27/06/2026
مفتی ابومحمد صاحب حفظہ اللہ مین میڈیا اور سوشل میڈیا پر اہلِ حق اور اہلِ سنت والجماعت کے مضبوط ترجمان ہیں، بالخصوص حضرات صحابہ کرام (جن میں خلفائے راشدین، ازواجِ مطہرات، بناتِ طیبات، اسباطِ نبوی و جملہ اصحاب رسول) رضوان اللہ علیہم شامل ہیں، ان کی محبت، تعظیم اور دفاع کے حوالے سے ان کی مسلسل جدوجہد اور مساعی قابلِ قدر ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ مختلف پیجز اور گروپس میں مین وال سے لے کر کمنٹ باکس تک بعض افراد کی جانب سے نہایت نازیبا، اشتعال انگیز اور قابلِ گرفت گفتگو کی جاتی ہے، جو شرعاً، عرفاً، اخلاقاً بلکہ بعض صورتوں میں قانوناً بھی محلِ مواخذہ ہے، لیکن اس پر عموماً خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔
اس کے برعکس M***i Abu Muhammad صاحب کے ایک ایسے کمنٹ کو، جس میں نہ کسی بزرگ ہستی کی توہین مقصود تھی اور نہ کسی مقدس شخصیت کی تنقیص، غلط رخ دے کر ان کے خلاف باقاعدہ مہم چلانا مناسب طرزِ عمل نہیں ہے، اس معاملے میں اعتدال، انصاف اور حسنِ ظن کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیئے۔
اہلِ حق کی اس مؤثر اور توانا آواز کو دبانے کے بجائے، اختلاف کی صورت میں بھی عدل و توازن کے ساتھ معاملہ کرنا چاہیئے، یہی علمی دیانت اور اخلاقی ذمہ داری کا تقاضہ ہے۔
مراسلہ
محمد صدیق نعمانی کان اللّہ لہ
متعلم
دارالعلوم ختم نبوت عارف والا