BAIT UL KUBRA TRUST

BAIT UL KUBRA TRUST BAIT UL KUBRA TRUST is a home for 100 kids who have lost their fathers and their families are too poor to afford their expenses.

The kids, when they came in the home in 2011, were 4 to 6 years of age. The aim is to raise these children in the same manner as any educated and civilized father would like his children to be. The kids shall be kept in the Sweet Home until their graduation or when they become strong enough to support their families. The kids are provided with all the basic necessities of life including good-quali

ty residence, education in a recognized school, clothing, healthy and nutritious food etc. Besides this, they enjoy interesting activities and extra-curricular activities.

01/10/2021
:'(یک حاجی صاحب کافی بیمار تھے .کئی سالوں سے ہر ہفتے پیٹ سے چار بوتل پانی نکلواتے تھےاب ان کے گردے واش ہوتے ہوتے ختم ہوچ...
04/06/2021

:'(یک حاجی صاحب کافی بیمار تھے .
کئی سالوں سے ہر ہفتے پیٹ سے چار بوتل پانی نکلواتے تھے
اب ان کے گردے واش ہوتے ہوتے ختم ہوچکے تھے۔
ایک وقت میں آدھا سلائس ان کی غذا تھی۔ سانس لینے میں بہت دشواری کا سامنا تھا۔
نقاہت اتنی کہ بغیر سہارے کے حاجت کیلئے نہ جاسکتے تھے۔
ایک دن چوہدری صاحب ان کے ہاں تشریف لے گئے
اور انہیں سہارے کے بغیر چلتے دیکھا تو بہت حیران ہوئے انہوں نے دور سے ہاتھ ہلا کر چوہدری صاحب کا استقبال کیا‘
چہل قدمی کرتے کرتے حاجی صاحب نے دس چکر لان میں لگائے‘
پھر مسکرا کر ان کے سامنے بیٹھ گئے‘
ان کی گردن میں صحت مند لوگوں جیسا تناؤ تھا۔
چوہدری صاحب نے ان سے پوچھا کہ یہ معجزہ کیسے ہوا؟
کوئی دوا‘ کوئی دعا‘ کوئی پیتھی‘ کوئی تھراپی۔ آخر یہ کمال کس نے دکھایا۔
حاجی صاحب نے
فرمایا میرے ہاتھ میں ایک ایسا نسخہ آیا ہے کہ اگر دنیا کو معلوم ہوجائے تو سارے ڈاکٹر‘ حکیم بیروزگار ہوجائیں۔
سارے ہسپتال بند ہوجائیں اور سارے میڈیکل سٹوروں پر تالے پڑجائیں۔
چوہدری صاحب مزید حیران ہوئے کہ آخر ایسا کونسا نسخہ ہے جو ان کے ہاتھ آیا ہے۔
حاجی صاحب نے فرمایا کہ میرے ملازم کی والدہ فوت ہوگئی‘
میرے بیٹوں نے عارضی طورپر ایک چھ سات سالہ بچہ میری خدمت کیلئے دیا‘
میں نے ایک دن بچے سے پوچھا کہ آخر کس مجبوری کی بنا پر تمہیں اس عمر میں میری خدمت کرنا پڑی‘
بچہ پہلے تو خاموش رہا پھر سسکیاں بھر کر بولا کہ ایک دن میں گھر سے باہر تھا‘
میری امی‘ ابو‘ بھائی‘ بہن سب سیلاب میں بہہ گئے
میرے مال مویشی ڈھور ڈنگر‘ زمین پر رشتہ داروں نے قبضہ کرلیا۔
اب دنیا میں میرا کوئی نہیں۔
اب دو وقت کی روٹی اور کپڑوں کے عوض آپ کی خدمت پر مامور ہوں۔
یہ سنتے ہی حاجی صاحب کا دل پسیج گیا اور پوچھا بیٹا کیا تم پڑھوگے بچے نے ہاں میں سرہلا دیا۔
حاجی صاحب نے منیجر سے کہا کہ اس بچے کو شہر کے سب سے اچھے سکول میں داخل کراؤ۔
بچے کا داخل ہونا تھا کہ اس کی دعاؤں نے اثر کیا‘
قدرت مہربان ہوگئی‘
میں نے تین سالوں کے بعد پیٹ بھر کر کھانا کھایا‘
سارے ڈاکٹر اور گھروالے حیران تھے۔
اگلے روز اس یتیم بچے کو ہاسٹل میں داخلہ
دلوایا اور بغیر سہارے کے ٹائلٹ تک چل کرگیا‘ میں نے منیجر سے کہا کہ شہر سے پانچ ایسے اور بچے ڈھونڈ کرلاؤ جن کا دنیا میں کوئی نہ ہو۔
پھر ایسے بچے لائے گئے
انہیں بھی اسی سکول میں داخل کرادیا گیا۔
اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور آج میں بغیر سہارے کے چل رہا ہوں۔
سیر ہوکر کھاپی رہا ہوں اور قہقہے لگارہا ہوں۔ حاجی صاحب سینہ پھلا کر گلاب کی کیاریوں کی طرف چل دئیے
اور فرمایا میں اب نہیں گروں گا جب تک کہ یہ بچے اپنے قدموں پر کھڑے نہیں ہوجاتے۔
حاجی صاحب گلاب کی کیاریوں کے قریب رک
گئے اور ایک عجیب فقرہ زبان پر لائے ..
’’قدرت‘ یتیموں کو سائے دینے والے
درختوں کے سائے لمبے کر دیا کرتی ہے

22/10/2017

بچوں کی غلطیاں مستقل نہیں ہوتیں، ان کی اصلاح کے لئے رہنمائی فرمائیں، شکریہ

21/10/2017

ایک دفعہ ایک گھوڑا ایک گہرے گڑھے میں جا گرا اور زور زور سے اوازے نکالنےلگا.
گھوڑے کا مالک کسان تھا جو کنارے پہ کھڑا اسے بچانے کی ترکیبیں سوچ رہا تھا.
جب اسے کوئی طریقہ نہیں سوجھا تو ہار مان کر دل کو تسلی دینے لگا کہ گھوڑا تو اب بوڑھا ہو چکا ہے، وہ اب میرے کام کا بھی نہیں رہا، چلو اسے یوں ہی چھوڑ دیتے ہیں، اور گڑھے کو بھی آخر کسی دن بند کرنا ہی پڑے گا، اس لیے اسے بچا کر بھی کوئی خاص فائدہ نہیں.
یہ سوچ کر اس نے اپنے
اپنے پڑوسیوں کی مدد لی اور گڑھا بند کرنا شروع کر دیا.
سب کے ہاتھ میں ایک ایک بیلچہ تھا جس سے وہ مٹی، بجری اور کوڑا کرکٹ گڑھےمیں ڈال رہے تھےگھوڑا اس صورت حال سے بہت پریشان ہوا.
اس نے اور تیز آواز نکالنی شروع کر دی.
کچھ ہی لمحے بعد گھوڑا بالکل خاموش سا ہو گیا.
جب کسان نے جھانکا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جب جب گھوڑے کے اوپر مٹی اور کچرا پھینکا جاتا ہے تب تب وہ اسے جھٹک کر اپنے جسم سے نیچے گرا دیتا ہے اور پھر گری ہوئی مٹی پر کھڑا ہو جاتا ہے.
یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا. کسان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر مٹی اور کچرا پھینکتا رہا اور گھوڑا اسے اپنے بدن سے ہٹا ہٹا کر اوپر آتا گیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے اوپر تک پہنچ گیا اور باہر نکل آیا.
یہ منظر دیکھ کر کسان اور اس کے پڑوسی سکتے میں آ گئے.
زندگی میں ہمارے ساتھ بھی ایسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں کہ ہمارے اوپر کچرا اچھالا جائے،
ہماری کردار کشی کی جائے،
ہمارے دامن کو داغدار کیا جائے،
ہمیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جائے،
لیکن گندگی کے اس گڑھے سے بچنے کا طریقہ یہ نہیں کہ ہم ان غلاظتوں کی تہہ میں دفن ہو کر رہ جائیں،
بلکہ ہمیں بھی ان بے کار کی چیزوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اوپر کی طرف اور آگے کی سمت بڑھتے رہنا چاہیے.
زندگی میں ہمیں جو بھی مشکلات پیش آتی ہیں وہ پتھروں کی طرح ہوتی ہیں مگر یہ ہماری عقل پر منحصر ہے کہ آیا ہم ہار مان کر ان کے نیچے دب جائیں
یا
ان کے اوپر چڑھ کر مشکل کے کنویں سے باہر آنے کی ترکیب کریں...
خاک ڈالنے والے ڈالتے رہیں مگر پرعزم انسان اپنا راستہ کبھی نہیں بدلتا...!!

You have been a great asset to the PAKISTAN SWEET HOME GUJRANWALA and we will miss you very much. We always knew that ou...
17/10/2017

You have been a great asset to the PAKISTAN SWEET HOME GUJRANWALA and we will miss you very much. We always knew that our kids were in good hands when they were with you because you were patient and sensitive to their needs. We have appreciated that quality as well as your loyalty and willingness to accept assignments that were often beyond your normal duties. We will miss your commitment to excellence.

15/09/2017

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:بے شک وہ لوگ جو ناجائز طریقے سے یتیموں کا مال کھاتے ہیں تو وہ یقینا اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ ڈال رہے ہیں‘اور عنقریب وہ بھڑکتی آگ میں داخل ہونگے۔(سورہ نسائ‘10)
نیز فرمایا:یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ‘مگر ایسے طریقے سے جو بہتر ہو۔(سورہ انعام‘152)
اور فرمایا:یہ تجھ سے یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں‘ان سے کہہ دے‘ان کی اصلاح کرنی بہتر ہے اور اگر تم ان کو(خرچ میں)اپنے ساتھ ملا لو‘تو وہ تمہارے ہی بھائی ہیں اور اللہ جانتا ہے خرابی کرنے والا کون ہے اور اصلاح کرنے والا کون ؟ (سو رہ بقرۃ‘220)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا؛سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو‘صحابہ نے پوچھا‘اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم!وہ کون سی ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا‘اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا‘جادو کرنا‘ناحق کسی جان کو قتل کرنا جس کو اللہ نے حرام کیا ہے‘سود کھانا‘یتیم کا مال کھانا‘کافروں سے لڑائی کے وقت پیٹھ پھیر کر بھاگ جانا اور بھولی بھالی‘پاک دامن ایماندار عورتوں پر تہمت لگانا۔(بخاری و مسلم)
تخریج:صحیح بخاری،کتاب الوصایا،باب قولہ تعالی:ان الذین یاکلون اموال الیتامی۔۔۔۔ و صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب بیان اکبر الکبائر۔
فوائد:یہ سارے کبیرہ گناہ ہیں۔تاہم ان میں شرک سب سے بڑا ہے۔کیونکہ وہ کبھی معاف نہیں ہو گااور مشرک ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔اس کے برعکس دوسرے کبیرہ گناہ‘اگر اللہ چاہے گا تو معاف فرما دے گا‘بصورت دیگر اس کے مرتکب کو جہنم کی سزا بھگتنی پڑے گی۔لیکن اس سزا کے بعد اسے جہنم سے نکال کرجنت میں داخل کر دیا جائے گا‘اگر وہ مومن ہو گا-

13/04/2016

Address

House#3-4, Sethi Colony, G. T. Road
Gujranwala

Telephone

0092553829565

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when BAIT UL KUBRA TRUST posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share