District Paramedical Association Dera Ismail Khan

District Paramedical Association Dera Ismail Khan Upgrade the moral of paramedic's in world level.

مٹی کا سچا بیٹا اور کپتان کا سب سے وفادار سپاہی—علی امین گنڈاپور! عہدے عارضی ہوتے ہیں، لیکن جو مقام انہوں نے عوام کے دلو...
14/07/2026

مٹی کا سچا بیٹا اور کپتان کا سب سے وفادار سپاہی—علی امین گنڈاپور! عہدے عارضی ہوتے ہیں، لیکن جو مقام انہوں نے عوام کے دلوں میں بنایا ہے وہ کوئی نہیں چھین سکتا۔ 'اے وائس ڈیجیٹل میڈیا' اور جرنلسٹ فہّام کو اتنی جرات مندانہ اور سچی آواز بلند کرنے پر سلام پیش کرتے ہیں۔"

ڈیرہ اسماعیل خان (اے وائس ڈیجیٹل میڈیا)خصوصی نظریاتی کالم و شاہکار خطاب /قلم کار: جرنلسٹ فہّام
​سیاسی تدبر اور مردِ بحران: سردار علی امین گنڈاپور
​سردار علی امین گنڈاپور اس سیاسی رمز اور حکومتی گر سے بخوبی واقف ہیں کہ اقتدار کا ہما کیسے سر پر سجایا جاتا ہے اور نظامِ حکومت کو پامردی سے کیسے چلایا جاتا ہے انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ تنظیم کو کہاں متحرک کرنا ہے، مذاکرات کی میز کہاں سجانی ہے، کس سے اور کن شرائط پر بات کرنی ہے، اور کب، کہاں اور کیسے استقامت و مزاحمت کا علم بلند کرنا ہے۔اگر تنظیمی ساخت اور عوامی تائید کی بات کی جائے تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ خیبر پختونخوا سمیت پنجاب، سندھ، بلوچستان اور وفاق میں بھی پاکستان تحریک انصاف (PTI) کو تاریخی عوامی اکثریت حاصل تھی۔ لیکن، افسوس! پارٹی کی کچھ اعلیٰ قیادت کی مصلحت پسندی اور بعض صوبائی صدور کے پاس ٹھوس سیاسی حکمتِ عملی نہ ہونے کے باعث، جیتا ہوا اقتدار اور پکا ہوا پھل ہاتھوں سے گنوا دیا گیا۔ان کٹھن اور مایوس کن حالات میں صرف ایک ہی مردِ بحران تھا—علی امین گنڈاپور—جس نے تمام تر ریاستی جبر، سازشوں اور چیلنجز کے سامنے بند باندھا، اور نہ صرف خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کا پرچم لہرایا بلکہ ایک خود مختار اور بااختیار حکومت قائم کر کے دکھائی۔علی امین گنڈاپور کے دورِ اقتدار میں بارہا یہ خبریں سننے کو ملیں کہ قائدِ تحریک عمران خان کو بنی گالہ، زمان پارک یا گلیات شفٹ کیا جا رہا ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں تھا، بلکہ یہ علی امین گنڈاپور کی جرات مندانہ مزاحمت، مدبرانہ مذاکرات اور اپنے لیڈر کے ساتھ بے لوث اور بے داغ وفاداری کا منہ بولتا ثبوت تھا۔مگر بدقسمتی دیکھیے! پارٹی کے اندر ہی چھپے کچھ مفاد پرست اور خوفزدہ عناصر دل سے چاہتے ہی نہیں تھے کہ عمران خان جیل سے باہر آئیں۔ ان سازشی عناصر نے علی امین گنڈاپور کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور جرات سے خوف کھا کر ان کے خلاف ایک منظم اور زہریلی مہم چلائی۔ وہ اپنے اس گھناؤنے مقصد میں وقتی طور پر کامیاب بھی ہوئے اور علی امین کو تنظیمی عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
​اعترافِ جرم اور جرنلسٹ فہّام کا سوال
​آج وقت کے پہیے نے ثابت کر دیا ہے کہ علی امین گنڈاپور کو عہدے سے ہٹانا ایک تاریخی، بھیانک اور فاش غلطی تھی۔ اب پارٹی کے اندر اور باہر ہر شخص کو اس بات کا شدت سے احساس ہو رہا ہے، لیکن:
​اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت!اس اندرونی سازش کی وجہ سے پاکستان اور عمران خان کے انتہائی قیمتی نو مہینے ضائع کر دیے گئے۔ آج اگر کوئی پوچھنے والا ہو تو پوچھے کہ اس ناقابلِ تلافی نقصان کا حساب کس سے مانگا جائے؟ کس کے گریبان پر ہاتھ ڈالا جائے؟
علی عہدوں سے بے نیاز: ایک سچا انقلابی ورکر
​آج وہی مرکزی قیادت بار بار علی امین خان گنڈاپور کے سامنے دستِ بستہ کھڑی ہے، منتیں کی جا رہی ہیں، عہدوں اور اختیارات کے بازار سجائے جا رہے ہیں کہ "واپس آؤ، ہم آپ کے لیے یہ کر دیں گے، وہ کر دیں گے"مگر غیرتِ مند گنڈاپور اور اس کی نظریاتی سیاست کا عروج دیکھیے! علی امین خان کسی عہدے یا منصب کے لالچی نہیں ہیں۔ وہ تمام پیشکشیں ٹھکرا چکے ہیں۔ انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ عہدوں کے محتاج نہیں، بلکہ عہدے ان کے نام سے معتبر ہوتے ہیں۔ بطور ایک مخلص ورکر، جب بھی، جہاں بھی اور جیسے بھی کپتان کی کال آئے گی، علی امین گنڈاپور ہر میدانِ جنگ اور ہر انقلابی مزاحمت میں قوم کو صفِ اول میں سینہ تان کر کھڑا نظر آئے گا۔
​یہ علی امین کا اپنے کپتان، اپنے نظریے اور اس مٹی سے وہ عہد ہے جو کبھی ٹوٹ نہیں سکتا!جرنلسٹ فہّام ڈی آئی خان ۔
​***
• ​
• ​
• ​
• ​
• ​
• ​
• ​
• ​
• ​
• ​
• ​
• ​
• ​
• ​
• ​

14/05/2026

ڈیرہ اسماعیل خان(اے وائس بریکنگ نیوز۔جنرلسٹ فہّام ) ایم ٹی آئی ہسپتالوں میں کرپشن کی نئی انتہا، مضبوط دیواریں گرا کر کھلی کمیشن پر دوبارہ تعمیر کر لی گئیں مفتی محمود ہسپتال میں ڈائریکٹرز نے سرکاری فنڈز سے کھلواڑ کا نیا ریکارڈ بنا ڈالا کرپشن چھپانے کیلئے مقامی مخصوص صحافیوں سے لیں دین کے بعد سوشل میڈیا پر 'ترقی' کا جھوٹا پروپیگنڈا شروع کر دیا تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈہ پور کی چوائس پر ریٹائرڈ پہلے سے پینشن یافتہ من پسند افراد کو دوبارہ 4سے 6لاکھ روپے ماہانہ پر بھرتی کیے گئے ڈائریکٹرز ہسپتال نے ایسے کام شروع کر رکھے ہیں جو شاید ہی کسی سرکاری قاعدے اور ضابطے کی زد میں آ سکیں۔مبینہ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایم ٹی آئی مفتی محمود ہسپتال کی کئی فٹ اونچی، انتہائی مضبوط بیرونی دیواریں مکمل طور پر گرا دی گئیں اور ان پر موجود انتہائی خوبصورت مضبوط لوہے کے بنائے گئے جنگلوں کو اکھیڑ دیا گیا جبکہ لاکھوں کی تعداد میں نئی سے زیادہ مضبوط پرانی سالم اینٹیں غائب کر کے
· نئی اینٹیں منگوا کر از سر نو دیواریں تعمیر کی گئیں۔خیبر پختونخواہ حکومت کی طرف سے ایم ٹی آئی ہسپتالوں کو
· سالانہ ملنے والے اربوں روپے کے فنڈز کو من مرضی کے کاموں اور منظور نظر ٹھیکیداروں کے ذریعے کھلی کمیشن پر لوٹا جا رہا ہے، مگر تادم تحریر کوئی روک نہیں لگائی جا سکی۔صورت حال اتنی سنگین ہو چکی ہے کہ مفتی محمود ہسپتال کے ڈائریکٹرز کو کھل کر کھیلنے کے تمام مواقع میسر ہیں۔ ذرائع کے مطابق پہلے تمام وارڈز پھر او پی ڈی کے تمام کمروں کے اندر دیواروں پر لگے قیمتی ماربل کو توڑ کر چائنا ٹائل لگا کر قومی خزانے کو زبردست نقصان دیا گیا اور اب ایک کے بعد ایک انہوں نے پہلے سے مکمل، تیار شدہ، سالم اور مضبوط ہسپتال کی اونچی دیواروں کو زمین بوس کر کے تعمیر کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا جبکہ دیواروں پر لگائے گئے لاکھوں روپے مالیت کے موٹے اور قیمتی سریے سے ڈیزائن شدہ جنگلے بھی خواہ مخواہ بلاجواز ہٹائے گئے۔ایم ٹی آئی ہسپتالوں میں جاری تعمیراتی اسکینڈل کو کرپشن مخالف صحافیوں نے جب میڈیا پر اٹھایا تو دیگر لفافہ صحافیوں کے ذریعے اسے سوشل میڈیا پر"تعمیر و ترقی کے نئے باب" سے تعبیر کیا جانے لگا جبکہ
حقیقت اس کے برعکس بالکل ثابت شدہ ثبوتوں کے ساتھ موجود ہے ذرائع کے مطابق صرف دیواریں ہی نہیں گرائی گئیں، بلکہ بیرونی دیواروں پر لگے انتہائی خوبصورت اور قیمتی لوہے کے جنگلوں کو بھی ہٹا کر چمن کے آس پاس نصب کر نا ہسپتال انتظامیہ کا انتہائی گھناؤنا کرپشن ماڈل کھیل کا حصہ ہے؟ ٹیکس دہندہ ہر آدمی حکومت سے سوال کرتا ہے کہ مضبوط اتنی لمبی چوڑی دیواروں کو کیوں توڑا گیا ؟ لاکھوں اینٹیں کہاں گئیں؟ نئی اینٹوں، سیمنٹ، مزدوری اور چنائی پر پاس کیے گئے بلوں میں سے کتنے حقیقی ہیں اور کتنے جعلی؟کمیشن کس کس کو دیا گیا؟ یہ شفافیت کا مذاق ہے یا ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے کھیلنے کی ایک اور کوشش؟ ہسپتال کو بلاجواز توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ڈائریکٹرز کے خلاف اب تک کوئی کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟ عوامی سماجی مذہبی حلقوں کی جانب سے کئے گئے ایسے بہت سارے سوالات ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اور خیبرپختونخوا کے ارباب اختیار کیلئے کرپشن کے پینڈورا بکس کو کھولنے کے مترادف ہو گا۔جنرلسٹ فہّام نے حقیقت کا آئینہ سب کو دکھانے کے بعد خود بھی حکومت وقت اور گڈ گورنس و اینٹی کرپشن کے اعلی حکام سمیت صوبہ خیبر پختونخواہ کے تمام اعلی حکام و حکومتی انتظام و انصرام چلانے والوں سے سوال کرتے ہوئے کہا ہے کہ
❓ مفتی محمود ہسپتال کے تمام ڈائریکٹرز سے پوچھیں:
مضبوط بیرونی چاردیواری کو گرانے کے پیچھے کیا منطق ہے ؟
کیا یہ سرکاری فنڈز ضائع کرنے اور کمیشن کمانے کا کوئی نیا طریقہ نہیں؟
قیمتی لوہے کے جنگلے ہٹا کر چمن کے پاس نصب کرنے کا کیا مطلب ؟
ایسے اور کئی دوسرے کھلے سوالات جن کا جواب حکومت کو دینا ہوگا !یہ تمام سوالات آج عوام اور ٹیکس دینے والے ہر باشعور شہری نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ محمد سہیل آفریدی، چیف سیکریٹری ہیلتھ، اور صوبائی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سے پوچھنے شروع کر دیے ہیں۔تحقیقاتی بریکنگ رپورٹ بائی جنرلسٹ فہّام

25/04/2026

Celebrating my 11th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

11/04/2026

Address

Health Department Khyber Pakhtunkhaw
Dera Ismail Khan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when District Paramedical Association Dera Ismail Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share