Home Remedies By Naaz

Home Remedies By Naaz Home Remedies vidos and home remedies tips is very helpful for all especially for girsl and women

29/08/2026

*اے اللہ!*
ہر اُس شخص کو سکون عطا فرما جو اپنی حالت کسی کو بتانے سے قاصر ہے۔ اے میرے پروردگار! تو ہر انسان کی روح کے اندر کی اذیتوں کو جانتا ہے، ہر بے سکون دل کو سکون عطا فرما اور اپنی خاص رحمتوں سے نواز دے۔
*آمین، یا ربّ العالمین!* 🤲 ❤️

16/08/2026

🌸 آلو، ٹماٹر اور ملتانی مٹی کا فیس پیک — تفصیل
اجزاء:
🥔 آلو کا پانی: 1 کھانے کا چمچ
🍅 ٹماٹر کا پانی: 1 کھانے کا چمچ
🌿 ملتانی مٹی: 1 کھانے کا چمچ
🥣 دہی: 1 کھانے کا چمچ
🌾 بیسن: 1 کھانے کا چمچ
🥣 بنانے کا طریقہ
آلو کو کدوکش کرکے اس کا تازہ پانی نکال لیں۔
ٹماٹر کو کدوکش یا بلینڈ کرکے چھان لیں اور اس کا پانی لے لیں۔
ایک صاف پیالی میں ملتانی مٹی اور بیسن ڈالیں۔
اس میں دہی، آلو کا پانی اور ٹماٹر کا پانی شامل کریں۔
تمام اجزاء کو اچھی طرح ملا کر نرم اور درمیانہ گاڑھا پیسٹ بنا لیں۔
اگر پیسٹ بہت گاڑھا ہو تو تھوڑا سا دہی یا آلو کا پانی شامل کر سکتے ہیں۔
✨ چہرے پر لگانے کا طریقہ
پہلے چہرہ صاف کر لیں۔
فیس پیک کو آنکھوں اور ہونٹوں کے اردگرد کے حصے سے بچاتے ہوئے لگائیں۔
10–15 منٹ تک لگا رہنے دیں۔
مکمل طور پر خشک ہونے سے پہلے یا خشک ہونے پر نرمی سے پانی سے دھو لیں۔
چہرہ رگڑنے سے گریز کریں۔
آخر میں ہلکا موئسچرائزر لگا لیں۔
دن کے وقت استعمال کریں تو سن اسکرین بھی لگائیں۔
🌿 ممکنہ فوائد
بیسن: جلد کی سطح سے اضافی تیل اور گندگی صاف کرنے میں مدد دیتا ہے۔
ملتانی مٹی: اضافی آئل جذب کرکے جلد کو صاف اور تازہ محسوس کرا سکتی ہے۔
دہی: اس میں موجود lactic acid جلد کو ہلکی exfoliation دے سکتا ہے۔
ٹماٹر کا پانی: جلد کو تازگی دینے والا محسوس ہو سکتا ہے۔
آلو کا پانی: جلد کو عارضی طور پر صاف اور روشن دکھانے میں مدد دے سکتا ہے۔
ہفتے میں 1–2 بار استعمال کافی ہے۔ اگر جلد خشک یا حساس ہے تو ملتانی مٹی کم مقدار میں استعمال کریں۔

14/08/2026

تمام اہل اسلام کو ربیع الاوّل کا چاند مبارک ہو

چکن مندی رائس اجزاء:چکن — 1 کلوباسمتی چاول — ½ کلوپیاز — 1 عددٹماٹر — 2 عددادرک لہسن پیسٹ — 1 کھانے کا چمچمندی مصالحہ — ...
14/08/2026

چکن مندی رائس
اجزاء:
چکن — 1 کلو
باسمتی چاول — ½ کلو
پیاز — 1 عدد
ٹماٹر — 2 عدد
ادرک لہسن پیسٹ — 1 کھانے کا چمچ
مندی مصالحہ — 2 کھانے کے چمچ
نمک — حسبِ ذائقہ
لال مرچ — 1 چائے کا چمچ
ہلدی — ½ چائے کا چمچ
دارچینی — 1 ٹکڑا
لونگ — 4 عدد
الائچی — 3 عدد
تیل — 4 کھانے کے چمچ
پانی — حسبِ ضرورت
زعفران یا فوڈ کلر — تھوڑا سا
ترکیب: چکن کو ادرک لہسن، مندی مصالحہ، نمک، لال مرچ اور ہلدی کے ساتھ میرینیٹ کریں۔ پھر تیل میں پیاز، ٹماٹر اور ثابت گرم مصالحہ بھون کر چکن شامل کریں اور اچھی طرح پکا لیں۔
چکن نکال کر اسی یخنی میں بھگوئے ہوئے چاول ڈالیں اور پانی مناسب مقدار میں شامل کریں۔ چاول تقریباً پک جائیں تو اوپر چکن رکھ کر دم پر 15 منٹ پکائیں۔ آخر میں زعفران یا فوڈ کلر ڈال دیں۔
گرم گرم مندی رائس کو عربی شَطہ، سلاد اور رائتے کے ساتھ پیش کریں۔ 😋

14/08/2026
بيٹی کے طلاق ہونے پر باپ نے ڈھول بجا کر استقبال کیااور کہامری ہوئی بیٹی سے طلاق یافتہ بیٹی بہتر ہےلوگ حیران تھے کہباپ اپ...
13/08/2026

بيٹی کے طلاق ہونے پر باپ نے ڈھول بجا کر استقبال کیا
اور کہا
مری ہوئی بیٹی سے طلاق یافتہ بیٹی بہتر ہے
لوگ حیران تھے کہ
باپ اپنی بیٹی کی طلاق پر خوش کیسے ہو سکتا ہے
مگر کوئی اس باپ کا دل نہیں جانتا تھا
جس نے اپنی بیٹی کو
ہر آنسو چھپا کر ہنستے دیکھا تھا
وہ جانتا تھا کہ بیٹی سسرال سے
جسم کے ساتھ واپس آئی ہے
مگر اس کی روح
وہیں کہیں چھوڑ آئی ہے
اسی لیے باپ نے ڈھول بجوائے
تاکہ بیٹی کو یہ احساس نہ ہو
کہ وہ ناکام ہو کر واپس آئی ہے
بلکہ اسے یہ یقین ہو
کہ بابا کے گھر کے دروازے
آج بھی اسی محبت سے کھلے ہیں
جس محبت سے اسے کبھی رخصت کیا تھا
باپ نے کہا
میری بیٹی زندہ سلامت واپس آئی ہے
میرے لیے اس سے بڑی خوشی
اور کوئی نہیں 🥺

12/08/2026

اس تحریر کو لازمی پڑھیں اور بتائیں کیسی ہے۔۔؟
میں نے سورۂ یوسف نہ جانے کتنی بار پڑھی ہوگی
ہر بار یہی لگا کہ میں حضرت یوسفؑ کی پوری کہانی جانتی ہوں۔
کنواں
غلامی
قید اور پھر بادشاہت۔
لیکن آج میری نظر ایک ایسی چیز پر جا کر ٹھہر گئی جسے میں ہر بار پڑھ کر بھی نظر انداز کرتی رہی تھی
وہ تھیں... تین قمیضیں۔
اللہ چاہتے تو صرف واقعات بیان کر دیتے، مگر انہوں نے تین مختلف مقامات پر تین مختلف قمیضوں کا ذکر کیا
جیسے وہ ہمیں سکھا رہے ہوں کہ:
کبھی کبھی ایک انسان کی پوری روحانی اور جذباتی زندگی صرف تین قمیضوں میں سمٹ جاتی ہے۔
اور شاید ہم سب بھی انہی تین قمیضوں سے گزرتے ہیں
پہلی قمیض
وہ قمیض جس پر جھوٹا خون لگا دیا گیا۔
حضرت یوسفؑ کے بھائی جب اسے حضرت یعقوبؑ کے پاس لائے...
تو وہ صرف ایک قمیض نہیں تھی
وہ حسد کا اعلان تھی
جھوٹ کی گواہی تھی
ایک باپ کے دل پر چلنے والی تلوار تھی
لیکن حضرت یعقوبؑ نے قمیض دیکھی اور بات سمجھ گئے
اور فرمایا:
"پس صبر ہی بہتر ہے، اور جو تم بیان کر رہے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد چاہتا ہوں"
تب مجھے احساس ہوا کہ ہر انسان کی زندگی میں ایک پہلی قمیض ضرور آتی ہے
ایک دھوکہ
ایک جھوٹا الزام
ایک ایسی جدائی جس کا اس نے انتخاب نہیں کیا ہوتا

اور سب سے زیادہ درد اس بات کا نہیں ہوتا کہ لوگ بدل گئے
بلکہ اس بات کا ہوتا ہے
کہ جنہیں ہم نے اپنا سمجھا
وہی ہمیں تنہا چھوڑ گئے۔
بعض اوقات
اللہ ہمیں دشمنوں کے ذریعے نہیں آزماتے
وہ ہمیں اپنوں کے ذریعے آزماتے ہیں۔
شاید تم بھی ابھی پہلی قمیض میں ہو۔
کسی کی بے وفائی ابھی تک دل میں زندہ ہے۔
کسی کی باتیں ابھی تک راتوں کو جگاتی ہیں۔
کسی کی جدائی نے تم سے تمہاری ہنسی چھین لی ہے۔
اگر ایسا ہے
تو یاد رکھو
پہلی قمیض کہانی کا اختتام نہیں ہوتی۔
یہ صرف آغاز ہوتی ہے۔
پھر دوسری قمیض آتی ہے۔
اس بار وہ خون آلود نہیں بلکہ پیچھے سے پھٹی ہوئی ہے۔ جب حضرت یوسفؑ گناہ سے بچنے کے لیے بھاگے تو یہی پھٹی ہوئی قمیض ان کی پاکدامنی کی دلیل بن گئی۔
لیکن عجیب بات یہ ہے...
پہلی قمیض پر لگا خون جھوٹ تھا،
دوسری قمیض کا پھٹنا سچ کی گواہی بن گیا۔
گویا اللہ ہمیں یہ سکھا رہے ہیں:
کہ جھوٹ وقتی طور پر جیت سکتا ہے
لیکن ہمیشہ نہیں۔
اگر تم سچے ہو
تو تمہیں ہر ایک کو اپنی صفائی دینے کی ضرورت نہیں۔
کبھی کبھی
اللہ تمہارے لیے ایسے ثبوت پیدا کر دیتے ہیں
جن کے بعد دنیا خاموش ہو جاتی ہے۔
لوگ تمہارا نام خراب کر سکتے ہیں
لوگ تمہاری عزت چھیننے کی کوشش کر سکتے ہیں
لیکن اگر اللہ عزت دینے والا ہو
تو پوری دنیا بھی اسے چھین نہیں سکتی۔
پھر سال گزرتے ہیں۔
آزمائشیں ختم نہیں ہوتیں۔
کنواں ختم ہوتا ہے
تو غلامی شروع ہو جاتی ہے۔
غلامی ختم ہوتی ہے
تو قید شروع ہو جاتی ہے۔
میں نے یہاں رک کر سوچا
حضرت یوسفؑ نے آخر کبھی شکایت کیوں نہیں کی؟
شاید اس لیے
کیونکہ انہیں منزل پر یقین تھا
اگرچہ راستہ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
اور یہی ایمان ہے
جب راستہ دھندلا ہو
لیکن دل کو منزل پر یقین ہو۔
پھر آخرکار
تیسری قمیض آتی ہے۔
اب نہ اس پر خون ہے
نہ دھوکہ
نہ الزام
صرف شفا
حضرت یوسفؑ نے فرمایا:
میری یہ قمیض لے جاؤ اور میرے والد کے چہرے پر ڈال دو، ان کی بینائی واپس آ جائے گی۔
یہ صرف آنکھوں کی روشنی کی واپسی نہیں تھی
یہ امید کی واپسی تھی
صبر کا صلہ تھا
اور برسوں کی دعاؤں کا جواب تھا
اللہ دیر کرتے ہیں، مگر بھولتے نہیں
وہ خاموش رہتے ہیں، مگر غافل کبھی نہیں ہوتے
تب مجھے احساس ہوا کہ یہ تین قمیضیں صرف حضرت یوسفؑ کی نہیں
ہم سب کی بھی ہیں
کبھی ہم پہلی قمیض میں ہوتے ہیں
ٹوٹے ہوئے
کبھی دوسری میں
اپنی سچائی ثابت کرتے ہوئے
لیکن مسئلہ یہ ہے
ہم تیسری قمیض بہت جلدی چاہتے ہیں
ہم چاہتے ہیں اللہ ہمیں فورا شفا دے دیں
لیکن ہم ابھی تک پہلی قمیض پر لگے خون کو دھونے میں لگے ہوتے ہیں
ہم اب بھی ماضی کو بدلنا چاہتے ہیں
ہم کہتے ہیں:
کاش وہ دھوکہ نہ ملا ہوتا
کاش وہ شخص نہ ملا ہوتا
کاش وہ جدائی نہ ہوئی ہوتی
کاش وہ الزام نہ لگتا
مگر شاید اللہ فرما رہے ہوتے ہیں:
اگر پہلی قمیض نہ ہوتی تو صبر نہ سیکھتے
اگر دوسری نہ پھٹتی تو تمہارا کردار ظاہر نہ ہوتا
اور اگر یہ دونوں نہ ہوتیں تو تیسری قمیض کی قدر بھی نہ ہوتی
شاید اسی لیے سورۂ یوسف کو بہترین قصہ کہا گیا
کیونکہ یہ صرف ایک نبی کی داستان نہیں
ہر اس دل کی کہانی ہے
جو آج رو رہا ہے
لیکن کل مسکرائے گا
اگر آج تم پہلی قمیض میں ہو تو مایوس نہ ہونا
اگر دوسری میں ہو تو ثابت قدم رہنا
اور اگر ابھی تک تیسری قمیض نہیں ملی تو جلدی نہ کرنا
جس رب نے خون آلود قمیض سے کہانی شروع کی
اسی رب نے شفا دینے والی قمیض پر اسے مکمل کیا
اس لیے اگر آج تمہاری زندگی میں صرف پہلی یا دوسری قمیض ہے
تو یاد رکھنا
کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔
وہی الحکیم…
آج تمہاری کہانی بھی لکھ رہا ہے
اور جب اللہ کہانی لکھتے ہیں۔
تو کوئی داغ ہمیشہ نہیں رہتا
کوئی الزام ہمیشہ نہیں رہتا
کوئی آنسو ہمیشہ نہیں رہتا
آخرکار
ہر صبر کرنے والے کے لیے
اللہ ایک تیسری قمیض ضرور لکھتے ہیں🌷

10/08/2026

مشکلات سے نجات کی چابیاں اور اسباب:

پہلی چابی :

(سورة الفاتحہ)

اس میں ایک عجیب راز ہے۔ یہ (ہر ضرورت کے لیے) کافی، شفا دینے والی، مکمل اور حفاظت کرنے والی ہے، اور یہ ایک بہترین رقیہ (دم) ہے۔

دوسری چابی:

(الله الله ربي لا أشرك به شيئاً)
نبی اکرم ﷺ نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:

"مشکل اور پریشانی کے وقت کہا کرو: 'الله الله ربي لا أشرك به شيئاً'

(اللہ ہی میرا رب ہے، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا)۔"

تیسری چابی :

(لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين)
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

"میرے بھائی ذو النون (حضرت یونس علیہ السلام) کی دعا: 'لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين'؛

جو بھی غم زدہ شخص یہ پڑھے گا، اللہ تعالی اس کی تکلیف اور پریشانی کو دور فرما دے گا۔"

چوتھی چابی :

(حسبنا الله و نعم الوكيل)

کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے:

﴿ ٱلَّذِينَ قَالَ لَهُمُ ٱلنَّاسُ إِنَّ ٱلنَّاسَ قَدْ جَمَعُواْ لَكُمْ فَٱخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَٰنًا وَقَالُواْ حَسْبُنَا ٱللَّهُ وَنِعْمَ ٱلْوَكِيلُ * فَانقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ وَاتَّبَعُوا رِضْوَانَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ ﴾

ترجمہ: "جن سے لوگوں نے کہا کہ تمہارے مقابلے پر لوگ جمع ہو گئے ہیں، ان سے ڈرو، تو اس بات نے ان کے ایمان کو اور بڑھا دیا اور انہوں نے کہا: ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔ پھر وہ اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ لوٹے، انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچی اور انہوں نے اللہ کی رضا کی پیروی کی، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔"

پانچویں چابی :

(لا حول و لا قوة إلا بالله العلي العظيم)

یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے، جیسا کہ صحیحین (بخاری و مسلم) میں وارد ہوا ہے۔

چھٹی چابی:

(کثرت سے استغفار کرنا)

جو شخص کثرت سے استغفار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر غم سے نجات،

ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔

ساتویں چابی :

(لا إله إلا الله العظيم الحليم ،لا إله إلا الله رب العرش العظيم ،لا إله إلا الله رب السموات و الأرض رب العرش الكريم)

(اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو عظمت والا اور بردبار ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو عرش عظیم کا رب ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو آسمانوں کا رب، زمین کا رب اور عرش کریم کا رب ہے)

آٹھویں چابی :

(اللهم إني أعوذ بك من الهم و الحزن، و أعوذ بك من العجز و الكسل، و أعوذ بك من البخل و الجبن، و أعوذ بك من غلبة الدّين و قهر الرجال)

(اے اللہ! میں غم اور پریشانی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، عاجزی اور سستی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بخل اور بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور قرض کے بوجھ اور لوگوں کے تسلط/قہر سے تیری پناہ مانگتا ہوں)

نویں چابی :

(یا حي يا قيوم لا إله إلا أنت، برحمتك أستغيث)

(اے زندہ و قائم رہنے والے! تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تیری رحمت کے ذریعے فریاد کرتا ہوں)

یہ استغاثہ (فریاد رسی) اور تنگی و مصیبت کو دور کرنے کی دعا ہے، نبی کریم ﷺ اسے پڑھا کرتے تھے۔

دسویں چابی :

(اللهم رحمتك أرجو فلا تكلني إلى نفسي طرفة عين و أصلح لي شأني كله لا إله إلا أنت)

(اے اللہ! میں تیری ہی رحمت کی امید رکھتا ہوں، پس مجھے ایک پلک جھپکنے کے لیے بھی میرے اپنے نفس کے حوالے نہ کر، اور میرے تمام امور سنوار دے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں)

ان پیغامات کو پھیلائیں اور شیئر کریں۔ حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے فرمایا:

"میں نبوت کے بعد 'علم کو پھیلانے' سے بڑھ کر کوئی افضل درجہ نہیں جانتا۔"

ث

Address

Street No 2
Bahawalpur
63100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Home Remedies By Naaz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share