03/03/2026
آج کے تناظر میں کچھ لوگ ایران کو پاکستان کے مقابلے میں ہیرو بنا کر پیش کر رہے ہیں اور دلیل یہ ہے کہ پاکستان نے کبھی امریکہ سے اس طرح ٹکر لی ہو تو پتہ چلے، پاکستان تو ہمیشہ امریکہ کے سامنے جھک جاتا ہے، ریمنڈ ڈیوس، مشرف کے اڈے وغیرہ وغیرہ...
پاکستان نے یقیناً امریکی بلاک میں رہتے ہوئے کچھ غلطیاں بھی کیں اور کمزوریاں بھی دکھائیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں پاکستان نے امریکہ سے پنگا نہیں لیا یا اس کو چیلنج نہیں کیا یا اس کے ارادوں کے برعکس عمل نہیں کیا...
اس وقت ایران پر امریکہ اور اس کا طاغوتی نیٹ ورک جس ایک بڑی وجہ کو بنیاد بنا کر چڑھ دوڑا ہے وہ ہے ایران کو جوہری پروگرام حاصل کرنے سے روکنا...
پاکستان نے بھی امریکہ کی مخالفت کر کے اپنا ایٹمی پروگرام مکمل کیا تھا، ایٹمی پروگرام کی تیاری کی رکاوٹ میں سی آئی اے اور موساد نے ایسے ایسے جال بنے تھے کہ الامان اس کے باوجود پاکستان نے دنیا کی واحد ایٹمی طاقت بننے کے عزم کو حقیقت میں بدلا...
آپ اپنے حکمرانوں کو جرنیلوں کو جتنا مرضی برا کہہ لیں مگر ایک بات ذہن نشین رہے کہ اگر ذوالفقار علی بھٹو، غلام اسحاق خان اور نواز شریف جیسے وزرائے اعظم نہ ہوتے اور جنرل ضیاءالحق جیسا دبنگ جرنیل نہ ہوتا تو آپ ایٹمی طاقت بننے کا خواب بھی دیکھ پاتے یا نہیں...
کسی کے دور میں یہ شروع ہوا تو کسی کے زمانے میں مکمل مگر یہ تینوں شخصیات بجا طور پر داد و تحسین کی مستحق ہیں...
ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر ثمر مبارک مند سمیت ہر وہ سائنسدان جس نے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنانے کی مخلصانہ جدوجہد کی وہ بھی ہمارے ہیرو ہیں...
اس ایٹمی پروگرام کی تیاری کے بعد جب اس کے تجربات کا اہم ترین مرحلہ آیا تو ہمارے مبینہ آقا امریکہ کے صدر نے مبینہ غلام پاکستان کے وزیراعظم کو کال کر کے کہا تھا:
"خبردار جو یہ تجربات کیے، اقتصادی پابندیوں میں جکڑ دیں گے، معاشی بائیکاٹ کر دیں گے"
جب اس دھمکی سے پاکستان کے وزیراعظم نہیں مانے تو پھر پیشکش ہونے لگی:
"پاکستان کے قرضوں میں ریلیف ہو گا، پاکستان کو زبردست معاشی پیکج دیا جائے گا اور وزیراعظم صاحب آپ کو ذرا "پرسنلی" بھی تگڑی رقم ملے گی..."
مگر آپ کے غلام پاکستان نے سخت ترین معاشی حالات اور مستقبل کے معاشی بحران کے شدید خطرے کے باوجود بل کلنٹن کی فون کال یہ کہہ کر کاٹ دی:
"اب بہت دیر ہو چکی ہے"
اور پھر پوری دنیا نے پاکستان کی باغیانہ جرات و شجاعت کے شعلے چاغی سے بلند ہوتے دیکھے...الحمدللہ!
اس لئے ہر وقت اپنے وطن میں مایوسی پھیلا کر دوسروں کو جراتمند دلیر اور نہ جانے کیا کچھ بنا کر پیش کرنے سے پہلے یہ سوچ لیں کہ ہم اپنے ملک کی یہ ناقدری کر کے اللہ کریم کی کتنی ناشکری کر رہے ہیں کہ اس نے ہمیں محض 76 سالوں میں وہ مقام دیا ہے جو صدیوں سے قائم مسلم تہذیبوں اور اقوام کو بھی حاصل نہیں ہو سکا...
اس لئے ہم میں برائیاں ہوں گی، ہمارے لیڈران اور جرنیل بھی کمزور ہوں گے مگر ساری برائیاں اور کمزوریاں جمع کر کے دیکھ لو اچھائی اور خیر کا رنگ غالب ہی ملے گا ان شاءالله بس ذرا وابستگی کا چشمہ اتار کے کیونکہ آپ کا وہ چشمہ دور کا ہے نا...🥰
پاکستان ہمیشہ زندہ باد 🇵🇰
آپ کا بھائی
محمد عبدالودم