Alico Impex International Corporation

Alico Impex International Corporation Main aim is to provide people medication beyond the economic barriers

A trading company which deals with the importation and distribution of medical supplies and medicines. The company was incorporated in October 2003 with the objective of providing quality products at affordable prices. It began its operations in the same month focusing on suturing materials, tulle dressings and other medical devices. Since the time of conception in the Philippines up to the presen

t, the company is continuously delivering quality tulle dressings, medicines, gauzes, surgical instruments, orthopedic items, textile made ups and other medical supplies to its valued clients. Due to aggressive planning and marketing, the business started capturing substantial market share within a short period of time. The leading manufactures in Pakistan and India offered exclusive distribution of their products to be marketed in Far Eastern Region.

21/05/2026

سلام آباد کی فیصل مسجد کے باہر ہر صبح ایک کم عمر لڑکا بیٹھا ہوتا تھا۔ اس کا نام سلیم تھا۔ ہاتھ میں پرانا ڈبہ، برش اور کالے رنگ کی پالش۔
وہ پورا دن لوگوں کے جوتے چمکاتا۔ ایک جوڑے کے صرف 20 روپے ملتے۔ اگر دن اچھا گزر جاتا تو 300 سے 400 روپے بن جاتے اور انہی سے گھر کا خرچ چلتا تھا۔ گھر میں صرف اس کی امی اور چھوٹی بہن ماریہ تھی۔ والد ایک حادثے میں اس وقت انتقال کر گئے تھے جب سلیم صرف دس سال کا تھا۔
لوگ آتے، “جلدی کرو بچے” کہتے اور جوتے آگے بڑھا دیتے۔ کسی نے کبھی یہ نہیں پوچھا کہ تمہارا حال کیسا ہے۔ سلیم خاموشی سے اپنا کام کرتا رہتا۔
رات کو جب مسجد کے باہر کی روشنیاں مدھم پڑ جاتیں تو وہ پارک کی بینچ پر بیٹھ کر پرانی کتابیں پڑھتا۔ یہ کتابیں اسے ایک استاد نے دی تھیں جو روز اس سے جوتے پالش کرواتا تھا۔ استاد اکثر کہتا تھا:
“ہاتھ میلے ہوں تو کوئی بات نہیں، دماغ روشن رکھو۔”
دن جوتوں کی پالش میں گزرتا اور رات کتابوں کے ساتھ۔ لوگ مذاق بھی اڑاتے تھے۔
“جوتے پالش کرنے والا بھی کبھی ڈاکٹر یا بڑا آدمی بن سکتا ہے؟”
سلیم کچھ نہیں کہتا تھا۔ بس اپنی بہن کی کاپی پر لکھا نام دیکھتا اور دل میں ایک وعدہ دہراتا کہ ماریہ کو ڈاکٹر بنانا ہے۔
اٹھارہ سال کی عمر میں اس نے ایف ایس سی میں 98 فیصد نمبر حاصل کیے۔ اسے اسکالرشپ ملی اور یونیورسٹی میں داخلہ ہو گیا۔ فیس کے لیے اس کے پاس دو سال کی جمع پونجی یعنی ایک لاکھ اسی ہزار روپے تھے۔
امی نے روتے ہوئے کہا: “بیٹا یہ پیسے خرچ نہ کرو، گھر مشکل سے چل رہا ہے۔”
سلیم نے مسکرا کر جواب دیا: “اگر میں نہ پڑھا تو ماریہ بھی میری طرح جوتے پالش کرے گی۔”
یونیورسٹی میں بھی اس کی جدوجہد جاری رہی۔ دن لیب میں گزرتا اور رات پڑھائی میں۔ ہفتے کے دن وہ اپنے دوستوں کو اکاؤنٹنگ پڑھاتا تاکہ کچھ اضافی پیسے کما سکے۔
گریجویشن کے بعد اس نے تین لیپ ٹاپ اور ایک کرائے کے کمرے سے چھوٹی سی آئی ٹی کمپنی شروع کی۔ پہلا سال ناکامیوں سے بھرا تھا۔ قرض بڑھ گیا، پیسے ختم ہو گئے لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری۔
پانچ سال بعد اس کی بنائی ہوئی ایپ پورے پاکستان میں مقبول ہو گئی۔ آج وہی سلیم 29 سال کا ہے، اسلام آباد میں اس کا اپنا دفتر ہے اور 200 سے زیادہ لوگ اس کے ساتھ کام کرتے ہیں۔
اور ماریہ اب پمز ہسپتال میں ڈاکٹر ہے۔
آج بھی جب سلیم فیصل مسجد کے سامنے سے گزرتا ہے تو رک جاتا ہے۔ وہاں اگر کوئی بچہ جوتے پالش کرتا نظر آئے تو وہ اس کے پاس بیٹھتا ہے، اپنا کارڈ دیتا ہے اور کہتا ہے:
“جوتے چمکانے سے زیادہ ضروری خواب چمکانا ہے۔ جب بھی ضرورت ہو، میرے پاس آ جانا۔”
لوگ کہتے ہیں سلیم ارب پتی ہے۔
سلیم کہتا ہے: “میں آج بھی وہی لڑکا ہوں، بس اب میرے خواب بھی میرے ساتھ چمکتے ہیں۔”

10/01/2026
09/01/2026
09/01/2026

میں اکثر ہی اس بھائی سے پاپڑ لے لیتا ہوں لیکن کل جب یہ آیا تو پریشان تھا ۔۔۔۔ میں نے پوچھ لیا خیریت ہے تو کہنے لگا بھائی ٹریفک پولیس والے کسی غریب کو رعایت نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔ پورا دن میں گلیوں میں پاپڑ بیچتا ہوں ۔۔۔۔۔ کوئی پیسوں سے لیتا ہے اور بچے ٹکڑے یا ردی دے کر لیتے ہیں لیکن سمجھ نہیں آتا کیا کروں !!!!
دو دن پہلے چالان ہوگیا میں نے جیبیں بھی دکھا دیں کہ صرف چارسو موجود ہیں چھوٹا چالان کردیں میں تازی والا بندہ ہوں اگر کما کر نہیں جاؤں گا تو بچے بھوکے رہ جائیں گے لیکن اس نے ایک نہ سنی 2000 کا چالان کردیا ۔
نمبر پلیٹ بھی ہے لیکن ہیلمنٹ نہیں ہے ۔۔۔۔۔ اگر وہ لیتا ہوں تو بچے کہاں سے کھائیں گے ؟
کسی طرح کہیں سے 2000 پکڑ کر چالان کے بھرے ۔۔۔۔۔ اس کے بعد دو دن سے موسم شدید خراب ہے پاپڑ نرم ہوجاتے ہیں کوئی لیتا نہیں دو دن کیسے گزارے ہیں مجھےمعلوم ہے خیر اگر بچوں کا منہ نہ ہوتا تو کچھ کر لیتا ۔۔۔۔۔ کبھی ایسے حالات نہیں دیکھے
یہ کہتے ہوئے آنکھوں میں آنسو آگئے۔۔۔۔۔ لیکن پتا نہیں کیسے باہر آنے سے روک لیئے ۔

یہ سچ ہے کہ اب حالات بہت کشیدہ ہیں کوئی غریب بیچارہ روزی روٹی کرے بھی تو چالان کرنے والے احساس نہیں کرتے ۔۔۔۔۔ دیکھتے ہی نہیں کہ لنڈے کی ٹوپی پٹھے کپڑے پرانے جوتے اور کوئی 20 ہزار کی موٹرسائیکل پہ پاپڑ بیچ رہا ہے ۔

اگر پورے دن میں 100 پیکٹ بیکیں گے تو 1000 روپے بنے گے ۔۔۔۔ جس میں 300 کا پیٹرول لگ جانا

اس کے بعد شام کو گھر جانا تو بچے انتظار میں بیٹھے ہوں کہ ابو کچھ لے کر آئیں گے لیکن جب باپ آئے خالی ہاتھ تو وہ کیسے رات کاٹیں گے ؟؟؟؟

میں نے مدد کرنا چاہی تو بس کہنے لگا آپ زیادہ پاپڑ لے لیں مانگنے پہ آؤں گا تو خودادری جائےگی

😥😥😥😥😥

میں نے کہا ایک تصویر بنالوں پیارے لگ رہے ہو تو ہنس پڑا لیکن آنکھیں بتارہی ہیں کہ بہت کچھ جھلینا پڑ رہا ہے
حارث حیات کی وال سے

Address

S&F CONDOMINIUMS UNIT 304. PANAY Avenue QUEZON CITY.
Quezon City
1200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Alico Impex International Corporation posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Alico Impex International Corporation:

Share