20/06/2026
🐄💉 آئیورمیکٹن بمقابلہ ڈورامیکٹن
کیا پاکستان میں پیراسائٹس کے خلاف جنگ میں نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے؟
تحریر: Dairy & Cattle Farmers Association Pakistan (DCFA Pakistan) Save Farmer – Save Pakistan
پاکستان کا ڈیری اور لائیو اسٹاک سیکٹر گزشتہ کئی دہائیوں سے مویشیوں میں اندرونی اور بیرونی پیراسائٹس کے کنٹرول کے لیے آئیورمیکٹن (Ivermectin) پر انحصار کرتا رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب یہ دوا معدے کے کیڑوں، پھیپھڑوں کے کیڑوں، جوؤں اور مینج کے خلاف انتہائی مؤثر نتائج دیتی تھی اور فارمرز کے لیے ایک قابل اعتماد حل سمجھی جاتی تھی۔
تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف علاقوں سے فارمرز اور ویٹرنری ماہرین کی جانب سے یہ مشاہدات سامنے آئے ہیں کہ بعض فارموں میں آئیورمیکٹن کے استعمال کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے۔ کئی جانوروں میں دوبارہ پیراسائٹ انفیکشن جلد ظاہر ہو جاتا ہے، وزن میں اضافہ متاثر ہوتا ہے اور دودھ کی پیداوار میں بھی خاطر خواہ بہتری نہیں آتی۔
اس صورتحال کی ایک ممکنہ وجہ پیراسائٹس میں دوا کے خلاف مزاحمت (Anthelmintic Resistance) کا پیدا ہونا ہے۔ جب ایک ہی دوا کو طویل عرصے تک مسلسل اور بار بار استعمال کیا جاتا ہے تو بعض پیراسائٹس اس دوا کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیتے ہیں، جس سے دوا کی افادیت کم ہو سکتی ہے۔
ڈورامیکٹن کیا ہے؟
ڈورامیکٹن (Doramectin) بھی آئیورمیکٹن کی طرح میکروسائکلک لیکٹون (Macrocyclic Lactone) گروپ سے تعلق رکھتی ہے، لیکن اس کی فارماکولوجیکل خصوصیات اسے جسم میں نسبتاً زیادہ دیر تک مؤثر رہنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہیں۔
اسی وجہ سے بہت سے فارمرز اور ویٹرنری ڈاکٹرز نے حالیہ برسوں میں ڈورامیکٹن کے استعمال سے بہتر نتائج کی نشاندہی کی ہے، خصوصاً ان فارموں پر جہاں آئیورمیکٹن کی کارکردگی کم محسوس کی جا رہی تھی۔
دونوں ادویات کا موازنہ
خصوصیت آئیورمیکٹن ڈورامیکٹن پیراسائٹس کے خلاف اثر وسیع وسیع معدے کے کیڑےمؤثر مؤثرپھیپھڑوں کے کیڑے مؤثر مؤثرجوئیں اور مینج مؤثر مؤثر جسم میں اثر کا دورانیہ نسبتاً کم نسبتاً زیادہ دوبارہ انفیکشن سے تحفظ محدود مدت زیادہ مدت پاکستان میں استعمال کئی دہائیوں سےنسبتاً کم عرصے سےمزاحمت کے خدشات بعض فارموں پر زیادہنسبتاً کم رپورٹ قیمت کم نسبتاً زیادہ
پاکستان میں موجودہ صورتحال
پاکستان کے متعدد ڈیری اور بیف فارموں پر عملی مشاہدات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ طویل عرصے سے آئیورمیکٹن کے مسلسل استعمال کے باعث بعض فارموں پر اس کی افادیت پہلے جیسی نہیں رہی۔ اس کے برعکس، ڈورامیکٹن کے استعمال سے کئی فارمرز نے بہتر وزن میں اضافہ، جانوروں کی صحت میں بہتری، جلد کی بیماریوں میں کمی اور مجموعی پیداوار میں مثبت نتائج رپورٹ کیے ہیں۔
یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہر فارم کی صورتحال مختلف ہو سکتی ہے۔ بعض فارموں پر آئیورمیکٹن اب بھی مؤثر نتائج دے رہی ہے جبکہ دیگر فارموں پر ڈورامیکٹن زیادہ بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے۔
صرف دوا تبدیل کرنا کافی نہیں
پیراسائٹس کے مؤثر کنٹرول کے لیے صرف انجیکشن تبدیل کرنا کافی نہیں بلکہ ایک جامع پیراسائٹ کنٹرول پروگرام ضروری ہے جس میں:
• جانوروں کی باقاعدہ نگرانی • بروقت ڈی وارمنگ • چراگاہوں کا بہتر انتظام • گوبر کی مناسب صفائی • جانوروں کی غذائی ضروریات کی تکمیل • ویٹرنری ماہرین کی مشاورت
شامل ہوں۔
نتیجہ
آئیورمیکٹن نے کئی دہائیوں تک پاکستان کے لائیو اسٹاک سیکٹر کی خدمت کی ہے اور اس کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، بعض فارموں پر طویل استعمال کے نتیجے میں مزاحمت کے خدشات اور کمزور نتائج سامنے آنے کے بعد ڈورامیکٹن ایک مؤثر متبادل کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔
موجودہ فیلڈ تجربات کے مطابق پاکستان کے بہت سے فارمرز ڈورامیکٹن کے استعمال سے بہتر اور دیرپا نتائج حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود دوا کا انتخاب ہمیشہ فارم کی صورتحال، پیراسائٹس کی نوعیت اور ویٹرنری ماہر کے مشورے کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے تاکہ جانوروں کی صحت، پیداوار اور فارم کی منافع بخشی کو بہتر بنایا جا سکے۔
Dairy & Cattle Farmers Association Pakistan (DCFA Pakistan) Save Farmer – Save Pakistan