Raja Fateh Muhammad Wonhar Welfare Hospital

Raja Fateh Muhammad Wonhar Welfare Hospital "Transforming Healthcare & Education 🏥📚 "

"🏥 Dedicated to Healing & Education 📚 | RFM Hospital & College of Medical Science 🩺 | Where Compassion Meets Excellence 🌟 | Join us in our mission to provide top-notch healthcare and nurture the future of medicine! 💉👩‍⚕️👨‍⚕️ "

27/05/2026
ایمرجنسی، لاوارث اور 1122. تحریر۔ ڈاکٹر اکرام الحق اعوان۔ میڈیکل سپریٹینڈنٹ راجہ فتح محمد ونہار ویلفیئر ہسپتال دھرکنہیہ ...
25/05/2026

ایمرجنسی، لاوارث اور 1122. تحریر۔ ڈاکٹر اکرام الحق اعوان۔ میڈیکل سپریٹینڈنٹ راجہ فتح محمد ونہار ویلفیئر ہسپتال دھرکنہ
یہ مریض جب ہسپتال پہنچا تو اس کی حالت انتہائی تشویشناک تھی۔اس کا بلڈ پریشر زیرو تھا۔اس کی ای سی جی میں کئی تبدیلیاں موجود تھیں اور اسے سانس لینے میں بھی دقت ہو رہی تھی۔ اسے فوری طور پر ابتدائی طبی امداد (First Aid) کی ضرورت تھی، جبکہ یہ ہسپتال بھی نہ جانے کس طرح بالکل اکیلا پہنچا تھا۔ اس کے ساتھ کوئی اٹینڈنٹ موجود نہ تھا۔ صورتحال معلوم کرنے پر بتایا گیا کہ مریض لاوارث حالت میں ہے اور اس کے قریبی رشتہ دار اسے اکیلا چھوڑ چکے ہیں۔
بہرحال، مریض کے لواحقین سے رابطہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن وہاں سے کوئی تسلی بخش جواب موصول نہ ہوا۔ دوسری جانب مریض کی حالت مسلسل بگڑ رہی تھی اور وقت تیزی سے ہاتھ سے نکل رہا تھا۔ ایسی صورتحال میں تمام رسمی معاملات کو ایک طرف رکھتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ نے فوری ہدایات جاری کیں کہ مریض کو درکار تمام ادویات اور طبی سہولیات بلا معاوضہ فراہم کی جائیں۔ سیکیورٹی گارڈ عزیز کو یہ ہدایت کی گئی کہ وہ فوری طور پر مریض کی دیکھ بھال بطور اٹینڈنٹ کرے اور جب تک مریض کے لواحقین ہسپتال نہیں پہنچتے یا مریض ریفر نہیں ہوتا اس وقت تک وہ اسی مریض کے پاس رہے گا۔۔
ہسپتال کے عملے نے فوری طور پر مریض کو ممکنہ حد تک بہترین ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ اس مقصد کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال چکوال کے کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر لقمان شوکت سے بھی رابطہ کیا گیا جو کہ ہمیشہ دل کے مریضوں کی صورت میں ہماری بہترین رہنمائی کرتے ہیں۔ ان سے مشاورت لی گئی۔ ان کی رائے تھی کہ مریض کی حالت نہایت تشویشناک ہے اور اسے فوری طور پر کسی بڑے ہسپتال منتقل کرنا ضروری ہے کیونکہ اسے کارڈیک شاک مینجمنٹ کی ضرورت تھی۔
چونکہ مریض کے لواحقین میں سے کوئی بھی اس کی مدد کے لیے آنے کو تیار نہ تھا، اس لیے ہسپتال انتظامیہ نے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے خود 1122 سے رابطہ کیا۔ اللہ کے فضل سے ریسکیو 1122 کی بروقت اور شاندار سروس کی بدولت مریض کو کلر کہار ریفر کرنے کا انتظام کیا گیا۔
مریض چونکہ تنہا تھا، اس لیے ضروری سمجھا گیا کہ ہسپتال کی طرف سے کوئی فرد اس کے ساتھ جائے۔ چنانچہ ہسپتال کے وارڈ بوائے منیر صاحب کو مریض کے ہمراہ بھیجا گیا تاکہ راستے میں مریض کو کسی قسم کی مشکل پیش نہ آئے۔ اور کلر کہار میں بھی لواحقین کے انے تک وہ مریض کی دیکھ بھال کرے۔
اس سارے واقعے میں راجہ فتح محمد ونہار ویلفیئر ہسپتال کی انتظامیہ اور تمام سٹاف نے جس ذمہ داری، ہمدردی اور انسانیت کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ ستائش ہے۔ ہسپتال کا پورا عملہ جسمیں لیڈی ڈاکٹر مدیحہ، پرنسپل پیرا میڈیکل کالج مسٹر فہیم، سٹاف نرس شمائلہ، امیر معاویہ، مقدس، عروج ایڈمن عبدالرحیم و دیگر شامل تھے، مریض کی شفٹنگ تک مسلسل وارڈ میں موجود رہے۔ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اکرام الحق بھی موقع پر پہنچ گئے، انہوں نے فوری ضروری ہدایات جاری کیں اور مریض کو تمام علاج مفت فراہم کرنے کا حکم دیا۔ انتظامیہ اور عملے نے صرف اپنی ڈیوٹی انجام نہیں دی بلکہ انسانیت کی ایک خوبصورت مثال قائم کی۔ ایسے حالات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ طب صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس ذمہ داری بھی ہے۔
اس موقع پر ریسکیو 1122 کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کرنا ضروری ہے۔ اگر یہ سروس بروقت دستیاب نہ ہوتی تو مریض کو ریفر کرنا انتہائی مشکل ہو سکتا تھا اور شاید نتائج مختلف ہوتے۔
اس واقعے کا ایک افسوسناک پہلو بھی ہے۔ انسان کو دکھ اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب خون کے رشتے مصیبت کی گھڑی میں ساتھ چھوڑ دیں۔ والدین اور بزرگ صرف اس وقت تک ہماری ذمہ داری نہیں ہوتے جب تک وہ مضبوط اور خودمختار ہوں، بلکہ ان کی کمزوری، بیماری اور زندگی کے آخری ایام میں ان کا ساتھ دینا ہماری اخلاقی، دینی اور انسانی ذمہ داری ہے۔ وقت کا پہیہ ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ آج جو آزمائش کسی اور پر آئی ہے، کل وہ ہمارے دروازے پر بھی دستک دے سکتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے بزرگوں، والدین اور عزیزوں کو کبھی تنہا نہ چھوڑیں کیونکہ بعض اوقات دوا سے زیادہ انسان کو اپنے لوگوں کی موجودگی اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں انسانیت کی خدمت کرنے اور اپنے رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (نوٹ: مریض کی شناخت اور اس کے گاؤں کی تفصیلات جان بوجھ کر ظاہر نہیں کی جا رہیں تاکہ کسی فرد یا خاندان کی دل آزاری یا ناحق بدنامی کا باعث نہ بنے۔)

انشاللہ آج بروز بدھ
20/05/2026

انشاللہ آج بروز بدھ

راجہ فتح محمد ونہار ویلفیئر ہسپتال اینڈ پیرامیڈیکل کالج، دھرکنہ میں یومِ بنیان المرصوص انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ من...
15/05/2026

راجہ فتح محمد ونہار ویلفیئر ہسپتال اینڈ پیرامیڈیکل کالج، دھرکنہ میں یومِ بنیان المرصوص انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ اس پر وقار تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر اکرام الحق (میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، راجہ فتح محمد ونہار ویلفیئر ہسپتال) تھے جبکہ تقریب کی صدارت مسٹر فہیم (پرنسپل پیرامیڈیکل کالج) نے کی۔

تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کی سعادت حذیفہ اختر نے حاصل کی۔ اس کے بعد محمد عمر نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔

یومِ بنیان المرصوص کی مناسبت سے میثم عباس اور مریم نے پُراثر تقاریر پیش کیں۔ تسکین اور امارہ نے ایک خوبصورت ملی نغمہ پیش کیا جبکہ حماد حسن کا ملی نغمہ بھی حاضرین کے لیے خصوصی توجہ کا باعث بنا۔ اسی طرح شجاعت نے پاک افواج کی جرات، بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر ایک پُرجوش نظم پیش کی۔

پرنسپل پیرامیڈیکل کالج فہیم نے اپنے خطاب میں طلبہ کو اس دن کی اہمیت اور اس کے پیغام سے آگاہ کیا۔ انہوں نے طلبہ کی کاوشوں اور پروگرام کی شاندار تیاری کو سراہا۔

میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اکرام الحق نے بھی پیرامیڈیکل کالج کی فیکلٹی اور طلبہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انتہائی مختصر وقت میں ایک بہترین اور منظم پروگرام پیش کیا۔ انہوں نے طلبہ کے نظم و ضبط کو بھی سراہا۔

اپنے خطاب میں ڈاکٹر اکرام الحق نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ لسانی بنیادوں پر نفرت پھیلانے والی قوتوں کے خلاف متحد رہیں اور مختلف قومیتوں کے درمیان بھائی چارے، ہم آہنگی اور محبت کو فروغ دیں تاکہ وطن دشمن عناصر کے عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔

15/05/2026

ذیابیطس کی کہانی۔ میری زبانی۔ تحریر ڈاکٹر اکرام الحق اعوان ایم ایس۔ راجہ فتح محمد ونہار ویلفیئر ہسپتال دھرکنہ۔ قسط اول
​ذیابیطس (شوگر)—ایک ایسی خاموش بیماری جس نے آج پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ یہ محض ایک مرض نہیں بلکہ ایک ایسا حملہ آور ہے جو انسانی جسم کے ہر عضو پر وار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاریاں اکثر انسانی برداشت سے باہر ہو جاتی ہیں۔
​اس بیماری کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ:
​یہ گردوں کو ناکارہ کر دیتی ہے، جس کے بعد مریض کی زندگی ڈائلیسس کی محتاج ہو جاتی ہے۔
​یہ دل پر اثر انداز ہوتی ہے اور ہارٹ اٹیک کا باعث بنتی ہے۔
​پاؤں کے زخم ناسور بن جاتے ہیں اور نوبت اعضاء کے کاٹنے (Amputation) تک آ جاتی ہے۔
​بینائی کا چلے جانا اور دماغی پیچیدگیاں بھی اسی کے تحفے ہیں۔
​مختصر یہ کہ جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں جو اس کے شر سے محفوظ رہ سکے۔
​میری کہانی:
مجھے آج سے تقریباً 26 سال پہلے معلوم ہوا کہ میں ذیابیطس کا شکار ہو چکا ہوں۔، میں نے ہمت ہارنے کی بجائے اس کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان 26 برسوں میں، میں نے اس بیماری سے ایک طویل جنگ لڑی ہے اور اللہ کے فضل سے، میں کسی حد تک اس جنگ میں سرخرو بھی رہا ہوں۔
​میں چاہتا ہوں کہ اپنی اس طویل جدوجہد، تجربات اور مشاہدات کو اپنے اس پیج کے ذریعے آپ سب کے ساتھ شیئر کروں۔ میرا مقصد صرف کہانی سنانا نہیں، بلکہ ان لوگوں کی مدد کرنا ہے جو اس مرض سے نجات پانا چاہتے ہیں یا اسے کنٹرول کرنے کی تگ و دو میں ہیں۔
​یہ کہانی کئی اقساط پر مبنی ہوگی (شاید 10 یا اس سے بھی زیادہ)۔ میری کوشش ہوگی کہ ہر قسط مختصر، جامع اور 4 سے 5 منٹ کے دورانیے میں پڑھی جا سکے۔
​آئیے! اس سفر کا آغاز کرتے ہیں۔

13/5/2026دن 3 بجے                                         RAJA FATEH MUHAMMAD WONHAR TRUST HOSPITAL                  میں...
15/05/2026

13/5/2026
دن 3 بجے

RAJA FATEH MUHAMMAD WONHAR TRUST HOSPITAL

میں ورک پلیس کمیونیکیشن سیشن” کا انعقاد کیا گیا۔ اس سیشن کی صدارت میڈم رابعہ ربانی HRM اور کالج پرنسپل فہیم ممتاز نے کی نیز تمام ڈیپارٹمنٹ سے اسٹاف ممبرز شریک ہوئے ۔

اس سیشن کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے کیا گیا۔ اس کے بعد ایک تعارفی ایکٹیویٹی کروائی گئی تاکہ اسٹاف ممبران ایک دوسرے کو جان سکیں ۔ اس سرگرمی کے دوران سوالات و جوابات کا سلسلہ جاری رکھا گیا، جس میں تمام اسٹاف ممبران سے مختلف سوالات پوچھے گئے۔ اس کا بنیادی مقصد ایک دوسرے کو بہتر انداز میں سمجھنا اور ورک پلیس کے تعلقات کو مضبوط بنانا تھا تاکہ ہر اسٹاف ممبر اپنی بات مؤثر اور احسن طریقے سے دوسرے تک پہنچا سکے۔

اس کے بعد میڈم رابعہ ربانی نے تفصیل کے ساتھ تمام اسٹاف کو ورک پلیس کمیونیکیشن کی اہمیت، باہمی تعاون، مثبت رویوں اور مؤثر رابطے کے اصولوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بہتر کمیونیکیشن نہ صرف ادارے کے ماحول کو خوشگوار بناتی ہے بلکہ ٹیم ورک کو بھی مضبوط کرتی ہے

مزید یہ کہ تمام اسٹاف ممبران کو گائیڈ کیا گیا کہ وہ ایک دوسرے کی عزتِ نفس کا ہمیشہ خیال رکھیں، ایک دوسرے کے جذبات اور احساسات کو سمجھیں اور باہمی احترام کے ساتھ پیش آئیں۔ اسی طرح مریضوں کا ہر ممکن طریقے سے خیال رکھنے اور ان کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنے پر زور دیا گیا تاکہ کسی قسم کی کوتاہی یا بدسلوکی کا کوئی پہلو سامنے نہ آئے۔

اس کے بعد اسٹاف ممبران کے درمیان ایک دلچسپ گیم کا اہتمام کیا گیا جس کے ذریعے یہ سمجھایا گیا کہ “مس کمیونیکیشن” کس طرح پیدا ہوتی ہے۔ اس سرگرمی میں میڈم نے ایک جملہ ایک اسٹاف کے کان میں بتایا، جسے آگے ایک دوسرے کے کان میں منتقل کیا جاتا رہا۔ جب یہی جملہ تمام شرکاء سے ہوتا ہوا آخری اسٹاف تک پہنچا تو اس کی اصل شکل کافی حد تک تبدیل ہو چکی تھی۔ اس سرگرمی کے ذریعے واضح کیا گیا کہ غلط فہمی اور مس کمیونیکیشن اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بات کو درست انداز میں نہ سمجھا جائے یا آگے صحیح طریقے سے منتقل نہ کیا جائے۔تمام اسٹاف ممبران کو یہ بھی ہدایت دی گئی کہ جب بھی کوئی بات ان تک پہنچے تو اس پر فوراً ردِعمل دینے کے بجائے پہلے اس کی اچھی طرح تحقیق اور تصدیق کر لینی چاہیے، تاکہ غلط فہمی اور مس کمیونیکیشن سے بچا جا سکے۔

تمام شرکاء اس سیشن سے بے حد خوش نظر آئے اور انہوں نے اس سرگرمی کو بہت دلچسپ اور معلوماتی قرار دیا۔ اسٹاف ممبران نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہیں اس سیشن سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا، جو ان کی پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

تمام اسٹاف نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ مستقبل میں بھی اس طرح کے تربیتی اور آگاہی سیشنز کا انعقاد ہوتا رہنا چاہیے تاکہ سیکھنے اور باہمی روابط کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ آخر میں تمام اسٹاف ممبران نے میڈم رابعہ ربانی کا شکریہ ادا کیا اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

13/05/2026

ہمتِ مرداں مددِ خدا!
​تحریر: ڈاکٹر اکرام الحق
میڈیکل سپرنٹینڈنٹ، راجہ فتح محمد ونہار ویلفیئر ہسپتال
​مایوسی کے اندھیروں سے شفا کی روشنی تک!
​تقریباً پانچ چھ ماہ قبل جب یہ مریض پہلی بار ہمارے ہسپتال لایا گیا، تو صورتحال نہایت تشویشناک تھی۔ مریض شوگر (Diabetes) کا شکار تھا اور اس کے پاؤں کا زخم اس حد تک بگڑ چکا تھا کہ بظاہر صحت یابی ناممکن نظر آتی تھی۔ طبی نقطہ نظر سے ہمیں خدشہ تھا کہ اگر فوری اور غیر معمولی احتیاط نہ برتی گئی تو یہ زخم پاؤں کے ضیاع (Amputation) کا سبب بن سکتا ہے۔
​مجبوری اور بے بسی:
مریض ایک سابق فوجی تھا، اس لیے ہم نے اسے مشورہ دیا کہ وہ بہتر سہولیات کے لیے CMH سے رجوع کرے۔ لیکن غربت کا عالم یہ تھا کہ وہ وہاں تک جانے کے لیے کرایہ تک افورڈ نہیں کر سکتا تھا، یہاں تک کہ ہمارے ہسپتال تک روزانہ آنے کے اخراجات بھی اس کی پہنچ سے باہر تھے۔
​جب انسانیت جاگ اٹھتی ہے:
ایسے کٹھن وقت میں اللہ تعالیٰ نے غیب سے اسباب پیدا کیے۔ "ارشاد صاحب" (جن کا تعلق شعبہ صحافت سے ہے لیکن دل سماجی خدمت کے لیے دھڑکتا ہے) نے اس مریض کی ذمہ داری اٹھائی۔ وہ روزانہ اسے اپنی نگرانی میں پٹی کروانے کے لیے ہسپتال لانے لگے۔
​دوسری جانب، ہسپتال کے مالکان راجہ سکندر صاحب اور راجہ غلام ربانی صاحب نے انسانی ہمدردی کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے اس مریض کے مکمل علاج کو "فری" کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔ ہسپتال کے تمام ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف نے بھی اس نیک مقصد میں خلوصِ نیت سے اپنا حصہ ڈالا۔
​نتیجہ: ایک نئی زندگی
آج مجھے یہ بتاتے ہوئے دلی خوشی ہو رہی ہے کہ اللہ کے فضل و کرم اور ٹیم کی محنت سے وہ مریض 90 فیصد تک صحت یاب ہو چکا ہے۔ وہ پاؤں جس کے کٹنے کا ڈر تھا، اب دوبارہ چلنے کے قابل ہو رہا ہے۔
​میرا پیغام: ہمت نہ ہاریں!
اس واقعے کو شیئر کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم یہ سمجھ سکیں:
​امید کا دامن کبھی نہ چھوڑیں: جس دن انسان امید کھو دیتا ہے، وہی اس کی ہمت اور صحت کے خاتمے کا دن ہوتا ہے۔
​گرد و پیش کا خیال رکھیں: جس طرح ارشاد امان صاحب نے ایک مجبور شخص کا ہاتھ تھاما، کاش ہم سب اپنے اردگرد نظر رکھیں اور کسی کی چھوٹی سی مدد کر کے اس کی دنیا بدل سکیں۔
​درخواست:
انسانیت کی خدمت کے اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں تاکہ دوسروں میں بھی امید اور خدمت کا جذبہ پیدا ہو۔
​جزاک اللہ!

Address

Dharokna Road, Tehsil Kalar Kahar, Jhamrah Road, Village Dharokna
Chakwal

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Raja Fateh Muhammad Wonhar Welfare Hospital posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Raja Fateh Muhammad Wonhar Welfare Hospital:

Share