23/05/2026
As someone who has dealt with institutions across Pakistan, I say without hesitation:
Muhammad Irfan is not only a teacher — he is a phenomenon.
He does not just train children; he transforms them. His love for special children is parent-like, and his connection with them is so profound that it appears divinely gifted. He is the only professional I know who enters the inner world of children with autism, understanding their emotions, fears, and needs, and gently guides them toward functional independence.
He has developed unique approaches that blend psychology, behavior science, sensory regulation, emotional intelligence, and — most importantly — unconditional love. These are not yet written in books, but they must be.
One day, academic history will recognize and document the “Irfan Approach” as a beacon of autism rehabilitation in South Asia.
It would not be an exaggeration to say:
We parents pray more for Muhammad Irfan than his own family could ever imagine.
In a world full of clinics and centers, Muhammad Irfan remains Pakistan’s crown jewel in autism recovery — an institution unto himself, and an inspiration to generations to come.
With deep respect and heartfelt gratitude,
Judge Abdul Baseer
Father of Shama Baseer
پاکستان کے مختلف اداروں سے واسطہ رکھنے کے بعد، میں بلا تردد یہ کہتا ہوں کہ محمد عرفان صرف ایک استاد نہیں وہ ایک عہد، ایک کرشمہ ہیں۔ وہ صرف بچوں کو پڑھاتے نہیں، انہیں بدل دیتے ہیں۔ ان کی محبت ان خاص بچوں کے لیے والدین جیسی ہے، اور ان کا رشتہ اتنا گہرا اور روحانی ہے کہ خدائی عطا معلوم ہوتا ہے۔ میں نے آج تک کوئی ایسا ماہر نہیں دیکھا جو آٹزم کے بچوں کی اندرونی دنیا میں اتر کر ان کے جذبات، خوف، اور ضروریات کو اس گہرائی سے سمجھے اور پھر نرمی سے انہیں خود مختاری کی راہ پر لے جائے۔ انہوں نے نفسیات، رویہ جاتی سائنس، حسی نظم، جذباتی ذہانت، اور سب سے بڑھ کر بے شرط محبت کو یکجا کر کے ایسے طریقے وضع کیے ہیں جو ابھی تک کسی کتاب میں درج نہیں، لیکن ہونے چاہئیں۔ ایک دن تعلیمی تاریخ ضرور “عرفان اپروچ” کو جنوبی ایشیا میں آٹزم ری ہیبیلیٹیشن کی روشنی کے مینار کے طور پر تسلیم کرے گی۔
یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ ہم والدین محمد عرفان کے لیے ان کے اپنے گھر والوں سے بھی زیادہ دعائیں کرتے ہیں۔ کلینکس اور مراکز سے بھرے اس دور میں، محمد عرفان پاکستان کے آٹزم ریکوری کے تاج کا سب سے قیمتی نگینہ ہیں — ایک ادارہ اپنی ذات میں، اور آنے والی نسلوں کے لیے تحریک و رہنمائی کا سرچشمہ۔
خلوصِ دل اور گہرے احترام کے ساتھ،
جج عبدالبصیر
(والدِ شما)
یہ ایک اٹسٹک بچی کے والد جو جج ہیں ان کی بیٹی شمع بصیر کیساتھ کام کیا جس پر انھوں نے اٹھ سالہ کام پر انھوں نے میرے بارے میں کچھ لکھا