10/09/2026
ابھی ایک افسوسناک خبر موصول ہوئی ہے سکردو کے ایک نواحی علاقے سے، جہاں ایف ایس سی میں کم نمبر آنے پر ایک طالبہ نے اپنی جان ل ے لی۔ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے اور ہمارے تمام تعلیمی اداروں پر بھی ایک سوالیہ نشان ہے، جہاں طلبہ کو نمبروں کی ریس میں لگا دیا جاتا ہے اور وہ نمبروں کو ہی سب کچھ سمجھنے لگتے ہیں۔
تعلیمی ادارے انسان سازی کی جگہیں ہوتے ہیں، جہاں بچوں کو صرف اچھے نمبر حاصل کرنے کی نہیں بلکہ زندگی کے نشیب و فراز کا سامنا کرنے، ناکامی کو برداشت کرنے اور دوبارہ کھڑے ہونے کی تربیت بھی دی جانی چاہیے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں نمبروں کی ایسی ریس کروائی جا رہی ہے کہ بچے اپنی پوری زندگی کو صرف نمبروں سے جوڑ لیتے ہیں، تو پھر ایسے افسوسناک واقعات سامنے آنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
بچوں کو صرف نمبروں کی بنیاد پر ایک دوسرے سے مقابلہ کروانے اور پھر ان چیزوں کو سوشل میڈیا پر اچھالنے کا سلسلہ بند نہیں کیا گیا تو، خدا نخواستہ، مستقبل میں بھی ایسے سانحات سامنے آ سکتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو صرف نمبر حاصل کرنے والی مشینیں نہ بنائیں بلکہ انہیں مضبوط انسان بنائیں، تاکہ وہ ناکامی کو زندگی کا اختتام نہیں بلکہ دوبارہ بہتر انداز میں آگے بڑھنے کا ایک موقع سمجھیں۔
قیصر عباس ✍️