28/04/2026
https://www.facebook.com/share/p/1JXZGPXwR2/
صبح جب موبائل کھولا تو وزیرستان کی خاموش وادیوں سے ایک روشن پیغام ابھرا ،ہمارے ایک نہایت قابل، باوقار اور باشعور ڈاکٹر صاحب کا۔
لفظ سادہ تھے، مگر اثر گہرا، دل میں ایک عجیب سی اُمید جاگی کہ شاید اب اندھیروں کے بیچ روشنی نے راستہ ڈھونڈ لیا ہے۔
یہ خوشی اس لیے بھی تھی کہ ہمارے اپنے لوگ، ہمارے اپنے پڑھ لکھے، سمجھدار افراد اب خاموش تماشائی نہیں رہے بلکہ عوامی مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے کھڑے ہو رہے ہیں۔ اور سچ تو یہ ہے کہ یہی وہ قدم ہے جو قوموں کی تقدیر بدلتا ہے۔
کیونکہ جب باشعور طبقہ خاموش ہو جائے، تو پھر فیصلے وہی کرتے ہیں جو نہ انصاف جانتے ہیں نہ انسانیت ،اور انہی نام نہاد “غیرت” کے پردے میں کئی زندگیاں اندھیروں کی نذر ہو جاتی ہیں۔
ڈاکٹر صاحب نے جو باتیں کہیں، وہ محض رائے نہیں بلکہ سچ کی آواز ہیں:
ڈاکٹر صاحب کے الفاظ
لڑکی کو جائیداد سے محروم کرنا کسی کا حق نہیں… یہ سراسر ناانصافی ہے۔
مہر، جو کہ لڑکی کا حق ہے، اس کی مرضی کے بغیر کوئی اور طے نہیں کر سکتا۔
لڑکی کو بیچنا—چاہے 5 روپے پر ہو یا 5 لاکھ پر—یہ سراسر حرام اور ظلم ہے۔ انسان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی، وہ عزت اور وقار کے ساتھ پیدا ہوا ہے۔
یہ رسم، یہ سوچ… اسے جڑ سے ختم ہونا چاہیے۔ اور اگر کوئی اسے اپنا حق سمجھتا بھی ہے، تو کم از کم اسے مہر یا جائیداد جیسے خالص حقوق کے ساتھ ہرگز نہ ملایا جائے۔
اور اگر کہیں کوئی رقم طے کی جاتی ہے، تو وہ براہِ راست لڑکی کو ملنی چاہیے… نہ کہ باپ یا بھائی کی جیب میں جائے، کیونکہ یہ اس کے حق پر ڈاکہ ہے۔
یہ صرف الفاظ نہیں، ایک سوچ ہے،ایک بیداری ہے
اور شاید وہ پہلا قدم ہے جو ہمیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
اب سوال یہ نہیں کہ بات درست ہے یا نہیں
سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس سچ کے ساتھ کھڑے ہونے کی ہمت رکھتے ہیں؟ ؟؟؟
رضیہ محسود