Global Insights

Call Directions Contact the business

Global Insights Global Insights brings you the latest in world news, Islamic teachings, fun facts, and enriching content.

From global trends to thought-provoking discussions, join us in exploring diverse topics, inspiring growth, and staying connected to the world’s wond

12/08/2026

پٹرول کی قیمت میں حیرت انگیز کمی ۔۔۔94 پیسے فی لیٹر کم کردی گئی

شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی شرینگل کچھ سٹوڈنٹس اور انتظامیہ کے درمیان تلخ کلامی اور تھوڑ پھوڑ کا واقعہ پیش آیا جس میں کچھ...
12/08/2026

شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی شرینگل کچھ سٹوڈنٹس اور انتظامیہ کے درمیان تلخ کلامی اور تھوڑ پھوڑ کا واقعہ پیش آیا جس میں کچھ دروازے بھی تھوڑے اور کچھ سٹوڈنٹس زخمی بھی ہوئے جہاں بعد میں پولیس پہنچ کر واقعہ کو کنٹرول کیا اور کل 4 بجے تک مسسلہ حل کرنے کی یقین دھانی کرائی ۔ باقی تفصیل کل شرینگل آواز پر نشر کرینگے۔

سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی... علاج کا مرکز یا بے ہنگم ہجوم؟سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی میں قدم رکھتے ہی اکثر ایسا محسوس...
20/07/2026

سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی... علاج کا مرکز یا بے ہنگم ہجوم؟

سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی میں قدم رکھتے ہی اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی عوامی اجتماع میں آ گئے ہوں۔ مریض اور اسپتال کے عملے سے زیادہ تعداد ایسے افراد کی ہوتی ہے جن کا علاج سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس قدر ہجوم ہوتا ہے کہ یہ پہچاننا بھی مشکل ہو جاتا ہے کہ ڈاکٹر، نرس، وارڈ بوائے اور دیگر عملہ کون ہے، مریض کون ہے اور تیماردار کون ہیں۔

حکومت اور محکمہ صحت کو اس مسئلے پر فوری توجہ دینی چاہیے۔ ایمرجنسی میں صرف اسپتال کا عملہ، مریض اور زیادہ سے زیادہ ایک مجاز تیماردار کو داخلے کی اجازت ہونی چاہیے۔ باقی تمام افراد کو انتظار گاہ میں رکھا جائے۔ مریض کو ایمرجنسی گیٹ پر اسپتال کے عملے کے حوالے کیا جائے تاکہ ڈاکٹرز اور نرسز فوری طور پر علاج شروع کر سکیں۔

غیر ضروری ہجوم کی وجہ سے:
• ڈاکٹرز اور نرسز کو کام کرنے میں شدید مشکلات پیش آتی ہیں۔
• مریضوں کی بروقت دیکھ بھال متاثر ہوتی ہے۔
• جھگڑوں اور بدانتظامی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
• ایمرجنسی کا ماحول شور شرابے کا شکار ہو جاتا ہے۔
• بعض اوقات قیمتی منٹ ضائع ہونے سے مریض کی جان بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

ایمرجنسی وارڈ کوئی ملاقات گاہ نہیں بلکہ ایسی جگہ ہے جہاں ہر سیکنڈ قیمتی ہوتا ہے۔ اگر واقعی ہم سرکاری اسپتالوں کا نظام بہتر بنانا چاہتے ہیں تو ایمرجنسی میں غیر ضروری افراد کے داخلے پر سخت پابندی، سیکیورٹی کا مؤثر نظام اور واضح قواعد و ضوابط نافذ کرنا ہوں گے۔

ایک منظم ایمرجنسی ہی ہزاروں جانیں بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

آج کل کا تعلیمی نظام واقعی ایک سنجیدہ سوال بن چکا ہے۔ذرا تصور کیجیے، پہلی جماعت کا ایک بچہ جس کا اپنا وزن تقریباً 14 سے ...
19/07/2026

آج کل کا تعلیمی نظام واقعی ایک سنجیدہ سوال بن چکا ہے۔

ذرا تصور کیجیے، پہلی جماعت کا ایک بچہ جس کا اپنا وزن تقریباً 14 سے 16 کلوگرام ہو، وہ روزانہ 8 سے 10 کلوگرام کا اسکول بیگ اپنی پیٹھ پر اٹھا کر گھر سے اسکول اور پھر واپس گھر آتا ہے۔ اگر یہی تناسب ایک 80 کلوگرام بالغ انسان پر لاگو کیا جائے تو گویا اسے روزانہ تقریباً 50 کلوگرام کا بوجھ اٹھا کر دفتر جانا اور شام کو واپس لانا پڑے۔ کیا ہم خود ایسا کرنے کے لیے تیار ہوں گے؟

اس بھاری بیگ میں ہر مضمون کی الگ کتاب، الگ نوٹ بک، اردو، انگریزی، خوشخطی، ڈرائنگ، جنرل نالج، ہوم ورک کا الگ رجسٹر، اور نہ جانے کیا کچھ شامل ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا تعلیم کا مطلب صرف زیادہ کتابیں اور زیادہ کاپیاں ہے، یا بہتر سمجھ، تخلیقی سوچ اور عملی مہارت؟

دنیا کے کئی کامیاب تعلیمی نظام اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ابتدائی جماعتوں میں بچوں پر غیر ضروری تعلیمی بوجھ نہ ڈالا جائے۔ بنیادی مہارتوں، جیسے زبان، ریاضی، اخلاقیات، مشاہدہ، تخلیقی صلاحیت اور مسئلہ حل کرنے کی تربیت، کم مگر معیاری مواد کے ذریعے بھی دی جا سکتی ہے۔

اگر مقصد زبان سکھانا ہے تو صرف کتابیں کافی نہیں ہوتیں۔ زبان بولنے، سننے، پڑھنے اور روزمرہ گفتگو سے سیکھی جاتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں کئی گریجویٹ طلبہ بھی برسوں انگریزی اور اردو پڑھنے کے باوجود اعتماد کے ساتھ نہ بول سکتے ہیں اور نہ مؤثر انداز میں لکھ سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بچے کم محنت کرتے ہیں، بلکہ شاید ہمارا طریقۂ تعلیم مطلوبہ نتائج نہیں دے رہا۔

تعلیم کا مقصد بچوں کو رٹوانا نہیں، بلکہ انہیں سوچنے، سوال کرنے، سمجھنے اور زندگی کے لیے تیار کرنا ہونا چاہیے۔ کم مضامین، بہتر نصاب، عملی سرگرمیاں، ڈیجیٹل وسائل، اور اسکول میں کتابیں رکھنے جیسے اقدامات نہ صرف بچوں کے جسمانی بوجھ کو کم کر سکتے ہیں بلکہ ان کی ذہنی نشوونما کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ سوال کریں: کیا ہم بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں، یا صرف ان کے کندھوں پر کتابوں کا بوجھ رکھ رہے ہیں؟

ایک گزارش ضلعی انتظامیہ کے نام...افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم اکثر کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کے سرکاری ص...
19/07/2026

ایک گزارش ضلعی انتظامیہ کے نام...

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم اکثر کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کے سرکاری صفحات پر روزانہ صرف دال، چاول، سبزی، پھل اور دیگر اشیائے ضروریہ کی ریٹ لسٹ ہی دیکھتے ہیں۔

یقیناً مہنگائی کو کنٹرول کرنا اور عوام کو مناسب نرخوں پر اشیاء کی فراہمی یقینی بنانا انتظامیہ کی اہم ذمہ داری ہے، لیکن عوامی خدمت صرف ریٹ لسٹ جاری کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔

ایک عام شہری کی زندگی صرف بازار کے نرخوں سے نہیں بنتی، بلکہ اسے بہتر تعلیم، صحت، انصاف اور بنیادی سہولیات کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

کاش انہی سرکاری صفحات پر یہ بھی دکھائی دے کہ سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے، کہاں بچوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں، کہاں اساتذہ کی کمی دور کی گئی۔

کاش سرکاری ہسپتالوں کے دوروں، مریضوں کے مسائل، ادویات کی دستیابی، ڈاکٹرز اور عملے کی کارکردگی اور عوامی شکایات کے حل کے بارے میں بھی عوام کو آگاہ کیا جائے۔

اگر کسی غریب، مزدور، یتیم، بیوہ یا عام شہری کے ساتھ ناانصافی ہو تو اس کی آواز بھی انہی صفحات پر اتنی ہی اہمیت کے ساتھ نظر آنی چاہیے، کیونکہ انتظامیہ کا اصل مقصد صرف قیمتوں کی نگرانی نہیں بلکہ عوام کو سہولت، تحفظ اور انصاف فراہم کرنا بھی ہے۔

سرکاری سوشل میڈیا صفحات صرف اعلانات اور ریٹ لسٹ کے لیے نہیں ہونے چاہییں، بلکہ یہ عوامی مسائل سننے، ان کے حل کی پیش رفت دکھانے اور عوام کا اعتماد مضبوط کرنے کا ذریعہ بھی بننے چاہییں۔

عوام صرف یہ نہیں جاننا چاہتے کہ آج دال، چاول یا سبزی کتنے روپے کلو ہے، بلکہ وہ یہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کے اسکول، ان کے مریضوں کے ہسپتال اور ان کی روزمرہ زندگی بہتر بنانے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

حقیقی عوامی خدمت وہ ہے جہاں ریٹ لسٹ کے ساتھ ساتھ عوام کے مسائل کے حل کی تصویر بھی نظر آئے۔






#شفافیت
#جوابدہی







وادیٔ کمراٹ کا 5 دن کا تلخ تجربہ، متعلقہ اداروں سے فوری توجہ کی اپیلوادیٔ کمراٹ قدرت کا ایک شاہکار ہے۔ یہ صرف اپر دیر کا...
17/07/2026

وادیٔ کمراٹ کا 5 دن کا تلخ تجربہ، متعلقہ اداروں سے فوری توجہ کی اپیل

وادیٔ کمراٹ قدرت کا ایک شاہکار ہے۔ یہ صرف اپر دیر کا نہیں بلکہ پورے کوہستان، ملاکنڈ ڈویژن اور خیبر پختونخوا کا قیمتی سیاحتی اثاثہ ہے۔ ہر سال ہزاروں سیاح اس خوبصورت وادی کا رخ کرتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے کچھ مسائل اس خوبصورت مقام کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

ہم چار دوست اسلام آباد سے کمراٹ کے سفر پر گئے۔ قدرتی حسن نے دل جیت لیا، لیکن ہوٹلوں، کھانے، صفائی، قیمتوں اور بعض مقامی افراد کے رویے نے سفر کا تجربہ خراب کر دیا۔

جہاز انٹرنیشنل ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ میں ہمیں یہ ریٹس بتائے گئے:

🏠 کمرہ: 3000 سے 8000 روپے
🍗 چکن کڑاہی: 4000 روپے
🥣 دال چنا / دال ماش / لوبیا: 400 روپے
🫓 پراٹھا: 150 روپے
🫓 روٹی: 100 روپے
🍳 آملیٹ: 200 روپے
🥚 فرائی انڈا: 150 روپے

ہم نے اسی ہوٹل میں اپنا چکن، گھی، مصالحے اور دیگر تمام سامان خود فراہم کیا، جبکہ ہوٹل والوں نے صرف پکانے کے 1500 روپے لیے۔ اتنی قیمتوں کے باوجود صفائی اور سروس کے معیار میں مزید بہتری کی ضرورت محسوس ہوئی۔

ایک اور مسئلہ بجلی کا بھی سامنے آیا۔ ہوٹل انتظامیہ نے شام کے وقت 5 گھنٹے جنریٹر چلانے کا کہا، لیکن حقیقت میں تقریباً 3 گھنٹے ہی جنریٹر چلایا گیا، جس سے سیاحوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کے علاوہ کمراٹ، تکی ٹاپ اور جاز بانڈہ میں کئی مقامات پر یہی صورتحال دیکھی گئی۔ ہر ہوٹل اور ہر ڈرائیور اپنی مرضی کے ریٹ وصول کرتا نظر آیا۔ کوئی واضح ریٹ لسٹ موجود نہیں تھی۔ بعض جگہ جہاں مناسب کرایہ تقریباً 1000 روپے بنتا تھا، وہاں 5000 روپے تک وصول کیے جا رہے تھے۔

سیاح کسی علاقے کی عزت اور معیشت کا ذریعہ ہوتے ہیں، انہیں صرف کمائی کا ذریعہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ اچھا رویہ، مناسب قیمتیں، صفائی اور معیاری سہولیات ہی کسی سیاحتی مقام کی پہچان بنتی ہیں۔

ہماری ریٹنگ:

🏞️ قدرتی حسن: 10/10
🍽️ کھانا: 2/10
🧼 صفائی: 2/10
🤝 مقامی رویہ: 2/10
💰 پیسے کے حساب سے سہولیات: 3/10

ڈپٹی کمشنر اپر دیر، خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی (KPCTA)، فوڈ اتھارٹی خیبر پختونخوا، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے پرزور اپیل ہے کہ کمراٹ، تکی ٹاپ اور جاز بانڈہ میں ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، ڈرائیورز اور دیگر سیاحتی سہولیات کے لیے باقاعدہ ریٹ لسٹ نافذ کی جائے، صفائی اور کھانے کے معیار کی نگرانی کی جائے، اور سیاحوں کے ساتھ بہتر رویہ یقینی بنایا جائے۔

اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو نقصان صرف سیاحوں کا نہیں ہوگا بلکہ پورے ملاکنڈ ڈویژن کی سیاحت اور مقامی معیشت بھی متاثر ہوگی۔

یہ صرف ہمارا ذاتی تجربہ ہے، ممکن ہے دوسرے سیاحوں کا تجربہ مختلف ہو۔ مقصد کسی کی تذلیل نہیں بلکہ مسائل کی نشاندہی کرنا ہے تاکہ وادیٔ کمراٹ کی خوبصورتی اور ساکھ برقرار رہے۔
Assistant Commissioner Sheringal Assistant Director Local Govt Balambat Dir Lower Assistant Commissioner Khwazakhela Deputy Commissioner Malakand Deputy Commissioner Dir Upper Deputy Commissioner Abbottabad Vietnam Tourist Department of Tourism Kpk

Shame on the management of ETEA.This is absolutely unacceptable and a clear display of gross mismanagement and unprofess...
28/06/2026

Shame on the management of ETEA.
This is absolutely unacceptable and a clear display of gross mismanagement and unprofessional behavior. Today’s EPI Vaccinator test at ICMS College Peshawar was scheduled, and candidates traveled from different cities, spending their hard-earned money, time, and energy. But upon reaching the center, they were told that the test had been postponed — without a single SMS, email, or official notice in advance.
Do you even realize the mental stress, financial loss, and inconvenience you have caused to thousands of candidates? This is not a small mistake; it is sheer negligence and disrespect toward applicants.
If you are capable enough to announce a test schedule, then you are equally responsible to inform candidates about any changes or postponement in a timely and proper manner. Failing to do so shows complete administrative failure.
Thousands of candidates deserve professionalism, transparency, and accountability — not this careless and irresponsible system. Immediate improvement is required, and those responsible should be held accountable for this mismanagement.

ETEA Khyber Pakhtunkhwa Information Technology Board - KPITB Khyber Pakhtunkhwa Public Service Commission Khyber Medical University, Peshawar, Khyber Pakhtunkhwa Elementary & Secondary Education Foundation Khyber Pakhtunkhwa Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa .





📢 عوامی مسئلہ: دیر بالا میں انٹرنیٹ سروس کی بدترین صورتحالضلع دیر بالا کے علاقے پاتراک، کوہستان، شرینگل اور ڈوگدرہ کے عو...
26/03/2026

📢 عوامی مسئلہ: دیر بالا میں انٹرنیٹ سروس کی بدترین صورتحال

ضلع دیر بالا کے علاقے پاتراک، کوہستان، شرینگل اور ڈوگدرہ کے عوام اس وقت انٹرنیٹ کی شدید خرابی کا سامنا کر رہے ہیں۔ 📶
یہ مسئلہ کسی ایک کمپنی تک محدود نہیں بلکہ مجموعی طور پر نیٹ ورک سروسز کی ناقص کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے۔

📚 آج کے ڈیجیٹل دور میں انٹرنیٹ تعلیم، روزگار، رابطے اور معلومات تک رسائی کے لیے ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔
مگر ان علاقوں میں صورتحال یہ ہے کہ:
❌ سادہ سوشل میڈیا پوسٹ اپلوڈ کرنا مشکل
❌ آن لائن کلاسز لینا تقریباً ناممکن
❌ کئی کئی گھنٹے نیٹ ورک غائب رہتا ہے
❌ کال اور میسج سروس بھی متاثر ہوتی ہے

😔 اس صورتحال نے خاص طور پر طلبہ، اساتذہ اور آن لائن کام کرنے والے افراد کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔

⚖️ ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے:
ہم کسی ایک کمپنی کے حق یا مخالفت میں نہیں، بلکہ صرف بہتر سروس کے حقدار ہیں۔

👉 جو بھی نیٹ ورک پرووائیڈر (Jazz، Zong، Ufone، Telenor یا کوئی اور) ان علاقوں میں
✔️ مستحکم
✔️ تیز رفتار
✔️ قابلِ اعتماد انٹرنیٹ فراہم کرے گا
عوام اسی کو ترجیح دے گی۔

📢 متعلقہ اداروں اور ٹیلی کام کمپنیوں سے گزارش ہے کہ:
🔹 ان علاقوں میں نیٹ ورک انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا جائے
🔹 فور جی/فائیو جی سروسز کو مؤثر بنایا جائے
🔹 عوام کو بنیادی ڈیجیٹل سہولیات سے محروم نہ رکھا جائے

🤝 یہ کسی ایک کمپنی کا مسئلہ نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حق کا معاملہ ہے۔
بہتر سروس فراہم کرنے والا ہی عوام کا اعتماد حاصل کرے گا۔

📌 اس آواز کو آگے بڑھائیں تاکہ متعلقہ حکام تک پہنچ سکے۔
Jazz JazzCash Jazz Careers JazzCorner Telenor Pakistan Teachers Voice KP

قدرت کی تخلیق کردہ ایک انوکھا جاندار جس کو گاڑی بھی نہیں کچل سکتا. آئرن کلاڈ بیٹل (Ironclad Beetle) قدرت کے اُن شاہکاروں...
21/02/2026

قدرت کی تخلیق کردہ ایک انوکھا جاندار جس کو گاڑی بھی نہیں کچل سکتا.

آئرن کلاڈ بیٹل (Ironclad Beetle) قدرت کے اُن شاہکاروں میں سے ایک ہے جو پہلی نظر میں ہی انسان کو چونکا دیتا ہے۔ یہ عام کیڑوں کی طرح نرم یا لچکدار نہیں ہوتا بلکہ اس کا جسم موٹی، جڑی ہوئی پلیٹوں پر مشتمل ہوتا ہے، جیسے کسی نے اسے بکتر بند جیکٹ پہنا دیا ہو۔ اسی غیر معمولی مضبوطی کی وجہ سے اسے آئرن کلاڈ یعنی “لوہے کا لباس پہنے ہوئے” بیٹل کہا جاتا ہے۔ بعض اقسام اتنی سخت ہوتی ہیں کہ انسان کے قدموں یا حتیٰ کہ گاڑی کے پہیے کے نیچے آ جانے کے باوجود کچلی نہیں جاتیں بلکہ اکثر زندہ رہتی ہیں، جو کیڑوں کی دنیا میں ایک نادر مثال ہے۔

سائنسی درجہ بندی کے لحاظ سے آئرن کلاڈ بیٹل کا تعلق کیڑوں کے خاندان Zopheridae سے ہے۔ اس خاندان میں سب سے مشہور Phloeodes diabolicus ہے، جسے “ڈائیبولیکل آئرن کلاڈ بیٹل” کہا جاتا ہے۔ اس کے جسمانی ڈھانچے میں پلیٹیں آپس میں اس انداز سے جڑی ہوتی ہیں کہ دباؤ پورے جسم میں تقسیم ہو جاتا ہے، اسی لیے یہ ٹوٹنے کے بجائے دباؤ برداشت کر لیتا ہے۔

یہ کیڑا زیادہ تر شمالی امریکا میں پایا جاتا ہے، خاص طور پر امریکہ کے مغربی علاقوں جیسے کیلیفورنیا، ایریزونا اور قریبی خطوں میں۔ اس کے علاوہ میکسیکو کے کچھ حصوں میں بھی اس جیسی اقسام دیکھی گئی ہیں۔ یہ عموماً خشک یا نیم خشک جنگلات میں، درختوں کی چھال کے نیچے، سڑے ہوئے لکڑی کے تنوں یا پتھریلے ماحول میں رہنا پسند کرتا ہے، جہاں اسے چھپنے اور خوراک حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔

خوراک کے لحاظ سے آئرن کلاڈ بیٹل نہ تو فصلیں تباہ کرتا ہے اور نہ ہی انسان کے لیے نقصان دہ ہے۔ یہ بنیادی طور پر فنگس اور سڑی ہوئی لکڑی سے وابستہ مادہ کھاتا ہے۔ یوں یہ فطری ماحولیاتی نظام میں ایک “صفائی کرنے والے” کردار ادا کرتا ہے اور مردہ لکڑی کو تحلیل کرنے میں مدد دیتا ہے۔

اس کی سختی اور وزن برداشت کرنے کی صلاحیت کا موازنہ اگر انسان سے کیا جائے تو بات اور بھی دلچسپ ہو جاتی ہے۔ ایک آئرن کلاڈ بیٹل اپنے جسمانی وزن سے ہزاروں گنا زیادہ دباؤ برداشت کر سکتا ہے۔ اگر اسی تناسب کو انسان پر لاگو کیا جائے تو گویا ایک انسان بغیر کسی نقصان کے کئی بسوں یا ٹرکوں کا وزن اپنے اوپر برداشت کر رہا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ انجینئرز اور مٹیریل سائنس کے ماہرین اس کے خ*ل کی ساخت کا گہرائی سے مطالعہ کر رہے ہیں، تاکہ اسی اصول پر مستقبل میں مضبوط مگر ہلکے حفاظتی مٹیریلز، بکتر بند ڈھانچے اور جدید مشینری کے پرزے تیار کیے جا سکیں۔

اعزاز احمد، المعروف پیر حشرات، آستانہ عالیہ خیبر پختونخوا، ضلع صوابی

Address

Dir
1800

Telephone

+923359393032

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Global Insights posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Global Insights:

Shortcuts

Share