں کی جو وہ کرتے تھے۔"

صحیح بخاری میں حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "قیامت کے دن کافر سے کہا جائے گا: اگر تمہارے پاس دنیا بھر کی سونا ہو تو کیا تم اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے دو گے؟ وہ کہے گا: ہاں۔ تو اس سے کہا جائے گا: تم سے اس سے آسان چیز کا مطالبہ کیا گیا تھا، یعنی صرف اللہ کی عبادت اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، لیکن تم نے انکار کیا اور شرک کیا۔" اس کے بعد اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے اعضاء اس کے خلاف گواہی دیں گے۔

شرک کی اقسام اور اس کا خطرہ

شرک کی دو بڑی اقسام ہیں: شرکِ اکبر اور شرکِ اصغر۔

· شرکِ اکبر: یہ وہ شرک ہے جو انسان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے، جیسے غیر اللہ کی عبادت کرنا، انہیں اللہ کا شریک ماننا، یا اللہ کے سوا کسی سے دعا مانگنا۔
· شرکِ اصغر: یہ وہ شرک ہے جو انسان کو دائرہ اسلام سے خارج نہیں کرتا لیکن یہ کبیرہ گناہوں میں سے سب سے بڑا گناہ ہے، جیسے ریاکاری، غیر اللہ کی قسم کھانا، وغیرہ۔

ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شرکِ اصغر بھی انتہائی خطرناک ہے کیونکہ یہ شرکِ اکبر تک پہنچنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو شرکِ خفی سے ڈرایا۔ حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو میرے نزدیک مسیح دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: شرکِ خفی یہ کہ آدمی نماز پڑھے اور لوگوں کے دیکھنے کی وجہ سے اپنی نماز کو سنوارے"۔

نتیجہ

قیامت کے دن مشرکین کا اللہ سے جھوٹا حلف اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا میں انسان اپنے شرک کو شرک نہ سمجھے تو یہ عذر قیامت میں قبول نہیں ہوگا۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ:

1. دنیا میں مشرکین اپنے شرک کو شرک نہیں سمجھتے تھے، اسی لیے قیامت میں قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم مشرک نہیں تھے۔
2. اللہ تعالیٰ ان کے جھوٹ کو پکڑ لے گا اور ان کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے۔
3. ہمارے کہنے یا نہ کہنے سے کچھ نہیں ہوگا، معیار صرف اللہ کا مقرر کردہ ہے۔
4. ہمیں چاہیے کہ دنیا میں ہی شرک کی تمام اقسام سے بچیں اور خالص توحید پر قائم رہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں شرک کی ہر قسم سے بچائے اور خالص توحید پر استقامت عطا فرمائے۔ آمین۔
:جاوید احمد راتھر چراری پورہ پکھر پورہ بڈگام

Adresse

Democratic Republic Of The

Site Web

Notifications

Soyez le premier à savoir et laissez-nous vous envoyer un courriel lorsque Javaid Rather Official publie des nouvelles et des promotions. Votre adresse e-mail ne sera pas utilisée à d'autres fins, et vous pouvez vous désabonner à tout moment.

Raccourcis

Partager

Catégorie