14/07/2026
مٹی کا سچا بیٹا اور کپتان کا سب سے وفادار سپاہی—علی امین گنڈاپور! عہدے عارضی ہوتے ہیں، لیکن جو مقام انہوں نے عوام کے دلوں میں بنایا ہے وہ کوئی نہیں چھین سکتا۔ 'اے وائس ڈیجیٹل میڈیا' اور جرنلسٹ فہّام کو اتنی جرات مندانہ اور سچی آواز بلند کرنے پر سلام پیش کرتے ہیں۔"
ڈیرہ اسماعیل خان (اے وائس ڈیجیٹل میڈیا)خصوصی نظریاتی کالم و شاہکار خطاب /قلم کار: جرنلسٹ فہّام
سیاسی تدبر اور مردِ بحران: سردار علی امین گنڈاپور
سردار علی امین گنڈاپور اس سیاسی رمز اور حکومتی گر سے بخوبی واقف ہیں کہ اقتدار کا ہما کیسے سر پر سجایا جاتا ہے اور نظامِ حکومت کو پامردی سے کیسے چلایا جاتا ہے انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ تنظیم کو کہاں متحرک کرنا ہے، مذاکرات کی میز کہاں سجانی ہے، کس سے اور کن شرائط پر بات کرنی ہے، اور کب، کہاں اور کیسے استقامت و مزاحمت کا علم بلند کرنا ہے۔اگر تنظیمی ساخت اور عوامی تائید کی بات کی جائے تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ خیبر پختونخوا سمیت پنجاب، سندھ، بلوچستان اور وفاق میں بھی پاکستان تحریک انصاف (PTI) کو تاریخی عوامی اکثریت حاصل تھی۔ لیکن، افسوس! پارٹی کی کچھ اعلیٰ قیادت کی مصلحت پسندی اور بعض صوبائی صدور کے پاس ٹھوس سیاسی حکمتِ عملی نہ ہونے کے باعث، جیتا ہوا اقتدار اور پکا ہوا پھل ہاتھوں سے گنوا دیا گیا۔ان کٹھن اور مایوس کن حالات میں صرف ایک ہی مردِ بحران تھا—علی امین گنڈاپور—جس نے تمام تر ریاستی جبر، سازشوں اور چیلنجز کے سامنے بند باندھا، اور نہ صرف خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کا پرچم لہرایا بلکہ ایک خود مختار اور بااختیار حکومت قائم کر کے دکھائی۔علی امین گنڈاپور کے دورِ اقتدار میں بارہا یہ خبریں سننے کو ملیں کہ قائدِ تحریک عمران خان کو بنی گالہ، زمان پارک یا گلیات شفٹ کیا جا رہا ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں تھا، بلکہ یہ علی امین گنڈاپور کی جرات مندانہ مزاحمت، مدبرانہ مذاکرات اور اپنے لیڈر کے ساتھ بے لوث اور بے داغ وفاداری کا منہ بولتا ثبوت تھا۔مگر بدقسمتی دیکھیے! پارٹی کے اندر ہی چھپے کچھ مفاد پرست اور خوفزدہ عناصر دل سے چاہتے ہی نہیں تھے کہ عمران خان جیل سے باہر آئیں۔ ان سازشی عناصر نے علی امین گنڈاپور کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور جرات سے خوف کھا کر ان کے خلاف ایک منظم اور زہریلی مہم چلائی۔ وہ اپنے اس گھناؤنے مقصد میں وقتی طور پر کامیاب بھی ہوئے اور علی امین کو تنظیمی عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
اعترافِ جرم اور جرنلسٹ فہّام کا سوال
آج وقت کے پہیے نے ثابت کر دیا ہے کہ علی امین گنڈاپور کو عہدے سے ہٹانا ایک تاریخی، بھیانک اور فاش غلطی تھی۔ اب پارٹی کے اندر اور باہر ہر شخص کو اس بات کا شدت سے احساس ہو رہا ہے، لیکن:
اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت!اس اندرونی سازش کی وجہ سے پاکستان اور عمران خان کے انتہائی قیمتی نو مہینے ضائع کر دیے گئے۔ آج اگر کوئی پوچھنے والا ہو تو پوچھے کہ اس ناقابلِ تلافی نقصان کا حساب کس سے مانگا جائے؟ کس کے گریبان پر ہاتھ ڈالا جائے؟
علی عہدوں سے بے نیاز: ایک سچا انقلابی ورکر
آج وہی مرکزی قیادت بار بار علی امین خان گنڈاپور کے سامنے دستِ بستہ کھڑی ہے، منتیں کی جا رہی ہیں، عہدوں اور اختیارات کے بازار سجائے جا رہے ہیں کہ "واپس آؤ، ہم آپ کے لیے یہ کر دیں گے، وہ کر دیں گے"مگر غیرتِ مند گنڈاپور اور اس کی نظریاتی سیاست کا عروج دیکھیے! علی امین خان کسی عہدے یا منصب کے لالچی نہیں ہیں۔ وہ تمام پیشکشیں ٹھکرا چکے ہیں۔ انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ عہدوں کے محتاج نہیں، بلکہ عہدے ان کے نام سے معتبر ہوتے ہیں۔ بطور ایک مخلص ورکر، جب بھی، جہاں بھی اور جیسے بھی کپتان کی کال آئے گی، علی امین گنڈاپور ہر میدانِ جنگ اور ہر انقلابی مزاحمت میں قوم کو صفِ اول میں سینہ تان کر کھڑا نظر آئے گا۔
یہ علی امین کا اپنے کپتان، اپنے نظریے اور اس مٹی سے وہ عہد ہے جو کبھی ٹوٹ نہیں سکتا!جرنلسٹ فہّام ڈی آئی خان ۔
***
•
•
•
•
•
•
•
•
•
•
•
•
•
•
•