01/08/2026
یہ واقعہ لنزی میک ملن (Lynlee Hope McMillan) نامی بچی کا ہے، جن کی والدہ مارگریٹ بوئمر (Margaret Boemer) کا تعلق ٹیکساس (امریکہ) سے ہے۔
حمل کے 16ویں ہفتے (تقریباً 4 مہینے) کے الٹراساؤنڈ میں معلوم ہوا کہ بچی کی ریڑھ کی ہڈی کے نچلے حصے پر ایک نایاب ٹیومر ہے جسے سیکروکاکسیجل ٹیراٹوما (Sacrococcygeal Teratoma) کہا جاتا ہے۔ یہ ٹیومر بچی کے دل سے خون نچوڑ رہا تھا جس سے اس کی جان کو شدید خطرہ تھا۔
جب حمل 23 ہفتے (تقریباً ساڑھے 5 مہینے) کا ہوا، تو ڈاکٹروں نے ایک انتہائی حساس 'فیٹل سرجری' (Fetal Surgery) کی۔
انہوں نے ماں کے رحم (Uterus) کو کھول کر بچی کو تقریباً 90 فیصد باہر نکالا۔
20 منٹ کے اندر اندر بچی کا ٹیومر کاٹ کر الگ کیا گیا (اس وقت ٹیومر کا سائز بچی سے بھی بڑا ہو چکا تھا)۔
آپریشن کے بعد بچی کو دوبارہ ماں کے رحم میں واپس رکھ کر ٹانکے لگا دیے گئے۔
بچی مزید 12 سے 13 ہفتے ماں کے پیٹ میں رہی اور نشوونما پاتی رہی۔ بالآخر حمل کے 36ویں ہفتے (تقریباً 9 ویں مہینے) میں سیزیرین (C-Section) کے ذریعے وہ مکمل صحت مند حالت میں دنیا میں آئی۔
اس نادر آپریشن کے بعد اس بچی کو دنیا بھر میں "دو بار پیدا ہونے والی بچی" (The baby born twice) کے نام سے جانا گیا، اور یہ جدید طب و سرجری کی تاریخ کا ایک بے مثال شاہکار تسلیم کیا جاتا ہے۔