14/08/2026
14 اگست: آزادی کی قدر اور ہماری ذمہ داری
اس وقت کچھ لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ہم 14 اگست کیوں منائیں؟ ہمیں اس دن کی خوشی کیوں ہو؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم کون سا آزاد ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ایسا سوچتے ہیں، انہیں بالکل معلوم نہیں کہ یہ آزادی کتنی قربانیوں کے بعد ممکن ہوئی ہے۔ انہیں اس تکلیف اور درد کا کوئی اندازہ ہی نہیں ہے۔ موجودہ دور کی سیاست سے دلبرداشتہ ہو کر وہ اس پورے ملک کو ہی آزاد نہیں سمجھتے۔
اس کی مثال بالکل ویسی ہی ہے جیسے والدین خون پسینہ ایک کر کے محنت سے ایک گھر بناتے ہیں، تو صرف انہی کو اس گھر کی اصل قدر ہوتی ہے۔ اولاد کو اس کی قدر نہیں ہوتی کیونکہ انہوں نے اس کے لیے کوئی محنت نہیں کی ہوتی۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ والدین کے دنیا سے جانے کے بعد اولاد اکثر اس گھر کو بیچ دیتی ہے اور پھر دربدر ٹھوکریں کھاتی پھرتی ہے۔
آج 14 اگست کے حوالے سے ہمارا رویہ بھی کچھ ایسا ہی ہو چکا ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ ملک آزاد نہیں ہے، دراصل انہیں اس کی قدر معلوم ہی نہیں، اور اسی وجہ سے وہ اس ملک کے ساتھ غداری پر اتر آتے ہیں۔ انہیں یہ آزادی اتنی آسانی سے ملی ہے کہ اس کی قیمت کا احساس نہیں۔ اگر انہیں یہ چیز اتنی ہی مشکل سے ملتی جتنی ہمارے بزرگوں کو ملی تھی، تو آج موجودہ دور کی سیاست کی یہ چھوٹی موٹی تکلیفیں انہیں اس طرح محسوس نہ ہوتیں اور ملک کی قدر ان کے دل میں زندہ ہوتی۔
کیا آپ کے اپنے گھر میں سب لوگ ایک ہی مزاج کے ہوتے ہیں؟ کیا سب اتفاق سے رہتے ہیں؟ گھر میں کوئی گرم مزاج کا ہوتا ہے تو کوئی نرم مزاج کا؛ کوئی سخت طبیعت کا ہوتا ہے تو کوئی صابر؛ کوئی کنجوس ہوتا ہے تو کوئی سخی۔ اس کے باوجود آپ سب ایک ہی چھت کے نیچے مل جل کر زندگی گزارتے ہیں اور سروائیو کرتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ وہاں خون کے رشتے ہوتے ہیں، اپنائیت ہوتی ہے، اور ایک دوسرے کا ساتھ نبھانا مجبوری بھی ہوتا ہے اور فرض بھی۔
سیاست بھی بالکل ایسی ہی ایک آنے جانے والی چیز ہے۔ آج اقتدار یا سیاست کسی ایک کے پاس ہے، کل کسی اور کے پاس ہوگی۔ سیاست دان آتے اور جاتے رہتے ہیں، لیکن یہ ملک صرف اور صرف آپ کا ہے۔ اس کی حفاظت اور اس کی قدر بھی آپ ہی نے کرنی ہے۔
آپ کو اس بات سے کیا فرق پڑتا ہے کہ سیاست میں کون ہے اور کون نہیں؟ آپ اپنے ملک میں ہیں، اپنے گھر میں ہیں۔ ان لوگوں کے لیے دعا کریں جنہوں نے اس دھرتی کے لیے خون کی ندیاں بہا دیں۔ ٹرینوں کے اندر لوگوں کی گردنیں کاٹ دی گئیں، کتنی ہی لاشیں اپنے پیاروں تک سلامت نہ پہنچ سکیں، معصوم بچوں کی عصمتیں دری کا شکار ہوئیں، بچوں اور بوڑھوں کو بے دردی سے ذبح کیا گیا۔ کیا آپ ذرا سا بھی وہ وقت اپنے تصور میں لا سکتے ہیں؟
خدارا! اس آزادی کی قدر کریں، استغفار کریں، اور ان تمام شہداء اور بزرگوں کے لیے دعائے مغفرت کریں جنہوں نے اپنی زندگیاں اور اپنے سانس قربان کر کے ہمارے لیے آج کے یہ آزاد سانس لینا آسان بنا دیا۔
اس وقت پاکستانی عوام میں کچھ لوگوں کو پاکستان کی آزادی پر جو بے اعتنائی ہے، وہ دراصل تاریخ سے ناواقفیت اور ناشکری کا نتیجہ ہے۔ ہمیں اس سوچ کو بدلنا ہوگا اور اپنے وطن سے سچی محبت کا ثبوت دینا ہوگا۔