Dr-Hassan Bin Sultan Bhatti

Dr-Hassan Bin Sultan Bhatti I am Dr-Hassan Bin Sultan Bhatti, Master in chemistry & Bachelor in Unani Medicine and Surgery.

24/05/2026

تم کہاں جاؤ گے سوچو محسن
لوگ تھک ہار کے گھر جاتے ہیں

ساتھ نبھاون والے چھڈ کے جاندے نئیں رَل کے رہندے، قسماں ایویں کھاندے نئیںبھانویں جِناں مرضی کوئی کنّ بھرے۔۔۔،چالاں نالے گ...
20/05/2026

ساتھ نبھاون والے چھڈ کے جاندے نئیں
رَل کے رہندے، قسماں ایویں کھاندے نئیں
بھانویں جِناں مرضی کوئی کنّ بھرے۔۔۔،
چالاں نالے گلاں دے وچ آندے نئیں
منقول از قاسم سرویا

“When an atom loses an electron,it carries a positive charge, yet deep inside, it becomes unstable — incomplete without ...
20/05/2026

“When an atom loses an electron,
it carries a positive charge, yet deep inside, it becomes unstable — incomplete without what it lost.

Maybe that’s why I understood my heart so well…
Because ever since you left, I’ve been smiling like I’m fine,
but within me, everything feels unbalanced.

People say atoms seek stability after losing something precious.
And perhaps humans do too.
Because no matter how strong I pretend to be,
my soul still searches for the one presence that once made it whole.

BTW… it was never really about atoms.”

16/05/2026

ہمارے گاؤں میں آج صبح آٹھ بجے کے بعد کا منظر۔۔۔ جس منظر سے لگاؤ ہو جائے وہ بار بار دیکھ کر بھی دل نہیں بھرتا ۔

من گھڑت چیزیں خوبصورت ہوتی ہیں جیسے کہ تمہاری اور میری وہ ملاقات جو چاند کےاس پار تھی ۔ ✨منقول
10/05/2026

من گھڑت چیزیں خوبصورت ہوتی ہیں جیسے
کہ تمہاری اور میری وہ ملاقات جو چاند کے
اس پار تھی ۔ ✨
منقول

آج کہیں دور جب سورج نکل رہا تھا ۔۔۔جا تیری خیر ہم نے تیرا در چھوڑ دیا
10/05/2026

آج کہیں دور جب سورج نکل رہا تھا ۔۔۔

جا تیری خیر ہم نے تیرا در چھوڑ دیا

10/05/2026

آج بروز اتوار ہمارے گاؤں کی صبح کا منظر ملاحظہ فرمائیں

منہ میں زخم، منہ کا پکنا ( Stomatitis Thrus)تعریف: اس مرض میں منہ کے اندر کی جھلی غشا مخاطی سرخ ہو کر متورم ہو جاتی ہے۔ ...
09/05/2026

منہ میں زخم، منہ کا پکنا ( Stomatitis Thrus)
تعریف: اس مرض میں منہ کے اندر کی جھلی غشا مخاطی سرخ ہو کر متورم ہو جاتی ہے۔ یعنی اس میں سوزش ہو جاتی ہے ۔ اس سے منہ میں دانے اور زخم بن جاتے ہیں اور سارے منہ میں پھیلتے ہوئے یہ معدہ تک بھی پہنچ جاتے ہیں ۔۔۔ اگر منہ کےزخم گہرے ہو جائیں تو مریض کو کھانے
پینے میں مشکل ہوتی ہے۔

اسباب : گرم اور مصالحہ دار غذا کا زیادہ استعمال، قبض، بد ہضمی، ناک یا حلق کی سوزش کا منہ کی طرف بڑھ جانا، سوزاک، آتشک، زہریلی ادویہ، ہاضمہ کی خرابی، پرانا بخار، تیزابیت معدہ، گرمی،اخلاط کا بگاڑ، خون کی خرابی، خون یا بلغم شور یا سوداء کے بڑھ جانے سے ہوتا ہے۔۔
علامات: گلے کے غدود متورم ہو جاتے ہیں،منہ میں چھوٹے بڑے دانے ہو جاتے ہیں، کھانا پینا مشکل ہو جاتا ہے۔ منہ کی اندرونی جھلی، مسوڑھے، لب اور رخساروں کی لعاب دار جھلی متورم اور سرخ ہو جاتی ہے۔ خون کی خرابی سے دانے سرخ اور بلغم شور کی وجہ سے سفید ہوتے ہیں۔۔۔
علاج :
منہ کی صفائی رکھیں۔ معدہ کی اصلاح کریں ۔
نسخہ : زہرہ مہرہ خطائی، مازو پوست کیکر، گلناز، مائیں، زاج، دانہ الائچی خورد، کباب چینی، طباشیر، زرورد، سنگجراحت ہر ایک شے 10 گرام لے کر سفوف بنا کر مکس کر کے صبح ، دوپہر اور شام استعمال کریں ۔
آپ کی آسانی کے لیے بتا دیں کہ اس مسئلے اور معدہ کے دیگر امراض کے لیے ہم الرحمان ہربل فارما کا شربت اکسیر معدہ استعمال کروا رہے ہیں اور نتائج تسلی بخش ہیں آپ ہم سے وہ بھی منگوا سکتے ہیں ۔۔
رابطہ نمبر اور وٹس ایپ نمبر 03041487944

از قلم : حکیم حسن بن سلطان بھٹی، فاضل الطب والجراحت، ایم ایس سی کیمسٹری
استفادہ از : کتاب معالجات

Remember Reference: Literature
06/05/2026

Remember
Reference: Literature

🧠 دماغ کیسے کام کرتا ہے؟ (آسان انداز میں سمجھیں)ازقلم: ڈاکٹر اسلم علیگانسان کا دماغ اس کی سب سے بڑی طاقت ہے…مگر افسوس کی...
05/05/2026

🧠 دماغ کیسے کام کرتا ہے؟ (آسان انداز میں سمجھیں)

ازقلم: ڈاکٹر اسلم علیگ

انسان کا دماغ اس کی سب سے بڑی طاقت ہے…
مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ اسے سمجھتے ہی نہیں۔

ہم دن بھر سوچتے رہتے ہیں، فیصلے کرتے ہیں، ردِعمل دیتے ہیں، مگر کبھی رک کر یہ نہیں سوچتے کہ ہمارا دماغ اصل میں کام کیسے کرتا ہے۔ اگر آپ نے یہ سمجھ لیا کہ دماغ کیسے کام کرتا ہے، تو آپ نہ صرف اپنی سوچ کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ اپنی پوری زندگی کو ایک نئی سمت دے سکتے ہیں۔

دماغ کو سمجھنے کے لیے اسے ایک سادہ مثال سے دیکھیں۔
آپ کا دماغ ایک “کنٹرول روم” کی طرح ہے، جہاں ہر وقت معلومات آ رہی ہوتی ہیں۔ آپ کی آنکھیں، کان، اور دیگر حواس مسلسل ڈیٹا بھیج رہے ہوتے ہیں، اور دماغ ان سب کو پروسیس کر رہا ہوتا ہے۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ دماغ ہر چیز کو یکساں اہمیت نہیں دیتا، بلکہ وہ شارٹ کٹس استعمال کرتا ہے۔

یہی شارٹ کٹس آپ کی زندگی کو آسان بھی بناتے ہیں…
اور مشکل بھی۔

دماغ کے کام کرنے کے دو بنیادی طریقے ہوتے ہیں۔

پہلا طریقہ تیز، خودکار اور جذباتی ہوتا ہے۔
یہ وہ سوچ ہے جو بغیر کسی زیادہ غور کے فوراً فیصلہ کرتی ہے۔ جیسے آپ نے گرم چیز کو ہاتھ لگایا اور فوراً ہاتھ ہٹا لیا، یا کسی نے کچھ کہا اور آپ فوراً غصے میں جواب دے بیٹھے۔ یہ سوچ تیز ہوتی ہے، مگر ہمیشہ درست نہیں ہوتی۔

دوسرا طریقہ سست، گہرا اور شعوری ہوتا ہے۔
یہ وہ سوچ ہے جس میں آپ رک کر غور کرتے ہیں، تجزیہ کرتے ہیں، اور پھر فیصلہ کرتے ہیں۔ جیسے کوئی اہم بزنس فیصلہ، کوئی بڑا قدم، یا زندگی کا کوئی اہم موڑ۔

زیادہ تر لوگ اپنی زندگی پہلے طریقے پر گزار دیتے ہیں۔
وہ جلدی فیصلے کرتے ہیں، جذبات کے تحت عمل کرتے ہیں، اور پھر بعد میں پچھتاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ بار بار وہی غلطیاں دہراتے ہیں۔

آپ کا دماغ عادتوں کا غلام بھی ہوتا ہے۔
جو کام آپ بار بار کرتے ہیں، دماغ اسے آسان بنا دیتا ہے۔

اگر آپ روز شکایت کرتے ہیں،
تو شکایت کرنا آپ کی عادت بن جائے گی۔

اگر آپ روز حل تلاش کرتے ہیں،
تو حل تلاش کرنا آپ کی فطرت بن جائے گا۔

دماغ یہ نہیں دیکھتا کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط،
وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ آپ کیا بار بار کر رہے ہیں۔

اسی لیے کامیاب لوگ اپنی عادتوں پر کام کرتے ہیں،
کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ عادتیں ہی زندگی بناتی ہیں۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ دماغ ہمیشہ “Comfort Zone” میں رہنا چاہتا ہے۔
وہ آپ کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے، چاہے وہ حالت آپ کے لیے فائدہ مند ہو یا نہیں۔

جب آپ کوئی نیا کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں،
تو دماغ فوراً خطرے کا سگنل دیتا ہے:
“یہ مشکل ہے”
“یہ خطرناک ہو سکتا ہے”
“یہ مت کرو”

حقیقت میں یہ خطرہ نہیں ہوتا…
یہ صرف دماغ کی پرانی programming ہوتی ہے۔

اگر آپ نے کبھی نوٹس کیا ہو،
تو جب بھی آپ کچھ نیا کرنے لگتے ہیں،
آپ کے اندر ایک عجیب سا خوف پیدا ہوتا ہے۔

یہ خوف حقیقت نہیں ہوتا،
یہ صرف دماغ کا دفاعی نظام ہوتا ہے۔

اگر آپ اس خوف کے آگے جھک جاتے ہیں،
تو آپ وہیں رہ جاتے ہیں جہاں آپ تھے۔

لیکن اگر آپ اس کے باوجود آگے بڑھتے ہیں،
تو دماغ آہستہ آہستہ اس نئے کام کو بھی “normal” مان لیتا ہے۔

یہی وہ نقطہ ہے جہاں growth ہوتی ہے۔

دماغ کی ایک اور خاصیت یہ ہے کہ وہ focus کرتا ہے۔
آپ جس چیز پر زیادہ توجہ دیتے ہیں،
دماغ اسے اہم سمجھنے لگتا ہے۔

اگر آپ ہر وقت مسائل پر دھیان دیں گے،
تو آپ کو ہر طرف مسائل ہی نظر آئیں گے۔

اگر آپ مواقع تلاش کریں گے،
تو آپ کو ہر طرف مواقع نظر آنے لگیں گے۔

یہ کوئی جادو نہیں ہے،
یہ دماغ کا filter system ہے۔

آپ جو دیکھنا چاہتے ہیں،
دماغ آپ کو وہی دکھاتا ہے۔

اسی لیے کہا جاتا ہے کہ:
“جہاں توجہ جاتی ہے، وہاں توانائی جاتی ہے”

اگر آپ اپنی توجہ کو کنٹرول کرنا سیکھ جائیں،
تو آپ اپنی زندگی کو بھی کنٹرول کر سکتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ ہم اپنے دماغ کو بہتر کیسے استعمال کریں؟

سب سے پہلے، اپنے خیالات کا شعور پیدا کریں۔
یہ دیکھیں کہ آپ کیا سوچ رہے ہیں، کیوں سوچ رہے ہیں، اور اس سوچ کا نتیجہ کیا نکل رہا ہے۔

دوسرا، جلدی فیصلے کرنے کی عادت کم کریں۔
ہر اہم بات پر رک کر سوچیں۔
اپنے آپ کو وقت دیں۔

تیسرا، اپنی عادتوں کو consciously بدلیں۔
جو عادت آپ کو پیچھے لے جا رہی ہے، اسے چھوڑنے کی کوشش کریں۔
اور جو عادت آپ کو آگے لے جا سکتی ہے، اسے اپنائیں۔

چوتھا، اپنے comfort zone سے باہر نکلنے کی عادت ڈالیں۔
ہر دن ایک ایسا کام کریں جو آپ کو تھوڑا سا uncomfortable لگے۔

یہی وہ چیز ہے جو آپ کے دماغ کو expand کرتی ہے۔

آخر میں ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں:
آپ کا دماغ آپ کا سب سے بڑا دوست بھی بن سکتا ہے…
اور سب سے بڑا دشمن بھی۔

یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ اسے کیسے استعمال کرتے ہیں۔

اگر آپ نے اسے بغیر سمجھے چھوڑ دیا،
تو یہ آپ کو عادتوں، خوف اور ردِعمل کا قیدی بنا دے گا۔

لیکن اگر آپ نے اسے سمجھ لیا،
تو یہی دماغ آپ کو وہ سب کچھ دے سکتا ہے جو آپ چاہتے ہیں۔

آج خود سے ایک سوال کریں:
کیا میں اپنے دماغ کو کنٹرول کر رہا ہوں…
یا میرا دماغ مجھے کنٹرول کر رہا ہے؟

Address

Hafizabad.
Hafizabad

Opening Hours

Monday 09:00 - 21:00
Tuesday 09:00 - 21:00
Wednesday 09:00 - 21:00
Thursday 09:00 - 21:00
Friday 09:00 - 21:00
Saturday 09:00 - 21:00
Sunday 09:00 - 21:00

Telephone

03041487944

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr-Hassan Bin Sultan Bhatti posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Dr-Hassan Bin Sultan Bhatti:

Share