14/07/2026
Public awareness message
"مجھے کوئی علامت نہیں، پھر دوا کیوں کھاؤں؟"
ہائی بلڈ پریشر اور فالج کے مریضوں کے لیے ایک نہایت اہم پیغام
روزانہ کلینک میں مجھے ایک بات بار بار سننے کو ملتی ہے۔
جب میں بلڈ پریشر یا فالج کے مریضوں سے ان کی دواؤں کے بارے میں پوچھتا ہوں تو اکثر جواب ملتا ہے
ڈاکٹر صاحب! ہمیں تو کوئی مسئلہ نہیں😏۔ جب گردن میں درد ہو، سر بھاری لگے، غصہ زیادہ آئے یا طبیعت خراب ہو تو دوا لے لیتے ہیں، ورنہ نہیں لیتے🤔۔
یہ ایک ایسی غلط فہمی ہے جو خاموشی سے انسان کی صحت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہائی بلڈ پریشر ہمیشہ علامات پیدا نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے دنیا بھر میں "خاموش قاتل" کہا جاتا ہے۔
جب آپ خود کو بالکل ٹھیک محسوس کر رہے ہوتے ہیں، تب بھی بلند بلڈ پریشر خاموشی سے آپ کے جسم کے اہم اعضاء کو نقصان پہنچا رہا ہو سکتا ہے۔
:یہ آہستہ آہستہ
آنکھوں کی بینائی متاثر کر سکتا ہے۔ 👁
دل کے دورے کا خطرہ بڑھ سکتا 🫀
دماغ کو نقصان پہنچا کر فالج کا سبب بن سکتا ہے۔ 🧠
گردوں کی کارکردگی کو متاثر کر کے انہیں ناکارہ بنا سکتا ہے۔
اسی طرح فالج کے مریض بھی اکثر یہ سوچ کر اپنی دوائیں چھوڑ دیتے ہیں کہ اب تو طبیعت بالکل ٹھیک ہے، لہٰذا دواؤں کی ضرورت نہیں رہی۔
:یاد رکھیے
فالج اور بلڈ پریشر کی دوائیں علامات کے لیے نہیں، بلکہ مستقبل کے خطرات سے بچاؤ کے لیے دی جاتی ہیں۔
دوا چھوڑنے کے بعد آپ کو فوراً کوئی تکلیف محسوس نہ ہو، لیکن اندرونی نقصان خاموشی سے جاری رہ سکتا ہے، اور بعض اوقات اس کا پہلا اظہار ایک نئے فالج، دل کے دورے یا کسی سنگین پیچیدگی کی صورت میں ہوتا ہے۔
اپنی دوائیں روزانہ اور باقاعدگی سے استعمال کریں۔👈
دوائیں صرف اس وقت نہ لیں جب علامات ظاہر ہوں ۔👈
کسی بھی دوا کو بند کرنے یا تبدیل کرنے سے پہلے مشورہ ضرور کریں ۔
یاد رکھیں: بیماری کا خاموش ہونا، بیماری کے ختم ہونے کی علامت نہیں ہوتا۔
آج کی ایک باقاعدہ گولی کل کے فالج، دل کے دورے، بینائی کے نقصان یا گردوں کی خرابی سے بچا سکتی ہے۔
اپنی صحت کا خیال رکھیں، کیونکہ بعض بیماریاں شور نہیں مچاتیں، صرف نقصان پہنچاتی رہتی ہیں۔
ڈاکٹر ضیاء اللہ نیورو فزیشن