25/05/2026
اب وہ سختیاں حجاج کرام کو برداشت نہیں کرنی ہوتیں جو پہلے ہمارے باپ دادا کرگئے
سعودیہ نے اس حج کو ڈیجیٹل حج کا نام دیا ہے جیسے ہم رات 10 بجے منیٰ میں پہنچے تو سفید چادر ہمیں نیچے بیچھانے کے لیئے دے دی گئیں
آج ہم نے اگلے دن فجر تک یہاں قیام کرنا ہے
ہر حاجی کو ایک قبر جتنی جگہ مہیا کردی گئی ہے لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ قبر میں زمین بہت سخت ہوگی نہ کوئی تکیہ ہوگا نہ ہی کوئی اے سی
لیکن اس وقت ہم سب کفن کے دو ٹکڑے پہنے ﷲ پاک کی عبادت میں مشغول ہیں کوئی اس وقت تھکا ہارا سو چکا ہے اور کوئی اس وقت ﷲ کے ذکر میں مشغول ہے ۔
احرام کی پابندیاں بہت سخت ہیں ایک چھوٹی سی غلطی آپ پہ دم واجب کروا دیتی ہے ۔
یہاں نہ کوئی امیر ہے نہ ہی غریب سب کے سب نیچے لیٹے ہوئے ہیں ۔
اس حالت کو دیکھ کر ﷲ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھتے ہیں کہ بتاؤ یہ لوگ یہاں کیوں جمع ہوئے ہوئے ہیں تو فرشتے کہتے ہیں کہ یارب کریم آپ کو ہم سے بہتر پتا ہے کہ یہ سب کیوں جمع ہیں
یہ رب کریم تجھے راضی کرنے کے لیئے جمع ہوئے ہیں ۔
تب ﷲ پاک مسکرا کر کہتے ہیں کہ اے فرشتو تم گواہ رہنا میں نے سب سے راضی ہوگیا ۔
ﷲ پاک مجھ سے راضی ہوجائے آمین
😓😓😓😓😓