28/05/2026
#رجعت کیا ہے اس کی حقیقت و اثرات کیا ہیں اور #نام نہاد #عاملین کی اجازت ؟
اکثر لوگ کتابوں اور رسالوں سے عمل پڑھ کر چلے شروع کردیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کثرت سے لوگ عمل کے الٹ اثرات کے خوفناک شکار ہوجاتے ہیں، میری اپنی زاتی رائے یہی ہے کہ جب تک کسی عامل سے عمل کرنے کی اجازت نہ ملے اس وقت تک کسی عمل یا چلہ وغیرہ کو ہرگز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ زیادہ تر عملیات میں رجعت یعنی عملیات کے الٹ خوفناک اثرات کا خوف ہوتا ہے۔ جب کسی عمل کی رجعت ہوجائے تو کوئی علاج کارگر ثابت نہیں ہوتا۔ زیادہ تر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ عملیات میں غلطی کے سبب دماغ پر بہت ہی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں اکثر لوگ پاگل ہوجاتے ہیں
میں نے ایسے بہت سارے افراد کو دیکھا ہے جو رجعت کا شکار تھےجنہوں نے مجھے بتایا کہ ہمیں فلاں عامل نے فلاں عمل کرنے کے لیے کہا ، جب ہم نے کیا توہم رجعت کا شکار ہوگئے ۔ موجودہ دور میں زیادہ تر فیس بک اور عموما عام گلی محلوں میں کئی عاملوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ دوسروں کو عمل تو بتا دیتے ہیں لیکن خود اس کے عامل نہیں ہوتے ، اس لیے ایسے لوگوں سے قطعی پرہیز کرنا چاہیے ۔ جب تک اس بات کا پختہ یقین نہ ہو کہ یہ شخص خود اس عمل کا عامل ہے اس وقت تک اس عامل کے دیے عمل کو ہرگز نہیں کرنا چاہیے ورنہ نقصان کا سخت ترین اندیشہ ہوسکتا ہے،روحانی عملیات اور وظائف۔ فیس بک یا انٹرنیٹ پر کی تحقیق کے مطابق اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ محض اپنی مشہوری اور شہرت کی غرض سے کتابوں اور رسالوں سے دیکھ کر عمل نقل تو کردیتے ہیں لیکن وہ خود اُس عمل کے عامل نہیں ہوتے نتیجتا جس کو وہ اجازت دیتے ہیں اس کا بھی بیڑا غرق ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ایسے لوگوں کی زاتی تحقیق ان عملیات پر تو ہوتی ہی نہیں لہذا وہ دوسروں کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلانے والا کام کرتے ہیں جس کے نتیجے میں عمل کرنے والا بندہ سخت ترین نقصان کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس لیے قارئین سے گزارش ہے کہ ایسے عاملوں کے چنگل میں پھنسنے سے احتیاط کریں ورنہ الٹا لینے کے دینے پڑسکتے ہیں
کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو کہیں نہ کہیں سے اعمال تو مل جاتے ہیں لیکن انکے لئے اجازت کا مسلہ ہوتا ہے ۔ ایسے لوگ اجازت کی غرض سے نام نہاد عاملین سے اجازت کی غرض سے جاملتے ہیں جن کا دور دور تک ایسے عملیات سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا،اس لیے ایسے لوگوں سے اجازت لینے کی ہرگز غلطی نہ کی جائے، یاد رہے کہ کسی بھی عمل کی اجازت صرف وہی بندہ دے سکتا ہے جو خود اُس عمل کا عامل ہو ، غیر عامل کبھی بھی اجازت دینے کا مجاذ نہیں ہوتا،
ایویں ای کسی سے اجازت لیکر شروع کیے جانے والے عملیات میں اکثر اوقات بندے کے لیے بہت بڑے خطرے کا باعث بنتی ہیں، جس سے لوگ رجعت کے شدید شکار ہوتے ہیں ، رجعت کس طرح کی ہوتی ہے روحانی عملیات اور وظائف کی طرف سے اقسام پیش خدمت ہیں تاکہ لوگ محتاط رہیں
1۔ کئی لوگ اس طرح کے ہوتے ہیں کہ جب وہ کوئی عمل و چلہ شروع کرتے ہیں تو اچانک ان کو کوئی ایسی وجہ پیش آجاتی ہے جس سے عمل درمیان میں چھوڑنا پڑجاتا ہے مثلا گھر میں کوئی بیمار ہوگیا یا کوئی سفر وغیرہ اگیا یا کوئی عزیز وغیرہ فوت ہوگیا تو عمل چھوڑنا پڑ گیا ، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عمل کرنے والا بندہ رجعت کا شکار ہوجاتا ہے
2۔کچھ لوگ ڈرپوک اور کمزور دل ہوتے ہیں جو دوران چلہ یا عمل کسی وجہ سے ڈر جاتے ہیں یا چھوڑ دیتے ہیں جس کےنتیجہ میں وہ رجعت کا شکار ہوجاتے ہیں
3۔تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو عمل میں ضروری و واجب اشیاء کا خیال نہیں رکھتے اور رجعت کا شکار ہوجاتے ہیں
4۔ چوتھی قسم ان افراد کی ہے جو بنا شرائط جانے بنا پرہیز جانے عمل شروع کردیتے ہیں نتیجتا رجعت کا شکار ہوجاتے ہیں
5 ۔ اس قسم میں وہ لوگ شمار ہیں جو دوران عمل گفتگو کرتے بدپرہیزی کرتے یا
کسی قسم کی ناپاکی میں مبتلا ہوتے ہیں نتیجتا رجعت کا شکار ہوجاتے ہیں
6۔ چھٹی قسم ان حضرات و خواتین کی ہے جو ایام اور مہنوں کا لحاظ نہیں رکھتے
اور جب دل چاہا عمل شروع کردیا ، اس طرح وہ سخت ترین رجعت کا شکار ہوجاتے ہیں
یہ تقریبا چھے معروف اقسام ہیں جو زیادہ تر رجعت کا باعث بنتی ہیں، اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو تقریبا 147 ایسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر رجعت ہوسکتی ہے لیکن یہ چھے اقسام انتہائی اہم ترین ہیں جن کو لازم و ملزوم مدنظر رکھنا چاہئے۔ فقیر غلام نبی نوری کی کتاب میں ان شاء اللہ عزوجل سو اقسام کا مفصل
زکر ہوگا جس سے آپ مستفیذ ہوسکیں گے
رجعت کی علامات ۔
مضمون کے اس حصے پر روشنی ڈالتے ہوئے ان شاء اللہ کوشش کی جائے گی کہ مختصر الفاظ میں بات کو سمیٹا جائے، معزز قارئین اکرام رجعت کی بہت ساری علامات ہیں لیکن ان میں سے پانچ بنیادی و اہم علامات پیش خدمت ہیں تاکہ اپ احباب کے علم میں ہوکہ رجعت ہوجائے تو کیسے معلوم پڑتا ہے
1۔ رجعت کا شکار فرد جسمانی طور پر ہر وقت جسم میں درد محسوس کرتا ہے
جوڑوں اور پٹھوں میں ہر وقت کبھی ہلکا کبھی شدید درد مسلط رہتا ہے
2۔ رجعت کا حامل مریض جمایئوں کی کثرت سے دوچار ہوگا، آنکھیں کندھے اور پیٹھ پر بوجھ رہتا ہے
3۔ کاروبار میں بلاوجہ نقصانات ہر وقت طبعیت چڑچڑی رہنے لگتی ہےکھانے پینے میں کوئی دیھان نہیں رہتا زیادہ تر شہواتی خیالات مسلط رہتے ہین
4۔ خاندان مین کسی فرد سے ملتے وقت گھبراہٹ ہوگی، عبادات میں دل نہیں لگتا، سونے میں بے سکونی ہوتی ہے لیکن طبعیت ہمیشہ مضطرب و سست رہتی ہے
5۔بے جا خوف مسلط ہوجاتا ہے کبھی کبھی دورے بھی پڑتے ہیں دماغ کام کرنا چھوڑ جاتا ہے بلاآخر بندے کو پاگل سمجھ کر پاگل خانے میں بھیج دیا جاتا ہے
اگر تھوڑا مسئلہ ہو تو سورہ بقرہ روزانہ 1 بار 11 دن تک مسلسل پانی پر دم کر کے پی لیں زیادہ ہو تو
رجعت کے علاج کیلئے وٹس ایپ پہ رابطہ کریں
WhatsApp 03007565481
۔ جزاک اللہ خیراً کثیرا کثیرا
Peer Abu Usama Naqshbandi