23/04/2026
*یورک ایسڈ ٹیسٹ کیا ہے
یورک ایسڈ ٹیسٹ خون یا پیشاب کا ایک لیبارٹری ٹیسٹ ہے جس کے ذریعے جسم میں *یورک ایسڈ* کی مقدار معلوم کی جاتی ہے۔ یورک ایسڈ ایک فاسد مادہ ہے جو *پیورینز* کے ٹوٹنے سے بنتا ہے۔ پیورینز ہمارے جسم کے خلیوں میں اور کچھ کھانوں جیسے کلیجی، بڑا گوشت، سمندری غذا، اور دالوں میں پائے جاتے ہیں۔
عام طور پر زیادہ تر یورک ایسڈ خون میں حل ہو کر گردوں کے ذریعے پیشاب میں خارج ہو جاتا ہے۔ لیکن جب جسم بہت زیادہ یورک ایسڈ بنائے یا گردے اسے صحیح طرح خارج نہ کریں تو خون میں اس کی سطح بڑھ جاتی ہے۔
*یہ ٹیسٹ کیوں کروایا جاتا ہے؟*
1. *گاؤٹ کی تشخیص*: اگر جوڑوں میں شدید درد، سوجن اور سرخی ہو تو یہ ٹیسٹ گاؤٹ کی تصدیق کے لیے کیا جاتا ہے
2. *گردے کی پتھری*: بار بار گردے میں پتھری بننے کی وجہ معلوم کرنے کے لیے
3. *کیموتھراپی کے مریض*: کینسر کے علاج کے دوران یورک ایسڈ لیول بہت بڑھ سکتا ہے
4. *گردوں کے فنکشن کی جانچ*: گردے کتنا یورک ایسڈ صاف کر رہے ہیں یہ دیکھنے کے لیے
*ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے؟*
- *خون کا ٹیسٹ*: بازو کی رگ سے خون کا سیمپل لیا جاتا ہے۔ اسے Serum Uric Acid کہتے ہیں
- *پیشاب کا ٹیسٹ*: 24 گھنٹے کا پیشاب جمع کر کے لیبارٹری میں چیک کیا جاتا ہے
*ٹیسٹ سے پہلے احتیاط:*
ٹیسٹ سے 4 گھنٹے پہلے کچھ نہ کھائیں۔ پانی پی سکتے ہیں۔ ڈاکٹر کو اپنی دوائیوں کے بارے میں ضرور بتائیں کیونکہ اسپرین اور ڈائیوریٹکس سے رزلٹ متاثر ہو سکتا ہے۔
*نارمل رینج:*
- *مرد*: 3.4 سے 7.0 mg/dL
- *خواتین*: 2.4 سے 6.0 mg/dL
_نوٹ: لیبارٹری کے حساب سے نارمل ویلیو تھوڑی مختلف ہو سکتی ہے_
*یورک ایسڈ بڑھنے کا کیا مطلب ہے؟*
1. *ہائی یورک ایسڈ*: گاؤٹ، گردے کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا، یا بہت زیادہ گوشت اور الکحل کے استعمال کی نشانی ہو سکتا ہے
2. *لو یورک ایسڈ*: جگر کی بیماری یا کچھ ادویات کی وجہ سے ہو سکتا ہے، لیکن یہ کم عام ہے
*اہم بات*: صرف یورک ایسڈ ہائی ہونے سے گاؤٹ نہیں ہوتا۔ تشخیص کے لیے ڈاکٹر علامات اور دوسرے ٹیسٹ بھی دیکھتا ہے۔
اگر آپ کو جوڑوں میں درد، سوجن یا گردے کی تکلیف ہے تو اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کر کے یہ ٹیسٹ کروائیں۔