21/05/2026
سلام آباد کی فیصل مسجد کے باہر ہر صبح ایک کم عمر لڑکا بیٹھا ہوتا تھا۔ اس کا نام سلیم تھا۔ ہاتھ میں پرانا ڈبہ، برش اور کالے رنگ کی پالش۔
وہ پورا دن لوگوں کے جوتے چمکاتا۔ ایک جوڑے کے صرف 20 روپے ملتے۔ اگر دن اچھا گزر جاتا تو 300 سے 400 روپے بن جاتے اور انہی سے گھر کا خرچ چلتا تھا۔ گھر میں صرف اس کی امی اور چھوٹی بہن ماریہ تھی۔ والد ایک حادثے میں اس وقت انتقال کر گئے تھے جب سلیم صرف دس سال کا تھا۔
لوگ آتے، “جلدی کرو بچے” کہتے اور جوتے آگے بڑھا دیتے۔ کسی نے کبھی یہ نہیں پوچھا کہ تمہارا حال کیسا ہے۔ سلیم خاموشی سے اپنا کام کرتا رہتا۔
رات کو جب مسجد کے باہر کی روشنیاں مدھم پڑ جاتیں تو وہ پارک کی بینچ پر بیٹھ کر پرانی کتابیں پڑھتا۔ یہ کتابیں اسے ایک استاد نے دی تھیں جو روز اس سے جوتے پالش کرواتا تھا۔ استاد اکثر کہتا تھا:
“ہاتھ میلے ہوں تو کوئی بات نہیں، دماغ روشن رکھو۔”
دن جوتوں کی پالش میں گزرتا اور رات کتابوں کے ساتھ۔ لوگ مذاق بھی اڑاتے تھے۔
“جوتے پالش کرنے والا بھی کبھی ڈاکٹر یا بڑا آدمی بن سکتا ہے؟”
سلیم کچھ نہیں کہتا تھا۔ بس اپنی بہن کی کاپی پر لکھا نام دیکھتا اور دل میں ایک وعدہ دہراتا کہ ماریہ کو ڈاکٹر بنانا ہے۔
اٹھارہ سال کی عمر میں اس نے ایف ایس سی میں 98 فیصد نمبر حاصل کیے۔ اسے اسکالرشپ ملی اور یونیورسٹی میں داخلہ ہو گیا۔ فیس کے لیے اس کے پاس دو سال کی جمع پونجی یعنی ایک لاکھ اسی ہزار روپے تھے۔
امی نے روتے ہوئے کہا: “بیٹا یہ پیسے خرچ نہ کرو، گھر مشکل سے چل رہا ہے۔”
سلیم نے مسکرا کر جواب دیا: “اگر میں نہ پڑھا تو ماریہ بھی میری طرح جوتے پالش کرے گی۔”
یونیورسٹی میں بھی اس کی جدوجہد جاری رہی۔ دن لیب میں گزرتا اور رات پڑھائی میں۔ ہفتے کے دن وہ اپنے دوستوں کو اکاؤنٹنگ پڑھاتا تاکہ کچھ اضافی پیسے کما سکے۔
گریجویشن کے بعد اس نے تین لیپ ٹاپ اور ایک کرائے کے کمرے سے چھوٹی سی آئی ٹی کمپنی شروع کی۔ پہلا سال ناکامیوں سے بھرا تھا۔ قرض بڑھ گیا، پیسے ختم ہو گئے لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری۔
پانچ سال بعد اس کی بنائی ہوئی ایپ پورے پاکستان میں مقبول ہو گئی۔ آج وہی سلیم 29 سال کا ہے، اسلام آباد میں اس کا اپنا دفتر ہے اور 200 سے زیادہ لوگ اس کے ساتھ کام کرتے ہیں۔
اور ماریہ اب پمز ہسپتال میں ڈاکٹر ہے۔
آج بھی جب سلیم فیصل مسجد کے سامنے سے گزرتا ہے تو رک جاتا ہے۔ وہاں اگر کوئی بچہ جوتے پالش کرتا نظر آئے تو وہ اس کے پاس بیٹھتا ہے، اپنا کارڈ دیتا ہے اور کہتا ہے:
“جوتے چمکانے سے زیادہ ضروری خواب چمکانا ہے۔ جب بھی ضرورت ہو، میرے پاس آ جانا۔”
لوگ کہتے ہیں سلیم ارب پتی ہے۔
سلیم کہتا ہے: “میں آج بھی وہی لڑکا ہوں، بس اب میرے خواب بھی میرے ساتھ چمکتے ہیں۔”