Bilal Veterinary Store and Pharmacy

Call Directions Contact the business

Bilal Veterinary Store and Pharmacy Veterinary product and services

20/06/2026

🐄💉 آئیورمیکٹن بمقابلہ ڈورامیکٹن

کیا پاکستان میں پیراسائٹس کے خلاف جنگ میں نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے؟

تحریر: Dairy & Cattle Farmers Association Pakistan (DCFA Pakistan) Save Farmer – Save Pakistan

پاکستان کا ڈیری اور لائیو اسٹاک سیکٹر گزشتہ کئی دہائیوں سے مویشیوں میں اندرونی اور بیرونی پیراسائٹس کے کنٹرول کے لیے آئیورمیکٹن (Ivermectin) پر انحصار کرتا رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب یہ دوا معدے کے کیڑوں، پھیپھڑوں کے کیڑوں، جوؤں اور مینج کے خلاف انتہائی مؤثر نتائج دیتی تھی اور فارمرز کے لیے ایک قابل اعتماد حل سمجھی جاتی تھی۔

تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف علاقوں سے فارمرز اور ویٹرنری ماہرین کی جانب سے یہ مشاہدات سامنے آئے ہیں کہ بعض فارموں میں آئیورمیکٹن کے استعمال کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے۔ کئی جانوروں میں دوبارہ پیراسائٹ انفیکشن جلد ظاہر ہو جاتا ہے، وزن میں اضافہ متاثر ہوتا ہے اور دودھ کی پیداوار میں بھی خاطر خواہ بہتری نہیں آتی۔

اس صورتحال کی ایک ممکنہ وجہ پیراسائٹس میں دوا کے خلاف مزاحمت (Anthelmintic Resistance) کا پیدا ہونا ہے۔ جب ایک ہی دوا کو طویل عرصے تک مسلسل اور بار بار استعمال کیا جاتا ہے تو بعض پیراسائٹس اس دوا کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیتے ہیں، جس سے دوا کی افادیت کم ہو سکتی ہے۔

ڈورامیکٹن کیا ہے؟

ڈورامیکٹن (Doramectin) بھی آئیورمیکٹن کی طرح میکروسائکلک لیکٹون (Macrocyclic Lactone) گروپ سے تعلق رکھتی ہے، لیکن اس کی فارماکولوجیکل خصوصیات اسے جسم میں نسبتاً زیادہ دیر تک مؤثر رہنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہیں۔

اسی وجہ سے بہت سے فارمرز اور ویٹرنری ڈاکٹرز نے حالیہ برسوں میں ڈورامیکٹن کے استعمال سے بہتر نتائج کی نشاندہی کی ہے، خصوصاً ان فارموں پر جہاں آئیورمیکٹن کی کارکردگی کم محسوس کی جا رہی تھی۔

دونوں ادویات کا موازنہ

خصوصیت آئیورمیکٹن ڈورامیکٹن پیراسائٹس کے خلاف اثر وسیع وسیع معدے کے کیڑےمؤثر مؤثرپھیپھڑوں کے کیڑے مؤثر مؤثرجوئیں اور مینج مؤثر مؤثر جسم میں اثر کا دورانیہ نسبتاً کم نسبتاً زیادہ دوبارہ انفیکشن سے تحفظ محدود مدت زیادہ مدت پاکستان میں استعمال کئی دہائیوں سےنسبتاً کم عرصے سےمزاحمت کے خدشات بعض فارموں پر زیادہنسبتاً کم رپورٹ قیمت کم نسبتاً زیادہ

پاکستان میں موجودہ صورتحال

پاکستان کے متعدد ڈیری اور بیف فارموں پر عملی مشاہدات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ طویل عرصے سے آئیورمیکٹن کے مسلسل استعمال کے باعث بعض فارموں پر اس کی افادیت پہلے جیسی نہیں رہی۔ اس کے برعکس، ڈورامیکٹن کے استعمال سے کئی فارمرز نے بہتر وزن میں اضافہ، جانوروں کی صحت میں بہتری، جلد کی بیماریوں میں کمی اور مجموعی پیداوار میں مثبت نتائج رپورٹ کیے ہیں۔

یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہر فارم کی صورتحال مختلف ہو سکتی ہے۔ بعض فارموں پر آئیورمیکٹن اب بھی مؤثر نتائج دے رہی ہے جبکہ دیگر فارموں پر ڈورامیکٹن زیادہ بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے۔

صرف دوا تبدیل کرنا کافی نہیں

پیراسائٹس کے مؤثر کنٹرول کے لیے صرف انجیکشن تبدیل کرنا کافی نہیں بلکہ ایک جامع پیراسائٹ کنٹرول پروگرام ضروری ہے جس میں:

• جانوروں کی باقاعدہ نگرانی • بروقت ڈی وارمنگ • چراگاہوں کا بہتر انتظام • گوبر کی مناسب صفائی • جانوروں کی غذائی ضروریات کی تکمیل • ویٹرنری ماہرین کی مشاورت

شامل ہوں۔

نتیجہ

آئیورمیکٹن نے کئی دہائیوں تک پاکستان کے لائیو اسٹاک سیکٹر کی خدمت کی ہے اور اس کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، بعض فارموں پر طویل استعمال کے نتیجے میں مزاحمت کے خدشات اور کمزور نتائج سامنے آنے کے بعد ڈورامیکٹن ایک مؤثر متبادل کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔

موجودہ فیلڈ تجربات کے مطابق پاکستان کے بہت سے فارمرز ڈورامیکٹن کے استعمال سے بہتر اور دیرپا نتائج حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود دوا کا انتخاب ہمیشہ فارم کی صورتحال، پیراسائٹس کی نوعیت اور ویٹرنری ماہر کے مشورے کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے تاکہ جانوروں کی صحت، پیداوار اور فارم کی منافع بخشی کو بہتر بنایا جا سکے۔

Dairy & Cattle Farmers Association Pakistan (DCFA Pakistan) Save Farmer – Save Pakistan

𝘾𝙖𝙡𝙘𝙪𝙡𝙖𝙩𝙞𝙤𝙣 𝙤𝙛 𝘿𝙧𝙮 𝙈𝙖𝙩𝙩𝙚𝙧 𝙄𝙣𝙩𝙖𝙠𝙚 (𝘿𝙈𝙄) 𝙞𝙣 𝘿𝙖𝙞𝙧𝙮 𝘾𝙤𝙬Understanding DMI helps ensure dairy cows receive the right amount of...
17/06/2026

𝘾𝙖𝙡𝙘𝙪𝙡𝙖𝙩𝙞𝙤𝙣 𝙤𝙛 𝘿𝙧𝙮 𝙈𝙖𝙩𝙩𝙚𝙧 𝙄𝙣𝙩𝙖𝙠𝙚 (𝘿𝙈𝙄) 𝙞𝙣 𝘿𝙖𝙞𝙧𝙮 𝘾𝙤𝙬

Understanding DMI helps ensure dairy cows receive the right amount of nutrients needed for maintenance, optimal milk production, and reproductive performance. Proper DMI assessment aids in balanced ration formulation and prevents both underfeeding and overfeeding.

Nutrition management is the foundation of a healthy and productive herd.

بکریوں میں گلہڑ کی بیماری - Goiter in Goat گلہڑ کیا ہے؟  گلے کے نچلے حصے میں تھائیرائیڈ گلینڈ کی غیر معمولی سوجن کو گلہڑ...
15/03/2026

بکریوں میں گلہڑ کی بیماری - Goiter in Goat

گلہڑ کیا ہے؟

گلے کے نچلے حصے میں تھائیرائیڈ گلینڈ کی غیر معمولی سوجن کو گلہڑ کہتے ہیں۔ یہ زیادہ تر خوراک میں آیوڈین کی کمی سے ہوتی ہے۔
🔴 وجوہات
خوراک میں آیوڈین کی کمی
غیر معیاری یا نامکمل منرل مکسچر - اچھا منرل مکسچر ضروری ہے,
بند گوبھی، سرسوں، شلجم وغیرہ کا زیادہ استعمال
حاملہ بکری میں آیوڈین کی کمی
مسلسل ایک ہی قسم کی خوراک دینا

⚠️ علامات
گلے میں سوجن (نرم یا سخت)
کمزوری اور سستی
وزن میں اضافہ نہ ہونا
بال کھردرے اور بے جان
دودھ کی پیداوار میں کمی
بچوں میں کمزور پیدائش یا سانس کی دشواری

💊 علاج
ویٹرنری ڈاکٹر کے مشورے سے آیوڈین سپلیمنٹ
معیاری منرل مکسچر کا استعمال
شدید صورت میں فوری ویٹرنری معائنہ

✅ احتیاطی تدابیر
خوراک میں مناسب مقدار میں آیوڈین شامل کریں
حاملہ بکریوں کو لازمی منرل مکسچر دیں, ہر اچھے منرل مکسچر میں آیوڈین بھی شامل ہوتا ہے
گلہڑ پیدا کرنے والے چاروں کا حد سے زیادہ استعمال نہ کریں
باقاعدہ ویٹرنری چیک اپ کروائیں

بھیڑ/بکریوں کی متعددی بیماریاں درج ذیل ہیں(1)انتھراکس (پھڑکی):علامات :تیز بخار ۔ پژمردگی۔ کانوں کا ڈھلک جانا۔ دانتوں کا ...
20/12/2025

بھیڑ/بکریوں کی متعددی بیماریاں درج ذیل ہیں

(1)انتھراکس (پھڑکی):
علامات :
تیز بخار ۔ پژمردگی۔ کانوں کا ڈھلک جانا۔ دانتوں کا پیسنا۔ زمین پر گرنا اور شدت سے تڑپنا۔ مرنے پر منہ ۔ ناک اور پیشاب اور گوبر کے راستے سے سیاہ رنگ کا خون آنا جو کہ جمتا نہیں ۔
علاج :
(1)جانوروں کو سال میں ایک مرتبہ حفاظتی ٹیکے ماہ فروری میں لگوئیں۔
(2) اکثر علاج کا موقع نہیں ملتا۔ بیمار جانوروں کا علاج اینٹی بائیوٹک کے استعمال سے مفید رہتا ہے۔

(2) انٹاروٹاکسیمیا (انٹڑیوں کا زہر)::
علامات :
بخار ۔ لڑکھڑانا۔ جبڑوں کا چبانا ۔ بعض اوقات اپھارہ۔ شدید حالت میں سر کا جھٹکنا۔ لرزہ اور تشنج کے دورے۔ پوسٹ ماٹم کرنے پر تین چوتھائی معدہ ۔ انتڑیاں اور جگر خون سے بھرے ہوئے ملتے ہیں۔
علاج ::
(1)سال میں دو مرتبہ مئی اور نومبر میں حفاظتی ٹیکہ لگوئیں۔
(2) “” سلفامیزاتھین “” 1/3 %33 سلوشن (15 تا 20 سی سی) 20ملی لیٹر پانی میں ملا کر 12 سے 18 گھنٹے کے وقفے سے پانچ یوم پلائیں ۔
نوٹ :: حاملہ جانوروں کو بچے کی پیدائش سے دو ماہ قبل حفاظتی ٹیکہ ضرور لگوائیں

(3)کنٹی خینئس کیپرئن پلورونمونیا (متعدی نمونیا) ::
علامات ::
جانوروں کآ جسم سمیٹ کر بیٹھنا۔ سانس لینے میں دشواری ۔ سانس لینے کے دوران چیخ کی آواز کا نکالنا۔ جانور کا تیز تیز کھانسنا۔ اور جلد کمزور ہو جانا۔
علاج ::
(1) سال میں دو بار مئی اور نومبر میں حفاظتی ٹیکہ لگوائیں۔

(2) انجکشن “ٹرائی برسن ” 5 سے 7 سی سی صبح و شام 5 یوم تک لگائیں۔
کنٹی جینئس پسچولرڈرمیٹائٹس (منہ کا پکنا) ::
علامات:
کھانے میں بے رغبی ۔ ہونٹوں پر چھالے جو بعد میں کھرنڈ بن جاتے ہیں۔ شدید حالت میں بخار اور جسم کے باقی حصوں میں بھی دانے نکل آتے ہیں۔
علاج :
(1)حفاظتی ٹیکے سال میں دو مرتبہ اپریل اور اکتوبر میں لگوائیں۔
(2) پوٹاشیم پرمینگیٹ (پنکی) 0۰1 فیصد محلول سے ہونٹوں کے چھالوں کو صاف کریں۔
اور “گلسرین” اور “جنشن وائلٹ” ملا کر لگانے سے کھرنڈ کے زخم مندمل ہو جاتے ہیں۔
(3) چونے کا پانی ایک فیصد ۔ نوشادر کا سیر شدہ محلول ایک حصہ ۔ اور سرسوں کا تیل ایک حصہ ملا کر زخموں پر لگائیں۔
(4) بخار میں “کمبائیٹک” کا ایک گرام ٹیکہ تین چار یوم لگائیں۔

(5) شیپ/گوٹ پاکس (چیچک):
علامات :
تیز بخار ۔ آنکھوں پر ورم۔ جسم پر چیچک کے دانے جو کہ بغیر بالوں والے حصوں پر زیادہ ہوتے ہیں۔ شدید بیماری کی صورت میں اندرونی اعضاء تک پھیل جاتے ہیں۔ جس سے جانور کو سانس لینے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔
علاج :
(1) بھیڑ/بکریوں کو سال میں 2 مرتبہ مارچ اور ستمبر (2) میں حفاظتی ٹیکہ لگوائیں۔ اور بچوں کو تھنوں سے دودھ نہ پلائیں۔
(2) زخموں پر “بورک ایسڈ” کا مرہم لگائیں۔ اور بخار کی صورت میں “Antibiotic” ایک گرام کا ٹیکہ روزانہ 4 تا 6 یوم لگائیں۔

WhatsApp Group Invite

10/03/2025

کٹڑے بچھڑوں کی ابتدائی دیکھ بھال:

کٹڑوں بچھڑوں کو کم از کم تین ماہ تک کسی بھی قسم کا چارہ بلکل نہ دیں۔

اکثر لوگ اس بات سے اتفاق نہیں کریں گے لیکن تین ماہ سے پہلے سبز چارہ ہرگز نہیں دینا۔

تین ماہ کے بعد خشک چارہ شروع کریں جیسا کہ خشک لوسرن، خشک جئی کا چارہ یا رھوڈز گراس۔ تقریباً چار ماہ کے بعد سبز چارہ دینا شروع کریں۔

بچوں میں پیٹ بڑھ جانے اور لٹک جانے کی وجہ یہی ہے کہ ہم سبز چارہ دینا شروع کر دیتے ہیں جو کہ جانور کا معدہ ہضم نہیں کر سکتا، کیونکہ معدہ اس قابل نہیں ہوتا اس لیے پہلے معدہ تیار کریں تاکہ چارہ ہضم ہوسکے۔

ہمارے شریکے یعنی یورپ اور امریکہ والے تیسرے دن سے ہی کاف سٹارٹر دینا شروع کر دیتے ہیں، جی ہاں ! تیسرے دن سے ہی۔ اگر ہمیں یہ لفظ کاف سٹارٹر اچھا نہیں لگتا تو ہم یہ کہہ لیتے ہیں کہ تیسرے دن سے ہی نوزائیدہ بچوں کا ونڈا شروع کر دیتے ہیں۔

جگالی کرنے والے تمام جانوروں کا معدہ تین چار ماہ تک ایسا نہیں ہوتا کہ وہ چارے کو توڑ پھوڑ اور ہضم کر سکے۔ ان کا معدہ تیار کرنا پڑتا ہے جو کہ دانوں اناج والی خوراک سے تیار ہوتا ہے نہ کہ سبز چارے سے۔ اگر آپ پہلے 4 ماہ تک صرف دودھ ہی پلائیں گے تو 4 ماہ تک بھی معدہ تیار نہیں ہوگا۔

آسان ونڈا بنانے کا طریقہ:

10 کلو مکئی ،
5 کلو گندم کا چوکر،
5 کلو صاف ستھری بدبو اور پھپھوندی سے پاک کھل بنولہ۔

ان تمام کو پیس لیں، پاؤڈر نہیں بنانا لیکن مکئی کا دانہ موٹا نہ ہو۔

اگر شیرہ آپ کو آسانی سے مل جاتا ہے تو ایک کلو وہ ڈال لیں

200-300 گرام اچھی کمپنی کا منرل مکسچر۔

اگر آپ کو کسی کمپنی کے ونڈے پر اعتماد ہے تو ہر کمپنی کا کاف سٹارٹر ونڈا ہوتا ہے، آپ ان سے خرید لیں۔

جب آپ کا جانور روزانہ ایک کلو 1 kilogram کاف سٹارٹر کھانا شروع ہو جائے تو اس کا دودھ چھڑوا دیں۔

جب جانور 2-3 کلوگرام ونڈا کھانا شروع کر دے تو اس کو خشک لوسرن، خشک جئی یا روڈز گراس کھلانا شروع کر دیں۔

دوبارہ انہی چاروں کا ذکر اس لیا کیا کیونکہ چارہ وہ کھلانا ہے جس میں پروٹین 16 CP سے کم نہ ہو۔
مکئی، جوار، باجرے کے چارے میں اتنی پروٹین نہیں ہوتی۔ اس لیے انہی چاروں کا بندوبست رکھیں گرمیوں میں بھی۔
کاف سٹارٹر چاہئے سردیوں میں کھلائیں یا گرمیوں میں لیکن پانی ہر وقت بچوں کے سامنے موجود رہے،
پانی کا تعلق دودھ پینے سے نہیں ہے

پہلے ہفتے سے ہی پانی اور ونڈہ جانور کے سامنے ہو۔ ایسا نہیں کہ آپ ونڈہ بچے کے سامنے رکھیں گے اور وہ کھانا شروع کر دے گا، پہلے کچھ دن آپ کو محنت کرنا پڑے گی،
آپ بچوں کے منہ یعنی تھوتھنی پر تھوڑا تھوڑا ونڈا لگا دیں،
انشاللہ تین چار دن میں وہ خود کھانا شروع کر دے گا۔ کم گہرے برتن میں ایک مٌٹھی جتنی مقدار روزانہ سے شروع کریں اور آہستہ آہستہ مقدار بڑھاتے جائیں۔ پھر گہرے برتن یعنی بالٹی وغیرہ میں دینا شروع کر دیں تاکہ ونڈا ضائع نہ ہو۔
گرمی اور حبس کے موسم میں ونڈا بنائیں ہی کم مقدار میں کیونکہ ایسے موسم میں پھپھوندی اور بدبو پیدا ہو سکتی ہے ونڈے میں۔
پھپھوندی یا فنگس انتہائی خطرناک ہے اور مہک یا بدبو سے جانور اس خوراک سے بدظن ہو سکتا ہے۔
بچوں کا ونڈا روزانہ نیا ڈالیں، بچا ہوا ونڈا اگلے دن کسی اور بڑے جانور کو دیں۔
مکرر عرض ہے کہ ونڈے کے ساتھ پانی کا موجود ہونا نہایت ضروری ہے،جانورجتنا پانی پیئے گا اتنا ہی زیادہ ونڈا کھائے گا
یہ بات بھی پوری زمہ داری سے لکھی جا رہی ہے کہ کاف سٹارٹر سے بچوں کو پیچس نہیں لگتے۔

اگر کھانے پینے کے برتن صاف نہیں،
دودھ پلاتے وقت صفائی نہیں ہے،
یا دودھ بچے کی ضرورت سے زیادہ پلا دیا ہے، بچے کی ماں کو ساڑو، میسٹائٹس، کی مسئلہ ہے اور آپ وہی دودھ بچے کو پلا رہے ہیں،
بچوں کی خدمت کرنے والے کی اپنی صفائی نہیں، یا بچے گوبر اور اپنی ہی گندگی میں بندھے ہوئے ہیں یا بچے مٹی، کھرلیوں یا فرش پر منہ مارتے ہیں یا آپ نے بچے کو بوہلی مقدار، معیار اور وقت پر نہیں پلائی تو اپنی کوتاہیوں کا ملبہ کاف سٹارٹر پر نہیں ڈالنا۔
Copied

09/03/2025
09/03/2025

Identifying and Preventing Common Poultry Diseases

As a poultry farmer, understanding and being proactive in preventing common poultry diseases are crucial for maintaining a healthy flock. Here's a guide on how to identify and prevent some prevalent poultry diseases:

**Disease 1: Avian Influenza (Bird Flu)**
- **Symptoms**: Lethargy, loss of appetite, coughing, and breathing difficulties.
- **Prevention**: Vaccination, proper ventilation, and stringent biosecurity practices.
- **Treatment**: Antibiotics and antiviral medication.

**Disease 2: Newcastle Disease**
- **Symptoms**: Sudden death, respiratory distress, and neurological signs like tremors and paralysis.
- **Prevention**: Vaccination, adequate ventilation, and strict biosecurity measures.
- **Treatment**: Antibiotics and supportive care.

**Disease 3: Coccidiosis**
- **Symptoms**: Diarrhea, weight loss, and decreased activity.
- **Prevention**: Maintain cleanliness, vaccination, and medication as needed.
- **Treatment**: Antibiotics and antiprotozoal medication.

**Preventive Measures:**

1. **Sanitation and Hygiene**: Maintain clean coops and equipment to reduce disease spread.
2. **Proper Ventilation and Housing**: Ensure good airflow to prevent respiratory issues.
3. **Vaccination**: Regularly vaccinate your flock to protect against common diseases.
4. **Health Monitoring**: Monitor your birds' health regularly for any signs of illness.
5. **Quarantine New Birds**: Isolate new birds before introducing them to the existing flock to prevent disease transmission.

**Stay Proactive for Healthy Flocks**

By staying vigilant and implementing preventive measures, you can safeguard your poultry from common diseases, ensuring a healthier and more productive flock.

Share your experiences and insights in the comments!

.

09/03/2025

حفاظتی ٹیکہ لگانے سے پہلے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہے؟؟؟؟

1.جانوروں کو پیٹ کے کیڑوں سے بچایا جائے
2.ویکسین کرنے سے پہلے ڈیورمنگ کرنی چاہیے.تاکہ ان کا مدافعتی نظام مکمل طور پر ویکسین کے لیے کام کرے.
3.حفاظتی ٹیکہ صبح کے وقت لگانا چاہیے.
4.ویکسین ہمیشہ صحت مند جانوروں کو لگائیں.
5.حفاظتی ٹیکہ کو صحیح طور پر محفوظ رکھا جائے.
6.حفاظتی ٹیکہ کو ہمیشہ شیڈول کے مطابق لگائیں.
7.جانور کو سٹریس میں آنے سے بچایا جائے.
8.ان کی خوراک اور اردگرد کے ماحول کا خیال رکھا جائے.
9.اگر جانور کسی دباؤ میں ہو گا تو ویکسین اثر نہیں کرے گی.
10.ویکسین لگانے سے پہلے اس پر درج ہدایات, ویکسین بننے کی تاریخ اور ایکسپائر ہونے کی تاریخ ضرور پڑھ لیں.
11. ٹیکہ ہمیشہ سیل شدہ حالت میں لیں.
12.ویکسین ہمیشہ کمپنی یا منتخب شدہ ادارہ سے لیں.
ویکسین لگانے کا طریقہ:
1.زیادہ تر ویکسین زیر جلد یا پٹھوں میں لگایا جاتا ہے.
2.کچھ ویکسین کے لیے ناک اور آنکھوں میں قطرے ڈالے جاتے ہیں.یہ طریقہ زیادہ مرغیوں میں استعمال ہوتا ہے.
3.کچھ ویکسین پانی میں ملا کے بھی پرندوں کو دیا جاتا ہے.....
Copied

09/03/2025

نیوکاسل بیماری (Newcastle Disease) ایک خطرناک وائرس سے ہونے والی بیماری ہے جو مرغیوں اور دیگر پرندوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ بیماری خاص طور پر پولٹری فارم میں تیزی سے پھیل سکتی ہے اور مرغیوں کی صحت کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

# # # نیوکاسل بیماری کی علامات:
1. **بخار** (Fever)
2. **نزلہ اور کھانسی** (Coughing and sneezing)
3. **آنکھوں اور ناک سے رطوبت کا اخراج** (Discharge from eyes and nose)
4. **کمزوری اور چپچپائی حرکت** (Weakness and drooping wings)
5. **ہوش میں کمی** (Loss of balance and coordination)
6. **خون کی کمی** (Diarrhea with greenish stools)
7. **مرغی کے گزرنے کے دوران موت** (High mortality rate in severe cases)

# # # نیوکاسل بیماری کا علاج:
- **ویکسی نیشن**: نیوکاسل بیماری سے بچاؤ کا بہترین طریقہ ویکسی نیشن ہے۔ مرغیوں کو مناسب وقت پر ویکسین دی جاتی ہے تاکہ وہ اس بیماری سے محفوظ رہیں۔
- **حفظان صحت کے اقدامات**: فارم کی صفائی اور مرغیوں کی صحت کا خیال رکھنا ضروری ہے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
- **آئیسولیشن**: اگر کسی مرغی میں بیماری کی علامات ظاہر ہوں، تو اسے دوسرے پرندوں سے الگ کر دینا چاہیے تاکہ بیماری نہ پھیلے۔

# # # احتیاطی تدابیر:
- مرغیوں کو صحت مند خوراک اور پانی دیں۔
- فارم کے علاقے کو صاف رکھیں اور جدید حفظان صحت کے طریقے استعمال کریں۔
- باقاعدگی سے مرغیوں کا معائنہ کریں تاکہ کسی بیماری کا جلد پتا چل سکے۔

نیوکاسل بیماری بہت تیزی سے پھیل سکتی ہے، اس لیے فوری طور پر علاج اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے
Copied

09/03/2025

رانی کھیت بیماری – مرغیوں کی صحت کے لیے سنگین خطرہ
رانی کھیت (Newcastle Disease) مرغیوں میں پائی جانے والی ایک شدید متعدی وائرل بیماری ہے جو سانس، اعصابی اور ہاضمے کے نظام کو متاثر کرتی ہے۔ یہ بیماری تیزی سے پھیلتی ہے اور اگر بروقت اقدامات نہ کیے جائیں تو بڑے پیمانے پر اموات کا سبب بن سکتی ہے۔
علامات:
✅ سانس لینے میں دشواری، کھانسی اور چھینک
✅ اعصابی مسائل جیسے گردن کا مڑ جانا یا جسم کا توازن کھونا
✅ بھوک میں کمی اور وزن کا گھٹنا
✅ سبز یا پتلا فضلہ
✅ انڈوں کی پیداوار میں نمایاں کمی
احتیاطی تدابیر:
🔹 ویکسینیشن: مرغیوں کو بروقت ویکسین لگوائیں۔
🔹 حفظانِ صحت: فارم کی صفائی اور جراثیم کش ادویات کا استعمال یقینی بنائیں۔
🔹 قرنطینہ: نئی مرغیوں کو فارم میں شامل کرنے سے پہلے کچھ دنوں کے لیے الگ رکھیں تاکہ ممکنہ بیماریوں کا پتا چل سکے۔
🔹 متاثرہ پرندوں کی علیحدگی: بیمار مرغیوں کو فوری طور پر صحت مند مرغیوں سے الگ کریں تاکہ بیماری نہ پھیلے۔
علاج:
⚠ بدقسمتی سے، رانی کھیت کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں ہے۔ بیماری سے بچاؤ کا بہترین طریقہ بروقت ویکسینیشن اور احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہے۔ تاہم، اگر بیماری ظاہر ہو جائے تو:
✔ حمایتی علاج: متاثرہ مرغیوں کو وٹامنز اور مناسب خوراک فراہم کریں تاکہ ان کی قوتِ مدافعت بہتر ہو۔
✔ اینٹی بائیوٹکس کا استعمال: ثانوی بیکٹیریل انفیکشن سے بچاؤ کے لیے اینٹی بائیوٹکس دی جا سکتی ہیں، لیکن یہ وائرل انفیکشن کا علاج نہیں کرتیں۔
✔ مقامی علاج: کچھ ماہرین کے مطابق، ویلوسِف انجیکشن کا استعمال مفید ہو سکتا ہے۔
📢 ایسی مزید مفید معلومات کے لیے ہمارا پیج لائک اور فالو کریں، اور اس پوسٹ کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس اہم بیماری کے بارے میں آگاہ ہو سکیں!

copied

Address

Attock

Telephone

+923005491348

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bilal Veterinary Store and Pharmacy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Bilal Veterinary Store and Pharmacy:

Shortcuts

Share