02/06/2026
بعض مریض بار بار کیوں بیمار ہو جاتے ہیں؟
ہمارے پاس آنے والے بعض مریض یہ سوال کرتے ہیں کہ علاج شروع ہونے کے بعد کچھ دن سکون رہتا ہے، پھر اچانک دوبارہ پریشانیاں بڑھ جاتی ہیں، بے چینی، ڈراؤنے خواب، گھبراہٹ، وسوسے یا روحانی کیفیات دوبارہ ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ بعض اوقات وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید علاج مؤثر نہیں ہو رہا۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر بیماری کی ایک ظاہری اور ایک باطنی وجہ ہوتی ہے۔ جب کوئی مریض علاج کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی میں موجود گناہوں، نافرمانیوں اور غلط عادات کو برقرار رکھتا ہے تو اس کا اثر علاج کے نتائج پر بھی پڑ سکتا ہے۔
ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ بعض مریض وظائف تو باقاعدگی سے کرتے ہیں لیکن نماز میں غفلت، جھوٹ، حرام تعلقات، گناہ بھری محفلیں یا تنہائی کے گناہوں سے اجتناب نہیں کرتے۔ ایسی صورت میں روحانی علاج کی رفتار متاثر ہو جاتی ہے، کیونکہ روحانی علاج صرف پڑھائی کا نام نہیں بلکہ زندگی کی اصلاح کا بھی نام ہے۔
جس طرح ایک مریض دوا بھی کھائے اور ساتھ ہی پرہیز نہ کرے تو بیماری کے ختم ہونے میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، اسی طرح روحانی علاج میں بھی پرہیز کی اپنی اہمیت ہے۔ توبہ، استغفار، نماز کی پابندی اور گناہوں سے بچنے کی کوشش علاج کے معاون اسباب ہیں۔
اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہر بیماری گناہوں کی وجہ سے ہوتی ہے، کیونکہ آزمائشیں نیک لوگوں پر بھی آتی ہیں۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع، استغفار اور اصلاحِ احوال انسان کے لیے خیر، برکت اور سکون کے دروازے کھول سکتے ہیں۔
لہٰذا اگر کوئی مریض چاہتا ہے کہ اس کا علاج بہتر انداز میں آگے بڑھے تو اسے صرف وظیفوں پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنے اعمال، عادات اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کو بھی بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بہت مرتبہ شفا کا راستہ صرف دوا یا دم میں نہیں بلکہ سچی توبہ اور زندگی کی اصلاح میں بھی پوشیدہ ہوتا ہے۔
روحانی معالج،
حکیم مفتی شاہدالاسلام شاذلی
゚