14/05/2026
ڈیرہ اسماعیل خان(اے وائس بریکنگ نیوز۔جنرلسٹ فہّام ) ایم ٹی آئی ہسپتالوں میں کرپشن کی نئی انتہا، مضبوط دیواریں گرا کر کھلی کمیشن پر دوبارہ تعمیر کر لی گئیں مفتی محمود ہسپتال میں ڈائریکٹرز نے سرکاری فنڈز سے کھلواڑ کا نیا ریکارڈ بنا ڈالا کرپشن چھپانے کیلئے مقامی مخصوص صحافیوں سے لیں دین کے بعد سوشل میڈیا پر 'ترقی' کا جھوٹا پروپیگنڈا شروع کر دیا تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈہ پور کی چوائس پر ریٹائرڈ پہلے سے پینشن یافتہ من پسند افراد کو دوبارہ 4سے 6لاکھ روپے ماہانہ پر بھرتی کیے گئے ڈائریکٹرز ہسپتال نے ایسے کام شروع کر رکھے ہیں جو شاید ہی کسی سرکاری قاعدے اور ضابطے کی زد میں آ سکیں۔مبینہ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایم ٹی آئی مفتی محمود ہسپتال کی کئی فٹ اونچی، انتہائی مضبوط بیرونی دیواریں مکمل طور پر گرا دی گئیں اور ان پر موجود انتہائی خوبصورت مضبوط لوہے کے بنائے گئے جنگلوں کو اکھیڑ دیا گیا جبکہ لاکھوں کی تعداد میں نئی سے زیادہ مضبوط پرانی سالم اینٹیں غائب کر کے
· نئی اینٹیں منگوا کر از سر نو دیواریں تعمیر کی گئیں۔خیبر پختونخواہ حکومت کی طرف سے ایم ٹی آئی ہسپتالوں کو
· سالانہ ملنے والے اربوں روپے کے فنڈز کو من مرضی کے کاموں اور منظور نظر ٹھیکیداروں کے ذریعے کھلی کمیشن پر لوٹا جا رہا ہے، مگر تادم تحریر کوئی روک نہیں لگائی جا سکی۔صورت حال اتنی سنگین ہو چکی ہے کہ مفتی محمود ہسپتال کے ڈائریکٹرز کو کھل کر کھیلنے کے تمام مواقع میسر ہیں۔ ذرائع کے مطابق پہلے تمام وارڈز پھر او پی ڈی کے تمام کمروں کے اندر دیواروں پر لگے قیمتی ماربل کو توڑ کر چائنا ٹائل لگا کر قومی خزانے کو زبردست نقصان دیا گیا اور اب ایک کے بعد ایک انہوں نے پہلے سے مکمل، تیار شدہ، سالم اور مضبوط ہسپتال کی اونچی دیواروں کو زمین بوس کر کے تعمیر کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا جبکہ دیواروں پر لگائے گئے لاکھوں روپے مالیت کے موٹے اور قیمتی سریے سے ڈیزائن شدہ جنگلے بھی خواہ مخواہ بلاجواز ہٹائے گئے۔ایم ٹی آئی ہسپتالوں میں جاری تعمیراتی اسکینڈل کو کرپشن مخالف صحافیوں نے جب میڈیا پر اٹھایا تو دیگر لفافہ صحافیوں کے ذریعے اسے سوشل میڈیا پر"تعمیر و ترقی کے نئے باب" سے تعبیر کیا جانے لگا جبکہ
حقیقت اس کے برعکس بالکل ثابت شدہ ثبوتوں کے ساتھ موجود ہے ذرائع کے مطابق صرف دیواریں ہی نہیں گرائی گئیں، بلکہ بیرونی دیواروں پر لگے انتہائی خوبصورت اور قیمتی لوہے کے جنگلوں کو بھی ہٹا کر چمن کے آس پاس نصب کر نا ہسپتال انتظامیہ کا انتہائی گھناؤنا کرپشن ماڈل کھیل کا حصہ ہے؟ ٹیکس دہندہ ہر آدمی حکومت سے سوال کرتا ہے کہ مضبوط اتنی لمبی چوڑی دیواروں کو کیوں توڑا گیا ؟ لاکھوں اینٹیں کہاں گئیں؟ نئی اینٹوں، سیمنٹ، مزدوری اور چنائی پر پاس کیے گئے بلوں میں سے کتنے حقیقی ہیں اور کتنے جعلی؟کمیشن کس کس کو دیا گیا؟ یہ شفافیت کا مذاق ہے یا ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے کھیلنے کی ایک اور کوشش؟ ہسپتال کو بلاجواز توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ڈائریکٹرز کے خلاف اب تک کوئی کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟ عوامی سماجی مذہبی حلقوں کی جانب سے کئے گئے ایسے بہت سارے سوالات ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اور خیبرپختونخوا کے ارباب اختیار کیلئے کرپشن کے پینڈورا بکس کو کھولنے کے مترادف ہو گا۔جنرلسٹ فہّام نے حقیقت کا آئینہ سب کو دکھانے کے بعد خود بھی حکومت وقت اور گڈ گورنس و اینٹی کرپشن کے اعلی حکام سمیت صوبہ خیبر پختونخواہ کے تمام اعلی حکام و حکومتی انتظام و انصرام چلانے والوں سے سوال کرتے ہوئے کہا ہے کہ
❓ مفتی محمود ہسپتال کے تمام ڈائریکٹرز سے پوچھیں:
مضبوط بیرونی چاردیواری کو گرانے کے پیچھے کیا منطق ہے ؟
کیا یہ سرکاری فنڈز ضائع کرنے اور کمیشن کمانے کا کوئی نیا طریقہ نہیں؟
قیمتی لوہے کے جنگلے ہٹا کر چمن کے پاس نصب کرنے کا کیا مطلب ؟
ایسے اور کئی دوسرے کھلے سوالات جن کا جواب حکومت کو دینا ہوگا !یہ تمام سوالات آج عوام اور ٹیکس دینے والے ہر باشعور شہری نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ محمد سہیل آفریدی، چیف سیکریٹری ہیلتھ، اور صوبائی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سے پوچھنے شروع کر دیے ہیں۔تحقیقاتی بریکنگ رپورٹ بائی جنرلسٹ فہّام