21/07/2026
لیک ضرور ووگوری۔۔۔
دو معیار، ایک باجوڑ
باجوڑ میں ایک تیندوے کو مقامی لوگوں نے اس وقت مار دیا جب، ان کے مطابق، وہ مسلسل ان کے مویشیوں پر حملے کر رہا تھا، لوگوں کو بھاری مالی نقصان پہنچا رہا تھا اور انسانی جانوں کے لیے بھی خطرہ بن چکا تھا۔
تیندوے کی ہلاکت کے فوراً بعد محکمۂ جنگلی حیات نے تحقیقات اور قانونی کارروائی کا اعلان کردیا۔ پورے پاکستان میں آوازیں اٹھنے لگیں کہ جانور کے ساتھ ظلم ہوا اور ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔
ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جنگلی حیات کا تحفظ ضروری ہے۔ کسی جانور کو بلاوجہ قتل کرنا درست نہیں۔ لیکن جنگلی جانوروں سے آبادی کو محفوظ رکھنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ جب کوئی خطرناک جانور آبادی میں داخل ہو، مویشیوں کو ہلاک کرے اور لوگوں کی جان و مال کو خطرے میں ڈالے تو فوری کارروائی کرنے والا مؤثر نظام موجود ہونا چاہیے۔ لوگوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر، واقعے کے بعد صرف مجرم قرار دینا انصاف نہیں۔
اب باجوڑ کی دوسری تصویر دیکھیے۔
باجوڑ کئی سالوں سے بدامنی، ٹارگٹ کلنگ اور مسلسل تشدد کا سامنا کر رہا ہے۔ بچے، خواتین، بزرگ اور نوجوان اپنی جانیں کھو چکے ہیں۔ اب ایک سرکاری مڈل اسکول کو بارودی مواد سے تباہ کردیا گیا ہے۔ یہ صرف ایک عمارت پر حملہ نہیں، بلکہ تعلیم، بچوں اور باجوڑ کے مستقبل پر حملہ ہے۔
لیکن اس پر وہی قومی شور کیوں نہیں؟
کہاں ہیں ہنگامی تحقیقات، عدالتی درخواستیں، ٹی وی مباحثے اور ملک گیر احتجاج؟
کیا باجوڑ کے ایک بچے کی جان ایک جنگلی جانور کی جان سے کم قیمتی ہے؟
یہ جنگلی حیات کے تحفظ کے خلاف آواز نہیں۔ یہ انتخابی غصے، دوہرے معیار اور غیر مساوی انصاف کے خلاف آواز ہے۔
تیندوے کی ہلاکت کی تحقیقات ضرور کریں، مگر یہ بھی معلوم کریں کہ لوگوں اور ان کے مویشیوں کو تحفظ کیوں نہیں دیا گیا۔ متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دیا جائے اور باجوڑ میں مؤثر وائلڈ لائف ریسپانس یونٹ قائم کیا جائے۔
اور سب سے بڑھ کر، تباہ شدہ اسکولوں، معصوم شہریوں کی اموات اور باجوڑ میں جاری بدامنی کے خلاف بھی وہی قانونی، حکومتی اور میڈیا کی سنجیدگی دکھائی جائے۔
باجوڑ خصوصی رعایت نہیں مانگتا؛ باجوڑ برابر کی انسانیت، برابر کا انصاف اور برابر کا تحفظ مانگتا ہے۔