DR ZIA ULLAH NeuroPhysician

DR ZIA ULLAH     NeuroPhysician This page is dedicated to provide an idea of neurological disorders

Public awareness message                 "مجھے کوئی علامت نہیں، پھر دوا کیوں کھاؤں؟"ہائی بلڈ پریشر اور فالج کے مریضوں کے...
14/07/2026

Public awareness message

"مجھے کوئی علامت نہیں، پھر دوا کیوں کھاؤں؟"

ہائی بلڈ پریشر اور فالج کے مریضوں کے لیے ایک نہایت اہم پیغام

روزانہ کلینک میں مجھے ایک بات بار بار سننے کو ملتی ہے۔

جب میں بلڈ پریشر یا فالج کے مریضوں سے ان کی دواؤں کے بارے میں پوچھتا ہوں تو اکثر جواب ملتا ہے

ڈاکٹر صاحب! ہمیں تو کوئی مسئلہ نہیں😏۔ جب گردن میں درد ہو، سر بھاری لگے، غصہ زیادہ آئے یا طبیعت خراب ہو تو دوا لے لیتے ہیں، ورنہ نہیں لیتے🤔۔

یہ ایک ایسی غلط فہمی ہے جو خاموشی سے انسان کی صحت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہائی بلڈ پریشر ہمیشہ علامات پیدا نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے دنیا بھر میں "خاموش قاتل" کہا جاتا ہے۔

جب آپ خود کو بالکل ٹھیک محسوس کر رہے ہوتے ہیں، تب بھی بلند بلڈ پریشر خاموشی سے آپ کے جسم کے اہم اعضاء کو نقصان پہنچا رہا ہو سکتا ہے۔

:یہ آہستہ آہستہ

آنکھوں کی بینائی متاثر کر سکتا ہے۔ 👁

دل کے دورے کا خطرہ بڑھ سکتا 🫀

دماغ کو نقصان پہنچا کر فالج کا سبب بن سکتا ہے۔ 🧠

گردوں کی کارکردگی کو متاثر کر کے انہیں ناکارہ بنا سکتا ہے۔

اسی طرح فالج کے مریض بھی اکثر یہ سوچ کر اپنی دوائیں چھوڑ دیتے ہیں کہ اب تو طبیعت بالکل ٹھیک ہے، لہٰذا دواؤں کی ضرورت نہیں رہی۔

:یاد رکھیے

فالج اور بلڈ پریشر کی دوائیں علامات کے لیے نہیں، بلکہ مستقبل کے خطرات سے بچاؤ کے لیے دی جاتی ہیں۔

دوا چھوڑنے کے بعد آپ کو فوراً کوئی تکلیف محسوس نہ ہو، لیکن اندرونی نقصان خاموشی سے جاری رہ سکتا ہے، اور بعض اوقات اس کا پہلا اظہار ایک نئے فالج، دل کے دورے یا کسی سنگین پیچیدگی کی صورت میں ہوتا ہے۔

اپنی دوائیں روزانہ اور باقاعدگی سے استعمال کریں۔👈

دوائیں صرف اس وقت نہ لیں جب علامات ظاہر ہوں ۔👈

کسی بھی دوا کو بند کرنے یا تبدیل کرنے سے پہلے مشورہ ضرور کریں ۔

یاد رکھیں: بیماری کا خاموش ہونا، بیماری کے ختم ہونے کی علامت نہیں ہوتا۔

آج کی ایک باقاعدہ گولی کل کے فالج، دل کے دورے، بینائی کے نقصان یا گردوں کی خرابی سے بچا سکتی ہے۔

اپنی صحت کا خیال رکھیں، کیونکہ بعض بیماریاں شور نہیں مچاتیں، صرف نقصان پہنچاتی رہتی ہیں۔


ڈاکٹر ضیاء اللہ نیورو فزیشن

12/07/2026

Memory loss:
Normal Aging or something more serious

09/07/2026
02/07/2026

Copied

پاکستان میں اکثر مریض کے مرض کے بارے میں سب کو پتہ ہوتا ہے... سوائے خود مریض کے۔
ہمارے ایک پروفیسر کے پاس ایک مریض آیا۔ معائنہ اور ٹیسٹوں کے بعد معلوم ہوا کہ اسے جگر کا کینسر ہے۔ خوش قسمتی سے بیماری ابتدائی مرحلے میں تھی، اس لیے علاج شروع کیا جا سکتا تھا۔
مریض کے ساتھ اس کا بھائی بھی تھا۔ اس نے ڈاکٹر سے درخواست کی:
"براہِ کرم مریض کو اس کی بیماری کے بارے میں مت بتائیں، وہ برداشت نہیں کر سکے گا۔"
ڈاکٹر نے اس کی بات مان لی۔ مریض کو دوائیاں شروع کروائیں اور سختی سے ہدایت کی کہ باقاعدگی سے دوائیاں لیتا رہے اور فالو اپ کے لیے آتا رہے۔
چند ماہ بعد وہی مریض دوبارہ آیا، لیکن اس بار حالت بہت خراب تھی۔ مزید ٹیسٹ ہوئے تو معلوم ہوا کہ کینسر پورے جسم میں پھیل چکا ہے۔
ڈاکٹر نے اس کے بھائی کو بلایا اور ناراضی سے پوچھا: "علاج کیوں نہیں جاری رکھا؟"
اس نے جواب دیا:
"گھر پہنچنے کے چند دن بعد ہمارے والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔ پھر جائیداد کے جھگڑے شروع ہو گئے۔ ہم بھائی ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔ دوائی تو دور کی بات، اس کے بعد ہم نے ایک دوسرے سے بات تک نہیں کی۔"
ڈاکٹر صاحب کہتے تھے کہ اس دن مجھے اپنی زندگی کی سب سے بڑی پیشہ ورانہ غلطیوں میں سے ایک کا احساس ہوا۔
اگر میں مریض کو خود اس کی بیماری، علاج کی اہمیت اور ممکنہ نتائج کے بارے میں بتا دیتا، تو شاید وہ کسی کے سہارے کے بغیر بھی اپنا علاج جاری رکھتا۔

اسی واقعے کے بعد وارڈ میں ایک اصول بنا:
"مریض کو، مناسب انداز میں، اس کی بیماری اور علاج کے بارے میں ضرور بتایا جائے گا۔ یہ میڈیکل ایتکھس ہے۔"

کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ..۔۔۔ انسان اپنی صحت کا سب سے بڑا محافظ خود ہوتا ہے۔جب ہم مریض سے اس کی بیماری چھپا لیتے ہیں، تو بعض اوقات ہم اس سے اس کے علاج کا اختیار بھی چھین لیتے ہیں۔

Copied

16/06/2026

STROKE #
BASICS everyone should know

Address

Batkhel

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when DR ZIA ULLAH NeuroPhysician posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share