09/04/2024
سائنس کے ایک انوکھے فیلڈ جینٹک انجینئرنگ کا نام تو کافی سنا ہوگا لیکن اس میں ہونے والا کام کہیں ذیادہ دلچسپ ہے۔ جینٹک انجینئرنگ میں دراصل جانداروں کے ڈی این اے کے ساتھ کھیلا جاتا ہے یعنی کسی بھی جاندار میں پایا جانے والا خراب جین (ڈی این اے کا حصہ) کاٹ کر الگ کردیا جاتا ہے یا ایک جاندار سے اچھا جین لے کر دوسرے جاندار کے ڈی این اے میں فکس کردیا جاتا ہے، نتیجے کے طور پر وہ ترمیم شدہ جاندار اچھی خصوصیات دینے لگتا ہے ۔
یوں اگر دیکھا جائے تو ڈی این اے بہت چھوٹے سائز کا ہوتا ہے جسے ہم مائیکروسکوپ سے بھی نہیں دیکھ سکتے ۔ لیکن پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے ایک نہ دکھائی دینے والے ڈی این اے کے ایک حصے کو کن آلات کے ذریعے سے کاٹ دوسرے میں لگا دیا جاتا ہے تو اس کا جواب سن کر حیران رہ جائیں گے کہ ہمارے اپنے ہی جسم میں کچھ مالیکیولر آلات پائے جاتے ہیں جنہیں ہم مالیکیولر سزر(قینچی) کہتے ہیں اور وہ ہے کچھ انزائم(پروٹین) ۔ جینٹک انجینئرنگ میں دو طرح کے انزائم استعمال ہوتے ہیں ایک ڈی این اے کو کسی مخصوص جگہ پر جاکر کاٹتے ہیں (restriction endonuclease) اور دوسرے انزائم (DNA Ligase) جوڑنے کا کام سرانجام دیتے ہیں ۔
انھیں کی مدد سے لیب میں تجربات ہوئے اور آر ڈی این اے ٹیکنالوجی (recombinant DNA technology) کو استعمال میں لاتے ہوئے 1978 میں پہلا انسانی انسولین کامیابی سے بنایا گیا تھا۔
Copy